اگر آپ کے بچے کا نیا تصویر اور فنگر پرنٹس والا ب فارم نہیں بنا ہوا
تو یاد رکھیں! نادرا کے ریکارڈ میں اس کی تصویر اور فنگر پرنٹس موجود نہیں ہیں
لہذا، اپنے بچے کے پہلی مرتبہ شناختی کارڈ کے لیے قریبی نادرا سنٹر سے رجوع کریں
حسرت موہانی میموریل #لائبریری، بلاک اے، نارتھ ناظم آباد، کراچی
طلباء وطالبات، اساتذہ، ریسرچرز،
اور مطالعہ کے شوقین افراد کیلیے پُرسکون ماحول
سائینس، انجینئرنگ، میڈیکل، اکاؤنٹس،کمپیوٹر، تاریخ، ادب،معلومات عامہ سے متعلق
10000 سے زائد کتب جرنلز اور دیگر علمی مواد
SHARE & Visit https://t.co/cwQkXCZm22
ڈاکٹر جویریہ بتول کی درد دل سے لکھی گئی تحریر ۔۔۔۔۔
کسی بھی سبجیکٹ کا ایک بڑا حصہ اپلائیڈ کا ھونا چاھئے ۔
مثلا میں باٹنی کے لوگوں کو دنیا میں پودوں سے بننے والے اور بکنے والے کاروبار سکھائیں۔
مثلا
1. مینگو بٹر بہت سارے کاسمیٹک میں استعمال ھوتا ھے ان کی گھٹلی سے بنتا ھے
2. لینو لین بھیڑ کی جلد سے
3. مورنگا سوھاجنے کے پودے سے
4. خشک پھل
5. پھلوں کے پاؤڈر
دوائیاں
7. سٹیویا تمام طرح کی خوشبو
8. پھلوں کی ٹافیاں
9. پھلوں اور سبزیوں کے پاؤڈر
10. کیچپ
11. ٹیلو بٹر گائے بھینس کی خاص چربی سے بنتا ھے
12.طرح طرح کی چٹنیاں
13. سفیدے کا تیل ڈالرز میں بکتا ھے
اسی طرح ایک لاکھ چیزیں باٹنی سے ریلیٹڈ میں بتاتی ھوں کس طرح شدید مانگ ھے
کیمسٹری پڑھنے والے کو
ڈش واش لیکوڈ
فیبرک کلینر
تیزاب واش روم کے لئے
گلنٹ
فینائل
شوگر ملز کے شیرے کے ساتھ فرمنٹر لگائیں۔ اور بہت زیادہ کیمیکل بنائیں ساری امپورٹڈ چیزیں خود بنائیں۔ سٹرک ایسڈ روزانہ ھی امپورٹ کرتا ھے پاکستان۔
فزکس والے کے لئے سولر موٹر اور ھر طرح کی مشینری بنانے کے پلانٹ چھوٹے چھوٹے بنانے سکھائیں
اردو ادب کے لوگوں کو اچھے پوڈ کاسٹ بنانے کیریٹو رائٹنگ کنٹنٹ رائیٹنگ سکلز سکھائیں
اگر ھم اپنے پراڈکٹس بنانے لگیں آڈر ختم نہیں ھوتے۔
صرف سٹرابری دہی، مینگو دھی، سٹرابری لسی، ھر پھل کے ساتھ لسی اور ھر پھل کے دھی پیک کر کے پریزرویٹو ڈال کر بیچ رھے ہیں۔
پچھلے دنوں سٹرابری سستی تھی۔ سٹرابری کی آئس کریم، سٹرابری چاکلیٹ ، سٹرابری کیک، سٹرابری کی ٹافیاں بنا کر بیچیں۔
گوبھی سستی تھی گوبھی کے بفیلو بائٹ بنتے ہیں، گوبھی سے آئس کریم بنتی ھے۔
بھنڈی سستی تھی۔ بھنڈی دھو کر کاٹ کر فریز کر کے آف سیزن میں بیچیںں۔ اور تو اور لسی سے سے پروٹین بنتی ھے جو بہت زیادہ بکتی ھے۔ تلے ھوئے پیاز امریکہ کینیڈا میں جاتے ہیں
تلے ھوئے پیاز "جزا" والے بیچتے ہیں ۔ یہ بھی جنید جمشید کے بیٹوں کا برانڈ ھے۔
لہسن کا پیسٹ، ادرک کاپیسٹ، پیاز کا پاوڈر
ھر پودے کے کچھ فوائد ہیں
اردو ادب کے اشعار آج کل بیگ
اور رومال پر پرنٹ کر کے بیچے جس سکتے ہیں۔
آپ کو ھر ھر سائنس آرٹس سبجیکٹ کا کورس کو ری ڈیزائن کرنا ھے کہ سب بچے کالج یونیورسٹی میں پڑھنا بھی چاھیں گے۔
اور ان کا اپنا بزنس ھو گا
یونیورسٹی اپنا خود کا ریوینیو جنریٹ کرنے لگ جائے
سوچنے کا رخ بدلیں۔ کورس میں تھوڑی سی تبدیلی کریں۔
ڈاکٹر جویریہ بتول
جس سندھ میں آج بھی لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، انفرااسٹرکچر تباہ ہے، امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، بچوں کے لیے معیاری اسکول نہیں، اور ہزاروں سرکاری اسکول وڈیروں کی اوطاقوں یا مویشی باندھنے کی جگہوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔
جس سندھ کا صحت کا نظام زبوں حالی کا شکار ہے، اسپتالوں میں بنیادی ادویات تک دستیاب نہیں اور کتے کے کاٹنے کی ویکسین جیسی بنیادی ضرورت بھی مسئلہ بن جاتی ہے۔
جہاں کاروکاری جیسی فرسودہ روایات، کچے کے ڈاکو، جبری مذہبی تبدیلیاں ، جاگیردارانہ تسلط اور عام آدمی کی بے بسی آج بھی بڑے مسائل ہیں۔
تو سوال بنتا ہے: فخر کس بات پر ہے؟
تہذیب صرف پرانی تاریخ کا نام نہیں۔ تہذیب یہ بھی ہوتی ہے کہ آج آپ کے صوبے کا بچہ اسکول جا سکتا ہے یا نہیں، اسے صاف پانی ملتا ہے یا نہیں، مریض کو اسپتال میں دوا ملتی ہے یا نہیں، عورت محفوظ ہے یا نہیں، اقلیت اپنے مذہب کے ساتھ آزادانہ زندگی گزار سکتی ہے یا نہیں، اور عام آدمی ڈاکو، جاگیردار، کرپٹ افسر اور سیاسی سرپرستی کے درمیان پس تو نہیں رہا۔
اگر ہزاروں سال کی تہذیب کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی انسان پانی، تعلیم، صحت اور امن کے لیے ترس رہا ہے تو پھر صرف ہزاروں سال پرانی تاریخ سنانے سے موجودہ ناکامیوں پر پردہ نہیں پڑ سکتا۔
اور اگر واقعی اپنی تہذیب پر فخر ہے تو پھر اس تہذیب کی سب سے بڑی خدمت یہ ہوگی کہ سندھ کے بچے کو اسکول دیا جائے، مریض کو دوا دی جائے، معیاری اسپتال دیئے جائیں شہری کو صاف پانی دیا جائے، انفرااسٹرکچر دیا جائے ، عورت کو تحفظ دیا جائے، اقلیت کو آزادی دی جائے، نوجوان کو روزگار دیا جائے اور عام آدمی کو جاگیردارانہ تسلط کچے کے ڈاکوؤں اور جرائم سے نجات دلائی جائے۔
وگرنہ ایسی تہذیب پر لعنت بے شمار ۔
میں کئی برسوں سے لکھتا/کہتا آرہا ہوں کہ آپ کی ایسی قربانی باطل ہے جس کی وجہ سے دوسروں کو اپنی سہولت کی قربانی دینا پڑے۔ شامیانے لگا کر گلیاں بند کر دینا، اینٹیں لگا کر جانور کو ایسے پارکنگ سپیس فراہم کرنا کہ آدمی گذر ہی نہ سکے، بیچ گلی میں پلنگ ڈال لینا اور گاڑیاں کھڑی کر کے راستہ بند کر دینا ظلم ہے۔ دوہرا ستم یہ کہ اگر کوئی راہ گیر ایسے بند راستے پر آ نکلے تو آپ اسے راستہ دینے سے پہلے ایسے گھورتے ہیں کہ گویا اس نے آپ کی گلی میں آکر بہت بڑا گناہ کر دیا ہو۔
صاحبو ! اللہ کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو راستے پر بیٹھنے تک سے منع فرمایا ہے، راستہ بند کرنا تو بہت ہی سخت بات ہے۔ آپ انسانوں کو ذلیل کر کے قربانی کے جانور کی کون سی خدمت کر رہے ہیں؟ خدا جانے یہ کیسی قربانی ہے اور خدا ہی جانے کہ ایسی قربانی کا ثواب زیادہ ہے یا لوگوں کو اذیت دینے کا گناہ بڑا ہے !
#احمد_اشفاق
سندھ کی زمیں کھا رہی ہے ۔۔۔ آسماں کیسے کیسے کیونکہ #PPPChorHai
یہ تصویر کسی عام فقیر کی نہیں، بلکہ سندھ کے نامور افسانہ نگار، ناول نویس اور دانشور محترم مشتاق احمد کاملانی صاحب کی ہے۔
وہی مشتاق کاملانی، جنہوں نے “گونگی بارش”، “چپٹا لہو”، “گھٹی ہوئی فضا” اور شہرۂ آفاق ناول “رولو” جیسے شاہکار تخلیق کیے۔
وہی کاملانی صاحب جو سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ذہین ترین طالب علموں میں شمار ہوتے تھے، جن کی انگریزی، اردو، فارسی اور پنجابی پر ایسی گرفت تھی کہ سننے والا دنگ رہ جائے۔
کہا جاتا ہے کہ ان کے گھر پر کسی بااثر سیاسی شخصیت نے قبضہ کر رکھا ہے۔
#PPPChorHai
کراچی میں گرمی کی صورتحال دیکھ کر خوف آ رہا ہے کہ ابھی تو بس یہ شروعات ہے۔ مسئلہ گرمی نہ ہوتا کہ وہ تو شاید سب ہی جھیل لیتے ہیں لیکن پورے کراچی کے بیشتر علاقوں میں دس دس دن سے پانی غائب ہے، بجلی کا تو پتہ ہی نہیں چلتا صبح 6 سے جانا شروع ہوتی ہے تو اب تو رات کو 2 بجے تک کوئی اتہ پتہ نہیں ہوتا۔ کبھی ان فرعونوں کا دل چاہے تو ساری ساری رات، سارا سارا دن بجلی نہ ہو۔ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ ٹینکروں کا حال ہم نے دیکھا ہے اور اس قدر مہنگے کہ عام بندہ کہاں جائے؟ اوپر سے نجانے کہاں کہاں سے انسانوں کو یہاں لا کر بغیر کسی پلاننگ کے بسائے چلے جانے کے چکر میں، بلکہ اپنا پیسہ بنانے کے چکر میں درختوں کا نام و نشان مٹا دیا ہے اس شہر سے۔ قسمت سے کوئی بیچارہ ایک آدھا درخت کہیں نظر آ جاتا ہے کنکریٹ کے اس جنگل میں۔
مزے کی بات کہ جو چند گھنٹے کل ملا کر دن میں بجلی نصیب ہوتی ہے (ایک گھنٹہ مشکل سے آتی ہے پھر تین سے چار گھنٹے غائب) اس میں بھی جن کے گھر اے سی ہیں وہ بھی چلانے سے محروم ہیں۔ کیوں بھلا؟
کیونکہ جاتی سردیوں کی راتوں میں پوری پلاننگ کے ساتھ چور آتے ہیں اور سارے سارے محلے والوں کے گھروں سے ایک ہی رات میں اے سی کے آؤٹر نکال کر لے جاتے ہیں۔ کس کے پاس جا کر شکایت کریں؟ کس سے رونا روئیں اپنے اس شہر نا پرساں کی حالت زار کا؟
اوپر سے دماغ کھولنے لگتا ہے جب فیسبک کھولو اور کراچی کے عوام کو آواز بلند کرنے کی غلطی کرتے دیکھو تو نیچے کمنٹس میں اسے سندھی مہاجر مسئلہ بنا کر گالیاں دی جا رہی ہوتی ہیں کہ یہ سب کراچی والے سندھیوں سے بغض کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ مطلب حد ہے!
پورا شہر برباد کر کے رکھ دیا۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ دن دہاڑے ڈاکے ڈلتے ہیں، راتوں کو چوریاں ہوتی ہیں، ٹرکوں کے نیچے عوام کچلی جاتی ہے، ہر کوئی یہاں اپنی سیاست چمکا رہا ہے اور عوام کچھ بولنے کی جرات کرے تو وہ کسی مخصوص قومیت سے بغض ہے۔
اللہ میرے شہر پر رحم کر دے۔ ہمیں کوئی داد رس نصیب کر دے اور ظالموں بے حسوں سے نجات دے دے اس شہر کو عافیت سے آمین 💔
ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا...
29 اپریل سے 12 مئی تک صبح 10 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک کوئی بھی شخص باہر (کھلے آسمان کے نیچے) نہ جائے کیونکہ محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے 55 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے اگر کسی شخص کو سانس لینے میں دشواری ہو یا اچانک بیمار ہو جائے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں، ہوا کو گردش کرنے کے لیے گھر کے دروازے کھلے رکھیں، موبائل فون کا استعمال کم کریں، موبائل فون کے پھٹنے کا خدشہ ہے، براہ کرم احتیاط کریں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں، ٹھنڈے مشروبات جیسے دہی، گھی، پان کا جوس وغیرہ زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔
انتہائی ضروری معلومات
محکمہ شہری دفاع شہریوں اور رہائشیوں کو درج ذیل کے بارے میں خبردار کر رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں درجہ حرارت 47 سے 55 ڈگری سیلسیس کے درمیان بڑھنے اور کمولس بادلوں کی موجودگی کی وجہ سے کچھ احتیاطی تدابیر اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
ان اشیاء کو گاڑی سے ہٹا دینا چاہیے۔
1. گیس کے آلات 2. لائٹر 3. کاربونیٹیڈ ڈرنکس 4. عام طور پر پرفیوم اور آلات کی بیٹریاں 5. کار کی کھڑکیوں کو ہلکا سا کھلا رکھنا چاہیے (وینٹیلیشن کے لیے) 6. گاڑی کے فیول ٹینک کو مکمل طور پر نہ بھریں 7. کار کو شام کے وقت ریفیول کریں 8. گاڑی میں سفر کرنے سے گریز کریں، خاص طور پر صبح کے وقت گاڑی میں سفر کرنے سے گریز کریں۔
بچھو اور سانپوں سے ہوشیار رہیں کیونکہ وہ اپنے سوراخوں سے نکل کر کسی ٹھنڈی جگہ کی تلاش میں پارکوں اور گھروں میں داخل ہو سکتے ہیں۔
وافر مقدار میں پانی اور سیال چیزیں پئیں، گیس سلنڈروں کو دھوپ میں نہ رکھیں، بجلی کے میٹر پر زیادہ دباؤ نہ ڈالیں اور ایئر کنڈیشنر کا استعمال صرف گھر کے ان علاقوں میں کریں جو خاص طور پر گرمی کی شدید گرمی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اور ہر دو سے تین گھنٹے میں 30 منٹ کا وقفہ لیں۔ اگر باہر کا درجہ حرارت 45-47° ہے تو گھر میں AC کو 24-25° پر رکھیں، یہ آپ کی صحت اور تندرستی کو بہتر بنائے گا۔ براہ راست سورج کی روشنی سے بچیں، خاص طور پر صبح 10 بجے سے 3 بجے کے درمیان۔
آخر میں: براہ کرم اس معلومات کو شئیر کریں،
نیک تمنائیں، سول ڈیفنس ڈائریکٹوریٹ۔
المیہ یہ نہیں کہ حکمران ہی موت کے سوداگر ہیں، المیہ یہ ہیکہ ساڑھے تین کروڑ کے شہر میں کوئی ایک مرد کا بچہ نہیں جو ان کتی کے بچوں پر “قتل عمد” کا مقدمہ دائر کرسکے
ان حرامیوں پر اور انکے حمایتیوں پر دہشتگردی کی دفعات لگنی چاہئیں
#پیپلز_پارٹی_چور_ہے یہ تو سب کو معلوم ہے، یہ قاتل بھی ہے، کس طرح انہوں نے 200 سے ذیادہ بچوں کو موت بانٹی ہے۔ ایک سرینج کئی کئی بچوں پر استعمال کی گئی اور پورے بچوں کے وارڈ میں ایڈز پھیلا۔ ہسپتال کے لئے سرینج جو آتی تھیں وہ ہسپتال کو نہیں ملتی تھیں۔ یقینا بیچ دی جاتی ہوں گی۔ اس ہسپتال میں غریب مزدوروں کے بچوں کا علاج ہوتا تھا۔ اور کچھ پیسوں کی لالچ میں کس طرح معصوم بچوں کی زندگی کے ساتھ کھیلا گیا۔ افسوس کوئی پوچھنے والا نہیں اب فرعونوں کو !!
آپ کا تعلق پاکستان کے کسی بھی شہر، گاوں، دیہات سے ہو، لیکن آپ کے دل میں شہر کراچی اور اس میں بسنے والی عوام کے لئے ہمدردی اور محبت ہے تو اس ٹرینڈ #پیپلز_پارٹی_چور_ہے پر اپنا تھوڑا سا حصہ ضرور ڈالیں۔ شکریہ
خدا کے واسطے کوئی ایم کیو ایم پاکستان کے ان رہنما کو جگائے جو کہتے تھے "یہ ٹی ٹی نہیں ٹوئٹر کا دور ہے" انہیں بتاؤ کہ کراچی والوں نے ٹوئٹر/ایکس پر ادھم مچا رکھا ہے، ہر آدمی چیخ رہا ہے کہ
#پیپلز_پارٹی_چور_ہے
کام آپ کا تھا کر عوام رہے ہیں، جاگ جائیں