عشقِ عمران
اے مرشد میں جو تیرے سنگ چلوں
با وقار چلوں با اختیار چلوں
اے مرشد میں جو تیرے سنگ چلوں
جو بیت گیا اس قوم پہ ھر اس لمحے کو یاد کروں
کہ جو زخم رس رھے ہیں مرہم کیا کروں تو چلوں
اے مرشد میں جو تیرے سنگ چلوں
1/n
عمران خان کو سزا “ فوجی عدالتوں” نے سنائی۔ عمران خان جیل میں فوج کی وجہ سے ہے۔ عمران خان کے جیلر فوجی جرنیل ہیں۔ فوج نے ضابطے کی کچھ اور کاروائی سے جو اکھاڑنا ہے اکھاڑ لے۔ جو پتلون رجیم چینج کی رات اتار دی وہ واپس نہیں ملے گی۔ دماغ چونکہ پھدو ہے تو ملک چل نہیں سکتا۔ جتنی بربادی مچا لیں اس کا ردعمل انہی کے سروں پر گرے گا۔ ابھی تو ذلت کا سفر شروع ہوا ہے۔ مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔
ہم عمران خان کی شخصیت سے بے حد متاثر بھی تھے اور ڈرتے بھی تھے،کیونکہ وہ فضول باتیں بالکل پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن کرکٹ کے معاملے میں وہ ایک دس سالہ بچے کی طرح جنونی تھے جو ہر وقت کرکٹ ہی کی باتیں کرتا رہتا ہے۔
جب ہم بطور اوپنر بیٹنگ کے لیے میدان میں جا رہے ہوتے، تو وہ ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرنے کے باوجود پہلے سے ہی پیڈز پہن کر تیار بیٹھے ہوتے۔
وہ ہر وقت ہمیں کھیل کی تکنیک، مخالف ٹیم سے نپٹنے کے گر سکھاتےتھے۔ مجھے یاد ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف تین روزہ میچ میں جب سر رچرڈ ہیڈلی کافی تیز باؤلنگ کر رہے تھے اور میں اوپننگ کر رہا تھا، تو عمران خان مجھے ایک طرف لے گئے اور بولے ،تمہیں معلوم ہے ہیڈلی کو اپنے اوور میں باؤنڈری کھانا بالکل پسند نہیں اور وہ زیادہ باؤنسر بھی نہیں پھینکتا۔ اگر وہ تمہیں باؤنسر کرائے تو تم فورا پل شاٹ مارنا، وہ دوبارہ تمہیں باؤنسر کرانے کی ہمت نہیں کرے گا۔
میں نے اس میچ میں 70 سے زائد رنز بنائے۔ ہیڈلی نے مجھے ایک باؤنسر کرایا، میں نے اس پر چوکا جڑ دیا، اور اس کے بعد اس نے پورے میچ میں مجھے کوئی شارٹ پچ گیند نہیں کرائی۔ حریف کھلاڑی کو پڑھنے اور یوں جرات مندانہ سوچ دینے کا نام عمران خان تھا۔ رمیز راجہ کمنڑی کےدوران عمران خان کے گن گاتے ہوئے
فوج کی پلے بک اب ہمارے علم میں ہے۔ فوج کرسکتی ہے کہ طالبعلم اٹھائے جائیں گے۔ ان پر مقدمات درج ہوں ۔ ان پر عقوبت خانوں میں تشدد ہو ، فوج یہ کرسکتی ہے۔ پھر یہ معافیاں مانگتے ہوئے ویڈیوز ریکارڈ کریں ، یہ سب ہوگا۔ فوج کے پاس وحشت بھری طاقت ہے ، فوج یہ کرسکتی ہے۔ فوج یہ کرسکتی ہے۔ لیکن فوج قوم کے دلوں میں سے نفرت نکال دے؟ فوج اب کسی حب الوطنی کے پردے کے پیچھے چھپ جائے؟ فوج یہ نہیں کرسکتی! یہ نہیں کرسکتی!
ہم سرحد یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ کھڑے ہیں اگر انہوں نے کچھ حماقت کرنے کی کوشش کی تو انشاءاللہ بھرپور ری ایکشن ائے گا پھر یہ احتجاج پورے ملک میں شدت اختیار کرے گا تم بندوق کی نالی پر طلباء کو سیدھا نہیں کر سکتے
اسلامی جمعیت پاکستان کے طلبہ کی گفتگو
فتنہ الفوج بمقابلہ عوام
یہ تو حال ہے، اب لوگوں سے چپیڑیں کھا رہے ہیں
وردی کی عزت مٹی میں ملا دی کہ اب تو یہ بندوق کے بغیر پاکستان میں سڑک پر نہیں نکل سکتے ۔
جرنیلوں سے پوچھنا تھا کہ فوج کو عوام سے لڑوانے کا کس کا منصوبہ مکمل کر رہے ہیں۔
🇵🇰 Imran Khan's personal physician says he was tricked by Pakistani authorities during last night's hospital saga.
Dr. Faisal Sultan told reporters he was taken into police custody on his way to Adiala Jail, believing he was being brought to see Imran.
Instead he was driven in a convoy to Shifa International Hospital, while officials acted as though Imran was with them.
He says he waited nearly 4 hours, asking again and again where Imran was. Each time, he was told the former prime minister was on his way.
Then they told him Imran had already been taken back to Adiala.
If everything here was above board, why put his doctor in a fake convoy and leave him waiting on a patient who was never coming?
Writer: Julie
پاکستان اور چین کے درمیان سوست میں بنے امیگریشن آفس کی حالت دیکھ کر مجھے چکر آ گیا۔ وہاں واش روم تک کی سہولت موجود نہیں۔ اگر واش روم جانا ہو تو چین کی حدود تک پہنچنے کا انتظار کرنا پڑے گا۔
باقی حالات تو آپ خود ہی دیکھ لیں
Credit Alia Janeen
یہ ملک ماضی میں وقت کے مقبول ترین سیاسی رہنما اور سابق وزیراعظم کے عدالتی قتل کا تلخ تجربہ بھگت چکا ہے، جہاں عدالتوں نے اُس وقت کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر اس عمل کی راہ ہموار کی۔ آج ایک بار پھر وقت کے مقبول ترین سیاسی رہنما اور سابق وزیراعظم عمران خان کے معاملے میں ججز یا تو بے بس دکھائی دے رہے ہیں یا پھر سہولتکار۔ عمران خان کی صحت سے متعلق تشویشناک صورتحال اب حکومتی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سے بھی ثابت ہو چکی ہے۔ اس سے پہلے کہ کل کو ججز اپنی کتابوں اور انٹرویوز میں ’مجبوری اور دباؤ‘ کا عذر پیش کریں، انہیں اپنا آئینی فرض پورا کرنا ہوگا۔ سابق وزیراعظم کو ضرورت کے مطابق فوری اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں، ضرورت پڑنے پر انہیں ہسپتال منتقل کیا جائے، ان کے ذاتی معالجین اور اہلِ خانہ تک بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائی جائے، اور ان کے بچوں سے ٹیلی فونک گفتگو کا حق بھی یقینی بنایا جائے۔
پاکستان اور کشمیر میں درجنوں معصوم لوگوں کی شہادت کے عین وقت میں شاہد آفریدی کو اپنے کتے کا غم ستانے لگا ۔۔ فوجیوں کے اس دلال کے کتے کی اہمیت جان سے جانے والے کشمیریوں اور پاکستانیوں سے زیادہ ہے ❤️🩹
پوری دنیا کی دولت میری قیمت نہیں لگا سکتی، یہ تخت و تاج یہ زر یہ پروٹوکول یہ کرسیاں یہ عہدے یہ میرے لئے کوئی معنی ہی نہیں رکھتے، ہم نے عمران خان کا ساتھ صرف اور صرف تبدیلی کیلئے دیا تھا اور تبدیلی کیلئے کھڑے ہیں اپنے لیڈر اور اپنے نظریے سے کوئی ایک انچ مجھے پیچھے نہیں ہٹا سکتا
غاصب شہباز رجیم نے بتایا فلاں ملک سے بیس ارب ڈالر فلاں سے تیس ارب ڈالر فلاں سے پچاس ارب ڈالر آ رہے ہیں پھر سرمایہ کاری لانے کے لیے ایس آئی ایف سی کا چراغ جلایا گیا اور قوم کو یقین دلایا گیا کہ اب ڈالر ایسے برسیں گے جیسے ساون کی جھڑی۔ مگر چار برس بعد معلوم ہوا کہ بادل بھی سرکاری وعدوں جیسے تھے دور سے گہرے، قریب آکر بالکل خشک! اربوں ڈالر تو کہیں دکھائی نہ دیے، ہاں عوام کی جیبوں پر ہاتھ ضرور پوری رفتار سے چلتا رہا۔ چمڑی اترتی رہی، نعرے بدلتے رہے، خوشخبریاں آتی رہیں بس وہ خوشحالی نہ آئی جس کا چار برس قبل بتایا گیا تھا