چکوال کے گاؤں چک چکوڑہ کا 42 سالہ محمد ندیم فریجوں کا مکینک تھا۔ فیصل آباد کا یہ خاندان گزشتہ کئی برس سے تھانہ ڈوہمن کے گاؤں چک چکوڑہ اور پیر پھلاہی میں آباد ہے۔ ندیم کی پہلی شادی اپنے ننھیال سے ہوئی اور وہ پیر پھلاہی میں آباد ہوا۔ اس شادی سے ندیم کا ایک بیٹا اور سات بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ پچیس سال کا بیٹا نوید علی سات بہنوں سے بڑا ہے اور پھیری کا کام کرتا ہے۔ نوید اور اس کی تین چھوٹی بہنیں بھی شادی شدہ ہیں۔ دوسری چار بہنوں کی عمر بالترتیب پانچ، سات، دس اور بارہ برس ہے۔ نوید کے تین بیٹے ہیں جبکہ ایک بہن کے دو بچے چند روز قبل ہولی فیملی ہسپتال میں مردہ پیدا ہوئے۔
سات بیٹیاں اور ایک بیٹا ہونے کے باوجود ندیم کو گجرات کی ایک لڑکی سے محبت ہو گئی۔ تین سال قبل اس نے عاصمہ بی بی سے دوسری شادی کر لی اور ساتھ والے گاؤں چک چکوڑہ میں ایک چھوٹے سے بوسیدہ گھر میں اپنی دوسری بیوی کے سنگ رہنے لگا۔ دوسری بیوی سے دو سالوں میں نوید کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ بڑا بیٹا دو سال کا جبکہ چھوٹا بمشکل ایک سال کا ہے۔ خراب فریجوں کو ٹھیک کرنے سے ندیم کی آمدنی اتنی بھی نہیں تھی کہ وہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکے۔
کل جمعہ کی سہہ پہر ندیم اور اس کی دوسری بیوی عاصمہ پیر پھلاہی میں ندیم کے بھائی کے گھر پر تھے کہ وہاں میاں بیوی میں لڑائی ہو گئی۔ عاصمہ اپنے دونوں معصوم بچوں کو وہاں چھوڑ کر خود اپنے گھر چلی گئی۔ جب کافی دیر بعد واپس نہ آئی اور بچوں نے رونا شروع کر دیا تو ندیم بھاگ کر گھر گیا۔ عاصمہ چار پائی پر مردہ پڑی تھی۔ ندیم نے عاصمہ کا دوپٹہ لیا، چھت سے باندھا اور خود کو لٹکا دیا۔ پولیس کے ایک افسر کے مطابق عاصمہ نے زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ چار پائی کے پاس فرش پر پیپسی کی بوتل پڑی ہوئی تھی۔ عاصمہ نے اس بوتل میں زہریلی گولیاں ملا کر پی لیں۔
پولیس افسر نے تھری اسٹارز میڈیا گروپ چکوال سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ندیم کے گھر کی حالت یہ تھی کہ گھر میں کھانے والی کوئی چیز نہیں تھی۔ کل رات کو عاصمہ کے وارثان گجرات سے آئے اور اس کی میت لے گئے لیکن دونوں معصوم بچوں کو بے یارو مددگار چھوڑ گئے۔ ندیم کو آج چک چکوڑہ میں دفنا دیا گیا۔
اس ملک میں غریب ہونا تو جرمِ عظیم ہے ہی لیکن غریب اپنی دکھ بھری زندگی کو خود ہی مزید تلخ بھی بنا دیتا ہے کہ غربت صرف بھوک کو جنم نہیں دیتی بلکہ یہ جہالت کی بھی ماں ہوتی ہے۔ اس دور میں ایک متوسط جوڑے کے لیے ایک بچے کی پرورش کرنا بھی مشکل ہے اور ندیم جیسے غریب شخص نے دس بچے پیدا کیے۔ شاید بیٹے کے چکر میں سات بیٹیاں پیدا کر ڈالیں۔ کسی ایک بیٹی اور حتی کہ اکلوتے بیٹے کو سرکاری سکول میں بھی تعلیم نہ دلوا سکا۔ ان دو معصوم بچوں اور ان کی بہنوں کا کیا جرم تھا کہ جو ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت سے محروم ہو گئے؟ بول فلم کا ڈائیلاگ یاد آتا ہے جس میں حمائمہ ملک کہتی ہیں کہ، "سوال یہ ہے کہ صرف مارنا ہی کیوں جرم ہے؟ پیدا کرنا کیوں نہیں؟ سوچیئے! پیدا کرنا جرم کیوں نہیں ہے؟ پوچھیئے! حرام کا بچہ پیدا کرنا ہی جرم کیوں ہے؟ جائز بچے پیدا کر کے ان کی زندگیاں حرام کر دینا جرم کیوں نہیں" ؟
نبیل انور ڈھکو
Nabeel Anwar Dhakku