@Muhamma12762724 یہ بڑی متکبر نسل ہے، ہم بس مصلح ہی بن رہے باقی انہوں نے ہمیں ڈسنے میں کوئ وار خطا نہیں جانے دیا، کلبھوشن یادیو کو مبارک پٹیل بنا کہ مملکت خداداد کو زخمی کرنے میں یہی شامل تھے
@syed_bacha احتساب ہی کے پی کی سر زمین سے کی گئ تاریخی دغا کا زخم بھر سکے گا، وگرنہ یہ سمگلرز پہلے کروڑوں میں کماتے تھے اب تیرہ سالہ حکومت کی بدولت اربوں کھربوں میں دنیاوی آگ سمیٹ چکے ہیں
لوگوں نے ہمیں ووٹ ، سکول بنانے ، ہسپتال بنانے، مہنگائی کنٹرول کرنے نہیں دیا
ہمیں ووٹ عمران نیازی کی رہائی کے لیے دیا گیا ہے
لہذا صوبائی حکومت سے گلے شکوے نہ کریں ,
سینیٹر فلک ناز چترالی
وزیراعظم @CMShehbaz صاحب، پلیز خدارا ایمرجنسی لگانے میں ایک لمحہ بھی ضائع نا کریں۔ کام تو انہوں نے ویسے بھی نہیں کرنے۔
صوبے کو پتھر کے ذمانے میں پہنچا دیا ہے، انکی کرپشن، دہشتگردی، بے روزگاری، بد امنی سے لوگ بے حد پریشان ہیں۔🙏
@syed_bacha ڈیر اعلیٰ
داسے سپین کنی کنیان شخصیت پرستی کہ داسے کارونہ کئ چہ بیا اے مور پلار شرمیگی، سیاسی جماعتونو کہ اختلافات وی خو سوک حکومتی ادارو لہ گیٹ دفتر یا سنٹرز پہ گٹو نہ وولی، اوس دے کنہ ٹینگہ کی 😆
@MalikMIslam_PK حرامزادے اگر دیکھنے ہوں تو ایسے یوتھڑ سؤر کو دیکھ لیں جیسا یہ امجد خان نامی متفرق باپوں کی اولاد ہے
پاکستان میں رہ کہ صرف بغض میں مبتلا ہوکہ ہندو سؤر کی ترجمانی کبھی بھی پاکستانیت نہیں ہو سکتی
@Aadiiroy2 دیہاڑی داروں سے اپنے مقاصد پورے کرواتے ہیں، جب وہ غریب گرفت میں آتے ہیں تو کوئ والی وارث نہیں بنتا بلکہ اہل خانہ ہی روتے بلکتے انہیں چھڑوانے میں لگے رہتے ہیں
جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مسجد میں شہید کیا گیا، تو قاتل عبد الرحمن بن ملجم تھا وہی جو خود کو سب سے بڑا مجاہد، حافظِ قرآن اور تہجد گزار سمجھتا تھا۔
اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس لیے قتل کیا کہ اس کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کے قانون پر نہیں چل رہے تھے، وہ ریاست کا فیصلہ کر رہے تھے۔
اور شہادت کے بعد جب خبر پھیلی تو شام میں کچھ لوگوں نے کہا:کیا علی نماز بھی پڑھتا تھا؟ جو مسجد میں قتل ہو گیا؟
یعنی پروپیگنڈا اتنا زبردست تھا کہ لوگوں کے ذہن میں بٹھا دیا گیا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تو دین پر ہی نہیں ہیں۔ بالکل آج کی طرح - جب فوجی شہید ہوتا ہے تو یہی ٹولہ کہتا ہے یہ تو مرتد تھا، یہ تو ریاست کا غلام تھا۔
یہ سوچ آج کی نہیں ہے، یہ 1400 سال پرانی خوارج کی سوچ ہے،
1وہی نعرہ: تب بھی نعرہ تھا "لا حکم الا للہ" حکم صرف اللہ کا۔ آج بھی یہی نعرہ ہے کہ ہم ریاست کو نہیں مانتے، ہم صرف اللہ کو مانتے ہیں۔
2. وہی طریقہ تب بھی وہ مسلمانوں کو کافر قرار دے کر مسجد میں قتل کرتے تھے۔ آج بھی یہی لوگ فوجی کو، پولیس والے کو، اور مسجد میں نمازی کو کافر کہہ کر مارتے ہیں۔
3. وہی انجام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا "میں اگر انہیں پاؤں تو قومِ عاد کی طرح قتل کروں گا" کیونکہ یہ اسلام کے نام پر اسلام کو ہی نقصان پہنچاتے ہیں۔
تو فرق صاف ہے
فوجی محافظ ہے، خوارج قاتل ہے۔
فوجی اس لیے کھڑا ہے تاکہ مسجد محفوظ رہے۔
خوارج مسجد میں آکر ہی قتل کرتا ہے اور سمجھتا ہے میں نے جہاد کیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ ہر داڑھی والا، ہر نعرہ لگانے والا مجاہد نہیں ہوتا۔ مجاہد وہ ہے جو امت کو جوڑے، توڑے نہیں،اور پاک فوج آج امت کو جوڑ رہی ہے پوری دنیا گواہ ہے مکہ دفاعی معاہدہ امت کو یکجاں کرنے کا رستہ ہے۔۔