No one has seen or heard from my father since August, when he explicitly said that he was being tortured and that the regime was trying to kill him like Egypt’s government did Morsi. The UN Special Rapporteur on torture has repeatedly stated that his treatment amounts to torture. Pakistan’s fascist regime, led by military dictator Asim Munir, continue to ignore the Supreme Court order from August for my father to be assessed and treated at the private Shifa International Hospital, as well as for regular access to family visits and access to his lawyers. It is clear that they are trying to kill him as he is by far the most popular political figure in the country, and they fear him. If the worst happens, no one should make any mistake who is responsible. It is Asim Munir with the approval of the illegitimate Pakistani government. Every government that continues to legitimise this regime will be complicit in this and the resulting chaos and destabilisation it causes in the region. No state that is engaging in friendly relations with this fascist Pakistani regime can truly claim to uphold the values of democracy or human rights.
عمران خان صاحب کی ہمشیرہ نورین خانم کی اچانک جیل سے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقلی انتہائی باعث تشویش ہے۔ ان کے خاندان کو تمام عمل سے لاعلم اور دور رکھا گیا ہے۔ نورین بی بی کی صاحبزادی حاجرہ بی بی کو فی الفور والدہ تک رسائی انسانیت کا کم سے کم تقاضا ہے۔ نورین بی بی کسی مقدمے میں گرفتار نہیں۔ انہیں محظ خدشے کی بنیاد پر ناحق گرفتار کیا گیا ہے اور کوٹ لکھپت جیل میں سخت حالات میں قید کیا گیا ہے۔
گیارہ مہینوں سے عمران خان قید تنہائی میں ہے۔ دس مہینوں بعد تنگ آکر ایک نوجوان نےاحتجاج کیا اپنی حکومت گنوا لی ، آپ اس کا نام تک اپنی زبان پر نہیں لاتے ۔
آپ اسمبلیاں چھوڑیں اور گھر جائیں۔
میں نے عمران خان صاحب سے بہت ساری باتیں سیکھیں - ایک بات جس پر ارشد شریف شہید اور عمران خان صاحب دونوں یقین رکھتے ہیں وہ ہے کہ اگر آپ سچے ہیں تو اپنا پورا سچ سب کے سامنے رکھیں۔اور اس چیز سے مت گھبرائیں کہ اپنے اور پرائے کیا کہتے ہیں۔ پوری دنیا بھی دشمن ہو جائے سچ کو مت چھوڑیں۔ دونوں کو بولنے سے بند کروانے کی پوری کوشش کی گئی۔ ایک نے جان دیدی۔ دوسرا مشکل ترین جیل قید وبند کاٹ رہے ہیں۔ لیکن سچ سے پیچھے نہیں ہٹے۔
ہم شائید عمران خان اور ارشد شریف تو نہیں بن سکتے۔ لیکن سیکھ تو سکتے ہیں۔ اپنے جیسی کوشش تو کر سکتے ہیں۔
اندر کے شیطان کو اگر نہیں پہچانوں گے تو باہر کے شیطان سے نہیں لڑ سکو گے۔
عمران خان پر جیل میں جسمانی تشدد کی تصدیق اپوزیشن لیڈر کررہا ہے۔ اگر اس سب کے باوجود تحریک انصاف اسمبلیوں میں بیٹھی رہتی ہے تو پھر بیرسٹر گوہر ، سلمان اکرم راجہ ، محمود اچکزئی سمیت اسمبلیوں میں بیٹھے تین سو لوگ عمران خان کے قتل کے سہولتکار ہوں گے۔
حامد میر سے جب یہ سوال کیا گیا کہ تم “قومی اثاثہ “ فیصل واڈا کو اپنے پروگرام میں اکیلے بٹھا کر کیوں انٹرویو کرتے ہو ، تو اس نے کس ڈھٹائی سے جواب دیا کہ ایسے ہی عمران خان بھی ایک قومی اثاثہ تھا اور ہم اس ایک اکیلے ایم این اے کو بٹھا کر پروگرام میں سوال کیا کرتےتھے
اپنے اس جواب پروہ تنہائی میں ضرور شرمسارہوا ہو گا ۔ کیا منور حسن ، قاضی حسین احمد ، سراج الحق ، اختر مینگل ، محمود اچکزئی ، ولی خان ساجد میر ، مولانا سمیع الحق ، رسول پلیجو وغیرہ یہ سب بھی قومی اثاثہ تھے۔ یہ لیڈر بھی تو کبھی ایک ایم این اے والی یا کبھی بغیر کسی ایم این اے کی پارٹی کے سربراہ تھےاور آپ انہیں بھی پروگرامُ میں اکیلے میں بلاتے تھے ۔
کیا یہ سب فیصل واڈا کی جیسے تھے جس شخص کو پاکستان میں دس لوگ بھی نہ جانیں اگر آپ کا چینل اسے نہ دکھائے ۔ آپ نے اپنے دفاع میں عمران خان کا قد چھوٹا کرنے کی جو کوشش کی ہے ، لگتا ہے آپ جرنلزم تو چھوڑ انصاف کے بنیادی معیارات بھی بھول گئے ہیں ۔
عمران خان سیاست میں آنے سے پہلے بھی اس قوم کا ایک اثاثہ تھا اور آج بھی ہے اورآپ جیسے نوکری پیشہ شکست خوردہ صحافی اسے پاکستان کی تاریخ سے اب نہیں کھرچ سکتے ۔
کاش آپ جواب میں یہ سچ بول لیتے کہ آپ فیصل واڈا کو اپنے شو میں کیوں بلاتے ہو ، کاش ایسا ہو جاتا
خان میرا وعدہ ہے۔ خدا کی قسم اپنی اوقات کے مطابق تمہارے ساتھ ایمانداری سے کھڑا ہونے کی کوشش کروں گا۔ جس دن نہ ہو سکا۔ کھلا اعلان کروں گا۔ کہ اب میری بس۔ پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپوں گا۔
صحافی حسنین رفیق کو پشاور کے ایک گودام میں بند کرکے آئی ایس آئی ایم آئی نے بدترین تشدد کرتے رھے جس سے حسنین رفیق کے کمر سے خون سیمنے لگا😪 کمر کی سائیڈ پر کپڑے خون سے بھر گئے
حسنین رفیق کو کالا کپڑا ڈال کر پشاور سے پنجاب میں ضلع وزیراباد تھانہ سٹی میں چار دن رکھ کر تشدد کرتے رھے حسنین رفیق کی گردن کے پیچھے چھتروں کے گھرے نشان نظر پڑ گئے😭 اگلے دن حسنین رفیق کو وزیراباد سے گوجرانوالہ سی پی او آفس لے گئے وھاں پر CPO اپنے سامنے حسنین رفیق پر بدترین تشدد کرواتا رھا وھاں سے بروز سوار کو حسنین رفیق کو تھانہ صدر لے آئے ایک رات رہ کر اب سیالکوٹ لے گئے یار رھے کہ جب بھی حسنین رفیق منظر عام پر آئے اپنی ساری ظلم کی کھانی سنائے گے
حسنین رفیق کو جب وزیراباد لایا گئے تو اس کے کمر سے خون سیم رھا تھا اس کے کپڑے پر ابھی بھی خون کے نشانات ھے
سارے لوگ حسنین رفیق کی تصویر لگا کر اس کے لیےآواز اٹھائے
جنیوا پریس کلب میں شہید ارشد شریف ہیومن رائیٹس ایوارڈ کا اعلان کر دیا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والوں کی شرکت۔
اگلے سال سے شہید ارشد شریف ہیومن رائیٹس ایوارڈ انسانی حقوق کے لیے خدمات سر انجام دینے والے پاکستانیوں کو ہر سال دیا جائے گا۔
مبارک ہو عاصمہ شیرازی صاحبہ
عاصمہ شیرازی صاحبہ کا KP میں ایمرجنسی کا دفاع نئی بات نہیں۔ انکو نارشل لا ایمرجنسی وہی بری لگتی ہے جو ان کے سیاسی منہ بولے والد نواز شریف کے خلاف ہو۔ تب یہ جمہوری ہوتی ہیں۔ اسی طرح خود یہ کتا کتی کتے کی دم جیسے الفاظ استعمال کرتی ہیں اور آج مطیع اللہ جان کو صحافتی آداب کے لیکچر دے رہی تھیں۔
ایک بات یاد رکھیں ۔ عاصمہ صاحبہ۔ آپ نے عورت کارڈ کو انتہائی بے دردی سے استعمال کیا۔ اتنا استعمال کیا کہ اب بے اثر ہو گیا۔ میں نے آپکی شیطانیت کو بھگتا ہوا ہے۔ آپ نے جس انداز سے میرے خلاف عورت کارڈ استعمال کیا۔ اور اس زمانے میں ہمارے اندر کے چھپے کچھ جعلی لبرل بھی آپکو سپورٹ کرتے رہے۔
پھر آپ نے کمال مہارت سے اپنے آپکو لبرل اور جمہوری پیش کیا۔ جب کے آپ ایک مفاد پرست انسان ہیں۔ جس کا ان اصولوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔
اب آپکا پردہ چاک ہو چکا۔ اب نہ تو کوئی آپکو صحافی مانتا ہے۔ نہ ہی عورت کارڈ چلتا ہے۔ بلکہ اب تو آپکی شناخت ایک جرنیلی ٹاؤٹ کی ہے۔
آپکو نئی پہچان مبارک۔
پشاور ہائیکورٹ نے آج پوری قوم کی امیدوں پر پورا اترتے ہوئے۔۔
خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی اور عوام کے منتخب نمائندوں کے اغوا ہونے پر۔۔
فوری طور پر کوئی ایکشن لینے کی بجائے فرمایا ہے کہ دس دن بعد تشریف لائیں۔۔
انصاف ایسا کہ نہ صرف ہو، بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔۔
WHERE IS SOHAIL AFRIDI?
The elected Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa was last publicly seen on 11 October 2026. He is being held incommunicado at an undisclosed location.
Where is he, who is holding him, and why?
#FacismInPakistan