فقدان ہے اس جہاں میں مخلصی کا, احتیاط کیجیے اب تعلقات میں جناب...!!!
جاننے سے اجتناب کیجیئے پلیز
my attitude will always be based on how you treat me♠️♥️
مجھے ایسا نہیں بننا،کہ میرا وجود لوگوں کی انکھوں میں نمی لاےمیری باتیں کسی کیلئے اذیت بنیں مجھے یہ چاہ بھی نہیں ہے کہ ہر وقت لوگوں کے لبوں پر واہ واہ کیطرح سجا رہوں
نہ آہ بننا، نہ واہ بننا.آہ سے میری دنیاو آخرت خراب،واہ کا نشہ تکبر میں ڈبو دے گا،اسلئے خود کوہمیشہ سےگمنام رکھنا ہے
آغاز میں انسان ہی بنائے گئے
چہرے بدلے تو پھر آئینے بنائے گئے
قلم تو بعد میں ایجاد ہوئے پہلے پہل
درد لکھنے کے لیے پرندوں کے پر بنائے گئے
فقیر کی آنکھوں کو جب غور سے دیکھا گیا
اسی دن ترمیم ہوئی، آنسو بنائے گئے
رونق بازار سے نہیں ھے کوئی ، سروکار مجھے
سکــون قلب ہی ھے بس اب کے ، درکار مجھے
عرصہ ہوا ، اوجھل ہیں آپ نظروں سے ، سائیں
اک دید کی خوراک ہی کافی ھے ،سرکار مجھے
میری ہر بات بری میرا حرف حرف تازیانہ لگے گا
میں زمانے کی بات کرونگا اور اس کو طعنہ لگے گا
میں اس ڈر سے بھی کسی کو کال نہیں کرتا
کوئی سچ میں بھی مصروف ہوا مجھے بہانہ لگے گا
خونی رشتے بھی اکتا جاتے ہیں اس لیے میں
حسب ضرورت سبھی سے فاصلہ رکھتا ہوں
نبھا رہا ہوں تو کوئی بات ہے، باغی کردار ہوں
میں سب کو چھوڑنے کا حوصلہ رکھتا ہوں
میری عاجزی دے جزبات نہ پوچھ
اودی تلخی دے کلمات نہ پوچھ
باقی ہر گل پوچھ بیلی خوش ہو کے
اک اجڑن دے حلات نہ پوچھ
کیویں کوئی آیا کیویں چھوڑ گیا
کیویں ہوئی آخری ملاقات نہ پوچھ
تو شاکر آپ سیانا ایں
میرا چہرا پڑھ حالات نہ پوچھ
انتقاماً ہے تو پھر مُجھ سے مَحبّت نہ کریں
یہ مُصیبت تو کسی وقت بھی ٹَل سکتی ہے
اور پھر یُوں ہُوا دُنیا نے نِگاہیں بدلیں
میں سمجھتا تھا فقط بَھیس بدل سکتی ہے