یہ کولمبیا میں بل گیٹس کی مچھر فیکٹری ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی مچھر فیکٹری ہے۔
30 ملین جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھر ہر ہفتے 11 ممالک میں گرائے جاتے ہیں۔
یہ دُنیا کی سب سے زیادہ شئیر ہونے والی ویڈیو بن چُکی ہے کیونکہ بچوں نے اُس اسرائیلی قوم کی پراڈکٹس کا بائیکاٹ کیا ہے جو اُنھیں غیرقانونی حراست میں لیتی ہے جنسی زیادتی کرتی ہے پھر شہید کرتی ہے پھر میتوں کی بے حرمتی کرتی ہے پھر میتوں کے اعضاء نکال کر بیچ دیتی ہے۔اسرائیل مردہ باد
پاکستان دنیا کی سالسی کرانے میں مصروف ہے اور اس کا اپنا ملک تاریخی اندھیروں میں ڈوب چکا ہے کیونکہ یہاں گیس اور انرجی کی قیمت بے انتہا ہو چکی ہے
ایک گورے کی رپورٹ
اس جنگ میں ایران کے ڈرونز اور میزائل سے زیادہ مجھے ان کی سوشل میڈیا کمپین نے امپریس کیا ہے۔
انہوں ہمارے ٹاؤٹس کی طرح اپنے ملک کے لوگوں کو غدار کہنے یا دشمن ملک کو گالیاں دینے کے بجائے ایسا جاندار کانٹینٹ بنایا ہے کہ اس نے پوری گیم اُلٹا دی ہے۔ زبردست
یہ قیامت خیز مناظر غزہ کے نہیں بلکہ لبنان کے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہم بے حس ہو گئے ہیں، ہمیں درد محسوس ہی نہیں ہو رہا۔ اتنا بڑا سانحہ قیامت جیسا، آپ لوگوں کو یہ باتیں معمولی لگنے لگی ہیں۔
#israilterrorist https://t.co/K2wy6GAJYG
BREAKING 🚨:🇮🇷 Iranian activist Risha Hussain has just dropped the biggest truth🔥🔥
She said: The world sanctioned Iran for 47 years. When Iran sanctioned the world for 24 days, the US and its allies knelt.
If closing the Strait of Hormuz is wrong, how is it right that Rafah has stayed closed for two years?
Women with COURAGE of 101%🔥
پہلے ٹرک/بس ڈرائیور ریس لگا کر سواریوں کی جان خطرے میں ڈالتے تھے
اب
ڈاکٹروں نے سوچا وہ کیوں پیچھے رہیں
آپریشن میں ریس لگا کر مریضوں کی جان سے کھیلیں
کون پوچھے گا؟
۔۔
آپریشن تھیٹر کے ویڈیوز بھی Conduct کے خلاف ہیں
مگر
جو نظام چل رہا ہے اللہ ہی مالک ہے
پی ٹی آئی آفیشل نے قاسم کے اقوامِ متحدہ میں خطاب کی ویڈیو اردو سب ٹائٹلز کے ساتھ جاری کر دی۔
جن کو انگلش میں ان کی تقریر سمجھ نہیں ارہی تھی وہ اردو ترجمہ کے ساتھ پڑھیں تاکہ وہ لوگ جو فیک بیانیہ بنا رہے ہیں ان کا سد باب ہو سکے
کیا سنہرا دور ہوتا تھا. 50 ساٹھ ایم این اے اور سینیٹر جیب میں ہوتے تھے. اپنی مرضی سے حکومتیں بناتے اور گراتے تھے. ایک پی پی اور ایک شریف خاندان ، جو جیت جاتا مولانا ساتھ فری میں مل جاتا. عوام کو 23 مارچ کی پریڈ اور ملی نغموں کے پیچھے لگا رکھا تھا. عوام فوج کے خلاف کوئی بات برداشت نہی کرتی تھی. مارشل لا لگتا تھا تو عوام مٹھائیاں بانٹتی تھی. یوں سمجھ لیں جرنیلوں کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہوتا تھا. عوام ہر طرح کی بدحالی، کرپشن ، نا انصافی اور ظلم کو اپنا مقدر جان کر ان کے نعرے مارتی تھی. پھر ایک سر پھرے نے قوم کی دور کی عینک ہٹا کر قریب کی لگا دی اور قوم کوسب کچھ صاف صاف دکھائی دینے لگا. یہ ظلم ناانصافی، کرپشن قوم کا مقدر نہی بلکہ قوم کے حقوق پہ ڈاکہ ہے. یہ بدحالی اسی untouchable طبقے کی ہی دی ہوئی ہے جن کے تم نعرے مارتے ہو. ہر ظلم اور ناانصافی کے پیچھے دراصل یہی ہیں. پھر قوم نے 8 فروری کو انکے سر کڑاہی سے نکال کے جھاڑو، چمٹے اور پتہ نہی کن کن انتخابی نشانوں سے انکے سروں پہ مارا.. انہیں ننگا ہوکر اس سر پھرے کا راستہ روکنا پڑا. پھر یوں ہوا کے قانون اور عدالتیں صرف اور صرف اس ایک انسان کو سزائیں دینے کے لیے رہ گئیں. چیف جسٹس سے لے کر جیل کے عملے تک ہر ایک تعیناتی اس انسان کا راستہ روکنے کے لئے تھی. اسکی ایک تصویر اور پیغام سے نظام تھر تھر کانپنا شروع ہوگیا. اپنی ساکھ بچانے کے لیے انہیں جنگوں کا سہارا لینا پڑا۔ مفتیان، علماء اور مشائخ سے اپنے حق میں فتوے لئے جانے لگے.
عوام نے ان سب ٹوپی ڈراموں پہ لعنت بھیج دی.
عوام کی واحد امید آج بھی وہی سر پھرا قیدی ہے. جس نے نظام کو برہنہ کرکے عوام کے سامنے رکھا. اور جس نظام کی بدبو سے عوام نفرت سے بھی نہی دیکھنا چاہتی.
اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ اب زیادہ دیر کی بات نہی. یہ نظام اپنی بدبو سے بے ہوش ہوجایے گا. انکے بیرونی آقا بھی ذلیل ہونگے اور یہ بھی ساتھ تاریخ کی کسی گندگی میں دفن ہوجائیں گے انشاءاللہ.