پہلا اعتراف ۔۔ دونوں جماعتوں نے تسلیم کر لیا مینڈیٹ جعلی ہے
دوسرا اعتراف۔۔ نظام کے نمبر 2 مرکزی کردار نے تسلیم کر لیا کہ ہم سے نظام نہیں چل سکا۔ تباہ ہو گیا۔
The dilemma of this military regime in Pakistan is that it wants to have elections, but it also wants to rig them.
This dichotomy is deeply problematic because a rigged election is far more dangerous to national stability than having no election at all.
Elections are the single most important trust- and consensus-producing events in a country. Every time they are rigged, manipulated, or stolen, they contribute to the erosion, and eventual collapse, of both public trust and societal consensus, which ultimately leads to state collapse.
By definition, therefore, the only real anti-state elements are those within the state who rob the public of their mandate and, in doing so, undo the country itself.
کشمیر میں ہونے والی قتل و غارت پر چپ رہنا پاکستان سے دشمنی کے مترادف ہے۔ پی ٹی آئی لیڈرشپ کو 5 اگست کا انتظار کئیے بغیر فوری پر امن احتجاج کی کال دینی چاہیئے۔
آج کشمیری بھائیوں کے زخموں پر مرحم رکھنے کا وقت ہے۔ اگر دیر کردی تو وہ منہ موڑ لیں گے۔ عمل کرنے کا یہی وقت ہے۔ مزید دیر کی گنجائش نہیں۔
جرنیلوں کو خوش کرنے کے چکر میں ملک کو مزید نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔
پی ٹی آئی فوری طور پر پر امن احتجاج کی کال دے۔ عوام نکلے یا نہ نکلے یہ عوام کی مرضی۔ آپ اپنا فرض پورا کریں۔
عمران خان جیل سے باہر ہوتے تو ہرگز اس وقت تک چپ نہ رہتے۔
اگر آج پاکستانی عوام حقوق کے لیئے کھڑی نہ ہوئی تو پھر بہت دیر ہو جائے گی۔
BREAKING: Israel is dropping bombs on residential buildings in Gaza in the middle of the night — while families are asleep inside their homes.
Families with nowhere left to run.
The genocide has never stopped.
”راولاکوٹ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے؟ آخر آزاد جموں کشمیر کی 12 مخصوص نشستوں میں ایسا کیا رکھا ہے جس کیلئے ریاست کے نزدیک لوگوں کا خون بھی حلال ہو چکا ہے ؟ بلوچستان میں بھی صورتحال اسی وقت خراب ہوئی جب وفاقی حکومت نے سادہ معاملات میں بھی سخت پوزیشن اختیار کی۔ اس وقت آزاد جموں کشمیر کے مسئلے کا حل بھی یہی ہے کہ مظفرآباد کی حکومت ہی راولاکوٹ والوں سے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرے۔“ حبیب اکرم
جب ہم کہتے تھے کہ 8 فروری 2024 کو بدترین دھاندلی ہوئی ہے تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ والے دونوں ہی برا مانتے تھے، اب دونوں ایک دوسرے کو بڑھ چڑھ کر دھاندلی کی پیداوار قرار دے رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ دونوں ہی یہ نہیں کہہ رہے کہ ہم دھاندلی سے نہیں آئےبلکہ دونوں ایک دوسرے کو کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کیا کہتے ہو تم بھی تو دھاندلی سے آئے ہو۔
جو رپورٹنگ جو مناظر مقبوضہ کشمیر ،فلسطین اور غزہ کی ہوتی تھی عالمی میڈیا وہ آج آزاد کشمیر کے بارے میں کررہا ہے جس کا کریڈٹ بادشاہ سلامت کے ویژن 2024 کو جاتا ہے
اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے کچھ سوال:
۱) جب آپ اپنے مسلمان بھائی اور اپنے ہی ملک کے شہریوں پر گولی چلاتے ہیں، آپ کو محسوس نہیں ہوتا کہ کتنا بڑا گناہ کر رہے ہیں اور آپ دنیا اور آخرت دونوں میں رسوا ہو سکتے ہیں؟
اگلے سوال خاموش تماشائیوں کے لیے:
۲) کیا آپ اپنے بڑوں سے سوال کرتے ہیں کہ آخر اپنے شہریوں کو کیوں مارنا پڑ رہا ہے اور اس کی نوبت کیوں آئی ہے؟
۳) کیا آپ اپنے بچوں کو قتل کی روزی کھلا کر فخر محسوس کرتے ہیں؟ آپ ٹیم قتل عام نہیں ہیں؟
۴) آپ کے گھر والے مطمعین ہیں آپ کی اس نوکری سے جس سے کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے اور کسی خاندان کا قیمتی شخص اپنے بچوں سے اور والدین سے ہمیشہ کے لیے دور ہوجاتا ہے۔ آپ کے بچے شاید اچھی تعلیم حاصل کر جائیں اور آپ کے والدین اچھے ہسپتال میں اپنا علاج کروا سکیں، مگر یہ ایک انتہائی خودغرض فیصلہ ہے آپ کا اور آپ کی پوری فیملی کا۔
۵) پچھلے چار سال میں کتنی بار خیال آیا کہ سوال پوچھیں قتل عام کروانے والے بڑوں سے؟ ہم نے سنا تھا فیڈبیک لی جاتی ہے ادارے میں اور میرٹ پر فیصلے ہوتے ہیں۔ پچھلے چار سالوں میں جتنا ظلم ہوا ہے وہ کس طرح پاکستان کے حق میں ہوسکتا ہے۔ برکت ہی اٹھ گئی ہے ملک سے، ہر طرف بربادی ہی بربادی نظر آرہی ہے۔
۶) جب یہ ظلم کا زمانہ ختم ہوگا اور جب آپ لوگوں میں جائیں گے تو اپنی کیا شناخت کروائیں گے؟ اور جب وہ پوچھیں گے کہ آپ نے کس طرح آواز اٹھائی ظلم کے خلاف تو کیا کوئی جواب ہوگا؟
۷) جب آپ کے بچے بڑے ہوں گے، تو وہ کس طرح آپ پر فخر کریں گے اور کیا وہ اپنی شناخت میں آپ کا ذکر کریں گے؟
۸) ڈی چوک، مرید کے، راولاکوٹ اور دیگر علاقوں کے شہداء جن کو اللہ کی فوج کے سپاہیوں نے گولیاں مار کر شہید کیا، آپ کے خواب میں اگر آکر سوال پوچھیں گے تو آپ کیا جواب دیں گے؟
فوری طور پر توبہ کرنے کا وقت ہے یہ۔ اللہ سے اور پوری قوم سے معافی مانگیں۔ بہت ہی غلط کر رہے ہیں، آخر میں پچھتاوا ہوگا اور آگے شاید معافی کے دروازے بھی بند ہوجائیں۔ دل دکھانا مقصد نہیں ہے اس تحریر کا، پاکستانیوں کی جان قیمتی ہے، یہ احساس دلانا اور ان کو بچانے کی عاجزانہ کوشش ہے!
پاکستان زندہ باد!
بد بختوں کے بارے ہمیں کیا غلط فہمی تھی۔ کیا کیا خوش فہمی۔
اور وہ سارے کے سارے ایک شخص کے ہاتھوں مغوی۔ جو اس ایک شخص کا من چاہے وہ ان سے کروائے۔
کیا قسمت پائی ہے پاکستانیوں نے۔ اپنے ہاتھوں سے اپنے قاتلوں کو سینچ کر جوان کیا۔
اتنی اذیت مجھے کربلا میں نہیں پہنچی تھی جتنی اہل کوفہ کی خاموشی پر۔ کوفہ ایک شہر نہیں ایک خاموش امت کا نام۔ ہر وہ شہر گوفہ ہے اور اس کے مکین کوفی ہیں ، جہاں ظلم ہو اور لوگ خاموش رہیں۔
امام زین العابدین