In the modern world of digitalisation education sector was being revolutionised by E-Libraries .Hundreds of students were getting quick access to up-to-date information. The current government is requested to reopen these libraries as soon as possible.
@MaryamNSharif@umarsaif
@malik_tauqir سر بہت سے لوگ دور دراز سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن آپ نے جو سسٹم (جاری طلبہ) کے لیے متعارف کروایا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے اس سے بہت سے طالب علم داخلہ نہیں لے سکیں گے۔ صرف رولنمبر کی آپشن ہوتی تاکہ طلبہ آسانی سے اپنا فارم ڈاون لوڈ کر سکتے۔
After renaming e-libraries, and trying to claim e-stamp, they have now renamed @erozgaar to e-earn.
Govt seems content with simply re-naming my successful initiatives. But politics and pettiness doesn’t allow due credit. Still at least something positive being done …
مشتری ہوشیار !!
چند دن پہلے ای لائبریری پراجیکٹ پر
ہم نے“تبدیلی تختی” کے نام سے کالم لکھ کر تختی تبدیلی کی خبر دی
لیکن
عوام کےشدید ردعمل کے بعد یہ خبر کئی اکاؤنٹس سے ڈلیٹ کر دی گئی۔
اب یہ گورنمنٹ ای-لائیبریرز کو صوفی ازم سائنس و ٹیکنالوجی سنٹرز کا ڈرامہ بنا کر پیش کر رہی ہے
جس سٹاف نے دن رات محنت کر اس ای لائبریرز کے پراجیکٹ کو کامیاب بنایا اسی سٹاف کو اس گورنمنٹ نے جبری گھر بھیج دیا اور بعد میں تختی تبدیل کے صوفی ازم اور سائنس و ٹیکنالوجی کا نئے سرے سے افتتاح ؟
خاتون اول بشریٰ عمران کی خصوصی دلچسپی پر پنجاب بھر میں صوفی ازم اور سائنس و ٹیکنالوجی ریسرچ مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں شیخ ابوالحسن شازلی صوفی ازم اور سائنس و ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر کا لاہور میں آغاز کر دیا گیا -
خاتون اول بشریٰ عمران کی خصوصی دلچسپی پر پنجاب بھر میں صوفی ازم اور سائنس و ٹیکنالوجی ریسرچ مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں شیخ ابوالحسن شازلی صوفی ازم اور سائنس و ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر کا لاہور میں آغاز کر دیا گیا -
ای لائبریری کا نام اسی لیے تبدیل کیا کہ لوگوں کو پتہ نا چلے۔ لوگوں کو گورنمنٹ نے یہی شو کروایا ہے کہ اسی گورنمنٹ نے تحقیقی مراکز قائم کیے جبکہ اصلیت سب لوگوں کے سامنے ہے۔
شیخ ابو الحسن شازلی صوفی ازم، سائنس و ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر۔ مزہبی سائنسی اور سماجی علوم کا جدید ترین مرکز۔ جس کا باقاعدہ آغاز خاتون اول کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔