دو تہائی اکثریت سے منتخب پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت کو ہٹا کر گورنر راج نافذ کر دیا گیا اور اقتدار ایسے شخص کے حوالے کر دیا گیا جس نے اپنے سیاسی کیریئر میں 9 انتخابات لڑے اور صرف ایک میں کامیابی حاصل کی!
مگر اصل خوف عمران خان اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی عوامی مقبولیت کا ہے! اسی خوف کی عکاسی ان کی گرفتاری سے ہوتی ہے۔ جب عوام کی حمایت کسی کے ساتھ ہو تو اسے پابندِ سلاسل کرنا بھی اس کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتا۔
عوامی مینڈیٹ پر شب خون مار کر اقتدار تو چھینا جا سکتا ہے، عوام کا اعتماد نہیں!
بائیس گریڈ کے ذہنی مریض نے پاکستان کا امن، معیشت، حق آزادی رائے، عدلیہ، جمہوریت، آئین اور اخلاقیات کو صرف اپنی طاقت اور اقتدار کے لیے تباہ کر دیا ہے۔۔۔!!
#ذہنی_مریض_نامنظور
السلام علیکم!
جمہوریت کے دعویدار سیاسی جماعتوں نے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر خیبرپختونخوا کے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈال کر منتخب حکومت ختم کردی، جس سے ایک بات ثابت ہوچکی ہے کہ حقیقی جمہوری جماعت صرف اور صرف پاکستان تحریک انصاف ہے اور قومی رہنما عمران خان ہیں۔
میرے عزیز ساتھیو! قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ آپ لوگوں نے گھبرانا نہیں، مایوس نہیں ہونا، کیونکہ عمران خان کی مقبولیت اور عوامی حمایت مزید بڑھ چکی ہے۔
میرے عزیز ساتھیو! میرا ایمان ہے کہ میں عمران خان کا مخلص کارکن ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں نے علی امین گنڈاپور کو ہر حد تک سپورٹ کیا ہے اور کر رہا ہوں۔ ان کی حمایت کی وجہ سے کارکنان نے مجھے شدید تنقید کا نشانہ بنایا، مجھے برا بھلا کہا، میرے خلاف کمپینز چلائی گئیں اور گندی گالیاں دی گئیں۔ گزشتہ ایک سال سے میں ہر سچی خبر ٹویٹ کرتا اور حقائق بیان کرتا رہا، لیکن لوگوں نے میری بات نہیں سنی کیونکہ مجھے عجیب نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
27 ستمبر کا لانگ مارچ اسٹبلشمنٹ کے کہنے پر ملتوی کیا گیا تھا، پھر بیانیہ بنایا گیا کہ تھکا تھکا کر ماریں گے۔ کون تھک گیا؟ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں۔
اسلام آباد لانگ مارچ لے کر جانے کا پلان ہی نہیں تھا اور تمام پارلیمنٹیرینز کو کہا گیا تھا کہ صوابی میں ہی قیام کریں گے، لیکن قوم کے سامنے انقلاب کے جھوٹے نعرے لگائے گئے۔
سہیل آفریدی عمران خان کے مخلص کارکن ہیں، لیکن سوشل میڈیا کی مقبولیت نے انہیں جذباتی بنا دیا تھا۔ عمران خان کی رہائی، انصاف کی فراہمی اور صوبے میں گورننس کے بجائے ان کا سارا فوکس سوشل میڈیا پر رہا۔ ہیرو بننے اور عوام میں سپورٹ حاصل کرنے کے لیے فوج کو للکارتے رہے، حالانکہ اندر کمروں میں اسی فوج کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی تھیں اور آج صبح تک معاملات ٹھیک کرنے کے لیے بات چیت ہو رہی تھی۔
ان خطرناک حالات میں جن جن لوگوں نے خاموشی اختیار کی، عمران خان کے سب سے بڑے دشمن وہی لوگ ہیں۔
ایک شخص نے خود کو ہیرو بنانے کے لیے عمران خان کی 30 سالہ جدوجہد اور تحریک کو تباہی کی طرف دھکیل دیا۔ یہ نوجوان مخلص ضرور تھا، لیکن جذبات، شعر و شاعری اور انقلاب کے جھوٹے نعروں نے اسے اپنا اسیر بنا لیا تھا۔
اگر لانگ مارچ حقیقی طور پر ہوتا تو لکی مروت، بنوں، مردان اور پشاور کے بجائے براہِ راست اسلام آباد جاتے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پوری پلاننگ کے ساتھ، جانے انجانے میں عمران خان کو بہت بڑا نقصان پہنچایا گیا۔
علی امین گنڈاپور کو گالیاں دینے والوں کو بھی اب عقل آگئی ہوگی کہ طاقتور حلقوں کے ساتھ کیسے گیم کھیلی جاتی تھی، کیسے انہیں ڈیل کیا جاتا تھا۔ اپنے دو سالہ دورِ حکومت میں وہ جن خطرات سے گزرے، اگر وہ سب بیان کیے جائیں تو کچھ لوگ بے نقاب ضرور ہوں گے اور وزارتِ اعلیٰ کی کرسی کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔
اپنی طاقت، اپنی حکومت کو جاتے ہوئے دیکھ کر آج میری آنکھوں میں بے حد آنسو تھے، کیونکہ نیا پاکستان میرا خواب ہے اور اس کے لیے میں نے اپنی جان، جوانی اور دیوانگی سب کچھ قربان کردیا ہے، حالانکہ واپسی میں مجھے جو کچھ ملا، شاید وہ میری اپنی غلطی یا وفاداری کی سزا ہے۔
مجھے ایک سال ایسا سمجھا گیا جیسے میں سہیل آفریدی کا سب سے بڑا مخالف ہوں، حالانکہ میرا اختلاف سوشل میڈیا پر موجود ان سازشیوں سے تھا جنہوں نے گزشتہ حکومت کو سازش کے ذریعے تباہی اور خاتمے کی طرف دھکیلا، جس کا نقصان آج عمران خان کو ہوا۔
ہماری تباہی کے سب سے بڑے ذمہ دار وہی یوٹیوبرز اور صحافی ہیں جنہوں نے سہیل آفریدی کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا، انہیں سوشل میڈیا پر ہیرو بنایا اور آج کی غلطیوں کو بھلا کر سب اچھا بنا کر پیش کرتے رہے۔ جس کا نقصان آج خود سہیل آفریدی اور خان صاحب کو ہوا۔
ہمارے مشران نے سچ بولنے کے بجائے سیاسی جھوٹے نعرے لگائے کہ گورنر ہاؤس پر قبضہ کرلیں گے، ہر چوک کو ڈی چوک بنا لیں گے اور قوم انقلاب لیکر آئیگی یہ سب صرف بڑھکیں تھی، حقیقت یہ ہے کہ پشاور میں اس وقت 47 لاکھ لوگ اپنے گھروں میں آرام فرما رہی ہے جبکہ بڑھکیں مارنے والوں کو ہی تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے کیونکہ انکی جذباتی تقاریر کو پورے 47 لاکھ لوگ ہی دیکھتے تھے تو شاید ان کو لوگ باہر نکل کر انقلاب لائیں گے، میں ایک سال چیختا رہا لیکن میرے بات کسی نے نہیں سنی۔💔
اگر سہیل آفریدی ان سوشل میڈیا والوں کے بجائے پارٹی میں موجود سنجیدہ سیاستدانوں سے مشاورت کرتے اور ان کی رہنمائی لیتے تو شاید ہم عمران خان کی رہائی کے قریب پہنچ چکے ہوتے۔
میں آج انتہائی اداس ہوں۔ برائے مہربانی مجھے برا بھلا مت کہیں بلکہ میری باتوں پر سنجیدگی سے غور کریں۔ 🥹💔
پاکستان زندہ باد
عمران خان پائندہ باد
ذہنی مریض کی ایمرجنسی نا منظور!
یہاں صرف عمران خان کی پالیسی چلے گی اور راج ہوگا خلقِ خدا کا! یہ قوم نہیں جھکے گی اور حقیقی آزادی کے لیے آخر تک لڑے گی!
#گورنر_راج_نامنظور#نکلو_پشاور_کی_طرف
قتلِ مینڈیت: خیبر پختونخوا پر مسلط کردہ کچی ٹولیاں اور ڈکٹیٹر کی حکومت
عوام کے ووٹ، ان کے حقِ حکمرانی اور جمہوریت کے جنازے پر کھڑی یہ وہی نام نہاد "مشاورتی کونسل" ہے جس نے خیبر پختونخوا کے عوام کے فیصلے کو روند ڈالا ہے. بند کمروں کے فیصلوں اور بیرونی اشاروں پر پلنے والے ان مہروں نے ثابت کر دیا ہے کہ انہیں عوام کے مینڈیٹ سے کوئی سروکار نہیں، بلکہ مقصد صرف اور صرف صوبے کے وسائل پر قابض ہونا اور کٹھ پتلی راج مسلط کرنا ہے۔
جس صوبے نے بارہا اپنے حقوق اور ووٹ کی حرمت کے لیے آواز اٹھائی، آج وہاں طاقت کے زور پر ان کرداروں کو لا کھڑا کیا گیا ہے جن کا پختونخوا کی دھرتی اور عوام کی امنگوں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ صرف اور صرف مینڈیٹ کا قتل ہے—ایک ایسا فیصلہ جو عوام کے غضب اور تاریخ کے کٹہرے میں ہمیشہ کے لیے یاد رکھا جائے گا۔
عوام کا فیصلہ واضح ہے: مسلط کردہ یہ طبلچی اور کٹھ پتلی راج کبھی عوامی نمائندگی کا متبادل نہیں بن سکتا!
#نکلو_پشاور_کی_طرف
#گورنر_راج_نامنظور