🍁🌸 اللهم صل علی محـــــمـــــد وعلی آل محـــــمـــــد کما صلیت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انك حمید مجید 🌸🍁
🍁🌸 اللهم بارك علی محـــــمـــــد وعلی آل محـــــمـــــد کما بارکت علی ابراهیم وعلی آل ابراهیم انك حمید مجید 🌸🍁
جواب: غیر آئینی کمیشن کیوں؟
سب سے پہلے ایک بنیادی حقیقت واضح رہنی چاہیے۔ تحقیقاتی کمیشن بنانے سے متعلق جسٹس اعجاز اسحق کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے معطل کیا تھا، نہ کہ کسی نجی شہری یا کسی مبینہ گروہ نے۔ اس لیے یہ تاثر دینا کہ کسی مخصوص گروہ نے کمیشن بننے سے روکا، حقیقت کے منافی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ آخر ملزمان کی حمایت کرنے والا یہ حلقہ ایک غیر آئینی اور غیر قانونی کمیشن پر اس قدر اصرار کیوں کر رہا ہے؟
پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کے اختیارات اور ان کے استعمال کے واضح اصول موجود ہیں۔ ایسے غیر معمولی اقدامات کے لیے قانونی تقاضے بھی طے شدہ ہیں۔ ان میں یہ بنیادی اصول شامل ہیں کہ متعلقہ معاملہ عدالت کے جغرافیائی دائرۂ اختیار میں ہو، قانون میں دستیاب مؤثر متبادل علاج موجود نہ ہو، اور وہ شخص جس کے حقوق متاثر ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، خود عدالت سے رجوع کرے۔ لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ خود ملزمان کے بجائے ان کے رشتہ دار، ہمدرد یا دیگر افراد ایسے مطالبات لے کر سامنے آ رہے ہیں۔ اگر واقعی کسی ملزم کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو وہ خود عدالت سے رجوع کیوں نہیں کرتا؟
اگر اس طرزِ فکر کو قبول کر لیا جائے تو پھر یہی اصول دہشت گردی، منشیات، انسانی اسمگلنگ، بچوں کے ساتھ جنسی جرائم اور دیگر سنگین مقدمات میں بھی اختیار کیا جا سکتا ہے کہ ملزمان اپنے مقدمات عدالتوں سے ہٹا کر اپنے رشتہ داروں کے ذریعے کسی کمیشن کے سپرد کرنے کا مطالبہ کریں۔ ظاہر ہے کہ پاکستان کا قانونی نظام اس تصور کو تسلیم نہیں کرتا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ مطالبہ انصاف کی تلاش سے زیادہ عدالتی کارروائی کو مؤخر کرنے اور مقدمات کو ان کے فطری قانونی راستے سے ہٹانے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔
اگر ملزمان واقعی بے گناہ ہیں تو اس کا سب سے مؤثر اور قانونی راستہ عدالت ہے۔ وہ اپنے خلاف پیش کیے گئے شواہد کو عدالت میں چیلنج کریں، اپنی موبائل ڈیوائسز اور دیگر ڈیجیٹل مواد کی اپنی مرضی کے ماہرین یا تسلیم شدہ فرانزک اداروں سے جانچ کرائیں، اور متعلقہ قانونی فورمز پر اپنے اعتراضات پیش کریں۔ اسی عمل سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
مزید یہ کہ اب تک سامنے آنے والی فرانزک رپورٹس میں بھی انتہائی فحش اور گستاخانہ مواد کی موجودگی کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ حتیٰ کہ این ایف اے کی جاری کردہ فرانزک میں بھی اس قبیح فعل کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اگر کسی فریق کو ان نتائج پر اعتراض ہے تو اس کا درست فورم عدالت ہے، نہ کہ متوازی اور غیر آئینی کمیشنوں کا مطالبہ۔
جہاں تک دہشت گردی یا کسی مجرمانہ نیٹ ورک سے تعلق کے دعووں کا تعلق ہے، ایسے سنگین الزامات محض سیاسی یا ابلاغی بیانیے کا حصہ نہیں بننے چاہییں۔ اگر کسی کے پاس قابلِ قبول شواہد ہیں تو وہ انہیں متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور عدالتوں کے سامنے پیش کرے۔ بصورتِ دیگر ایسے دعوے صرف اصل قانونی بحث سے توجہ ہٹانے اور عوامی رائے کو اصل مسئلے سے منحرف کرنے کی کوشش سمجھے جائیں گے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ خالصتاً عدالتی نوعیت کے مقدمات کو کبھی کسی متنازع کمیشن، کبھی بے بنیاد الزامات، اور کبھی غیر متعلقہ بیانیوں کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ اصل میدان، یعنی عدالت، میں انہی دعووں کو قانونی دلائل اور شواہد کے ساتھ ثابت کرنے کی کوئی کوشش دکھائی نہیں دیتی؟ اگر کسی کو اپنی بے گناہی پر یقین ہے تو اس کے لیے واحد رستہ عدالت ہی ہے۔
This very important news went almost completely unnoticed.
Yesterday, for the first time, Iran broke a decade long US-UK-EU-backed Saudi Arabia/UAE genocidal blockade against Yemen.
Happy 250th Independence Day to the country that spent half its existence invading, bombing, robbing, and occupying other nations…
…and the other half explaining why they deserved it.
@shafqatmm1 بالکل درست تجزیہ۔ پی ٹی آئی کے تقریباً تمام موجودہ عہدے دار ایک جرنیلی اشارے کے منتظر ہیں، پی ٹی آی حقیقی، آزاد، تابع دار، گوہر گروپ، سلمان گروپ، سہیل گروپ وغیرہ بنا کر آئیندہ تمام حکومتوں میں شامل ہونے کے لئے۔
حالات و واقعات سے اگر ن لیگ کا ڈاؤن فال نظر آ رہا ہے تو خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔
ن لیگ سیکنڈری کریمنل تھی ۔ ان کی پشت پناہی کیلئے ضمیر بیچ دینے والا جو بھی کرے گا ملک کیلئے نہیں اپنے فائدے کیلئے کرے گا
ن لیگ کے ڈاؤن فال کا مطلب دراصل یہ ہو گا کہ PTI میں سے ق لیگ تیار ہو چکی ہے
صحیح کہہ رہے ہیں ۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اس ملک میں کسی بڑے آدمی یا اس کے رشتے دار کو جرم کرنے پر سزا نہیں ملی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کھڑے ہونے پر طاقتور سیاسی شخصیات کو جیل بھی جانا پڑا ، پھانسی بھی لگے، قتل بھی ہوۓ۔
عمران خان کی ملاقاتیں اِس لئے بند ہوئیں کہ اُنھوں نے عاصم منیر کو ذہنی مریض کہنا شروع کر دیا تھا۔ عاصم منیر جو کہ چیف آف ڈیفنس فورسز بن کر نیوکلیئر بم کا بٹن حاصل کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے اُنھیں وہم ہوا کہ کہیں دنیا مان ہی نہ جائے کہ میں ذہنی مریض ہوں۔
بس اتنی سی بات ہے
کیا نون لیگ میں ایک بھی ایسا مرد کا بچہ نہیں جو اپنے قائد میاں نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈار کے خلاف ہونے والی تنقید پر فیصل واوڈا کو منہ توڑ جواب دے سکے؟
ڈٹ پٹواری بے غیرتا ڈٹ
🚨🚨🚨 اہم ترین ‼️ مقدمہ نمبر 1560/26 میں رضا ڈار کے جس "باس" کا ذکر ہے اسکی شناخت چیف منسٹر پنجاب کے قریبی عزیز کی طرف نشان دہی کرتی ہے تفتیش کے درست سمت میں آگے بڑھنے کا انتظار ہے اسلیئے قبل ازوقت نام نہیں لے رہا ورنہ کرپٹو کرنسی کے دھندے میں فراڈ کر کے دوبئی سے بھاگنے والوں کا بچنا مشکل ہے۔
میں کہتا جا رہا ہوں کے لاہور پولیس کے آپریشن اور انوسٹیگیشن کے سربراہان فیصل اور زیشان دونوں نواشریف کے ذاتی سیکورٹی کے ملازم بنے ہوئے ہیں دیکھیں انٹرویوز میں کیسے یہ لوگ پروفیشنل ازم کا ڈھونگ رچا رہے ہیں جبکہ کل رات تک DIG آپریشنز اپنے ایس ایچ او فریاد کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے گھر چھاپا مرواتا ہے تاکہ مرکزی ملزم کی ضمانت لے کر رات و رات اسکو ملک سے فرار کروایا جا سکے مقدمہ نمبر 661/26 اسکی واردات اور سازش کی کھلم کھلا عکاسی کر رہا ہے!!!
یاد رہے خاندان کا سربراہ اسی طرح ماضی میں طیارہ لے کر فرار ہوا تھا‼️
کوئی بہت بڑی گیم چل رہی ہے۔۔۔۔
مجھے پتہ نہیں کیوں لگ رہا ہے کہ بلاول کو مزید آگے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے
ساتھ ساتھ محسن نقوی کو بھی مزید نوازنے کی تیاری ہو رہی ہے۔۔۔۔۔
ان کی لڑائی میں ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہے ہمیں فائدہ تب ہوگا جب خان صاحب کی رہائی ہوگی۔۔۔۔۔
مجھے سب سے زیادہ خوشی تہران میں سعودی اور طالبان وفود دیکھ کر ہوئی۔
یہ دونوں ایران کے دشمن تھے۔ ایران نے اپنی حکمت اور تدبر سے ان کو دوست بنا لیا۔
یہی مومن کی بصیرت ہے۔
پاکستان کے افغان دوست تھے۔ پاکستان نے انہيں اپنا دشمن بنا لیا۔ 😢