Ashiana is a non-government, non-profit & non-political organization established 2002,for rural communities, to fight against poverty ,women&child health care .
عمران خان صاحب سے اڈیالہ جیل میں ملاقات ہو گئی ہے،پہلے سے زیادہ مضبوط اور حوصلے بلند نظر آۓ،ان کو ایک چھوٹے سیل میں رکھا گیا ہے،بہتر کلاس کے حوالے سے غلط خبر چلائی گئی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں،اس سیل سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں،والک پر پابندی ہے،لیکن انہوں نے کہا ہے جب مقصد آزادی ہو تو تو فرق نہیں پڑتا.ڈٹ کے کھڑا ہے آپ کا کپتان.
@MaidahMuhammad اس دنیا میں ایسی زندہ قومیں بھی بستی ہیں جو ہمارے نزدیک غیر مسلم ہیں اور قانون کی بالادستی قائم کی گئی ہے لیکن پھر بھی زندہ لوگوں کو سلام پیش کرتےہیں۔
یہاں تو 23/25 کروڑ زندہ لاشیں بستی ہیں پھر ان پر وحشی قسم کے ظالم حکمران جو غریب مزدور کےجسم کی ہڈیوں سے گوشت تک صاف کردیں۔😭💔😭
تصدیق شدہ:
کاکڑ نیویارک جاتے ہوئے پیرس کے راستے ایفل ٹاور کی چوٹی پر واقع ایک ریستوراں میں فیملی کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے وہاں جانا چاہتے تھے۔ اس کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے خصوصی پرواز کا رخ پیرس کی طرف کیا گیا، اس نے وہاں اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ساتھ رات کا کھانا کھایا اور اس کا بل سفارت خانے کے فنڈز سے ادا کیا گیا کیونکہ اس کے لیے کوئی بجٹ نہیں تھا۔ رات کا کھانا فی شخص صرف 300 یورو تھا۔ یہ خبر کسی میڈیا چینل پر نشر نہیں ہوئی۔🤦♂️
اہم اعلان ۔۔۔ اہم اعلان
ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین @AltafHussain_90 کا ملک کی موجودہ صورتحال کے بارے میں اہم وڈیو لاگ اب سے تھوڑی دیر میں قائد تحریک کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر جاری کیا جائے گا ۔
جاری کردہ
*مرکزی شعبہ اطلاعات*
*متحدہ قومی موومنٹ*
11 ستمبر 2023
محترمہ ثمرین حسین سرسید یونیورسٹی میں لیکچرار تھیں۔
اُنہوں نے چار سو ارب سے زیادہ کی کرپشن کیس کے مرکزی ملزم اور زرداری صاحب کے فرنٹ مین 70 سالہ ڈاکٹر عاصم سے دوسری شادی کر لی۔
ڈاکٹر عاصم حسین کی پہلی 66 سالہ اہلیہ کینسر کے باعث ہسپتال کے بستر پر پہنچیں تو اچانک ثمرین صاحبہ کی لاٹری نکل آئی۔ انہیں سیدھا نصرت بھٹو یونیورسٹی سکھر کی قائم مقام وائس چانسلر تعینات کر دیا گیا۔ چونکہ وہ کسی بھی طرح وائس چانسلر کے لیے درکار اہلیت کے معیار پر پورا نہیں اترتی تھیں۔ اس لیے انہیں مکمل اختیارات کے ساتھ قائم مقام وائس چانسلر بنایا گیا۔
پھر ڈاکٹر عاصم حسین کی منظوری سے ان کی سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایس ایچ ای سی) میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے پر انتہائی متنازعہ تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ جس پر پورے ملک کے تعلیم سے وابسطہ افراد نے مذمت کی
اس کے کچھ ہی عرصہ بعد محترمہ کو پی ایچ ڈی ڈگری کے حصول کے ساتھ ہی ایچ ای سی کے عہدے کے علاوہ نصرت بھٹو یونیورسٹی سکھر کے علاوہ سکھر یونیورسٹی برائے خواتین کی وائس چانسلر بھی تعینات کیا گیا۔
پھر وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی نئی پی ایچ ڈی پالیسی کے حوالے سے بننے والے ورکنگ گروپ میں سندھ کی جامعات کی جانب سے محترمہ ہی فوکل پرسن مقرر کی گئیں۔
اج کل محترمہ کراچی داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی وائس چانسلر ہیں۔
ایک بار داؤد انجینئرننگ یونیورسٹی کے ملازمین نے اپنے حقوق کے لیے احتجاجی کیمپ لگایا تو وہاں پہنچ کر دھمکیاں دیینے لگ گئیں۔ پھر انہیں ملازمین کے خلاف خود کو ہراسان کرنے کی درخواست بھی پولیس کو دے ڈالی
چند روز قبل یونیورسٹی کے بچوں کو دھمکیاں دینے کی ویڈیو ساشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس کے علاوہ بھی بلاوجہ یونیورسٹی کے کئی بچوں کا مستقبل تاریک کرنے کی دھمکیاں دیتی رہتی ہیں۔ چور دروازوں سے بغیر اہلیت کے ذمہ دار عہدوں پر پہنچنے والوں کا عموما یہی رویہ ہوتا ہے۔ نو دولتیا پن ان کے ہر عمل سے چھلکتا ہے۔ وائس چانسلر بھی بن جائیں تو بھی اتھرے بدمعاش والا روپ دھارنے میں انہیں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔
ان دونوں (ڈائنوں) نے گزشتہ دنوں سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال میں 6 ماہ کی حاملہ ایک خاتون کو دھوکے سے اپنے گھر بلایا اور اسے نشہ اور چیز پلا کر بے ہوش کیا۔۔۔ پھر اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر چھری سے ذبح کیا اور پیٹ سے 6 ماہ کا بچہ نکالا ہے۔۔۔ گرفتاری کے ڈر سے ان آدم خورنیوں نے لاش کے ٹکڑے کر کے صندوق میں ڈالا اور اسے چھپا دیا۔
ان میں سے اوپر والی درندہ لیڈی ڈاکٹر ہے
پولیس نے محلے کی تمام CCTV فوٹیجز کی مدد سے کھوج لگایا اور ان ڈائنوں کو گرفتار کرنے میں کامیابی ملی۔۔۔ دوران تفتیش معلوم ہوا ہے کہ یہ لیڈی ڈاکٹر ایک گینگ کی ممبر ہے، جو لوگوں کے گردے نکال کر فروخت کرتے ہیں، بچوں کو اغوا کر کے فروخت کرتے ہیں اور درج بالا واقعہ تو انتہائی المناک ہے۔۔۔ اب کہا جا رہا ہے کہ مقامی کوئی پولیس آفیسر انہیں چھڑوانے کی کوشش کر رہا ہے۔
میری آپ تمام احباب سے گزارش ہے کہ اس سانحے پر متحد ہو کر آواز اٹھائیں اور انہیں پھانسی دلوانے میں مدد کریں۔ نہ جانے ان درندوں نے کتنے بچوں کو قتل کیا ہوگا، کتنے بھولے لوگوں کو ورغلا کر دھوکہ دہی سے گردے نکال کر فروخت کئے ہونگے۔ 😰
اب تو ڈاکٹرز پر سے بھی اعتبار اٹھ چکا ہے، یہ لیڈی ڈائن ( ڈاکٹر ) مقتولہ کی پڑوسی تھی، اس نے پیسوں کیلئے اپنی پڑوسن کا قتل کیا اور اس کے بطن سے 6 ماہ کے حمل کو نکال کر بیچا ہے۔ اس پر شدید آواز اٹھانی چاہئیے۔
کمیل احمد معاویہ
@KomailMuavia313
فاطمہ کیس میں گرفتار پیر اسد شاہ کی والدہ سے حویلی میں موجود نوکرانیوں کی تعداد کے بارے میں جب معلوم کیا گیا تو اس نے جواب دیا کہ سیکڑوں ہیں، آج تک کبھی گنی ہی نہیں.
سندھی میں اس قسم کی نوکرانیوں کو بانھي" کہا جاتا ہے، جن کا باقاعدہ کوئی معاوضہ مقرر نہیں ہوتا۔ بس روٹی کے دو ٹکڑوں پر ان کے والدین اپنی بچیوں کو حویلی چھوڑ جاتے ہیں کہ مرشد کی شفاعت سے جنت کا راستہ آسان ہو جائے گا۔
اب پیر صاحب، ان کی بیگمات اور حویلی میں موجود ملازمان، ان بچیوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں، یہ وہ راز ہیں جو حویلی کی حرم سراؤں تک ہی محدود رہتے ہیں۔ والدین کبھی پلٹ کر ان کی خبر تک نہیں لیتے کہ مرشد ناراض ہوا تو دین اور دنیا دونوں ہی ختم ہو جائیں گے۔
یہ سب کچھ صدیوں سے ایک منظم نظام کے تحت ہوتا آرہا ہے اور اس میں سرکاری افسران، پولیس، ڈاکٹرز اور دیگر اہلکار اپنا حصہ وصول کرکے سہولت کاری فراہم کرتے ہیں۔
فاطمہ کیس میں بھی یہی ہوا۔ معصوم بچی کا متعدد بار ریپ ہوا، ایس ایچ او اور ڈاکٹر کی مدد سے پوسٹ مارٹم کئے بغیر ہی لاش کو دفنا کر معاملہ نمٹا دیا گیا اور بچی کے والدین کو اس کی بیماری کا بتا کر چار پیسے دے کر خاموش کروا دیا گیا۔
یہ سب کچھ ایک بالکل نارمل اور روٹین پریکٹس کے تحت کیا گیا۔ کیونکہ ایسے کتنے ہی کیس ہیں جو آج تک منظر عام پر ہی نہیں آسکے۔ لیکن فاطمہ کی بات کسی نہ کسی طرح باہر نکل گئی اور سوشل میڈیا پر آگئی۔ جس کے نتیجے میں ایسا احتجاج ہوا کہ فاطمہ کی قبر کشائی کے احکامات جاری کئے گئے۔
تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ جس حویلی کے اوپر کبھی نر پرندہ بھی پرواز نہیں کرسکتا تھا، آج وہاں پولیس پکٹ قائم کردی گئی ہے۔ حویلی مکمل طور پر ویران ہے، کیونکہ اس کے سارے مکین مرد اپنی عورتوں سمیت فرار ہیں اور رانی پور کی قومی شاہراہ پر احتجاج ہورہا ہے اور ہزاروں گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
یہ ایسے مناظر ہیں جن کے دیکھنے کے لئے ہماری آنکھیں ترس گئیں اور امیدیں دم توڑ رہی تھیں، لیکن سوشل میڈیا کی بدولت آج ایسا ممکن ہوا ہے۔
سوشل میڈیا نے دھرتی کے خداؤں کو آج اس طرح پسپا ہونے پر مجبور کیا ہے ورنہ ان تاریک غلام گردشوں میں نجانے کتنی فاطمائیں بے گور و کفن ہی دفنا دی گئی ہوں گی۔
طفیل مزاری
(تازہ ترین : فاطمہ کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد میڈیکل بورڈ نے تشدد اور متعدد بار جنسی زیادتی کی تصدیق کی ہے ۔)
جن جن لوگوں نے پی ٹی آئی کے بدتہذیب اور بدتمیز لوگوں کے بدتمیزی کی مذمت کی ہے میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ معاملہ یہاں پر میری ذات کا نہیں بلکہ ملک کا ہے، پی ٹی آئی کے لوگ ایسی حرکات کر کے پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں۔۔ان لوگوں میں عمران خان کی تربیت بول رہی ہے۔۔
@SenatorMushtaq@MoulanaOfficial اس دلخراش واقعہ کے بیان کیلئے الفاظ نہیں ہیں،میں آپ سب لوگوں سے تعزیت کرتا ہوں،باجوڑ لہولہان ہے،اور معصوموں کی بدن کے ٹکڑے بکھرے پڑے ہیں،اللہ تعالی شہداء کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے،زخمیوں کو صحتیابی عطا فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔
مقدمے میں نیا موڑ:
پولیس کو دیے گئے بیان کے مطابق بچی کے والدین جب اسکو ملنے اسلام آباد جج کے گھر گئے تو اسکی ملزمہ بیوی حیلے بہانے کرتی رہی اتنی دیر میں کمرے سے رونے کی آوازیں آئیں جہاں بچی کو قید کیا گیا تھا جب انہوں نے کمرہ کھولا تو رضوانہ زخمی حالت میں تڑپ رہی تھی،ہڈیاں ٹوٹی ہوئیں اور سر پر گہرے زخموں میں کیڑے پڑ چکے تھے جبکہ جج نے کہا تھا بچی کو اسکی بیوی سرگودھا والدین کے پاس چھوڑ آئی ہے اور پھر یہ بھی کہا تھا اس نے خود دیوار میں ٹکر مار کر سر پھاڑا ہے مقدمہ اور سنگین ہو گیا ہے اس میں تو اغوا اور حبس بےجا میں رکھنے کی دفعہ شامل کی جائے.دونوں میاں بیوی پہلے دن سے جھوٹ بول رہے ہیں جج اس جرم میں برابر کا شریک ہے جو ملزمہ بیوی کو بچانے کے لیے جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے.جج کو فوری معطل کیا جائے.رضوانہ کے صحت مند ہونے کے بعد اسکا بیان بہت اہمیت کا حامل ہو گا اس لیے کیس میں سپیشل تفتیشی ٹیم تشکیل دی جائے جو بغیر کسی دباؤ کے مقدمے کی صحیح طریقے سے جانچ کرے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے.
#رضوانہ_کو_انصاف_دو
" انکا کوئی کام بغیر ذاتی فائدے کے نہیں ہوتا - بیوقوف لوگ : جتنے لیپ ٹاپ دیے سب عمران خان کے ووٹر بن گئے اور یو ٹیوب تقریریں سن رہے ہیں - واہ واہ" شاہین صہبائی
@SSEHBAI1#shehbazsharif#ImranKhanPTI
Link : https://t.co/CorA6epFUX