آج جو افغان عناصر کراچی حملے کی خبروں پر خوشی منا رہے ہیں اور 'الحمدللہ' کہہ رہے ہیں، ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ان کی یہ خوشی بہت عارضی اور چند لمحوں کی ہے۔ جب ان دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور ان کی اپنی سرزمین پر پاک فوج کا بھرپور اور کاری ضرب لگانے والا جوابی ایکشن ہوگا، تو اس وقت ان سب کی شکلیں دیکھنے والی ہوں گی۔ پاکستان کی سلامتی سے کھیلنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری افواج اپنے دشمنوں کو ان کے گھروں میں گھس کر عبرت کا نشان بنانا اچھی طرح جانتی ہیں۔
ایرانی صدر کا دورہ پاکستان، ایران کی جانب سے نغمہ جاری
آپ ہمارے مشکل وقت میں ساتھ رہے، آپ کا دل سے شکریہ
پاکستان واحد ملک ہے جس پر ایران کو سب سے زیادہ اعتبار ہے،ایرانی عوام کا پیغام
پاک۔ایران دوستی زندہ باد۔۔۔!!
"جہاں تک بلوچستان پر خرچ کیے جانے والے وسائل کا تعلق ہے، میری تقریر کا ریکارڈ نکلوا لیا جائے۔ میں نے کہا تھا کہ چاروں صوبوں نے رضاکارانہ طور پر این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کے وسائل میں سو فیصد اضافہ کیا اور خوشی کے ساتھ کیا۔ میں نے یہ بات بڑے ادب اور عاجزی کے ساتھ کی تھی۔ آج بھی کہتا ہوں، جب تک چاروں صوبے ترقی کے سفر میں برابر کے شریک نہیں ہوں گے، اس وقت تک اسے پاکستان کی حقیقی ترقی نہیں کہا جا سکتا۔
آج میری بات کو معزز اپوزیشن لیڈر نے مختلف رنگ دیا، جس پر مجھے افسوس ہے، تاہم یہ ان کا اپنا نقطۂ نظر ہے۔"
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب
پاکستانیوں کو مبارک باد ۔ گنجا شیطان محمود خان افغانی پاکستان کی تمام ٹی وی چینلز پر لائیو بے عزت ویڈیو وائرل 🔥🔥
سردار آیاز صادق نے محمود خان اچکزئی کی ایسی چھترول کی ہر پاکستانی جھوم اٹھا
سردار آیا از صادق زندہ باد کے نعریں ۔۔۔ ان نمک حراموں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئیں
Iranian President arriving in Pakistan and Pakistani Air Force jets are escorting his plane. Islamabad has become the center of global diplomacy in these troubled times.
🚨BREAKING NEWS: Israel just dropped a
massive bomb to kill 18-year-old student
on her way to her school exam in Gaza.
Her name is Raghad Ashour. Repost this.
💔 تم خاندان کے لیے ایک شرمندگی ہو۔
تمہیں خود پر شرمندگی محسوس نہیں ہوتی؟
تمہاری عمر کے سب شادی شدہ ہیں " 🥀
میرا نام سارہ ہے۔
عمر پینتیس برس۔
اور میرے گھر والے؟ وہ مجھے ایک 'تکمیل سے محروم پروجیکٹ' سمجھتے ہیں۔
یہ بات کبھی کسی نے میرے منہ پر نہیں کہی تھی۔
کل صبح تک۔
کل امی کا ایک میسج آیا۔
شروع میں روایتی سا "خیریت ہے؟" تھا، آخر میں "دعائیں" بھی درج تھیں۔
مگر درمیان کے وہ چھ پیراگراف... وہ کسی تیز دھار خنجر کی طرح تھے جس نے میری پوری زندگی کے بیانیے کو ایک جملے میں سمیٹ کر رکھ دیا:
"تم خاندان کے لیے ایک شرمندگی ہو۔"
میں کتنی ہی دیر ساکت، فون کو اپنی ہتھیلیوں میں دبائے بیٹھی رہی۔
پہلے لگا، شاید میری بصارت نے دھوکہ کھایا ہے۔
پھر دوبارہ پڑھا۔
پھر تیسری بار۔
ہر بار الفاظ کے معنی وہی رہے، بس اندر کہیں کچھ ایسا ٹوٹا جو برسوں کی تعمیر کے بعد جڑا تھا۔
تین سال گزر گئے۔
ارسلان اور میری بات طے ہوئی تھی۔
میں نے خود رشتہ توڑا تھا۔
وہ ایک انوکھا کرب تھا جب مجھے پتا چلا کہ ارسلان، جس سے میرا نکاح ہونے والا تھا، وہ اپنی شادی کی تیاریوں کے دوران بھی کسی اور کے ساتھ جذباتی رابطے میں تھا۔ وہ خاموش دھوکہ تھا... وہ بے وفائی تھی جس میں خلوص کا نام و نشان نہیں تھا۔
لوگوں نے کہا، "اتنی سی بات پر؟ لڑکے تو شادی کے بعد سدھر جاتے ہیں۔"
میں نے خود سے کہا، "یہ اتنی سی بات نہیں، یہ میرے وجود کا سودا تھا۔ میں کسی ایسی عمارت کی بنیاد نہیں رکھ سکتی تھی جس میں دراڑیں پہلے دن سے موجود ہوں۔"
میں نے رشتہ ختم کر دیا۔
میں شادی کے خلاف نہیں تھی، میں بس ایسے رشتے کے خلاف تھی جہاں میری ذات کا کوئی احترام نہ ہو۔
اس کے بعد میں نے خود کو سنبھالا۔
تعلیم مکمل کی، اپنا کیریئر بنایا۔ اپنا چھوٹا سا گھر خریدا۔ گاڑی اپنی محنت سے کلیئر کی۔
میری اپنی دنیا ہے۔ دوست ہیں، مطالعہ ہے، ایک بلی ہے جو میرے گھر کی اداسی کو اپنا سکون سمجھتی ہے۔
میں ٹھیک تھی۔
یا شاید، میں نے ٹھیک ہونے کا یقین خود کو دلا دیا تھا۔
مگر امی کے اس میسج نے میرے سارے حصار توڑ دیے۔
"تم نے ارسلان کو چھوڑ کر زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی۔ لوگ عمریں گزار دیتے ہیں سمجھوتوں میں، تم نے تو بات چیت کے دوران ہی ضد کر کے رشتہ تڑوا لیا۔"
"تمہاری بہن کے بچے ہیں، بھائی سیٹل ہے۔ کزنز خوش ہیں۔"
اور وہ کاری ضرب:
"تمہیں خود پر شرمندگی محسوس نہیں ہوتی؟"
میں وہیں رک گئی۔
شرمندگی؟
اس بات کی کہ میں نے خود کو ایک کھوکھلے رشتے کے سپرد ہونے سے بچا لیا؟
یا اس بات کی کہ میں نے تنہائی کا انتخاب کیا، مگر کسی سستے سمجھوتے کا نہیں؟
آخر میں لکھا تھا:
"یہ صرف میری رائے نہیں، سب یہی کہتے ہیں۔"
میں ہنس پڑی۔ ایک تلخ، بے کیف ہنسی۔
انسان کے وجود کو چھ پیراگراف میں روند دینے کے بعد، اسے نصیحتیں کرنا... کتنی ستم ظریفی ہے۔
اس ہفتے خاندان کا اکٹھ تھا۔
تین گھنٹے کی طویل مسافت۔ ہر ماہ میں جاتی تھی۔
اس بار... میں نے انکار کر دیا۔
صرف ایک مختصر میسج: "میں نہیں آ رہی۔"
امی کا جواب فوراً آیا: "تم اوور ری ایکٹ کر رہی ہو۔ یہ ٹف لو (tough love) ہے۔"
میں نے فون ایک طرف پھینک دیا۔
میری بیسٹ فرینڈ نے مشورہ دیا: "جاؤ، سب کے سامنے جاؤ اور انہیں آئینہ دکھاؤ۔"
میں نے سوچا، کیا واقعی مجھے اپنی زندگی کی توثیق ان لوگوں سے کروانی ہے جو مجھے ایک 'فیلڈ پروجیکٹ' مانتے ہیں؟ جو یہ سمجھتے ہیں کہ عورت کی قیمت صرف گھر بسا لینے میں ہے؟
اگر یہ سب نہیں، تو کیا میں محض ایک 'مسئلہ' ہوں؟
میں لاؤنج میں بیٹھی تھی۔
میری بلی گود میں تھی، اس کی پرسکون دھڑکنیں مجھے بتا رہی تھیں کہ خاموشی خود ایک زبان ہے۔
وہ خاموشی جسے میں نے ہمیشہ 'تنہائی' سمجھا، آج وہ 'انتخاب' لگ رہی تھی۔
میں نے دوبارہ وہ میسج کھولا۔ "تم ایک شرمندگی ہو۔"
پہلی بار میں نے خود سے پوچھا: "کیا میں واقعی شرمندگی ہوں؟"
اور اندر سے جواب آیا: "نہیں۔"
میں نے خود کو ایک جھوٹ سے بچایا تھا۔ میں نے زخموں کو چھپایا نہیں، انہیں بھرنے کا حوصلہ کیا۔
اگر یہ شرمندگی ہے، تو پھر عزتِ نفس کی تعریف ہی بدل جانی چاہیے۔
میں اکٹھ پر نہیں گئی۔
وہ وہاں بیٹھے ہوں گے۔ میری غیر موجودگی کو موضوع بنایا ہوگا۔
"سارہ بہت حساس ہے..."
"اسی لیے تو اب تک اکیلی ہے۔"
میں وہاں نہیں تھی، مگر پہلی بار، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔
رات کو میں نے امی کو لکھا:
"امی، آپ نے جو کہا، وہ 'ٹف لو' نہیں، محض توہین تھی۔ میں شادی کے خلاف نہیں ہوں، میں تو ایک پروقار زندگی کے حق میں ہوں جہاں انسان کو انسان سمجھا جائے۔ اگر میری قدر صرف ایک لیبل سے جڑی ہے، تو آپ مجھے نہیں، صرف اپنی سوچ کے سانچوں کو دیکھ رہی ہیں۔ میں آپ سے محبت کرتی ہوں، مگر اس محبت کے عوض اپنی عزتِ نفس کا سودا نہیں کر سکتی۔"
میں نے سینڈ کا بٹن دبا دیا۔
جواب نہیں آیا۔ ابھی تک نہیں آیا۔
شاید آئے بھی نہ۔
میں اپنے گھر میں ہوں۔
اپنی بلی کے ساتھ۔
ایک ایسی خاموشی کے ساتھ جو اب بوجھ نہیں، طاقت ہے۔
اور ایک اٹل سچ کے ساتھ:
کچھ لوگ آپ کو اس لیے نہیں کھوتے کہ آپ غلط تھے، وہ آپ کو اس لیے کھو دیتے ہیں کیونکہ آپ نے خود کو سستا بیچنے سے انکار کر دیا۔
اور کبھی کبھی...
اکیلا ہونا ہارنا نہیں ہوتا۔
یہ پہلی بار خود کو جیتنا ہوتا ہے۔ ❤️
افسانہ: شرمندگی
آپ سب نے ایک کام کرنا ہے!
یہ کلپ ڈاونلوڈ کرکے اپنے قرب و جوار میں موجود یوتھی بھائیوں کے ساتھ شئیر کردینا ہے۔
ساتھ آواز اونچی کردینی ہے۔
تاکہ یوتھی بھائیوں کو پتہ چل جائے کہ پاکستان بھی سوئٹزرلینڈ گیا ہے۔
انکو اب تک یقین نہیں آ رہا کہ پاکستان کو بلایا گیا تھا۔
"غزہ میں خاموش ہونے والی ماں کے بعد، اب اس کی 11 سالہ بیٹی بول رہی ہے"
فلسطینی صحافی ماں، جو اسرائیلی حملوں میں اپنی جان گنوا بیٹھی، ان کی جگہ اب اس کی صرف 11 سالہ بیٹی نے لے لی ہے۔ دنیا کی سب سے بھیانک جنگوں،
میں سے ایک کے بیچ، اس بچی نے کھلونوں کے بجائے مائیکروفون اٹھایا ہے. اور دنیا کو غزہ کا سچ بتانے کی کوشش کر رہی ہے۔
I am honoured to announce that the historic ‘Islamabad Memorandum of Understanding’ has been electronically signed today between the United States of America and the Islamic Republic of Iran. The Memorandum has been signed by honourable Presidents of both the countries and also endorsed by me as the mediator. The signing of this agreement at the highest level of the respective governments demonstrates the commitment of both sides to a diplomatic resolution of the conflict. Islamabad MoU shall enter into force with immediate effect and as a first step, Islamic Republic of Iran will instantly reopen the Strait of Hormuz and the United States of America will immediately lift the naval blockade.
I offer my heartfelt congratulations and sincere appreciation to the President of the United States, Donald J. Trump whose steadfast commitment to diplomacy and preference for peaceful resolution have once again helped end a conflict that could have led to devastating consequences for the region and beyond. I also commend the dedication and tireless efforts of the United States negotiating team, including J.D. Vance, Steve Witkoff and Jared Kushner, for their invaluable contributions to this achievement.
I express my profound respect and appreciation to His Eminence Ayatollah Seyyed Mojtaba Hosseini Khamenei, the Supreme Leader of Islamic Republic of Iran and President Masoud Pezeshkian for their wisdom, foresight and statesmanship in embracing the cause of peace. I also wish to recognize the efforts of the Iranian negotiating team, including Mohammad Bagher Ghalibaf, Abbas Araghchi and Eskandar Momeni, whose patience, perseverance and commitment to constructive engagement were instrumental in bringing this agreement to fruition.
I would especially like to acknowledge the sincere efforts and constructive engagement of the leadership of the State of Qatar in helping reach this point. I also highly commend the leadership of the Kingdom of Saudi Arabia, the Republic of Türkiye and the Arab Republic of Egypt for their indispensable role and invaluable contributions in this regard.
I would also like to make special mention of Field Marshal Syed Asim Munir, whose tireless efforts, selfless dedication and instrumental role were critical in facilitating this breakthrough and advancing the cause of peace and regional stability.
May this Memorandum of Understanding serve as an enduring foundation for greater understanding, mutual respect and shared prosperity for the complete region.
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
پاکستان نے ناممکن کو ممکن کردکھایا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران امن معاہدے پر دستخط کروالئے ۔
دنیا کی تاریخ اب اس زکر کے بغیر ادھوری رہے گی کہ پاکستان نے دنیا میں یقینی تیسری جنگ عظیم کو روکا ۔
کچھ ممالک نے پوری کوشش کی تھی کہ ایران کیساتھ یہ معاہدہ نہ ہوسکے لیکن پاکستان بہترین سفارتکاری کے زریعے ڈونلڈ ٹرمپ کو امن معاہدے کیلئے قائل کیا ۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے زاتی طور پر ہر سطح پر اس معاہدے کیلئے کردار ادا کیا ۔ وزیراعظم شہباز شریف ، وزیرخارجہ اسحٰق ڈار نے بھی پوری کوشش کی ۔
یہ پاکستان کی کامیابی ہے ۔ 25 کروڑ پاکستانیوں کی کامیابی ہے ۔ اور آنے والے وقت میں اس کے فوائد بھی ہر ایک پاکستانی کو حاصل ہوں گے ۔
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) پر بطور ثالث دستخط کردئے۔
اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔
Prime Minister of Pakistan Muhammad Shehbaz Sharif signed the Islamabad Memorandum of Understanding (Islamabad MoU)، as mediator.
The Islamabad MOU has been signed by President of USA Donald J. Trump and Iranian President Masoud Pazeshkian.
کیا اس وڈیو کو دیکھنے کے بعد بھی آپ کے پاس ناشکری کی وجہ۔ بچتی ہے ۔ ؟
۔۔۔۔۔۔۔
3 دن سے ہمارے ایک مستری اللہ دتہ نے مجھے بولا ہوا تھا کے ۔ 15 ویں میل پر ایک گھر ہے وہاں چکر لگا لیں۔
مین جب پوچھتا تو بولتا آپ خود دیکھیں تاکہ کل کو میری سفارش کا الزام نہ آئے۔ حقدار تک پہنچا دیا ہے خود دیکھیں ان کا حق بنتا کیا ہے ۔
کل صبح جب ہم نکلے ہم اس سے 23 کلومیٹر آگے علاقے مین کام کر رہے ہیں اس وقت اور اس معذور انسان کا گھر 3 کلومیٹر دور ہے میری رہائش سے ۔
ہم رستے مین دو تین جگہ سے پوچھ کر اس گھر تک جا پہنچے ۔
وہاں جو حالات دیکھے وہ دیکھ کر شدید تکلیف اور رنج پہنچا کے ایسے حالات مین بھی لوگوں کو رشتے دار چھوڑ جاتے ہیں۔
اس بے اولاد جوڑے نے دیور کی بیٹی لے کر پانی 2 دن کی اس وقت بچی کی شادی کئے ہوئے 3 سال ہو چکے جوان کی خود پالی پوسی۔
لیکن جب اس بچی کا مان باپ کو پالنے پوسنے کا وقت آیا تو وہ اپنے میاں کے ساتھ چلی گئی۔
جب کے اس بزرگ خاتون اور دو دوسرے علاقے کے افراد نے بتایا کے لڑکے نے شادی ہی اس بات پر کی تھی کے مین اسی گھر مین رہ کر اس کے لے پالک ماں باپ کی خدمت کروں گا ۔
۔۔۔۔۔
اما خود کالے یرقان کا علاج کروا چکی ہیں سرکاری ہسپتال سے ۔
شوگر کی مریضہ ہیں انسولین لگتی ہے ان کو۔
بندا معذور ہے۔
اکثر بخار ہو جاتا ہے اس کو ۔
ویل چیئر نہیں ہے ان کے پاس۔
۔۔۔۔۔
ایک مقامی زمیندار ان کو اس لئے فریج گھر سے اٹھا کر دے گیا کے بندے نے جوانی مین اسی کے پاس لگاتار کام کیا تھا جانوروں اور کھیتوں مین ۔
اس کے علاوہ وہ کچھ نہ کچھ دے جاتا ہے ہر ماہ۔
بیٹی لے پالک کو اسی گھر مین سے 3 مرلے دئیے اب وہ ان کو ملنے بھی نہیں آتی ۔ پاس ہی 4 کلومیٹر دور گاؤں ہے جہاں رہتی ہے وہ۔
لوگ کیسے پتھر دل ہو جاتے ہیں حیرت ہے ۔
بندا 3 بار رویا اس گفتگو کے دوران کے مہمان گھر آیا ہے اور مین اٹھ کر اس کو عزت بھئ نہیں دے سکتا۔
۔۔۔۔
یہ دوکان جس جگہ بابا جی لیٹے رہتے ہیں چارپائی پر ان کا کل اثاثہ ہے۔
اسی مین سے یہ رزق کما کر زندگی گزار رہے ہین۔
انسولین ۔ 4 سے 5 ہزار کی آتی ہے ان کی ۔ بابا جی کی دوائیاں اتنے کی ہی ہو جاتی ہین ۔
اور راشن کیسے کیسے پورا کرتے ہوں گے اس چھوٹی سی چند ہزار سے بنی دوکان سے ۔
۔۔۔۔
انشاءاللہ اس گھرانے کو جو ممکن ہوا روزگار اور راشن اور ادویات اور ویل چیئر کے معاملے مین سب کر کے دوں گا ۔
باقی رب کی انسان کی ضروریات پوری کر سکتا ہے ۔
ہم صرف وسیلہ بن سکتے ہیں۔
۔۔۔۔
اس جوڑے سے شکر کرنا سیکھیں۔ ان کو بس دو رنج ہین اولاد نہ ہونے کا اور اولاد لے کر پالی تو اس نے دھوکہ دیا۔
۔۔۔۔۔۔
اس جوڑے کو دیکھ کر خدا کا شکر ادا کریں کے ہم کیسی زندگی گزار رہے ہیں اور اس کے باوجود ہم ناشکری کرتے ہیں۔
کیا آپ کے پاس اس سب کو دیکھنے کے بعد بھی ناشکری کی وجہ بچتی ہے ۔ ۔ ؟
#SaqibAllyana
عوامی ایکشن کمیٹی کشمیر کی MQM بنتی جا رہی ہے ۔ جو لوگ عوامی ایکشن کمیٹی کی دھمکیوں کے باوجود پاکستان کا ساتھ دے رہے ہیں آپ جب انکو بھی نمک حرام کہیں گے تو پھر پاکستان کا ساتھ کون دے گا؟
اتنی جلدی ہمت نہ ہاریں ۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اگر آپ نے اس سے جان چھڑانے کی کوشش کی تو پاکستان کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔
کشمیر الگ ہو گیا تو بلوچستان اور KPK میں بھی علیحدگی پسندوں کو حوصلہ ملے گا۔
عوامی ایکشن کمیٹی اصل میں تحریک انصاف ہی ہے۔ اس کے کارکن عمران کو اقتدار سے ہٹائے جانے کا بدلہ کشمیر کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوشش کر کے لینا چاہتے ہیں ۔