شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 73ویں سالگرہ کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو صرف اسلامی دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم نہیں تھیں بلکہ ایک متحد، جمہوری اور ترقی پسند پاکستان کی علامت اور “وفاق کی زنجیر” تھیں۔ انہوں نے آمریت، جبر اور ناانصافی کے خلاف بے مثال جدوجہد کی اور آئین کی بالادستی، مضبوط وفاق، عوامی حقوق اور مساوات پر مبنی معاشرے کا خواب قوم کو دیا۔
آج بھی اُن کا مشن ہر اس پاکستانی کے دل میں زندہ ہے جو جمہوریت، انسانی حقوق اور بہتر مستقبل پر یقین رکھتا ہے۔ آئیں آج یہ عہد کریں کہ ہم بی بی شہید کے وژن اور عوامی خدمت کے مشن کو پوری ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔
Pakistan People’s Party Chairman Bilawal Bhutto Zardari met Punjab Chief Minister Maryam Nawaz in the corridor of Parliament House after the conclusion of the joint
parliamentary session
27 دسمبر ہماری تاریخ کا وہ دن ہے جو ہمیں اجتماعی سوگ، غور و فکر اور عزمِ نو کی یاد دہانی کراتا ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو محض ایک رہنما نہیں تھیں بلکہ وہ جمہوریت کی نڈر آواز، مظلوموں کی امید اور آمریت، انتہاپسندی و عدم برداشت کے خلاف ایک ناقابلِ تسخیر علامت تھیں۔
دخترِ مشرق کی زندگی جرأت اور ہمدردی کا نادر امتزاج تھی۔ ان کی عظیم قربانی خون سے لکھا وہ عہد ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کبھی سرنڈر نہیں کرے گی۔ بی بی شہید کا پُرامن، جمہوری اور باوقار پاکستان کا وژن آج بھی نسل در نسل بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
ہم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ان کی قربانی ہماری طاقت، ان کا وژن ہماری رہنمائی اور ان کی جرأت ہماری دائمی ذمہ داری ہے۔
#SalaamBenazir
Minister losing temper over a question deeply distressing. Under RTI law any citizen, not only a senator, can ask questions. Govt must answer. Angry outburst shows contempt for transparency, bedrock of democracy. Highly condemnable
@CMShehbaz take notice
https://t.co/gKFwdOcWI7
قربانیوں سے لکھا گیا یہ سفر، عوام کی طاقت سے مضبوط ہوا، اور جمہوریت کی خاطر ہر طوفان سے ٹکراتا رہا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے وژن سے لے کر شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی لازوال جدوجہد تک، پیپلز پارٹی مظلوم کی ڈھال اور عوام کی امید بنی رہی۔ 58ویں یومِ تاسیس پر آئیں آج ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ عدم مساوات، ناانصافی اور غربت کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔
جب رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم غار ثور میں داخل ہوئے تو جبریل علیہ السّلام نے عرض کِیا:
خدایا مجھے اِجازت دیجیے تاکہ میں جا کر اپنے پَروں سے غار کو بلکہ اس پہاڑی کو ہی چُھپا دوں۔
خطاب ہُوا:
اے جبریل! ( علیہ السّلام ) حقیقی ستّار میں ہی ہوں میرا کمالِ قُدرت اس امر کا متقاضی ہے کہ میں اپنی کمزور ترین مخلوق کے ذریعے مکر و فریب کو دُور کروں۔
کمزور مکڑی کو مقرّر کِیا اور اسے حِفاظت کے لیے بھیجا جب مکڑی کو حُکمِ خداوندی پہنچا اس نے اسی وقت سجدۂ شُکر ادا کِیا خدا تعالٰی کا اسے حُکم ہُوا کہ:
جا کر پردہ تان دے اور مکّھی پر قناعت کر لیکن ہِمّت بُلند رکھنا ہم ایک روز قافِ قرب کے سیمرغ کو تیرے جال میں لائیں گے۔
اس اُمید پر سات سو سال اس غار کے مُنہ پر بیٹھی اِنتظار کرتی رہی چنانچہ نہ رات کو آرام تھا نہ دِن کو چین یہاں تک کہ اس رات آنحضرت صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم اس غار کے دہانے پر پہنچے مکڑی نے آنحضرت صلی علیہ وآلہ وسلم کی طرف اِشارہ کر کے کہا:
مجھ کمزور کو آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کے دِیدار کا وعدہ دیا گیا ہے تشریف لائیے تاکہ آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کروں۔
حضور نبی اکرم صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم جب غار کے اندر تشریف لے گئے مکڑی نے جالا تننا شروع کر دیا اور عِجز آمیز لعاب پھیلانا شروع کر دیا۔
آنحضرت صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰه عنہُ سے فرمایا:
ابوبکر! ایک مُدّت سے میں اس فِکر میں تھا کہ میری اُمّت اس باریک پُل صِراط سے کیسے گُزرے گی اب عالمِ غیب کے خبر کنندگان نے مجھے یوں اِطلاع دی ہے کہ جس طرح اس پردہ دار کو ایک باریک تار پر محفوظ رکھتے ہیں تیرے دوستوں کو اسی طرح اس صِراط سے محفوظ رکھیں گے۔ 💞
( معارجُ النّبوّت،جِلد،۳،صفحہ ۹،۱۰ )
کُن تو کہا گیا تھا بڑی مُدّتوں کے بعد
یہ عِشق اس کمال سے پہلے کی چیز ہے
سرکار ﷺ ہوں تو غار کے مُنہ پر تنا ہُوا
مکڑی کا ایک جالا بھی لوہے کی چیز ہے
سندھ کے لوگ لاہور کی ترقی دیکھ کر حیران نہیں ہوتے بلکے کچھ مایوس ضرور ہوتے ہیں کیوں کے سندھ کی کوئلے سے جو بجلی بن رہی ہے وہ پنجاب میں استعمال ہو رہی ہے، سندھ کی گیس پنجاب میں استعمال ہو رہی ہے، مگر پھر بھی الحمداللہ، سندھ میں NICVD، SIUT, GIMS، جیسی وہ نعمتیں ہیں جو کہیں نہیں ہے
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1972 میں ٹریڈ یونین کی پالیسی دی تھی۔ اور اسکے بعد آج تک جتنی بھی مخالف حکومتیں آئیں ہیں انہوں نے کبھی کوئی پابندی اور کبھی کوئی قانون لائے ہیں۔ اور جب جب پیپلز پارٹی آتی ہے تب تب اس ملک کے محنت کشوں کیلئے پالیسیاں بنتی ہیں۔