2 Week SEO Plan to Rank on Google First Page in 2025 👏
Want to achieve top rankings and traffic growth in just 12 weeks?
👉 Grab your free plan now:
1️⃣ Like this post
2️⃣ Comment “#SEO Plan”
3️⃣ Repost
🎯 Let’s make 2025 your breakthrough SEO year!
Sharing is Caring 😊
کیا بلوچستان کا الحاق پاکستان کے ساتھ زبردستی کیا گیا تھا؟
بلوچستان کے حوالے سے دوسرا سب سے بڑا اور تاریخی جھوٹ یہ بولا جاتا ہے کہ قلات یا بلوچستان کے علاقوں کو پاکستان نے جبراً ضم کیا۔ جب کہ سچ یہ ہے کہ بلوچستان کے کچھ نواب تو الحاق میں تاخیر پر قائداعظم سے ناراض ہوگئے تھے۔ صرف 'خان آف قلات' میر احمد یار خان نے زیادہ اثرونفوذ یا فوائد حاصل کرنے کے لیے پاکستان سے الحاق میں تاخیر کی لیکن آخر کر لیا تھا۔
قانون ازادی ہند کے تحت ہندوستان میں تمام شاہی ریاستوں (princely states) کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق الحاق کریں۔ ہندوستان میں 1947ء میں 565 (princely states) تھیں، جو انگریز کی باجگزار تھیں۔
قانون آزدی ہند کے تحت تمام شاہی ریاستوں نے پاکستان یا انڈیا میں سے کسی ایک کا چناؤ کرنا تھا۔ آزادی کا آپشن کسی ریاست کو نہیں دیا گیا۔ آزاد صرف دو ریاستیں ہورہی تھیں پاکستان اور انڈیا۔ یہ دو ریاستیں ہی تاج برطانیہ کی successor stateؔ تھیں۔ ایسی کوئی تیسری آزاد ریاست نہ تھی۔ انہی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ اس انتخاب میں جغرافیے، آبادی اور مذہبی معاملات کو ملحوظ رکھنا تھا کیونکہ انڈیا کی تقسیم مذہب کی بنیاد پر ہورہی تھی۔
قلات کی 98 فیصد آبادی مسلمان تھی اور جغرافیہ پاکستان کے اندر ہی تھا۔ لہذا اسکا پاکستان کے ساتھ الحاق طے تھا۔ جوناگڑھ ہندو اکثریتی ریاست نے پاکستان سے الحاق کیا لیکن بھارت نے اسے تسلیم نہیں کیا اور قبضہ کر لیا۔ ہندو اکثریتی حیدرآباد دکن نے ازاد رہنے کا فیصلہ کیا لیکن بھارت نے اسے بھی تسلیم نہیں کیا اور قبضہ کر لیا۔
بلکل اسی طرح قلات کے پاس آزاد رہنے کا کوئی آپشن نہ تھا نہ ہی وہ انڈیا کے پاس جاسکتی تھی۔ ریاست قلات برٹش انڈیا کا حصہ تھی اور پاکستان برٹش انڈیا کی"successor state" تھی۔ قلات پاکستان میں شامل نہ ہوتا تو ریاست قلات کے پاس واحد آپشن انڈیا کے ساتھ الحاق کرنے کا تھا جو جغرافیائی اور مذہبی لحاظ سے ممکن نہ تھا۔
لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کے 3 جون 1947 کے تقسیم ہند کے پلان کےمطابق 18 جولائی 1947 کو برطانوی سیکریٹری آف سٹیٹ فار انڈیا نے ہندوستان میں برطانوی زیر حفاظت تقریباً 565 راجوں مہاراجوں اور نوابوں کی ریاستوں کے بارے میں کہا کہ اِن ریاستوں کو آزادممالک تسلیم نہیں کیا جائےگا بلکہ یہ ریاستیں اپنی جغرافیائی اور مذہبی وابستگی کے حوالے سے پاکستان یا ہندوستان کےساتھ الحاق کر سکتی ہیں۔
برٹش بلوچستان میں اکثریتی پشتون کاکڑ قبائل کے علاوہ مری بگٹی اور مینگل قبائل کے علاقے شامل تھے۔ یہ سارے براہ راست برطانوی حکومت ہند کے ماتحت تھے۔ جس کے سیاسی امور کوئٹہ میونسپلٹی اور پشتون و بلوچ سرداروں کی نمائندہ تنظیم شاہی جرگہ کی مشاورت سے چلائے جاتے تھے۔
ان سب علاقوں کو پاکستان میں ضم کرنے کے لیے مسلم لیگ بلوچستان کے نمائندوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں پورے بلوچستان میں پرجوش مہم چلائی۔ موجودہ بلوچستان کے ہزاروں لوگ اس وقت ان ریلیوں میں شرکت کرتے تھے۔
29 جون 1947 کو برٹش بلوچستان کے پاکستان یا ہندوستان میں شامل ہونے کے لیے کوئٹہ کے ٹاؤن ہال میں صبح دس بجے بلوچستان کے شاہی جرگہ اور کوئٹہ میونسپل کمیٹی کے منتخب ارکان کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ اس مشترکہ اجلاس میں کل 54 ارکان شامل ہوئے۔ سب نے متفقہ طور پر پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ آٹھ غیر مسلم اراکان اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔
سوائے ریاست قلات کے بلوچستان کے تمام عمائدین نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا۔ صرف ایک سردار دوست محمد مینگل نے اِس موقع پر کہا کہ وہ ریاست قلات کےساتھ جانا چاہتے ہیں لیکن جب اُنہیں گورنر جنرل نے بتایا کہ رائے شماری صرف پاکستان یا ہندوستان میں شامل ہونے کےلئے ہے تو سردار دوست محمد مینگل نے کہا کہ پھر ہم پاکستان کےساتھ جائنگے۔
خان آف قلات تاخیر کرتا رہا اور 11 اگست 1947ء کو الحاق کی شرائط پر بات کرنے کے لیے قائداعظم کے ساتھ ایک 'سٹینڈ سٹل' ایگریمنٹ کیا۔ جسے ماؤنٹ بیٹن نے فوری طور پر مسترد کر دیا۔ کیونکہ اس وقت قائداعظم کسی 'شاہی ریاست' کی حیثیت کا تعئن نہیں کر سکتے تھے۔ ریاستوں کی حثییت کا تعاؤن تاج برطانیہ نے ہی کرنا تھا۔
خاران مکران اور لسبیلہ نے بھی اس 'سٹینڈ سٹل' ایگریمنٹ کو مسترد کردیا اور واضح کیا کہ وہ قلات کا حصہ یا زیر نگیں ریاستیں نہیں ہیں اور خان آف قلات ان کا نمائندہ نہیں ہے۔
خاران، لسبیلہ اور مکران کے حکمرانوں نے فوری طور پر قائداعظم کو الحاق کے لیے درخواستیں بھیج دی تھیں۔ لیکن قائداعظم نے جب ان درخواستوں پر قلات کی وجہ سے دستخط کرنے میں تاخیر کی تو خاران کے میر حبیب اللہ خان نوشیراونی باقاعدہ غصے اور افسوس کا اظہار کیا اور قائداعظم کو ایک اور خط لکھا کہ "خاران کے لوگ قلات سے آزاد ہیں اور پاکستان کے لیے مریں گے۔"
ریاست لسبیلہ پر موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے دادا جام غلام قادر خان کی حکومت تھی۔ اس نے برطانوی راج کے خاتمے کے بعد قائداعظم کو خان آف قلات کے لسبیلہ پر دباؤ ڈالنے والی سیاست سے آگاہ کیا اور کئی خط لکھے جن میں پاکستان سے فوری الحاق کا مطالبہ کیا۔
مکران پر نواب بائی خان گچکی کی حکومت تھی۔ اس نے قائداعظم سے الحاق کی درخواست پر فوری دستخط کرنے پر بار بار اصرار کیا اور جب بےصبری بڑھی تو قائداعظم کو دھمکی دی کہ "اگر پاکستان جلد ہی مکران کا الحاق قبول نہیں کرتا تو ہم دوسروں سے رجوع کر سکتے ہیں۔" خاران، مکران اور لسبیلہ کے حکمرانوں نے مارچ 1948ء میں اسی سلسلے میں قائداعظم سے ملاقاتیں بھی کیں۔
خان آف قلات پر قلات میں موجود انڈین نیشنل کانگریس کے نمائندوں کا دباؤ تھا۔ جیسے باچا خان نے صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں آزاد رہنے کا آپشن رکھنے کا مطالبہ کیا تھا یہاں بھی کانگریسی خان آف قلات سے تاج برطانیہ سے آزادی کا آپشن دینے کا مطالبہ کر رہے تھے جسے مسترد کیا جا چکا تھا۔ 'خان آف قلات' جانتے تھے کہ یہ ممکن نہیں لیکن وہ تاخیری حربوں کے ذریعے نئی بننے والی ریاست پاکستان میں زیادہ سے زیادہ اثرورسوخ اور فوائد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ قلات سے ملک سعید خان دہوار، گل خان نصیر، عالیجاہ غوث بخش مینگل، غوث بخش بزنجو کانگریسی تھے اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے خلاف تھے۔
اس کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ قلات کا الحاق فروری 1948ء تک موخر ہوگیا۔ جس کے بعد قائداعظم نے بلاآخر خاران، لسبیلہ اور مکران کی زیر التواء الحاق کی درخواستیں قبول کر لیں اور قلات پاکستان کے وسط میں ایک چھوٹی سی الگ تھلگ شاہی ریاست رہ گئی۔
آل انڈیا ریڈیو نے 27 مارچ 1948ء کو خبر نشر کی کہ خان آف قلات احمد یار خان نےدو ماہ قبل ہندوستان سے الحاق کرنے کی درخواست کی تھی لیکن ہندوستان نے جغرافیائی وجوہات کی بناء پر اسے قبول نہیں کیا۔ یہ خان آف قلات ی بہت بڑی سبکی تھی لہذا اس نے بھارت سے رابطوں کی تردید کرتے ہوئے فوری طور پر پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا۔ 31 مارچ 1948 کو قلات کا انسٹرومنٹ آف ایکسیشن قائد کو پیش کیا گیا جسے انھوں نےتسلیم کر لیا۔
خان اف قلات کا دعوی تھا کہ اس نے قلات کا پاکستان کے ساتھ الحاق خواب میں حضورﷺ کی ہدایت پر خود کیا تھا۔ خان آف قلات کے پوتے پرنس عمر نے متعدد ٹی وی پروگرامز میں اس کا اظہار کیا کہ میرے دادا نے خواب میں حضور پاک کی ہدایت پر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔
خان آف قلات احمد یار خان کا بھائی پرنس کریم بھی کانگریسی سرخا تھا۔ پاکستان سے الحاق کے خلاف تھا۔ الحاق پر اپنی افغانی بیوی کے ساتھ افغانستان فرار ہوا اور وہاں افغان حکومت کی مدد سے پاکستان کے خلاف پہلا دہشتگردی کا کیمپ بنایا۔ تین ماہ بعد پاکستان پر پہلا حملہ کیا اور مار کھا کر بھاگا۔ اس کے ٹریننگ کیمپ کا حصہ بننے والے لوگ بلوچستان کے اولین 'مسنگ پرسنز' تھے۔
قوم پرست سرخوں کی طرف سے ایک سنگین غلط بیانی یہ بھی کی جاتی ہے کہ احمد یار خان کو پاک فوج نے گرفتار کر کے اس سے بندوق کی نوک پر الحاق پر دستخط کروائے تھے۔ جب کہ سچ یہ ہے کہ انہیں 1948 میں نہیں بلکہ 6 اکتوبر 1958 کو ایوب خان کی حکومت کی طرف سے ون یونٹ کی عوامی مخالفت پر گرفتار کیا گیا تھا۔ 1948ء میں تو خان آف قلات کو پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد شاہی لقب دیا گیا اور انہیں بلوچستان کی نو تشکیل شدہ قبائیلی کونسل کا رسمی "خان اعظم" مقرر کیا گیا۔ یوں سمجھیں بلوچستان کے بہت بڑے حصے کا حاکم بنایا گیا۔
یہ سب کچھ اسی دور کے پاکستان مخالف قوم پرست راہنماؤوں میر غوث بخش بزنجو، میر گل خان نصیر حتی کہ خود میر احمد یار خان کی اپنی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ وہاں کہیں بھی آپ کو کسی زور زبردستی کا کوئی ایک حوالہ نہیں ملے گا۔
سچ یہی ہے کہ بلوچستان کے تمام شاہی ریاستوں اور تمام نمائندوں نے ہنسی خوشی اور اپنی رضامندی بلکہ ضد پر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا اور اس کے لیے کسی پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا تھا۔
گوادر کو حکومت پاکستان نے 1958ء میں سلطنت عمان سے خریدا اور 20 سال بعد میں اس کو صوبہ بلوچستان کا حصہ بنا دیا۔ گوادر بلوچستان کا حصہ نہیں تھا۔ یعنی یہ بلوچستان کو موجودہ شکل پاکستان نے دی۔
تحریر شاہد خان
نوٹ ۔۔ قلات کی پاکستان سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کی تصویر زیر نظر ہے۔
#Balochistan
#OperationHerof
ماں کا خواب پورا کیا۔ ہم سب نے مل کر اللہ کا شکر ادا کیا اور خانہ کعبہ کے سامنے دوبارہ دعا کی کہ اللہ ہمیں ہمیشہ سچائی کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
ایک وکیل کی مدد سے میری ماں کے ساتھ عدالت میں اپیل دائر کی۔ کئی ماہ کی کوششوں کے بعد، میرے کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی اور میری بے گناہی ثابت ہو گئی۔
مجھے رہائی ملی اور میں واپس اپنی ماں کے پاس آ گیا۔ میں نے اس عورت کا شکریہ ادا کیا جس نے میرے لیے اتنی محنت کی تھی اور میری ۔