Shocking Facts in regard with Israel and Indian agenda: why our PM #ImranKhan called Indian illegal occupation in #KashmirIssue called it genocide. see the link below
https://t.co/eJFM6mMz3r
https://t.co/zy8KesisxZ
https://t.co/wsYOiFZ5P0
https://t.co/eJFM6mMz3r
Mr. @elonmusk you Tweet every time there is anything that happens with the children anywhere in the world, especially when it happens in England.
Really commendable act.
Now 163 children were found in Florida, kidnapped, molested, abused, as young as 2 months old.
Will you Tweet about it and let the world know what Americans are doing to the children or is all your anger only towards immigrants and Muslims ?
پٹرولیم کی لیوی اور بجلی کے بلوں میں ہر پاکستانی ہر ماہ جو تین گنا ادائیگی کرتا ہے،حکومت پاکستان نہیں، درحقیقت وہ شریف اور زرداری خاندانوں کے علاوہ ان کے چہیتوں اور سرپرستوں کو پیش کرتا ہے۔25 فیصد سے بھی کم قیمت پر شمالی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے علاوہ تھرپارکر کے کوئلے سے بجلی کی تمام ضرورت پوری کی جا سکتی تھی۔ ضرورت سے زیادہ دوگنا بجلی؟ اگر یہ ڈکیتی نہیں تو اور کیا ہے؟
مصطفی کمال کہتا ہے کہ:
“یہ ایک سرکاری ہسپتال ہے۔ اس میں آگ بجھانے کی سہولت جدید ہسپتالوں جیسی نہیں”
جس ۹ کروڑ کی سرکاری گاڑی میں گھومتے ہیں وہ “جدید”۔
منسٹرز آنکلیو میں جس پچاس کروڑ کے سرکاری گھر میں رہتے ہیں وہ “جدید”۔
سرکاری آفس میں جو کمپیوٹرز استعمال کرتے ہیں وہ “جدید”۔
سرکاری خرچوں پر جن ہوائ جہازوں پر جاتے ہیں وہ “جدید”
اور
جس کیمرے کے سامنے کھڑے ہوکر یہ بیان دیا ہے وہ بھی “جدید”۔ فقط غریب کے لئیے ہر چیز “قدیم”۔
اس کو روکیں۔ موٹر سائیکل سے اُتاریں۔ چھتّیس چپیڑیں ماریں۔ چند دن اندر کریں تو ہی شاید اگلی مرتبہ یہ بھی سیکھے اور دوسرے بھی۔
اپنے ماں باپ کی زندگی تباہ کرتے ہیں ایسے بچے۔
بہت متوازن اور فکر انگیز بات ہے دین کے معاملے میں جذبات سے زیادہ تحقی احتیاط اور دیانت کی ضرورت ہے اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر رسولِ اکرم ﷺ سے منسوب کسی بات کو بغیر تحقیق رد کرنا یا آگے پھیلانا معمولی معاملہ نہیں۔
سیاست کو بھی دین اخلاق اور انسانیت سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے کسی کی سیاسی رائے سے اختلاف ہو تو دلیل سے جواب دیں کردار کشی گالی اور الزام تراشی سے نہیں خصوصاً خواتین کے بارے میں زبان اور قلم کی حرمت کا خیال رکھنا ہماری دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
اپنے مؤقف پر قائم رہیں مگر خود کو ہمیشہ درست اور مخالف کو ہمیشہ بددیانت سمجھنے کی روش سے بچیں علم جہاں سے ملے، دلیل کے ساتھ قبول کریں اور جہاں شک ہو وہاں معتبر اہلِ علم سے رجوع کریں یہی احتیاط دنیا بھی سنوارتی ہے اور آخرت بھی۔
چیف جسٹس یحیی آفریدی کی عدالت میں عمران خان کی بہن نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی ہے ۔ اب دیکھنا ہے بطور جج عمران خان کو توہین عدالت کو نوٹس دینے والے یحیی آفریدی بطور چیف جسٹس اسی عمران خان سے متعلق اپنی عدالت کی توہین ہونے اور فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر کیا کرتے ہیں ؟
اصول تو ہمیشہ ایک جیسا ہی رہتا ہے !
چین: ایک رائے یہ بھی ہے
آصف محمود
چین ہمارا بہت ہی قریبی دوست ہے اور بدلتے منظر نامے میں چین کی سٹریٹیجک اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ لیکن کیا پاکستان میں کوئی ایک دانشور یا لکھاری ایسا ہے جس کی تحریروں سے یہ پتہ چل سکے کہ چین کی سٹریٹیجک ترجیحات کیا ہیں اور ان کا رخ کیا ہے؟ پاکستان کے نمایاں اہل صحافت میں سے اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ ہی سیڈ اور شی سیڈ تک محدود ہو چکی ہے۔ کوئی اس دربار کا مغنی ہے تو کوئی اس دربار کا ملک الشعرا۔ کچھ کا فن اس ایک چیز میں سمٹ آیا ہے کہ اس کی فلاں اعلی شخصیت سے بات ہوئی ہے، تو فلاں نے اس کو یہ بتایا ہے، تو اب یہ ہونے والا ہے۔
ایسے میں سٹریٹیجک موضوعات کی تفہیم کے لیے آپ کے پاس اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچتا کہ آپ بین الاقوامی اخبارات و جرائد سے رجوع کریں۔ وہاں بھی مغربی اہل دانش چین کے بارے میں ایک خاص یک رخی پن کا شکار ہیں۔ تو زیادہ بہتر راستہ یہی بچتا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ خود چینی سکالرز خطے کے بدلتے منظر نامے میں چین کو کہاں کھڑا دیکھ رہے ہیں۔
ایسی ہی ورق گردانی میں ایک مضمون سامنے آیا اور اس کی ایک سطر نے وہیں روک لیا۔ لکھا تھا: "چین بالکل نہیں چاہتا کہ امریکہ اس خطے سے چلا جائے ۔ بلکہ چین یہ چاہتا ہے کہ امریکہ یہاں موجود رہے ۔ چین سمجھتا ہے کہ اگر امریکہ ا س خطے سے چلا گیا تو چین کے لیے مسائل بڑھ جائیں گے "۔
یہ ایک دلچسپ بات تھی ، کیونکہ ہمارے ہاں تمام اقسام کے تجزیہ کاروں کا اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ امریکہ تو اس خطے سے نکل رہا ہےا ورا س کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔
تجسس ہوا کہ مکمل مضمون پڑھنے سے پہلے یہ دیکھوں کہ لکھا کس نے ہے ۔
تو جناب مصنف کا نام ژاؤ لونگ ہے۔ وہ شنگھائی انسٹی ٹیوٹس فار انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ڈائرکٹر ہیں ، انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر اور سییئر فیلو ہیں۔ بین الاقوامی سلامتی، عالمی گورننس، بین الاقوامی قانون، روس اور وسطی ایشیا، آرکٹک اور عالمی تزویراتی امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی سے قانون اور بین الاقوامی قانون میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں اور ایسٹ چائنا نارمل یونیورسٹی سے قانون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں۔ جرمن کونسل آن فارن ریلیشنز اور واشنگٹن کے سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں وزٹنگ اسکالر بھی رہ چکے ہیں، جبکہ 2015 سے 2016 تک چین کی وزارتِ خارجہ کے محکمہ معاہدات و قانون میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں :
1۔ یہ مفروضہ درست نہیں ہے کہ چین کا مؤقف لازماً واشنگٹن سے متصادم ہونا چاہیے، حقیقت میں دونوں کے درمیان توقع سے کہیں زیادہ مشترکہ مفادات موجود ہیں۔
2۔ چین کی اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کا سکیورٹی ضامن بننے کی ذمہ داری اپنے سر لے۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے۔ چین کے پاس وہ اتحادی نیٹ ورک، فوجی ڈھانچہ اور علاقائی کمانڈ کا نظام موجود نہیں جو امریکہ نے کئی دہائیوں میں قائم کیا ہے۔
3۔ چین مشرق وسطی میں امن کا بالکل ذمہ دار نہیں ہے ۔ جو ایسا سمجتا ہے وہ چین کے کردار کو بلاوجہ بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔
4۔ سیکیورٹی کا کہیں کوئی خلا پیدا بھی ہوا تو چین اس کو بھرنے میں بالکل بھی کوئی دل چسپی نہیں رکھتا ۔
5۔ چین نہ تو امن کے قیام کے لے کوئی ذمہ داری اٹھانا چاہتا ہے نہ ہی وہ ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
6۔ ایران کے ساتھ جامع تزویراتی شراکت داری کو ایک سخت سکیورٹی اتحاد میں تبدیل کرنے میں چین کی دلچسپی بہت کم ہے۔
7۔ چین یہ بھی سمجھتا ہے کہ امریکہ کا مکمل انخلا ایسا عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے جس کا بوجھ بالآخر چین کو خود اٹھانا پڑے گا۔ اس لیے چین اب بھی اس بات میں دلچسپی رکھتا ہے کہ امریکہ خطے میں عالمی مفاد کی حامل سہولتیں اور خدمات فراہم کرتا رہے ، بس اتنا ہے کہ امریکہ تھوڑا تحمل دکھائے۔
#آصف_محمود
One of the most brutal scenes in history:
The Israeli army blindfolded this young Palestinian man, forced him to run, and then shot him in the back of the head.
All this for mere amusement.
A historical crime.
آپ لوگوں کو یہ نشان یاد ہے
محمد مرسی کیلئے لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے تھے ۔ لیکن مصری فوج نے ان پر ٹینک چڑھادئے ۔ سنائپرز سے نشانے لگا کر سروں پر گولیاں ماری گئیں ۔ سکیورٹی فورسز نے اونچی عمارتوں کی چھتوں سے مظاہرین پر اندھا دھند گولیاں برسائیں ۔
یہ واقعہ 14 اگست 2013ء کو پیش آیا ۔ جب لاکھوں مصری محمد مرسی کیلئے دھرنا دے رہے تھے ۔ یہ دھرنا قاہرہ میں رابعہ العدویہ مسجد کے باہر ہورہا تھا ۔ سکیورٹی فورسز، پولیس اور فوج نے بلڈوزروں، بکتر بند گاڑیوں اور اسلحے کا استعمال کرکے دھرنے کے شرکاء پر دھاوا بول دیا۔
مصری فوج باقاعدہ جنگی گاڑیاں لے آئی ۔کیمپوں کو آگ لگا دی گئی، مسجد کو بھی نقصان پہنچا اور ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
اس خونریز کارروائی میں ایک ہی دن میں سینکڑوں (تقریباً 5 ہزار سے زائد ) مظاہرین جاں بحق ہوئے، جسے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں جدید تاریخ کا بدترین قتلِ عام قرار دیتی ہیں۔
اس کارروائی میں خواتین اور بچوں سمیت سیکڑوں افراد موقع پر جاں بحق ہو ئے ۔ مجموعی طور پر ہزاروں لوگ جاں بحق ہوئے اور ہزاروں آج بھی جیلوں میں ہیں ۔
محمد مرسی مصر کے مقبول ترین عوام رہنما جنہوں نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر کہا تھا " جو ہمارے نبیﷺ کی عزت اور احترام نہیں کرے گا ہم بھی اس کا احترام نہیں کریں گے ۔
جس نے کہا تھا اپنے ملک کے شیروں کو قتل نہ کرو ، ورنہ تمہارے دشمنوں کے کتے تمہیں کھا جائیں گے۔
جس کو فوجی آمر سیسی نے قید کیا تو ترکیہ نے مصر سے سفارتی تعلقات ختم کرلئے اور اپنے سفیر کو واپس بلالیا ۔
محمد مرسی کو قاہرہ کی بدنام زمانہ اسکارپیئن جیل کی کال کوٹھڑی میں مسلسل 23 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔
وہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، لیکن مصری حکومت نے انہیں بنیادی طبی سہولیات اور ادویات سے مکمل محروم رکھا۔
ہیومن رائٹس واچ اور ان کے خاندان نے اسے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت "سلو پوائزننگ" اور قتل قرار دیا۔
شہادت والے دن انہیں جاسوسی کے ایک جھوٹے مقدمے کی سماعت کے لیے لایا گیا تھا۔ انہیں ایک آواز بند شیشے کے پنجرے میں بند کیا گیا تھا۔ کمزوری کے باوجود انہوں نے جج کے سامنے کھڑے ہو کر تقریباً 20 منٹ تک انتہائی دلیری سے اپنا آخری بیان ریکارڈ کروایا
اپنا بیان ختم کرنے کے فوراً بعد ان پر غشی طاری ہوئی اور وہ پنجرے کے اندر ہی گر پڑے۔ رپورٹس کے مطابق وہ تقریباً 20 منٹ تک وہیں بے سدھ پڑے رہے اور ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
مصری حکومت ان کی مقبولیت سے اس قدر خوفزدہ تھی کہ عوام کو ان کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اور رات کے اندھیرے میں سخت ترین سیکیورٹی کے پہرے میں انہیں قاہرہ کے ایک قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
فیصل آباد ایئرپورٹ پر گزشتہ رات عقل و شعور کا وہ جنازہ اٹھا کہ فرشتے بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہوں گے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ ایک بائیس سالہ طالب علم اعلی تعلیم کے لیے بیرون ملک جانا چاہ رہا تھا۔
نوجوان طالب علم جب امیگریشن کاؤنٹر پہنچا تو سب کچھ ٹھیک تھا۔ کاغذات دیکھے گئے، کمپیوٹر میں انٹری ہوئی اور پاسپورٹ پر ایگزٹ کی مہر ثبت کر دی گئی۔ یہ مہر اس بات کی سند تھی کہ ریاست کو اس نوجوان کے باہر جانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ مگر ابھی یہ سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ اچانک ایئرپورٹ کے ایک ارسطو اہلکار کو نجانے کیا سوجھی کہ اس نے طالب علم کو بازو سے پکڑ کر ایک طرف کر لیا اور تفتیش شروع کر دی۔
اس طالب علم کی سب سے بڑی خطا یہ تھی کہ اس نے ایک ایسے ملک کا نام لے لیا جس کا نقشہ شاید ہمارے ان جاہلِ اعظم اہلکار صاحب نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا تھا۔ "لیتھوینیا!" نام سنتے ہی اہلکار صاحب کے ماتھے پر یوں بل پڑے جیسے کسی نے ان سے کوانٹم فزکس کا فارمولا پوچھ لیا ہو۔ ان کے نزدیک دنیا صرف دبئی، سعودی عرب اور لندن تک ختم ہو جاتی ہے، یہ "لیتھوینیا" بیچ میں کہاں سے ٹپک پڑا؟
اہلکار صاحب کی منطق کا عالم دیکھیے، انہیں یہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی کہ اگر لیتھوینیا کوئی ملک ہے، تو اس کا سفارت خانہ فیصل آباد کی کچہری یا کم از کم اسلام آباد کی کسی گلی میں کیوں نہیں؟ طالب علم نے بیچارگی سے دہائی دی کہ "جناب! یہ ملک براعظم یورپ میں ہے، اور چونکہ پاکستان میں ان کا دفتر نہیں، اس لیے مجھے ویزے کے لیے پہلے باکو (آذربائیجان) جانا پڑے گا"۔
مگر صاحب! وردی کی اکڑ اور معلومات کی کمی جب آپس میں گٹھ جوڑ کر لیں تو منطق خودکشی کر لیتی ہے۔ اہلکار کے دل میں شک کا وہ ناگ بیٹھا کہ ہلنے کا نام نہ لیا۔ چونکہ اہلکار صاحب نے خود تو کبھی میٹرک سے آگے تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا، اس کی نظر میں وہ یونیورسٹی کا ایڈمیشن لیٹر اور 30 لاکھ روپے کی فیس کی رسیدیں محض ردی کے ٹکڑے تھے۔ اسے لگا شاید یہ لڑکا لیتھوینیا کے بہانے مریخ پر جا کر وہاں کی شہریت لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
طالب علم نے ایڑیاں رگڑیں، فیس کی رسیدیں لہرائیں، واسطے دیے، مگر اہلکار صاحب اپنی دانشورانہ ضد پر قائم رہے۔ نتیجہ؟ ڈھائی لاکھ کا ٹکٹ آف لوڈ کی نذر ہو گیا اور 30 لاکھ کی فیس اب لیتھوینیا کی یونیورسٹی میں پڑی ہے۔
واہ رے نظام! جہاں پہلے مہر لگائی جاتی ہے اور پھر پوچھا جاتا ہے کہ "میاں، تم ہو کون؟" ایئرپورٹ پر بیٹھے شخص کو یہ تو پتہ ہے کہ رشوت کیسے لینی ہے یا رعب کیسے جھاڑنا ہے، مگر یہ نہیں پتہ کہ دنیا کے نقشے پر کون سا ملک کہاں واقع ہے۔
حکومتِ پاکستان اور ایف آئی اے (FIA) کو چاہیے کہ ایسے ارسطوؤں کو ایئرپورٹ کے بجائے کسی پرائمری سکول کے جغرافیے کی کلاس میں بٹھائیں، تاکہ آئندہ کسی اور طالب علم کا مستقبل اس جہالت کی بھینٹ نہ چڑھے۔
ایک BMW کار کے دروازے پہ ڈینٹ تھا
اسکے مالک نےڈینٹ والا دروازہ کبھی مرمت نہیں کرایا
کوئی پوچھتا تو وہ بس یہی کہتا
"زندگی کی دوڑ میں اتنا تیز نہیں چلنا چاہیےکہ کسی کو اینٹ مار کر گاڑی روکنی پڑے"
سننے والا اسکی آنکھوں میں نمی دیکھ کر قدرےحیران ہوتا
پھر سمجھتے،نہ سمجھتےہوئے سر ہلا دیتا
ایک نوجوان بزنس مینیجر اپنی برانڈ نیو BMW میں دفتر سےDHA میں واقع گھر جاتےہوئےایک پسماندہ علاقے سےگزرا جو مضافات میں ہی واقع تھا اچانک اس نےایک چھوٹےبچےکو بھاگ کر سڑک کیطرف آتےدیکھا تو گاڑی آہستہ کردی مگر پھر بھی اس نے بچے کو کوئی چیز اچھالتےدیکھا
ٹھک کی آواز کےساتھ ایک اینٹ
اسکی نئی کار کےدروازے پرلگی
اس نےفوراً بریک لگائی اور گاڑی
سےباہر نکل کر دروازہ دیکھا جس پر کافی بڑا ڈینٹ پڑ چکا تھا
اس نےغصےسے ابلتےہوئے بھاگ کر اینٹ مارنیوالےبچےکو پکڑا اور زور
سےجھنجھوڑا
"اندھےہوگئےہو، پاگل کی اولاد؟ تمہارا باپ اسکے پیسےبھرےگا؟
وہ زرو سے دھاڑا
میلی کچیلی شرٹ پہنے بچےکےچہرے پر ندامت اور بےچارگی کےملےجلے تاثرات تھے
سائیں، مجھےکچھ نہیں پتہ میں اور کیا کروں؟
میں ہاتھ اٹھاکر بھاگتا رہا مگر کسی
نےگل نئیں سنی
اس نےٹوٹی پھوٹی اردو میں کچھ کہا اچانک اسکی آنکھوں سےآنسو ابل پڑے
اور سڑک کےایک نشیبی علاقے کی جانب اشارہ کیا
ادھر میرا ابا گرا پڑا ہے بہت بھاری ہے مجھ سےاُٹھ نہیں رہا تھا
میں کیا کرتا سائیں؟
بزنس ایگزیکٹو کےچہرے پر ایک حیرانی آئی اور وہ بچےکےساتھ ساتھ نشیبی علاقے کیطرف بڑھا تو دیکھا ایک معذور شخص اوندھےمنہ مٹی میں پڑا ہوا تھا اور ساتھ ہی ایک ویل چیئر گری پڑی تھی
ایسا دکھائی دےرہا تھاکہ شائد وزن
کےباعث بچےسےویل چیئر سنبھالی نہیں گئی اور نیچےآگری اور ساتھ ہی پکےہوئےچاول بھی گرے ہوئےتھے
جو شاید باپ بیٹا کہیں سےمانگ
کر لائےتھے
سائیں، مہربانی کرو میرے ابےکو اٹھوا کرکرسی پر بٹھا دو وجوان ایگزیکٹو کے گلے میں جیسے پھندا سا لگ گیا
اسےمعاملہ سمجھ آگیا اور اپنےغصے پر پر ندامت محسوس ہورہی تھی
اس نےاپنےسوٹ کی پرواہ کئےبغیر
آگےبڑھکر پوری طاقت لگاکر کراہتےہوئے معذور شخص کو اٹھایا اور کسی طرح ویل چیئر پر بٹھا دیا بچےکےباپ کی حالت غیر تھی اور چہرہ خراشوں سے بھرا پڑا تھا
وہ بھاگ کر اپنی گاڑی کیطرف گیا اور بٹوےمیں سےدس ہزار نکالےاور کپکپاتےہاتھوں سےمعذور کی جیب میں ڈال دیے۔ پھر ٹشو پیپر سے اسکی خراشوں کو صاف کیا اور ویل چیئر کو دھکیل کر اوپر لے آیا
بچہ ممنونیت کے آنسوؤں سے اسے دیکھتا رہا اور پھر باپ کو لیکر اپنی جھگی کی طرف چل پڑا۔ اس کا باپ مسلسل آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے نوجوان کو دعائیں دے رہا تھا۔
نوجوان نے بعد میں ایک خیراتی ادارے کے تعاون سے جھگی میں رہنے والوں کے لیے ایک جھگی سکول کھول دیا اور آنے والے سالوں میں وہ بچہ بہت سے دوسرے بچوں کے ساتھ پڑھ لکھ کر زندگی کی دوڑ میں شامل ہوگیا۔
وہ بی ایم ڈبلیو اس کے پاس مزید پانچ سال رہی، تاہم اس نے ڈینٹ والا دروازہ مرمت نہیں کرایا. کبھی کوئی اس سے پوچھتا تو وہ بس یہی کہتا
"زندگی کی دوڑ میں اتنا تیز نہیں چلنا چاہیے کہ کسی کو اینٹ مار کر گاڑی روکنی پڑے"
اوپر والا کبھی ہمارے کانوں میں سرگوشیاں کرتا ہے اور کبھی ہمارے دل سے باتیں کرتا ہے
جب ہم اس کی بات سننے سے انکار کردیتے ہیں تو وہ کبھی کبھار ہمارے طرف اینٹ بھی اچھال دیتا ہے
انتخاب #آفاق_سومرو
دو قدم پر سندھ پولیس کا ہیڈ کوارٹر ہے اور یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ گاڑیاں روک رہے ہیں ۔ ان سے دس دس ہزار روپے مانگ رہے ہیں ۔ ٹاور بس اسٹاپ کراچی کی ویڈیو ہے ۔ اس شخص نے ہمت کی ویڈیو بنائی تو ٹریفک پولیس اہلکار جو وہاں قریب موجود تھا فرار ہوگیا جبکہ یہ نامعلوم شخص ویڈیو بنانے والے کو دھمکاتا رہا لیکن اس کے پاس کوئی پرمپٹ کوئی دستاویزات موجود نہیں تھیں ۔
عدالت نے عمران خان کی صحت متعلقہ امور میڈیا یا پبلک سے شئیر کرنے سے روکا تھا تو حکومت نے عدالت میں رپورٹ جمع کروانے بجائے میڈیا پر طبی طور پر درست ہونے کا سرٹیفیکیٹ کیوں جاری کیا ہے ؟
عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کا آغاز خود حکومت نے کیا پہلے شفاء کے بجائے پمز لے جا کر دوسرا صحت سے متعلقہ امور پبلیکلی شئیر کرکے
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
ایک صاحب نے مجھے لکھا ہے" ان صوفیا نے فرقہ پرستی سکھانے والے مدارس کی بجائے ، قوم کو سکول، کالج اور یونیورسٹیاں اور کارخانے کھولنے کا مشورہ کیوں نہ دیا"
افسوس،اس بے خبری پہ صد افسوس۔ صوفیا نے صرف یہ مشورہ ہی نہیں دیا بلکہ خود اس کے لئے عملی اقدامات کئے۔پانچ سو برس یوتے ہیں، ایران سے ایک درویش نے کشمیر کا قصد کیا، شاہ ہمدان آپ کا اسم گرامی تھی۔ ہمارے شمالی علاقے اور کشمیر کے لوگ انہی کے ہاتھ پہ مسلمان ہوئے۔ پھر ایران سے کاریگروں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ دوبارہ تشریف لائے۔اہل کشمیر کو وہ ہنر ان اساتذہ نے سکھائے کہ آج تک دنیا دنگ ہے۔ کشمیری شالیں ، دنیا کوئی خطہ جن کی جن کی نظیر ہیش نہیں کرتا۔ پیپر ماشی جس کی نقل بھی ڈھنگ سے کوئی اتار نہیں سکتا۔ لکڑی کے نوادرات کہ دیکھو تو دیکھتے ہی رہ جاؤ۔ بہت کچھ اس کے سوا بھی۔ ایک ہزار برس پہلے سیدنا علی بن عثمان ہجویری نےاہل ایمان کو عصری علوم حاصل کرنے کی تلقین کی۔ فرمایا: ہر علم اللہ کی عطا یے اور پروردگار کی معرفت عطا کرتا ہے۔ وہی بزرگ جنہیں داتا گنج بخش کہا جاتا ہے۔ امام غزالی بھی فنون پہ اصرار کیا کرتے۔ اپنی مقبول کتاب میں لکھا کہ بغداد میں طب کے غیر مسلم ماہرین کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ مسلمانوں پہ فرض ہے کہ اس میدان میں ریاضت کریں۔ " فرض" سے مراد شرعی فریضہ تھا۔ ہمارے عہد میں پروفیسر احمد رفیق اختر نے سینکڑوں طلبہ و طالبات کو اعلٰی تعلیم اور تحقیق کی طرف مائل۔کیا۔ کتنے ہی شاگردوں کو Infermation technology اور Arfical.intellige کے علاوہ Medical science آور تخلیق و ترتیب کائنات پہ ریسرچ کرنے کی تلقین کی۔ ایک جملہ کثرت سے وہ دہراتے ہیں" کاش آپ لوگ سمجھ سکیں کہ نشاط علم (pleasure of learning) کیا ہے۔
اظہار رائے کی جو آزادی سوشل میڈیا کے طفیل خلق خدا کو ملی ہے، بعض لوگوں پہ اس نے ہیجان بلکہ پاگل پن طاری کر دیا ہے۔ سوچنے سمجھنے اور غور کرنی کی تاب ہی نہیں۔ جو جی میں آیا کہہ دیا، جو بھی سوجھا لکھ ڈالا۔
اللہ کے بندے مدارس میں فرقہ پرستی اور تقلید کا درس صوفی نہیں مولوی صاحبان پڑھاتے ہیں۔ اللہ تعالٰی آپ پہ رحم۔کرے۔
وہ بات کہ سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے ۔
کراچی میں سندھی وکلا جعلی مقدمات کے ذریعے دو فرضی فریق کھڑے کر دیتے ہیں۔ اصل مالک کو خبر تک نہیں ہوتی، عدالتی حکم لے کر اور پی پی، جئے سندھ کے غنڈوں کے ساتھ گھر خالی کرانے پہنچ جاتے ہیں، کے ڈی اے کا ریکارڈ بھی غائب کرا دیا جاتا ہے۔ پولیس بھی ان کی کے ڈی اے میں یہی لوگ۔