RT does not mean personal endorsement and I am writing this because everyone wrote it in their bio and seems sensible to cover my ass by writing this BS.
حالات جس طرف جا رہے ہیں اور پیپلز پارٹی جس طرح کا رویہ اور بلیک میلنگ کر رہی ہے ن لیگ کے ساتھ تو بات نئے اتحاد کی جانب جا سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے بغیر بھی دو تہائی ممکن ہے بہت سے پی ٹی آئی کے لوگ اس کے منتظر ہیں، مولانا فضل الرحمان کو بھی ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔
یہ کراچی ہے اور جس پارٹی کے پاس یہ شہر اس کے پاس ملا جلا کر چار ہزار ارب کا بجٹ ہے ابھی وہ کہتے آرام سے باقی ملک بھی ہمارے حوالے کر دو
دلاں تیر بجا
چلے دشمناں تے
جئے بھٹو
ایرانی انقلاب (1978–1979) | 1 سال (شدید احتجاجی لہر) | 2 سے 3 سال (نئے نظام کی پختگی) | تقریباً 3 سال
اے پی ایم ایس او کے قیام سے 2016 تک @AltafHussain_90 کی قیادت میں میں مہاجروں نےکیا پایا پہلے وہ بتایا جائے۔ 38 سالوں میں مہاجروں کے لئے انقلاب نہ لاسکا کس منہ سے یہ بات کررہا
امریکی انقلاب (1775–1783) | 8 سال (جنگِ آزادی) | 6 سال (آئین کی منظوری تک) | تقریباً 14 سال
انقلابِ فرانس (1789–1799) | چند ماہ (باسطیل کا زوال) | 10 سال (نیپولین کے آنے تک) | تقریباً 10 سال
⬇️
فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خاتمے کیلئےغریبوں کی حکمرانی کاانقلاب لازمی ہے
پاکستان 2 فیصدحکمراں اشرافیہ کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریبوں، مزدوروں اورمتوسط طبقہ کے عوام کا ہے
صوبہ پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں اے پی ایم ایس اوکے 48 ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے خطاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کو انگریزوں کے ایجنٹوں نے دوطبقات میں تقسیم کردیاہے، ایک طبقہ وہ ہے جس کے آباؤاجداد نے 1857 ء کی جنگ آزادی میں حریت پسندوں کا ساتھ دیا اوردوسرا طبقہ وہ ہے جس نے جنگ آزادی کوناکام بنانے اوربرصغیرکے عوام کوغلام بنائے رکھنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ دیا، بدقسمتی سے یہی طبقہ آج پاکستان کا مالک ومختار بنابیٹھاہے اورانگریزوں کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پاکستان سے فرسودہ نظام کی تبدیلی کیلئے اٹھنے والی ہرآواز کو ریاستی طاقت سے دباتاچلاآرہا ہے۔
پنجاب کے عوام کو اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں نے ہمیشہ یہی تاثر دیا ہے کہ صرف صوبہ پنجاب کے لوگ ہی پاکستان کے وفادار ہیں جبکہ باقی صوبوں کے سندھی، بلوچ، پختون،مہاجر، سرائیکی، کشمیری، گلگتی اوربلتستانی پاکستان کے وفادار نہیں ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے جن بڑے بڑے زمیندار خاندانوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا، انگریزوں نے انہیں انعام کے طورپاکستان قائم کرکے دیدیا۔ 14، اگست1947ء کو جب پاکستان قائم ہوا تو انہی لوگوں پر مبنی فوج بنائی گئی جو حریت پسندوں کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دے رہے تھے۔ پاکستان کا نظام حکومت چلانے کیلئے سیاسی جماعتیں تشکیل دی گئیں اورانہی خاندانوں کوان سیاسی جماعتوں میں ایڈجسٹ کیا گیا۔ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ (ن) ہو، ان جماعتوں نے کبھی ملک کے غریب، لوئرمڈل کلاس اورمڈل کلاس کے تعلیم یافتہ افراد کو ملک کے منتخب ایوانوں میں نہیں بھیجا۔ پاکستان کے 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام اس موروثی سیاست، وڈیرہ شاہی، فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور دوفیصد حکمراں اشرافیہ کے غلام بنادیئے گئے مگرکسی سیاسی جماعت نے ملک پر مسلط فرسودہ جاگیردارانہ اوروڈیرانہ نظام کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پاکستان کی واحد طلبا تنظیم ہے جس نے عوامی جماعت ایم کیوایم کو جنم دیا جوپاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ملک کے فرسودہ جاگیردارانہ نظام،موروثی سیاست اور کرپشن کے نظام کی تبدیلی کیلئے عملی جدوجہد کی۔ایم کیوایم نے عوام کو شعوردیاکہ پاکستان دوصرف فیصد جاگیرداروں، وڈیروں اورزمینداروں کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے کروڑوں عوا م کا ہے اورپاکستان میں صحیح جمہوریت اسی وقت آسکتی ہے جب ہم غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کو ملک کے منتخب ایوانوں میں بھیجیں گے، ایم کیوایم نے محض نظام کی تبدیلی کانعرہ ہی نہیں لگایا بلکہ عملی طورپر غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کو منتخب ایوانوں میں بھیج کرناممکن کوممکن کردکھایا۔
پاکستان کی ہرسیاسی ومذہبی جماعت کا سربراہ بلدیاتی، صوبائی، قومی اورسینیٹ کے انتخابات میں حصہ لیتا رہا ہے جبکہ الطاف حسین پاکستان کا واحد سیاسی رہنما ہے جوپاکستان کافرسودہ نظام بدلنے کیلئے میدان سیاست میں آیا، الطاف حسین نے اپنی ذات یا اپنے خاندان کے مفادات کے بجائے عوام کے اجتماعی مفادات کیلئے تحریک کی بنیاد رکھی، الطاف حسین نے نہ تو خود الیکشن لڑا اور نہ اپنے بہن بھائیوں کو لڑایا، غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ کارکنوں کو مئیرز، ڈپٹی مئیرز،ایم پی اے، ایم این اے اورسینیٹر بناکر منتخب ایوانوں میں بھیجا۔ ایم کیوایم نے ملک میں برسوں سے قائم اسٹیٹس کو کوچیلنج کیا اسی لئے اس نظام کی محافظ قوتوں نے ایم کیوایم کوبرداشت نہیں کیا، اسے ریاستی طاقت سے کچلنے کے لئے ریاستی آپریشن کیا، ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خلاف عملی جدوجہد کی پاداش میں جہاں تحریک کے ہزاروں کارکنوں کو شہیدکیاگیا وہیں الطاف حسین کے بڑے بھائی ناصر حسین، بھتیجے عارف حسین اور بہنوئی اسلم ابراہانی بھی شہیدوں میں شامل ہیں۔ایم کیوایم کے خلاف مظالم پنجاب میں بھی کئے گئے اور پنجاب سے ایم کیوایم کی ایک محنتی کارکن طاہرہ آصف جو قومی اسمبلی کی رکن تھیں، انہیں نوازشریف کے دور میں لاہورمیں گولیاں مارکر شہید کردیا گیا۔ ایم کیوایم نے پنجاب کے علاوہ کراچی میں بھی میرٹ کی بنیادپر متعدد پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، گلگتیوں، بلتستانیوں اورکشمیریوں کو منتخب ایوانوں کارکن بنایا۔
فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خلاف میری عملی جدوجہد کے باعث اسٹیبلشمنٹ میری جان لینے کے درپے ہوگئی،مجھ پر متعدد قاتلانہ حملے کیے گئے اورجب کراچی میں مجھ پرقاتلانہ حملے کیلئے ہینڈ گرنیڈاستعمال کیے گئے تو میں ساتھیوں کے مشورے سے کچھ دنوں کیلئے لندن چلاآیا
1/2
روسی انقلاب (1917–1922) | 8 ماہ (مارچ تا نومبر 1917) | 5 سال (خانہ جنگی کے خاتمے تک) | تقریباً 5 سال
چینی کمیونسٹ انقلاب (1927–1949) | 22 سال (طویل خانہ جنگی) | فوری (اکتوبر 1949 میں عوامی جمہوریہ کا اعلان) | تقریباً 22 سال
⬇️
@AltafHussain_90@WasayJalil ایرانی انقلاب (1978–1979) | 1 سال (شدید احتجاجی لہر) | 2 سے 3 سال (نئے نظام کی پختگی) | تقریباً 3 سال
اے پی ایم ایس او کے قیام سے 2016 تک @AltafHussain_90 کی قیادت میں میں مہاجروں نے کیا پایا پہلے وہ بتایا جائے۔ 38 سالوں میں مہاجروں کے لئے انقلاب نہ لاسکا کس منہ سے یہ بات کررہا
@AltafHussain_90@WasayJalil روسی انقلاب (1917–1922) | 8 ماہ (مارچ تا نومبر 1917) | 5 سال (خانہ جنگی کے خاتمے تک) | تقریباً 5 سال
چینی کمیونسٹ انقلاب (1927–1949) | 22 سال (طویل خانہ جنگی) | فوری (اکتوبر 1949 میں عوامی جمہوریہ کا اعلان) | تقریباً 22 سال
⬇️
@Roznama_Express افسوس ہوتا ہے کہ صحافت کس قدر تنزلی کا شکار ہو چکی ہے۔ کبھی موقر اخبارات خبر کی صداقت اور وقار سے اپنی شناخت بناتے تھے، آج وہ سوشل میڈیا کی توجہ سمیٹنے کے لیے سنسنی، مبالغے اور سستے ہتھکنڈوں کا سہارا لینے پر اتر آئے ہیں۔
@ibrahimbanglani Sindh has been governed by the PPP for decades under this very constitutional framework. The neglect of Karachi and Hyderabad is the responsibility of the party that has exercised provincial authority throughout this period.
@ibrahimbanglani The irony is that you don't even know the 18th Amendment that the PPP and Sindhi nationalists defend so passionately.Since its passage, local government, urban development, infrastructure have been the constitutional responsibility of the Sindh government not the federal one
⬇️
یہی تو کمال ہے مصطفیٰ کمال کا
مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
نوٹ: یہاں قلم کو زبان اور لکھا کو کہا پڑھا جائے۔
@ZKhan090@srfrosh1@KamalMQM@TariqAz87844470 یہی تو کمال ہے مصطفیٰ کمال کا
مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
نوٹ: یہاں قلم کو زبان اور لکھا کو کہا پڑھا جائے
لندن ٹولہ، پیپلز پارٹی کے راتب خور عناصر اور جیالے صحافی جس شدت سے مصطفیٰ کمال کی مخالفت میں میدان میں اتر آئے ہیں، اس سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ پیپلز پارٹی کسی صورت یہ نہیں چاہتی کہ ایم کیو ایم کی قیادت یا زمامِ کار مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کے ہاتھ میں ہو۔
تاریخ کا پہلا دستاویزی اور دلکش جملہ جو اس وقت بھی ابو سمبل (مصر) میں موجود ایک اہرام کی اندرونی دیواروں پر کندہ ہے۔
یہ جملہ اس وقت کے فرعون نے اپنی بیوی نیفرٹیٹی کے لیے کہا اور پھر پتھر کی دیواروں پر کھدوایا تھا:
" سورج فقط تمھاری دید کی خاطر طلوع ہوتا ہے۔"
بعد ازاں اہرام کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس نے صرف 54 عورتوں سے شادی کی تھی ۔
1992 کے آپریشن کے آغاز پر جب خالد مقبول صدیقی حاجی شفیق الرحمن کے بنگلے پر چلے گئے اور بعد ازاں امریکہ نکل لئے، اُس وقت وہ کارکن تھے یا نہیں؟
تاریخ کا حوالہ دیتے وقت یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ سب کے اعمال محفوظ رکھتی ہے۔