اس خبر سے لے کر کور کمانڈر ہاؤس تک، ہر سین پہلے سے طے شدہ تھا۔ 9 مئی فالس فلیگ آپریشن کی بنیاد عمران خان کی عدالت سے بے جرم گرفتاری پر رکھی گئی۔ مقصد پی ٹی آئی کو ختم کرنا تھا، تاریخ کا بدترین جبر برداشت کرکے، عمران خان کا ساتھ نہ چھوڑ کر عوام نے ثابت کر دیا کہ شعور کو زنجیر نہیں پہنائی جا سکتی۔
#مئی9_یوم_جبر
ایک سابق وزیر اعظم کو طبی سہولیات سے محروم رکھنا اور ان کی بینائی کے 85 فیصد ضائع ہونے کی خبریں قانون کی حکمرانی پر بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کی غیر سیاسی اہلیہ کے ساتھ بھی انسانیت سوز سلوک کیا جا رہا ہے۔ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے تو کسی بھی قیدی کے ساتھ ایسا سلوک عالمی انسانی حقوق کے صریح خلاف ہے۔
#1000DaysKhanUnbroken
نہ بھولیں گے، نہ بھولنے دیں گے!
”مجھے جِس طرح پنجرے میں بند رکھ کر ذہنی اذیت دی گئی یہ بُہت ہی نیچ اور افسوسناک حرکت ہے، جانوروں سے بدتر سلوک کیا گیا،سیل کی بجلی پانچ دن تک بند رکھی گئی، سیل میں گُھپ اندھیرا رکھا گیا، 10 دن تک سیل سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا، یہ سختیاں اور ٹارچر کرکے مجھے توڑنا چاہتے ہیں مگر میں اِس ظلم کے باوجود پاکستانی قوم کی حقیقی آزادی کے لیے ڈٹا رہوں گا!“-عمران خان (29 اکتوبر 2024)
#خان_کی_مزاحمت_کے_1ہزار_دن
“میری بہنوں اور اہلیہ کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔ علیمہ خان باہر آ کر صرف میرا پیغام پہنچاتی ہیں۔ ان کے خلاف مہم افسوسناک اور ملک پر مسلط رجیم کی بزدلی اور خوف کا واضح ثبوت ہے۔
بشریٰ بیگم کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ بشرٰی بیگم نے آج تک مجھے کسی وزیر، ٹکٹ ہولڈر یا سینٹر کو نامزد کرنے کا نہیں کہا۔ وہ کوئی سیاسی پیغام نہیں بھیجتیں۔ وہ قید تنہائی میں ہیں ان کا باہر کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ان کو قید و بند کی صعوبتیں صرف میری اہلیہ ہونے کی وجہ سے برداشت کرنی پڑ رہی ہیں۔
ظالم رجیم کو گمان تھا کہ بشرٰی بیگم کو میری کمزوری بنا کر استعمال کریں گے لیکن اپنے غیر متزلزل ایمان کے باعث وہ میری طاقت بن گئی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کی شاید وہ واحد خاتون ہیں جو غیر سیاسی ہیں مگر صرف ان کے خاندان کے کسی شخص کے سیاست میں ہونے کی وجہ سے انہیں قید برداشت کرنی پڑی ہو۔ بشری بیگم کی طبعیت ناساز ہے۔ انھیں چلتے ہوئے چکر محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے معائنے کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی ہے لیکن اب تک قبول نہیں کی گئی۔ ان کا ڈاکٹر سے ترجیحی بنیادوں پر معائنہ انتہائی اہم ہے۔ بشری بیگم کو سیاسی مقدمات میں قید کرنا عاصم رجیم کی اخلاقی اور مذہبی گراوٹ کا ثبوت ہے۔
مجھ پر اور میرے خاندان پر تمام مظالم عاصم منیر کروا رہا ہے۔ ملک میں اس وقت عاصم لا نافذ ہے جس نے ڈاکو ڈفر الائنس کے تحت ملک چلا کر اخلاقیات کا جنازہ اٹھا دیا ہے۔ اخلاقی پستی کا ثبوت یہ ہے کہ میرے خاندان کی عورتوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء سے گفتگو (۱۰ ستمبر، ۲۰۲۵)
3/3
PTI supporters, including Imran Khan’s sisters, stood peacefully at a distance from Adiala Jail, where the former prime minister is held. Yet the #Form47 illegal regime launched an unprovoked assault with tear‑gas shelling, lathi charges, and rubber bullets, and even illegally detained Imran Khan’s sisters.
#AdialaJail #ImranKhanMedicallyHostage
پورے پاکستان کو سوچنا چاہیے کہ 9 اپریل 2022 سے لے کر 9 اپریل 2026 تک ہم کہاں سے کہاں آ گئے ہیں۔ 2022 میں پاکستان ترقی کر رہا تھا پھر بند کمروں کے فیصلے کے ذریعے جمہوری حکومت گرائی گئی۔ آج دیکھیں پاکستان کہاں آ کھڑا ہوا ہے۔
جن کو پاکستان پر زبردستی مسلط کیا گیا وہ پاکستان کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں۔ فرض کریں اگر 2022 میں ہمارا جی ڈی پی گروتھ 6.1 تھا آج 7 ہے، ہماری زراعت تب ڈوب رہی تھی اور آج ترقی کر رہی ہے، اگر تب انڈسٹری تباہ تھی اور آج ترقی کر رہی ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ لیکن اگر اس وقت جی ڈی پی گروتھ آج سے بہتر تھا، معیشت بہتر تھی، کسان خوشحال تھے، نوجوان خوش تھے اور آج پاکستان کا بچہ بچہ جان رہا ہے کہ پاکستان تباہی کی طرف جا رہا ہے، پاکستان کے شہری سمجھتے ہوں کہ آج ان کو یہاں سانس لینے کی آزادی نہیں ہے۔ پاکستان کے 45 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے آ چکے ہیں، 2022 میں پٹرول 150 روپے لیٹر تھا آج 380 تک پہنچ چکا ہے تو سوچ لیں پاکستان تباہی کے کس کنارے پر پہنچ چکا ہے۔
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں“۔
ناحق قید میں سابق وزیراعظم عمران خان
#ذہنی_مریض_نامنظور
ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستانی عوام پر مہنگائی کا بم گرا گر، عاصم منیر کی قائم کردہ بادشاہت یہ ثابت کر رہی ہے کہ عمران خان کی عوام دوست حکومت ہٹا کر اور پھر جعلی مینڈیٹ کے ذریعے صرف کچھ لوگوں کے اقتدار اور ذاتی مفادات کو تحفظ دیا گیا ہے ۔۔!!