17 جون کو اپنے وی لاگ 👇میں خبر دی تھی کہ فیصل واوڈا کا "اصل غصہ " متعلقہ وزارت میں اپنا کام پھنسنے کی وجہ سے ھے۔
آج ممتاز صحافی @SanaullahDawn نے اپنے وی لاگ میں ثبوتوں کے ساتھ اس خبر کو کنفرم کیا https://t.co/h7jOMsf8Ci
انتہائی قابل مذمت۔ پیمرا کی کاروائی کے ساتھ ساتھ اس معاملہ پر مکمل انکوائری کرنا اور ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف کاروائی کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
جیو نے مذاق بنایا ہوا ہے اب کہتے ہیں کہ ہماری یہ پالیسی نہی تھی تو پھر یہ پیغمبروں کے بیت اطہار کے مکمل خاکے کیسے چل گئے ؟
ایڈیٹوریل بورڈ کہاں تھا؟ جیو کی معطلی کافی نہی ہے ان کو جو اربوں کے سرکاری اشتہارات دیتے وہ بند کرنے کی ضرورت ہے
🚨🚨 جیو کی چند دن کی نمائشی معطلی کافی نہیں ہے۔
جیو نے “سفر عشق” کے نام سے ایک ڈاکیومنٹری چلائی جس میں AI کی مدد سے نبی کریم ﷺ کا جسم اطہر، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جسم اور تمام اہل بیت کے تصوراتی جسم بنائے۔ پاکستان میں جیو نے شروع سے ہی مذہب میں خرابی کی بنیاد رکھی ہے۔ مشرف دور میں انہوں نے حدود قوانین کے خلاف لمبی اشتہاری مہم چلائی، وہ قوانین پھر تبدیل ہو گئے۔ رمضان میں کھیل تماشے والی ٹرانسمیشن، عالم آن لائن کے نام پر عامر لیاقت جیسے کردار جیو کی ہی عطا ہیں۔ غرض مذہب کے حوالے سے باریک وارداتوں کی لمبی تاریخ ہے، چند دن کی معطلی سے کیا ہوگا؟ یہ یوٹیوب پر چلتے رہیں گے۔ انہیں پاکستان میں سب سے زیادہ سرکاری اشتہارات ملتے ہیں، وہ بند ہونے چاہییں ورنہ لوگ یہی کہیں گے کہ وزارت اطلاعات انہیں بچا رہی ہے۔
شہداء کربلا کی یاد دنیا بھر میں ایک علامتی طور پر منائی جاتی ہے ایک پاکستان ہے جس میں یاد نہیں قتل غارت کی جاتی ہے
یہ دیکھ لیں ایران کا صدر کس طرح ایک علامتی طور پر یاد تازہ کر رہا ہے
ابن امیرشریعت حضرت مولانا سید عطاءالمومن شاہ حسنی بخاری
سابق امیر مجلس احرار اسلام پاکستان کے تاریخ ساز الفاظ۔۔۔
مفتی ،علامے کیا کہتے ہیں ہمیں اس سے سروکار نہیں ۔۔۔۔قرآن کہتا ہے صحابہ سے غیظ کفار رکھتے ہیں۔۔۔۔!
شاہ جی کو اللہ کروٹ کروٹ راحت دے۔آمین
#صحابہ
اہل تشیع سے چند سوالات
پوسٹ پڑھ کر جواب دے
سن 11 ھجری جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عمر 7 سال تھی ،یعنی خالص بچپن کی عمر تھی
اس حساب سے سن 61 ھجری کو کربلا میں یزید کے مقابلے میں آکر شہید ہوتے وقت آپ کی عمر57 سال بنی
گویا حضور کے وصال کے وقت سے کربلا کے معرکہ تک درمیان میں آپ کی عمر مبارک کے 50 سال کا طویل عرصہ گذرا ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی عمر کے یہ 50 قیمتی سال کہاں گذرے ؟
کیونکہ جب بھی حضرت حسین کا ذکر ہوتا ہے تو یا تو آپ کے بچپن کا ذکر ہوتا ہے مثلا
👈حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نام خود حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے تجویز فرمایا
👈حضرت حسین رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ دوران نماز بحالت سجدہ حضور کے کاندھے پر سوار ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ طویل کردیا
👈حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات حسنین کو کاندھوں پر بٹھایاہوا ہے ، تو میں نے کہا واہ کیا خوب سوار ہے ، میری بات سن کر حضور نے فرمایا یہ بھی تو دیکھو کہ کیا خوب سواریاں ہیں
👈حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار دوران خطبہ حضرات حسنین کو آتے دیکھا تو ممبر سے اتر کر دونوں نواسوں کو اپنی گود میں بٹھا لیا
یاپھر
👈حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عمر کے آخری ایام کا ذکر ہوتا ہے کہ جب آپ یزید کے مقابلے میں میدان میں آئے
سوچنے کی بات تو ہے کہ باقی کی پوری عمر جو آپ کی حیات مبارکہ کا 87 فیصد حصہ بنتا ہے وہ آپ نے کہاں گذاری ؟
کس کے ساتھ گذاری ؟
کس کی ماتحتی میں گذاری ؟
کس خلیفہ کی خلافت کے تحت گذاری ؟
نمازیں کس مسجد میں پڑھیں ؟
کس کس امام کے پیچھے پڑھیں ؟
رشتہ کہاں کیا ؟
آپ کی بہن حضرت ام کلثوم کے لئے آپ کے گھر بارات کس کی آئی ؟
آپ کے دولہا بھائی کون بنے ؟
دوستی اگر کسی سے کی تو وہ کون کون تھے
وظیفہ کس سے لیتے رہے ؟
وزیر مشیر کس کے بنے ؟
حضرت ابوبکر کی سوا 2سالہ مدت خلافت میں آپ کہاں تھے ؟
حضرت عمر کے پونے 11 سالہ مدت خلافت میں آپ کدھر تھے ؟
حضرت عثمان کے پونے 12 سالہ مدت خلافت میں آپ کہاں تھے ؟
حضرت علی کے پونے 5 سالہ دور خلافت میں کہاں مصروف رہے ؟
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سوا 19 سالہ دور حکومت میں آپ کہاں تھے
ان تمام سوالوں کا جواب یہ ہے کہ آپ اس تمام طویل دورانیہ میں انہی تمام مقدس ہستیوں کے مقتدی ، رشتہ دار ، معاون ، وزیر ، مشیر ، حامی ، اور دست و بازو بنے رہے
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے لیکر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تک سب کے ہاتھوں پر بیعت کی ہے آپ نے
ان کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں آپ نے
👇👇👇👇2/1
اسی فیس بک پہ چند دن پہلے ایک سنی نے حدیث پوسٹ کی
پنجاب حکومت نے اس پہ مقدمہ درج کردیا مجوسیوں کو خوش کرنے کے لئے۔
اس مجوسی نے پہلے توہین صحابہ کی نا پکڑا گیا پھر سر عام اسے (رضی اللہ عنہ) لکھا جا رہا ہے مزید توہین
کوئی پوچھنے والا نہیں انکو۔۔پنجاب حکومت لعنتی مجوسیوں کی لونڈی۔
شرارت بھی وائرل۔۔معافی بھی وائرل
معافی ریجیکٹ ہونا بھی وائرل۔۔۔ قانون کا حرکت میں آنا بھی وائرل
یہ وائرل ہونا ہی اصل وائرس ہے۔ جس کی ابھی تک کوئی ویکسین نہیں بن سکی
میں نے جواد نقوی اور ریحان طارق کی پوڈکاسٹ کو کئی بار بغور دیکھا اصل مجرم ریحان ہے جس نے ریٹنگ کے حصول کے لیے جان بوجھ کر متنازعہ مذہبی سوالات جواد نقوی سے پوچھے جن پر جواد نقوی نے بھی متنازعہ جواب دیے
ایسے یوٹیومرز پر ریاستی ادارے نہ جانے کیوں خاموش تماشائی بنے ہیں۔
کیا یہ کسی فساد کے منتظر ہیں؟