جن لوگوں کو تحریک انصاف کا ٹکٹ ملا، ان کو بہت بہت مبارکباد۔ اگلے ۴ ہفتوں میں کچھ for granted نہیں لینا، پورا زور لگانا رکارڈ ٹرن آؤٹ کے لیے۔ آپ کی جیت انشااللہ کپتان کو پھر وزیر اعظم بنائے گی!
جن کو ٹکٹ نہیں ملا، ان سے ہمدردی ہے مگر یہ یاد رکھیں کہ گورنمنٹ میں اور بہت عہدے ہوتے ہیں، جیسا کہ عون عباس کو ملا تھا۔ اس کے علاوہ فیڈرل اور صوبائی گورنمنٹ میں SAPM اور Focal Person جیسے کئی اورعہدے بھی ہوتے ہیں۔
جن کو ٹکٹ نہیں ملا اور اس کے باوجود وہ آج بھی کپتان کے ساتھ کھارے ہیں، ان کو سلام ہے ! پارٹی لیڈرشپ سے میری گزارش ہے کہ یہ سب نام نوٹ کر لیں اور وقت آنے پر ان سب کو accommodate کریں۔ insafians سے گزارش ہے کہ آپ ان سب کے ٹویٹس اس تھریڈ میں پوسٹ کریں جو ٹکٹ نہ ملنے کے باوجود عمران خان کے ساتھ کھرے ہیں، یہ لسٹ لیڈرشپ تک ضرور پہنچائوں گا اور خود بھی یاد رکھوں گا!
𝐂𝐡𝐚𝐢𝐫𝐦𝐚𝐧 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐊𝐡𝐚𝐧'𝐬 𝐌𝐞𝐬𝐬𝐚𝐠𝐞 𝐭𝐡𝐫𝐨𝐮𝐠𝐡 𝐡𝐢𝐬 𝐟𝐚𝐦𝐢𝐥𝐲 𝐨𝐧 𝟐𝟒𝐭𝐡 𝐎𝐜𝐭 𝟐𝟎𝟐𝟑
My Pakistanis!
In the last few days, we have witnessed a total mockery of the law. All that is happening today is not just an execution of a London “plan" but 𝐋𝐨𝐧𝐝𝐨𝐧 “𝐚𝐠𝐫𝐞𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭” that was signed between a cowardly fugitive & corrupt criminal and his facilitators. The only way a convicted criminal could be allowed to return to politics with a clean chit is by destroying State institutions. And hence, what we are witnessing is a complete collapse of our justice system.
My Pakistanis!
Please remember, all the cases against me are completely bogus & politically motivated, concocted only to keep me in jail for certain till after the elections or maybe much longer beyond the elections.
However, the growing political awareness and increasing resistance against closed-room conspiracies in my nation scares them.
At the moment I am physically fit. I would know if my body was experiencing change from weakness. But they have already made two public attempts to take my life. Since I won't agree to leave my country there is of course a danger they will try to make another attempt on my life while I am in jail. Such an attempt could also be through slow poisoning.
Our struggle is entering its decisive phase. You will have to fight for your own rights and your country's freedom.
I have directed my lawyers and party office bearers to hold conventions all over the country and also commence the campaign for whenever elections are held.
دھوکہ بازوں سے ہوشیار رہیں: پی ٹی آئی کے کچھ کارکنوں نے میرے ساتھ واٹس ایپ چیٹ شیئر کی ہے جس میں خان کی قانونی ٹیم کے ارکان بش��ول سردار لطیف کھوسہ صاحب اور میں جعلی آئی ڈی والے گروپ کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر دکھائے گئے ہیں۔ چیٹ سے پتہ چلتا ہے کہ وکلاء کی فیس ادا کرنے اور بین الاقوامی عدالت انصاف کے مقدمات کے اخراجات کی ادائیگی کے لیے عطیات کی درخواستیں کی جا رہی ہیں۔ آپ سب کو مطلع کیا جاتا ہے کہ کسی کو بھی واٹس ایپ گروپس کے ذریعے چندہ جمع کرنے کا اختیار نہیں ہے اور ایسے تمام دھوکے باز عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صرف سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان کے پالیسی بیان سے فرق پڑے گا اور کسی دوسرے فرد کا عطیات مانگنے یا جمع کرنے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ خان کی قانونی ٹیم کے زیادہ تر ارکان رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں اور کسی بھی مقصد کے لیے چندہ لینے کا کوئی پالیسی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ عطیات کی اپیل کرنا خان کی قانونی ٹیم کا کام نہیں ہے اور تمام پی ٹی آئی والوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کی اطلاع پی ٹی آئی حکام کو دیں۔ کسی بھی وکیل کا نام استعمال کرنے والا آپ کو دھوکہ دے رہا ہے۔ اس جعلی اسکینڈل سے آگاہ رہیں۔
آج 25 اکتوبر کو عمران خان سے میری ملاقات: آج میری اڈیالہ جیل میں خان صاحب سے ملاقات ہوئی اور ہماری ملاقات سہ پہر 3.20 سے 4.10 تک جاری رہی۔ پہلی بار ہماری گفتگو کسی جیل اہلکار نے نہیں سنی۔ یہ ہدایت اسلام آباد ہائی کورٹ نے میری درخواست پر دو دن پہلے دی تھی کیونکہ قانون کسی وکیل کو اپنے موکل کے ساتھ نجی یا خفیہ بات چیت کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ خان نے متعدد موضوعات پر بات کی اور ساتھ ہی ساتھ ہدایت کی کہ کور کمیٹی کو مطلع کیا جائے کہ پی ٹی آئی کا کوئی نمائندہ جیو ٹی وی، سماء ٹی وی اور چینل 24 پر کسی بھی پروگرام میں نہیں بیٹھے گا۔ خان نے مجھے شبلی فراز سے مشاورت کے بعد نئے قانونی مقدمات شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ . میں آج شام اپنے وی لاگ میں تفصیل سے بات کروں گا۔
“کیا حال ہیں ارشد بھائ؟” ایک سال ہوگیا یہ سوال پوچھے، کان ترس گئے ہیں آپ کا “الحمد للہ” سننے کو۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کتنی ہمت جمع کرکے بولتے ہونگے یہ لفظ آپ۔۔
آپ کے حال تو اچھے ہی ہوگئے ارشد بھائ، سنا ہے آج دن تک قبر پہ پھول سوکھے نہیں ہیں۔ جب دنیا والوں نے مرقد آباد رکھا ہے تو خالق نے کتنا شاد رکھا ہوگا۔۔
ایک سال پہلے تک سوچا ہی نہیں تھا کسی دن آپ کی قبر کا تذکرہ بھی کرنا پڑیگا۔ لیکن دیکھیں اس ایک سال میں کیا کیا سہہ گئے ہم۔۔ سہہ تو گئے ارشد بھائ لیکن کچھ پہلے سا نہیں رہا۔ آپ چلے گئے تو لگا ہاتھ خالی ہوگئے۔ کتنے دن تو زندگی کی سمجھ ہی نہیں آئ۔ ان سالوں میں کتنے قدم تھے جن کی ہمت آپ کی تھپکی نے دی تھی۔ کتنے بند رستے تھے کہ جن پہ روزن آپ کی فراست نے کھولے تھے۔۔اور اب ایک گھپ اندھیرا تھا اور میں اس کی تاریکی میں کھڑا ایک خوف زدہ بچہ۔ آپ کے بعد زندگی ایسی ہی ہوگئی ہے۔ گھپ اندھیروں میں ڈھونڈ ڈھانڈ کے ہمت کھوج کے لاتے ہیں کہ بھرم بھی رکھنا ہے اپنے کاندھے پہ رکھے اس ہاتھ کا جو اپنے سینے پہ رکھ کے آپ اس مٹی کی عظمت کی قسم کھاتے تھے۔. آپ کے بعد تو آپ کی دھرتی بھی رُل گئی ہے ارشد بھائ! وہ ایک شخص جس سے ہم نے امید باندھی وہ لڑ رہا ہے اور کیا خوب لڑ رہا ہے۔ ہمارے یقین کا مان رکھ لیا ہے۔ ۷۶ سال بعد کسی نے اس قوم کے یقین کا مان رکھ لیا ہے ارشد بھائ مگر جن جن چہروں سے نقاب اترے ہیں اور جو جو شکلیں آشکار ہوئی ہیں۔۔ سوچتا ہوں آپ ہوتے تو۔۔
بہت سی خاموشیاں تھیں زندگی میں جو آپ کے ساتھ کھڑے ہوکر بولتی تھیں۔ آپ کے بعد بہت سے دن گزارنے پڑے ان خاموشیوں کے پہلو میں۔ آپ نے سب اکیلے جھیل لیں؟
اس دن مجھے رہ رہ کر آپ کا خیال آتا رہا، اتنے عرصے میں بس وہی ایک دن تھا جو آپ سے بات کیے بغیر گزر گیا تھا۔ روز سوچتا ہوں بات ہوئ ہوتی تو کیا کہتے آپ؟ کچھ تو کہہ جاتے۔۔
روز سوچتا ہوں کاش آپ سے ضد کی ہوتی۔ کتنا کہا تھا سب نے وقت سے کوئ تو ویزہ لگوالیں۔ کسی اور جگہ ہوتے تو شاید یہ سب نا ہوتا۔۔ باقی سب بھی تو ہیں۔۔ دربدر سہی نسبتاً محفوظ تو ہیں۔ روز سوچتا ہوں منت کرلیتا۔۔ اتنا مان تو رکھ ہی لیتے میرا۔۔
روز سوچتا ہوں کاش آپ کو اپنی آواز اپنی زندگی سے زیادہ نا پیاری ہوتی تو شاید آپ ٹہر بھی جاتے، کاش میں ہی اَڑ جاتا۔ جو ہوتا، ساتھ ہوتا۔ دیکھی جاتی۔
پھر سوچتا ہوں میں سوچتا کیوں ہوں۔۔
آپ کی قبر پر ایک ماں اپنے بچے لے کر گئ تھی۔ انہیں قبرستان کی سب قبریں دکھائیں۔ پھر آپ کی قبر دکھائ؛ روشن، معطر۔۔
اِک زمانہ زمانے کو زندگی گزارنے کے گُر سکھاتا ہے۔
ارشد بھائ! آپ کو دیکھ کر مائیں بچوں کو مرنا سکھاتی ہیں!!!
پاکستان میں یہ حالات ہو گئے ہیں۔ محبت وطن پاکستانیوں پر اتنا ظلم سمجھ سے باہر ہے۔ کیا ہم غلام قوم ہیں۔ کیوں اتنا ظلم۔ اور جھںڈا ہی تو پکڑا ہے۔ کوئی ہندوستان کا جھںڈا ہے یہ ؟ اور اس پر تشدد کی کیا وجہ ہے ؟ کوئی بتا سکتا ہے یہ پولیس والا کون ہے ؟ کیا کوئی پہچانتا ہے اسے؟