طلبہ اور طالبات تیار ہیں۔ اب نوجوان صرف تماشائی بننے کے لیے تیار نہیں بلکہ اپنے حق، اپنے مستقبل اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہیں۔
جب ناانصافی معمول بن جائے، جب سوال پوچھنا جرم سمجھا جائے جب عوام کی آواز دبانے کی کوشش کی جائے تو سب سے مضبوط آواز نوجوانوں کی بنتی ہے۔ یہی طلبہ اور طالبات کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور جب یہی نسل ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف پُرامن اور آئینی جدوجہد کے لیے متحد ہو جائے تو تبدیلی کا راستہ روکنا آسان نہیں رہتا۔
اب تعلیمی اداروں سے لے کر سڑکوں تک ایک ہی پیغام ہے
ہم اپنے مستقبل کا فیصلہ دوسروں کے ہاتھ میں نہیں چھوڑیں گے۔
ہم حق مانگیں گے، سوال کریں گے، آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کریں گے اور ہر قسم کی ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں گے۔
طلبہ اور طالبات ایک ساتھ ہیں نوجوان ایک ساتھ ہیں اور ایک بہتر، منصفانہ اور آزاد پاکستان کی خواہش بھی ایک ہے۔
ظلم کے نظام کے خلاف شعور، اتحاد اور پُرامن مزاحمت ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔
ڈاکٹر عاصم کا مطالبہ 🚨
مجھے اور ڈاکٹر فیصل کو عمران خان کے ڈاکٹرز پینل میں شامل کر دیا جائے کیونکہ ہم پچھے 20 سال سے خان صاحب کے ذاتی ڈاکٹرز ہیں۔
سوشل میڈیا اس پر بھرپور آواز اٹھائیں
ٹرینڈ الرٹ 🚨
انصافینز سب انگریزی میں یہ ٹرینڈ #TorturingImranKhanIsACrime شروع کریں اور عمران خان کی قید تنہائی اور ٹارچر کے خلاف پوری دنیا میں آواز اٹھائیں کیونکہ یہ غیر قانونی اور ایک سنگین جرم ہے۔
اس وقت سب سے ضروری اور اہم عمران خان کی رہائی، علاج اور سلامتی ہے
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
شفیع جان کا یہ تازہ ترین اور عجیب و غریب بیان کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی اگلے انتخابات میں مولانا کی جماعت کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرے گی، دو باتوں کی نشاندہی کرتا ہے: ایک یہ کہ اس سے پی ٹی آئی کے ووٹرز کو غصّہ آئے اور خیبر پختونخوا میں عمران خان کا ووٹ بینک متاثر ہو، اور دوسری یہ کہ پی ٹی آئی کے سیاستدان یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ عمران خان جیل سے زندہ باہر نہیں آئیں گے۔ ورنہ ایسی بونگیوں کی کوئی اور وجہ سمجھ نہیں آتی!
تیرے مامے کی پارٹی ہے جو بغیر پارٹی لیڈر کے نیشنل ٹی وی پر آکر یہ بکواسیات کر رہے ہو!
مقبول تو فاطمہ جناح بھی تھیں لیکن تمہیں قبول نہیں تھی ،۔۔
جیتا تو شیخ مجیب بھی تھا لیکن تمہیں قبول نہیں تھا۔۔۔
لیکن اب حکمران وہی بنے گا جسکو عوام کی قبولیت ہو گی۔۔۔۔ہم اپنے لیڈر عمران خان کے ساتھ ہیں۔۔۔۔۔۔
وکیل رہنما:-
سندھ میں جگہ جگہ سندھ کی تقسیم کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں مٹھی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کو مسترد کر چکی ہے لیکن آج ہر مظاہرے میں صدر زرداری اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے خلاف نعرے بازی ہوئی پیپلز پارٹی مشکل میں پھنس گئی ہے
علیمہ خان کو کہو کے سیاست میں مداخلت چھوڑ دیں والا بیان بھی وہی سے آیا ہے جہاں سے ہمیں بتایا گیا تھا کہ راشد منہاس نے غدار افسر کا رستہ روکنے کے لیے جہاز تباہ کردیا تھا ( ایف اے پاس جعلی فیلڈ مارشل صاحب اب عوام یہ چُورن نہیں خریدے گی 😂😂😜✌️)
اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے عمران خان کی صحت پر بات کے لیے چیئرمین سینیٹ سے وقت لیا جسے مشعال یوسفزئی نے کورم کی نشاندہی کر کے ناکام بنا دیا۔ عمران خان کی صحت پر بحث کو رکوانے سے عمرن خان کو فائدہ ہوا یا حکومت کو؟ پارس جہانزیب نے مشعال یوسفزئی کے کنڈکٹ پر سوال اٹھا دیا۔
@AllamaRajaNasir@AkMashal@Parasjahanzaib1@salmanAraja@SohailAfridiISF
بریکنگ نیوز : "عمران خان نے کہا ہے میری تینوں بہنیں عوام میں جائیں اور میرے لوگوں کو بتائیں کہ مجھ پر کتنا ظلم ٹارچر ہورہا ہے اور یہ لوگ مجھے مرسی کی طرح مارنا چاہتے ہیں۔"
اس پیغام کے وائرل ہونے کے ڈر سے فوج نے اسد اللا کو پھرسے سڑک پر چلتے چلتے ایک پرچی پر لکھ کر دے دیا کہ عمران خان نے بہنوں کو بولنے اور عوام میں جانے سے منع کیا ہے۔ اور دوسری جانب صدیق جان کو کہا کہ اپنا گلا تھوڑا اور بڑا کرلو اب فوج کے ساتھ ساتھ سہیل کے ساتھ ساتھ گوہر کے بھی منہ میں ڈالنے پڑے گے آئیندہ آنے والے دنوں میں شیر افضل مروت کے بھی ڈالنے پڑسکتے ہیں۔ صدیق جان سے ہم نے کمنٹ لینے کی کوشش کی پر اس وقت ان کا منہ بھرا ہوا تھا وہ کوئی بات نہ کرسکے