تابش ہاشمی کی ایک دن کی زندگی جرنیلوں، شریفوں، زرداریوں، انصار عباسیوں، سہیل وڑائچوں، ایم ایفوں، ابصار عالموں، راویوں اور عسکری راتب خوروں کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے!
اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات کی تصدیق کی ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، جب ان سے کسی کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ پچھلی دفعہ جب آنکھ کا مسئلہ آیا تو ایسے ہی تردید کی جاتی رہی اوراس کو ڈس ٹریکشن کہا گیا لیکن پھر بینائی کے شدید متاثر ہونے کی خبر کی تصدیق ہوگئ۔
جب ملاقات ہی نہیں ہوئ، قابل اعتماد معالجین تک رسائی ہی میسر نہیں تو تردید،جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دینے کے بجائے کیوں نہ تمام تر قیادت عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ہر فورم کا استعمال کریں۔ اگر ”متعلقہ لوگ” اتنے ہی قابل بھروسہ اور ہمدرد ہیں تو ان کی آنکھ کیسے ضائع ہوگئی؟ ابھی تک علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟ اور اب تسلی دینے کے بجائے ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات کیوں نہیں کروائ جا رہی؟
یہاں جعلی پلیٹ لیٹس رپورٹس پر طوفان کھڑا کیا جاتا ہے لیکن ان کی بینائی کے معاملے پر اتنی شدید غفلت کے بعد اب مزید ایسی خبروں پر خاموشی مجرموں کی سہولت کاری ہے۔ جیسے پچھلی دفعہ آٹھ فروری کے ایونٹ کا انتظار کرتے ہوئے دو ہفتے ضائع کیے گئے اس دفعہ بے شک پانچ کی تیاری جاری رکھیں لیکن فوری طور پر قیادت و صوبائی حکومت ہر آئینی قانونی اور عوامی فورم استعمال کرے۔ تصدیق کی وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں۔
پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان نے پچھلے چوبیس گھنٹوں میں تین پریس کانفرنسز کیں ،
سینیٹر مشتاق صاحب کو کشمیر جانے سے روکا گیا اور گرفتار کیا گیا ،
عام پاکستانیوں اور کشمیریوں کے ویڈیوز پیغامات آرہے ہیں،
بیرون ملک اوورسیز پاکستانی آواز بلند کررہے ہیں،
تین چار انسانی حقوق کی تنظیمات شور مچا رہی ہیں
سٹوڈنٹس نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اسلام آباد میں پانچ بجے پرامن احتجاج کی کال دے رکھی ہے ،
لیکن ان سب کی میڈیا پر تو ایک لفظ کی کوریج نہیں جبکہ سوشل میڈیا بھی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ڈرامے کو کور کررہا ہے
دو سال پہلے قاضی چیف جسٹس تھا اور رپورٹرز اسے اشاروں کنایوں میں ذہنی مریض کہتے تھے۔ تب میں نے لکھا تھا کہ ذہنی مریض ایک سے زائد ہیں۔۔ اب تو گنتی مشکل ہو چکی ہے کہ کتنے ذہنی مریض ہیں ۔ پورا ٹولہ ہی ذہنی مریضوں کا ہے۔