موسمیات کی 7 سے 9 ستمبر کے دوران(اتوار تا منگل) سندھ میں شدید بارشوں کی پیشگوئی⛈️⛈️
تینوں روز شام/رات کے وقت شدید بارشیں ہونگی زیریں سندھ (عمرکوٹ، مٹھی، بدین، ٹھٹہ، نگر پارکر۔۔۔)⛈️
4/5 روز بعد سیلابی ریلے کی بھی آمد۔۔۔
🌾کسان باخبر رہیں، محتاط رہیں🌾
موسمیات نے اگلے دو روز کے دوران دریائے ستلج ،راوی اورچناب کے catchment area میں مزید اورشدید بارش کی پیشگوئی کردی 🌧
متعلقہ ادارے اس "بروقت وارننگ" کے اثرات کو سمجھیں پلیززز۔۔🙏
"یعنی منگل کو راوی، بدھ کو چناب میں مزید پانی کی آمد کا امکان"
پلیز کے لاہور کےعلاوہ آج "ضلع چنیوٹ اور جھنگ کے نشیبی علاقوں" پر توجہ دیں😓۔۔
متعلقہ اداروں سے گزارش ہے "ہر دریا" کیلئے الگ الگ ٹیمیں تشکیل دیں، ہر دریا/نالے کی الگ رپورٹ اور وارننگ جاری کریں۔ راوی اور چناب کو پہلی ترجیع دیں 🙏
پہاڈی و شمالی علاقوں کے سفر سے گریز کریں پلیززز۔۔⛈️
محکمہ موسمیات کی وارننگ پر عمل کریں۔۔🙏
شدید و موسلادھار بارشوں کا زور ایک ہفتے بعد کم ہو جائیگا۔۔۔⛈️
مشرقی دریاوں کے نشیبی علاقوں میں بسنے والے محتاط رہیں ۔۔🙏
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام!!! (۲۲ جولائی ۲۰۲۵)
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا جیسا میرے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ نواز شریف نے اربوں کی کرپشن کی مگر اسے ہر سہولت کے ساتھ جیل میں رکھا گیا۔کسی سیاسی رہنما کی بے گناہ غیر سیاسی اہلیہ کو کبھی ایسے جیل میں نہیں ڈالا گیا جیسے بشرٰی بیگم کے ساتھ کیا گیا ہے۔ میں صرف اور صرف اپنی قوم اور آئین کی بالادستی کے لیے ملکی تاریخ کی مشکل ترین جیل کاٹ رہا ہوں۔ جبر و فسطائیت کا عالم یہ ہے کہ مجھے وضو کے لیے جو پانی دیا جاتا ہے وہ تک گندہ ہوتا ہے اور اس میں مٹی ملی ہوتی ہے، جس سے کوئی انسان وضو نہیں کر سکتا۔ میری کتابیں جو اہل خانہ کی جانب سے جیل حکام تک پہنچائی جاتی ہیں وہ بھی کئی ماہ سے نہیں دی گئیں، ٹی وی اور اخبار بھی بند ہے۔ بار بار پرانی کتب کا مطالعہ کر کے میں وقت گزارتا رہا ہوں مگر اب وہ سب ختم ہو چکی ہیں۔ میرے تمام بنیادی انسانی حقوق پامال ہیں۔ قانون اور جیل مینول کے مطابق ایک عام قیدی والی سہولیات بھی مجھے میسر نہیں ہیں۔ بار بار درخواست کے باوجود میری میرے بچوں سے بات نہیں کروائی جا رہی۔ میری سیاسی ملاقاتوں پر بھی پابندی اور ہے صرف "اپنی مرضی" کے بندوں سے ملوا دیتے ہیں اور دیگر ملاقاتیں بند ہیں۔
میں واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت پارٹی کا ہر فرد اپنے تمام اختلافات فوری طور پر بھلا کر صرف اور صرف پانچ اگست کی تحریک پر توجہ مرکوز رکھے۔ مجھے فلحال اس تحریک کا کوئی مومینٹم نظر نہیں آ رہا۔ میں 78 سالہ نظام کے خلاف جنگ لڑ رہا ہوں، جس میں میری کامیابی یہی ہے کہ عوام تمام تر ظلم کے باوجود میرے ساتھ کھڑی ہے۔ 8 فروری کو عوام نے بغیر نشان کے جس طرح تحریک انصاف پر اعتماد کر کے آپ لوگوں کو ووٹ دئیے اس کے بعد سب کا فرض بنتا ہے کہ عوام کی آواز بنیں۔ اگر اس وقت تحریک انصاف کے ارکان آپسی اختلافات میں پڑ کر وقت ضائع کریں گے تو یہ انتہائی افسوسناک اور قابل سرزنش عمل ہے۔ پارٹی میں جس نے بھی گروہ بندی کی اسے میں پارٹی سے نکال دوں گا۔ میں اپنی نسلوں کے مستقبل کی جنگ لڑ رہا ہوں اور اس کے لیے قربانیاں دے رہا ہوں ایسے میں پارٹی میں اختلافات پیدا کرنا میرے مقصد اور ویژن کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
فارم 47 کی حکومت نے چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے مفلوج کر دیا ہے۔ چھبیسویں ترمیم والی عدالتوں سے ٹاوٹ ججوں کے ذریعے جیسے سیاہ فیصلے آ رہے ہیں وہ آپ سب کے سامنے ہیں۔ ہمیں عدلیہ کو آزاد کروانے کے لیے اپنی بھر پور جدوجہد کرنی ہو گی کیونکہ عدلیہ کی آزادی کے بغیر کسی ملک و قوم کی بقاء ممکن ہی نہیں ہے۔
بیرسٹر سیف نے خان کی ٹویٹ کے پانچ ٹوٹے شئیر کئے مگر عاصم منیر والا حصہ شئیر کیا نہ ٹویٹ ریٹویٹ کی
@BaristerDrSaif
جبکہ
بیرسٹر گوہر @BarristerGohar
شبلی فراز @shiblifaraz
سلمان راجہ @salmanAraja
نے بھی ریٹویٹ نہیں کیا
جنید اکبر اور عمر ایوب نے ریٹویٹ کیا ہے
کل خان صاحب کی جیل ملاقات کے بعد ایک لسٹ چیئر ہوتی ہے کہ یہ سینیٹ کے امیدواران ہیں تحریک انصاف کے خان کی بہنیں ملاقات کے بعد بتاتی ہیں کہ خان نے پارٹی کو اختیار دیا ہے کہ وہ مشاورت سے امیدواران نامزد کریں
تھوڑی دیر قبل انفارمیشن سیکرٹری @SheikhWaqqas ٹی وی پر آ کر کہتے ہیں کہ اسی لسٹ والے نام ہمارے امیدواران ہیں
وہ کیسے؟ نہ اسی پُھدُو آں؟
یہ قیادت کا امتحان تھا کہ وہ تحریک انصاف کے نظریہ پر کاربند ہونے کا ثبوت دیتی اور ان ناموں کی منظوری دی جاتی جن پر ورکرز کا اعتماد ہوتا
باقی لسٹ ساری صحیح ہے بادی النظر میں لیکن @_IrfanSaleemPTI کا نام نہ ہونا اور مثال یوسفزئی کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس قیادت کو یعنی پولیٹیکل کمیٹی کی اکثریت نظریہ عمرانیہ پر نہیں کسی اور چیز پر کھڑی ہے
ہم بھرپور احتجاج کرتے ہیں کہ عرفان سلیم کا نام شامل کیا جائے اور مثال یوسفزئی کا نکالا جائے
سی سی @BarristerGohar@salmanAraja@AliAminKhanPTI@JunaidAkbarMNA@PTIofficial
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
بالکل
سب سے بڑی غلطی تو سوشل میڈیا سے ہوئی تھی۔ جب علی محمد خان کو مردان سے ٹکٹ نہیں دیا جا رہا تھا تب سوشل میڈیا نے شدیداحتجاج کیا اور پارٹی سے ٹکٹ دلوانے میں کامیاب رہے۔
لیکن ہم لوگ غلط تھے۔
ہم نے ایک بزدل اور ٹاؤٹ کو سپورٹ کیا اور ٹکٹ دلوانے میں مدد کی۔
@BabarSaleemSwat علی امین گنڈاپور جس “ ابتدائی مشاورت “ کا ذکر کررہے ہیں وہ ملاقات آٹھ روز قبل ہوئی۔ عمران خان کا دو روز قبل کا پیغام ہے کہ “ میری مشاورت کے بغیر بجٹ پیش نہیں ہوگا “ ۔
آپ کہاں کھڑے ہیں واضح کرنے کا شکریہ۔
Dear @MuzzammilAslam3@YarMKNiazi
Imran Khan’s message is pretty clear that KP Budget will not be “Paish” without his consultation.
How come you folks are planning to present the budget in KP assembly without consulting Imran Khan and seeking his input?
“میں نے علی امین کو واضح کر دیا ہے KP کا بجٹ میری مشاورت کے بغیر پیش نہیں ہوگا”۔
@ImranKhanPTI
11 جون 2025
۔۔
یہاں واضح لکھا گیا ہے کہ “پیش نہیں ہوگا” جبکہ گنڈاپور حکومت بجٹ پیش کرنے کی پوری تیاری میں ہے
یاد رہے
بعد میں کوئی بہانہ نہیں چلے گا
“خان دا آرڈر، لوہے دا گارڈر”
اسلام ایکسپریس وے روڈ جو فیصل مسجد سے سیدھا لاہور کی طرف جاتا ہے۔اس روڈ پے راولپنڈی کے ایریے تک اگر بائیک پنکچر ہو جائے توحیدر علی کو صبح 9 سے شام 9بجے کال کر کے پنکچر لگوا سکتے ہیں۔فون بمبر ۔ 03251651269
Former Prime Minister Imran Khan's conversation with lawyers in Adiala Jail - May 22, 2025
The baseless trials related to the events of May 9th (2023) have resumed once again. May 9th was a false flag operation. No CCTV footage has been presented to this day, and the past two years have made it abundantly clear that its sole objective was to crush PTI. The truth will be evident to all if the CCTV footage of that day is made public.
Seats were stolen from our candidates in Peshawar through the manipulation of Form-47, just like in other parts of the country. Legally, election petitions must be decided within 180 days. Yet, despite the passage of 15 months — and repeated changes in laws and judges — hearings have not even begun.
Those whose mandate was stolen in Peshawar must immediately file petitions in the High Court, together with the provincial cabinet, and should protest before the Election Commission. Furthermore, the Khyber Pakhtunkhwa Assembly must pass a resolution on this matter.
As party chairman, it is necessary for the government of Khyber Pakhtunkhwa to seek my guidance on budgetary and policy matters. The people have elected PTI to govern, and therefore, the responsibility for policymaking also rests with us. Consequently, it is essential that Ali Amin Gandapur and the finance minister meet with me before the budget is presented.
No one has approached me for any negotiations. News claiming otherwise is entirely false.
National unity is of utmost importance at this time for three key reasons:
Narendra Modi, having faced embarrassment in the recent Indo-Pak tensions, is likely to retaliate to salvage his pride.
Innocent lives are being lost daily to terrorist attacks in Khyber Pakhtunkhwa and Balochistan.
The economy is in shambles; investors and the youth are steadily leaving the country.
It is for these reasons that I have called for dialogue. But talks will only be held with those who actually hold power, and only in the national interest. I do not fear hardship — my resolve remains strong.
Engaging in any talks with the puppet PML-N government is pointless. This illegitimate Form-47 installed government has already wasted two months. Its only objective is to cling to false authority. It holds no real power. This is the very regime that has utterly destroyed Pakistan’s moral values and constitutional structure.
Democracy is founded on two core principles: rule of law and moral integrity. The baseless political cases against me and other PTI members, forced abductions, and coerced press conferences designed to make members publicly disassociate from the party — all prove that rule of law has been entirely dismantled. What we now have is the law of the jungle.
The decline of integrity is equally alarming. The Chief Election Commissioner and other members of the Election Commission continue to hold office even after the terms have ended. The formation of a controversial constitutional bench, its conduct and handling of cases further reflect the erosion of ethical standards. Democracy cannot flourish in the absence of law and morality. This is a recipe for societal collapse, and it should serve as a wake-up call for all of us.
I am being subjected to all forms of hardships. I am not allowed to speak to my children. Meetings with my family are arbitrarily delayed for days. Even my personal physician is not permitted to see me. Despite this, I will continue to stand firm for the sake of my nation.