I regretfully announce that PIPS’ upcoming Pakistan Security Dialogue has been cancelled following the cancellation of visas for most of the foreign delegates and Serena Hotel’s cancellation of all bookings, citing security reasons. No written explanation has been provided yet.
ہری پور میں کم و بیش 5 سال کی آیت نور کو تین اوباشوں نے اغوا کیا اور مبینہ زیادتی کے بعد لاش غائب کردی تھوڑی دیر پہلے یونیورسٹی روڈ پر واقعہ ایک ویران کنویں سے اس معصوم پری کی لاش برآمد کر لی گئی ہے ۔ معصوم بچی کا والد مٹھائی کی دکان پر معمولی ملازمت کرتا ہے جبکہ ماں گھروں میں کام کاج کرتی ہے ۔ نجانے ہم لڑکوں کو کیسی تعلیم دیتے ہیں کہ اچھے بھلے ماں باپ کے بچے خونخوار درندے بن جاتے ہیں۔ خدا رحم
کیا انٹرپول @INTERPOL_HQ آئیندہ کبھی ہمارے مطلوب مجرم پاکستان کے حوالے کریگی؟ ایسے "مبینہ" پولیس مقابلوں سے پاکستانی قوم، حکومت، عدلیہ، پولیس و دیگر کی عزت خاک میں مل گئی ہے، بڑے سے بڑا مجرم بھی جب گرفتار ہو جائے تو اُسے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے، ایسے مجرموں کے مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اُنکے پاس اُنکے ماسٹر مائنڈ اور ہینڈلرز کے نام ہوتے ہیں جو حکومتوں کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لئیے ایسے مجرموں کا ائیرپورٹ سے تھانے تک پہنچ جانا بھی ماسٹر مائنڈز اور ہینڈلرز کے لئیے خطرناک ہوتا ہے۔ ایسے ملزمان (یا مجرموں) کا پولیس کے ہاتھوں "مبینہ" قتل حکومت اور نظام عدل کے منہ پر ایک طمانچہ ہے اور عام لوگوں کے لیئے ریاست اور پیشہ ور قاتلوں میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پنجاب پولیس کا سی سی ڈی ڈیپارٹمنٹ مجرموں کے علاوہ عام شھریوں کے لیئے بھی خوف کی علامت بن چکا ہے جس باعث اس محکمے کے کچھ اہلکار "مبینہ" طور پر شھریوں کو نجی جگہوں پر حبسِ بیجا میں رکھنے کے مرتکب بھی پائے گئے ہیں، موجودہ حکمران اتحاد کو ایسی ماورا عدالت کاروائیوں کا حوصلہ بظاہر 26 نومبر 2024 کو گولیاں مارے جانے کے واقعے کے بعد ملا ہے جسکے بعد حکمران سیاستدانوں نے بظاہر اپنے ماضی کے کرایے کے قاتلوں کو "مبینہ" طور پر منظر سے ہٹانا شروع کر دیا ہے۔ ریاست کی طرف سے ایسی لاقانونیت اور دھشت کا مظاہرہ وقتی طور پر لوگوں میں خوف پیدا کر دیتا ہے مگر پھر آئین، قانون اور عدلیہ کا خوف جب ختم ہو جائے تو ریاست خود بے قابو ہو کر اپنی تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیئے خدارا رک جائیے اور سوچئیے ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ اپنی جعلی مینڈیٹ کو بچانے اور طول دینے کے لیئے عوام کو خوفزدہ کرنے کی حکمت عملی زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔
اسلامی نظریاتی کونسل کیا بلا ھے؟ کیا ان پاس عوامی مینڈیٹ ھے؟ یا یہ سپریم کورٹ کے مختص کردہ نمایندے ہیں؟... یا انہیں اللہ نے زمین پر اختیار دے کر اتارا ھے؟... یہ کیا ملک ھے. یہ کیسا قانون ھے؟ یہ کیا بدمعاشی ھے. یہ کیسا ظلم ھے؟ جہالت کی فیکٹریوں میں تیار ہونے والے ان جلادوں کو ہمارے سروں پر کس نے مسلط کر رکھا ھے؟ اگر یہ سب یونہی چلتا رہا تو اس ملک کو مزید تباہ و برباد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا. میں ارباب اختیار سے اپیل کرتا ہوں کہ اس ظلم و بربریت کو روکیے... اس سے پہلے کہ یہ آگ آپ کے گھروں تک پہنچے.. روکیے اس آگ کو...
یہ راستہ تباہی کا راستہ ہے۔
برطانیہ میں مقیم سنجیدہ اور ذمہ دار پاکستانی اپنا فرض ادا کریں
(شعیب بن عزیز )
برطانیہ اور یورپ کے مختلف شہروں میں تقریبا” ڈیڑھ ماہ قیام کے دوران میں نے ان شہروں میں مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد خصوصا” نئی نسل کا جو طرز عمل اور رویہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا ہےاس کے مضمرات اور عواقب کے تصور سے ہی دل میں ہول اٹھنے لگتا ہے۔ پاکستانی تارکین وطن کی اکثریت غیر قانونی نوکریوں کی فراہمی اور حصول ، غیر مجاز افراد کے برطانیہ میں داخلے اور قیام اور صحت و رہائش کی سہولتوں سے نا جائز فائدہ اٹھانے سے لےکر منشیات کی فروخت کے دھندوں کے حوالے سے مقامی آبادی کے نزدیک کبھی بھی پسندیدہ نہیں رہی ۔ تاہم اب یہ معاملات انہیں عوامل تک محدود نہیں رہے۔۔ تارکین وطن کا مذکورہ طبقہ مقامی لوگوں کی تہذیب ،مذہب اورروایات حتی کہ ان کے روزانہ معمولات اور امن امان کے لئے خطرے کا سبب بنتا جا رہا ہے۔ ان عناصر کے اس طرز عمل کے نتیجے میں مقامی آبادی کے دلوں پہ جو گزر رہی ہے اس کا اندازہ باآسانی لگایا جا سکتا ہے۔مقامی آبادی کے تیور بتاتے ہیں کہ اب یہ لوگ ۱۴ اگست اور بعض مذہبی تہواروں کی تقریبات اور جلوسوں کے شرکا کی ہڑبونگ ، پاکستانی پرچموں کی جارحانہ نمائش اور پر سکون آبادیوں میں نعروں اور باجوں کی سماعت خراش آوازوں کو معمول کا حصہ بننے کی مزید اجازت دینے پر تیار نہیں۔ اگر بیرون وطن پاکستانیوں نے اسی روش کو اختیار کئے رکھا یا اسکی حوصلہ شکنی نہ کی تو پھر انہیں آنے والے دنوں میں اس کے ہمہ جہت رد عمل کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان نتائج کا سلسلہ مقامی افراد کی طرف سے ناپسندیدہ جوابی رد عمل سے لے کر ریاستی پالیسیوں اور قوانین میں تبدیلی تک دراز ہو سکتا ہے۔
یہ دو تصویریں ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان پچھلے 45 سال میں کس cultural ٹرانزیشن سے گزرا ہے۔ ایک تصویر 1978 کے کرکٹ میچ کی ہے جس میں لڑکیاں میچ سے لطف اندوز ہو رہی ہیں، دوسری 2024 کی اس میں 1978 والیوں کی بیٹیاں اور نواسیاں میچ دیکھ رہی ہیں
کھیلوں کے گراؤنڈ بنانے کی جگہ نہیں بچی، کونسرٹس کے این او سی دینے کی گنجائش نہیں ہے، انڈین فلم بھی تھیٹر میں نہیں لگ رہی۔ کوئی انٹرٹینمنٹ سوچیں جو عوام کو دی جا سکتی ہو ورنہ ہم نے مزے کی تلاش میں ریلے میں بہہ جانا۔
Housewives of the Taliban
Wife #10: Behishta Khaliqyar
Included is the photograph from her diplomatic passport, alongside the section listing her Taliban husband’s official posting in Islamabad, Pakistan. One has to wonder if Behista can still wear makeup, given that in July 2023, the Taliban ordered all women’s beauty salons to close—citing services like makeup application, eyebrow shaping, and hair extensions as un-Islamic. This move destroyed over 12,000 businesses and eliminated more than 50,000 jobs for Afghan women.
Housewives of the Taliban
Wife #4: Feroza Zaeef
Included is the photograph from her diplomatic passport, alongside the section listing her Taliban husband’s official posting in Quetta as “Refugee Attaché.” That’s telling—since we know exactly what the Taliban do to real refugees. The only refugees they recognize are foreign fighters aka terrorists.