گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے جعلی ڈگریوں پر انکوائری شروع کی ! عہدے سے ہٹا دیئے گئے
پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن نے کرپشن پر بات کی ! مائیک بند کر دیئے گئے
صحافی سکینڈلز سامنے لائے ! نوٹسز جاری کر دیئے۔
لیکن بیانیہ یہ ہے کہ۔۔۔ اس ملک میں آئین و قانون کی بالادستی نہیں
سپریم جوڈیشل کاؤنسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج محمد آصف کے خلاف ریفرنس خارج کر دیا ہے جس کے کم عمر بیٹے نے اسلام آباد میں دو لڑکیاں مار دی تھیں
غریب کے بچوں کے لیے سی سی ڈی ہے الیٹ اور طاقتوروں کے بچوں کے لئے معافی ہے
دیعت میں قتل معاف بھی ہو جائے جج کی کم عمر نابالغ بچے کو بغیر لائسنس گاڑی دینا ایک بڑا جرم ہے جس سے دو قیمتی جانیں چلی گئی تھی
پنجاب کی 13 کروڑ عوام تین ٹک ٹاکر سہیلیوں کے رحم و کرم پر جنہیں بزور بندوق مسلط کیا گیا ہے
پنجاب کا تہرا نظام انصاف 🖐️🖐️🖐️🖐️🖐️
سرگودھا میں 8 سالہ م��صوم بچی پر ایک درندے نے ظلم کیا بدلے میں اسے CCD نے اسے اگلے ہی دن قتل کردیا کیونکہ قاتل درندہ انتہائی غریب تھا
لاہور ماڈل ٹاؤن میں ایک 18سالہ گھریلو ملازمہ کےساتھ مالک مکان نے بار بار زیادتی کی، پھر ماں سے ملکر حمل گرانے کی کوشش میں بچی کی موت واق��ہ ہو گئی CCD سوئ رہی معمول کی کاروائی ہو رہی ہے کیونکہ Rapist اور قاتل بااثر اور مالدار ہیں
چکوال معصوم آسٹریلین نژاد بچی کو CCD اہلکاروں نے سرعام قتل کیا، آسٹریلین وزیراعظم تک نے انصاف مانگا، اس کے باوجود CCD نے خود انکوائری شروع کر دی، نہ تو بدلے میں انکاؤنٹر ہؤا، نہ ہی معمول کی قانونی کاروائی کیونکہ قاتل خود CCD ہے
اس نظام انصاف پر ہزار بار 🖐️🖐️🖐️🖐️
کیسے کیسے چہرے بینقاب ہو رہے ہیں ۔ یہ پہلی بار نہی ہے انصار برنی ٹرسٹ سے بچہ برامد کیا گیا ہو ۔ پہلے بھی یہ شخص کافی متنازعہ رہا ہے ۔
یہ وائرل ویڈیو ہے جس میں ایک بچہ جو کراچی سے ہی گم ہوا اور تین ماہ سے انصار برنی کے پاس تھا مگر بچے کا نام و پتہ بتانے کے باوجود اس نے والدین کے حوالے نہیں کیا گیا یہاں تک کہ پولیس کو برآمد کرنا پڑا ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ولی اللہ معروف چند دن کی محنت سے گمشدہ لوگوں کو انکے پیاروں سے ملوا دیتا ہے یہ پولیس یہ ادارے کیوں نہی یہ کام کر سکتے ۔
یہ ٹرسٹ والے بچے ورثا تک کیوں نہی جانے دیتے ۔ یہ صرف اس ایک بچے کا قصہ نہیں ہے، ایسے ہزاروں بچے شیلٹر ہومز میں پڑے ہوئے ہیں؟
جنکو انصار برنی میں مسیحا نظر اتا ہے تو اس شخص کا تعڑف میں کرادیتا ہوں
انصار برنی نے 1980 میں انصار برنی ویلفیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل قائم کیا تھا اور اپنا تعارف ایک ایسے شخص کے طور پر دیا جس نے خود جیل کی سلاخیں دیکھیں تھیں اور اسی تجربے نے اسے مظلوموں کا محافظ بنایا۔ اس ٹرسٹ کے تحت قیدیوں کو قانونی امداد دی جاتی تھی گمشدہ بچوں کو بازیاب کرایا جاتا تھا اور انسانی حقوق کا جھنڈا بلند کیا جاتا تھا۔
جون 2024 میں ایف آئی اے کی اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل نے صارم برنی کو کراچی ایئرپورٹ پر اس وقت گرفتار کیا جب وہ امریکہ سے واپس آ رہے تھے۔ شکایت امریک�� قونصل خانے نے درج کروائی تھی اور الزام تھا کہ بچوں کو غیرقانونی گود لینے کے عمل کے ذریعے اسمگل کیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق پچھلے ڈیڑھ سال میں سترہ سے اٹھارہ بچوں کو امریکہ میں غیرقانونی طریقے سے گود دیا گیا تھا۔
امریکی محکمے کے خط میں کہا گیا کہ ٹرسٹ عدالتوں کو گمراہ کر رہا تھا اور بچوں کے نام بدل رہا تھا۔ تین بچیوں کے بارے میں عدالت میں یہ کہا گیا کہ وہ ٹرسٹ کے دروازے پر لاوارث ملی تھیں اور والدین کا کوئی سراغ نہ ملا لیکن امریکی تحقیقات نے ثابت کیا کہ یہ بیان حقیقت کے برعکس تھا۔
ایف آئی اے کے چالان کے مطابق صارم برنی اور ان کے ساتھیوں نے تین بچیوں کے نام جان بو��ھ کر بدلے اور عدالتی دستاویزات میں حقیقی والدین کا نام چھپایا گیا۔ ان بچیوں کو امریکی خاندانوں کے حوالے بغیر اصل والدین کی رضامندی کے کیا گیا اور فی بچہ تین ہزار امریکی ڈالر وصول کیے گئے۔
حتمی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ صارم برنی اور ان کے ساتھیوں نے عدالت کے سامنے جان بوجھ کر غلط معلومات پیش کیں اور یہ بھی ثابت ہوا کہ ایک ہی معاملے میں ٹرسٹ نے دو الگ موقف اپنائے یعنی عدالت میں بچوں کو لاوارث کہا اور امریکی سفارت خانے کو بتایا کہ بچوں کو ان کے حقیقی والدین لائے تھے۔
یہ محض غلطی نہیں تھی یہ ایک منظم دھوکہ تھا جس میں دستاویزات میں تبدیلی بھی شامل تھی عدالت کو گمراہ کرنا بھی شامل تھا اور پیسے کا لین دین بھی ثابت ہوا۔
ایف آئی اے نے تحقیقات میں یہ بھی انکشاف کیا کہ صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ ہی نہیں تھا اور ایک صارم کی اہلیہ پر بھی الزامات عائد کیے گئے کہ وہ شیلٹر ہوم کا انتظام دیکھتی تھیں اور اس سارے عمل میں برابر کی شریک تھیں۔
نومبر 2024 میں صارم برنی کی بیوی عل��ہ ناہید ملک اور دیگر ساتھیوں سمیت باقاعدہ فرد جرم عائد کی گئی جس میں دھوکہ دہی کجعل سازی جعلی دستاویز استعمال کرنے اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات شامل تھے۔ سندھ ہائی کورٹ نے ضمانت بھی مسترد کر دی اور عدالت کا کہنا تھا کہ الزامات انتہائی سنگین ہیں اور 25 سے زائد بچوں کو غیرقانونی طریقے سے امریکہ بھجوانے کی تحقیقات جاری ہیں۔
بالآخر سندھ حکومت نے صارم برنی ٹرسٹ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو اس یتیم خانے کی نگرانی سونپی گئی۔
اب ذرا سوچیں۔ وہ شخص جو قیدیوں کو رہا کراتا تھا گمشدہ بچوں کو ڈھونڈتا تھا اور انسانی حقوق کا نام لیوا تھا اسی شخص کے ادارے میں بچوں کے نام بدلے جا رہے تھے انہیں ڈالروں میں فروخت کیا جا رہا تھا اور جو والدین اپنے بچے مانگ رہے تھے انہیں خالی ہاتھ لوٹایا جا رہا تھا۔
کیا یہ شخص اتنا طاقتور ہے ہر بار پکڑے جانے پر چھوٹ جاتا ہے اور نہ میڈیا کو جرت ہے نہ صحافیوں کو کہ اس کے خلاف بول سکیں ۔
اگر امریکی کونسل خانے کا دباو نہ اتا یہ انفارمیشن بھی ہم تک نہ پہنچتی ۔ اور اج بھی ہم مسیحا سمجھتے رہتے ۔
وقت ا گیا ان شیلٹر ہومز کا اڈٹ ہو ہر ��چہ کا ریکارڈ حکومت کے پاس ہو ۔ اور یہ تو صرف اک ٹرسٹ ہے کراچی کی Hope این جی او کا سکینڈل جس نے 23 بچوں ف ر و خت کیا تھا ۔
مسئلہ یہی ہے کیوں کہ یتیم ہے اگے پیچھے کوی نہی ہے تو کوی پوچھنے والا نہی ہے ۔
پختونخواہ کے صحافی محمد فہیم کے مطابق جس مدرسے کی طالبہ کے ساتھ ایک مہینہ پہلے اجتماعی زیادتی کی گئی تھی اُن ملزمان کو آج
گرفتار کرلیا
اس سے پہلے مقامی لوگ جرگہ جرگہ کھیلتے رہے
جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ ملزمان میں سے ایک لڑکی سے شادی کرے گا اور لڑکی کے والد کو مالی معاوضہ بھی دے گا
بعد میں ملزمان اور متاثرہ لڑکی کے والد کے درمیان رقم کے لین دین پر تنازع پیدا ہوا تو لڑکی کے والد نے پولیس سے رجوع کر کے آج ملزمان کی گرفتاری کروا دی
یعنی کے دس لاکھ پندرہ لاکھ اس بدبخت باپ کو مل جاتا تو معاملہ ختم تھا
لڑکی مدرسہ کی طالبہ تھی
"س��د عون علی نقوی" نامی مجرم نے بچی کے ساتھ ریپ کیا۔
مجرم کے نام پر غور کریں پھر اس کے رہائش کے ایریا کے نام پر غور کریں تو پتہ چل جاتا ہے کہ اس کا کیس CCD کے حوالے کیوں نہیں کیا گیا۔
🚨حقیقی ڈیجیٹل انقلاب صرف کمپیوٹر لگانے کا نام نہیں
ابھی ڈنمارک میں ایف ایس سی (Gymnasium) کے بعد یونیورسٹی داخلوں کا مرحلہ شروع ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے ملک کی تمام یونیورسٹیوں کے لیے صرف ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم موجود ہے۔
طالب علم اپنی ڈیجیٹل آئی ڈی سے لاگ اِن کرتا ہے، اس کی بنیادی معلومات پہلے سے موجود ہوتی ہیں اسے نام پتہ تک نہی لکھنا ہوتا ہے، اور اسے صرف اپنی پسند کے ملک بھر سے آٹھ یونیورسٹی پروگرام ترجیحی ترتیب (Priority Order) کے ساتھ منتخب کرنے ہوت�� ہیں۔ نہ کوئی علیحدہ فارم، نہ کاغذات کی فوٹو کاپیاں، نہ تصدیق شدہ اسناد، نہ دفاتر کے چکر کا رولا ہے
سسٹم خودکار طریقے سے سکولوں اور متعلقہ اداروں سے تمام تعلیمی ریکارڈ آن لائن حاصل کر لیتا ہے۔ پھر ہر یونیورسٹی آزادانہ طور پر میرٹ کے مطابق درخواستوں کا جائزہ لیتی ہے۔
اس پورے عمل کے پیچھے Stable Matching Algorithm استعمال ہوتا ہے، جس کے خالقین کو 2012 میں معاشیات کا نوبل انعام ملا تھا۔ اس نظام میں اگر طالب علم اپنی پہلی ترجیح والے پروگرام میں میرٹ پر آ جائے تو باقی سات درخواستیں خود بخود بند ہو جاتی ہیں۔ اگر پہلی ترجیح نہ ملے تو دوسری، تیسری یا جس پروگرام میں اس کا میرٹ بنتا ہ��، وہ آفر موصول ہو جاتی ہے۔ اس طرح سیٹیں ضائع نہیں ہوتیں اور پورا نظام زیادہ مؤثر اور منصفانہ بن جاتا ہےایک طالبعلم دس جگہ میرٹ خراب نہی کرتا نا سیٹ بلاک کر سکتا ہے۔
یہ ہے اصل ڈیجیٹلائزیشن؛ جہاں ٹیکنالوجی صرف موجودہ بیوروکریسی پر رنگ رو��ن نہیں کرتی بلکہ پورے عمل کو ازسرِ نو ڈیزائن کرتی ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان، خصوصاً پنجاب میں اکثر ڈیجیٹلائزیشن کا مطلب صرف QR کوڈ، موبائل ایپ یا آن لائن فارم سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ پسِ پردہ وہی نوآبادیاتی دور کا ریڈ ٹیپ، وہی فائل کلچر اور وہی افسر شاہی برقرار رہتی ہے۔
حقیقی ڈیجیٹل انقلاب کمپیوٹر لگانے کا نام نہیں، بلکہ غیر ضروری بیوروکریسی ختم کرکے شہری کے لیے نظام کو آسان، تیز، شفاف اور خودکار بنانے کا نام ہے۔
@furhatalpur@MariaBalochPK Aaameen.
G bilkul aisa he hai, hmain boht zyada ihteyat ke zarorat hai. Batean jb tk school se ghar nahe a jaten dil bechain he rahta hai
سرگودھا کی منتہا زیادتی و مرڈر کیس میں کیوں ان معلومات کی تحقیقات نہیں کی جا رہیں؟
کیوں کہا جا رہا ہے کہ ایک جعلی پولیس مقابلے کے ذریعے ایک قتل کے بعد کیس منطقی انجام تک پہنچ گیا؟
کیا حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ایک پولیس مقابلہ کرنے سے ختم ہو گئی؟ کیوں باقی ملزمان سے تحقیقات نہیں کی جا رہیں؟
جب قانون کہتا ہے کہ جس کی جائیداد میں قتل ہوگا وہ بھی مرکزی ملزم ہوگا تو پھر حکومت اور پولیس بھاگ کیوں رہے ہیں مکمل تحقیقات کرنے سے؟
ماورائے عدالت ہلاکتیں:
2018 میں ذینب قتل کیس کے ڈی این اے سے پتا چلا کہ ایک سال قبل،2017، میں قتل ہونے والی ایمان کا پولیس مقابلے میں مارا جانے والا ملزم مدثر 'بے گناہ' تھا۔
پولیس نے فروری 2017 میں پانچ سالہ ایمان فاطمہ کے قتل کے ملزم مدثر کو یہ کہتے ہوئے گولی مار دی تھی کہ اس نے فرار ہونے کی کوشش کی۔
زینب کے قتل کی تحقیقات پر کام کرنے والی پولیس نے اسی شہر میں کمسن لڑکیوں پر سات دیگر حملوں میں پائے جانے والے ڈی این اے کے نشانات دریافت کیے تھے۔
حملے کے سات متاثرین میں سے، ایمان سمیت چار کو قتل کر دیا گیا تھا۔
اگر ایمان کا اصلی قاتل 2017 میں ہی پکڑا جاتا تو شاید مزید تین معصوم بچیاں ظلم اور بربریت سے بچ جاتی اور ایک بے گناہ شخص مدثر نا حق قتل نہ ہوتا۔
سجاد مصطفی باجوہ کی وال سے
@sajjadmustafa
بالکل ایسا ہی ہے، بطور حوالہ اس ایک کیس کی مثال دے رہا ہوں، یہ امیر کبیر Rapists کیخلاف CCD کو کیوں سانپ سونگھ جاتا ہے؟
لاہور ماڈل ٹائون میں ایک ماہ قبل گھریلو ملازمہ کے ساتھ ایسا ہی افسوسناک واقعہ ہوا، گھریلو ملازمہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، اسکا اسقاط حمل کروایا گیا اور وہ جان سے گئی۔ ملازمہ نے ویڈیو بیان میں مالک مکان کے بیٹے او�� ملازم کو نامزد کیا لیکن چونکہ مالکان کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا اور دبا کر امیر تھے لہذا CCD پاس سے بھی نہیں گزری۔۔۔
ہے ہمت CCD میں یہاں پولیس مقابلے کی؟
محترمہ حنا پرویز بٹ صاحبہ۔۔۔ جھوٹ پر جھوٹ بول کر پنجاب حکومت کیلئے داد سمیٹنے کی بجائے منتہا مرڈر کیس میں ملوث تمام پانچوں کے پانچوں ملزمان کو کٹہرے میں لائیں۔ جب موقع کا عینی شاہد مقتولہ کا چچا گواہی دے رہا ہے 5 ملزمان کو نامزد کر رہا ہے، جب قانون کہتا ہے کہ اگر female جس جائیداد میں قتل ہوگی وہ مالک قتل سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا، جب قانون کہتا ہے کہ female کیخلاف جرم ہوتا دیکھ کر خاموش رہنے والا بھی بری الذمہ نہیں ہو سکتا تو پھر پولیس اور پنجاب حکومت کون ہوتی ہے ایک ملازم کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کرکے یہ کہنے والی کہ بس انصاف ہوگیا، بات ختم؟
ملک بھر کے عوام تمام ملزمان کو کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہی��۔
عوام یہ ویڈیو خود سن لیں
@AthSal01 ملازم موجود اور مالک خود بل جمع کروانے گیا؟؟؟؟ ملازم ایک اور لڑکے کے ساتھ ��وجود تھا؟؟؟ وہ لڑکا تو مالک دکان کا بیٹا بتایا جا رہا ہے۔ یہ لڑکی کو لے کر اوپر گیا اور اس لڑکے کو پتہ ہی نہیں کیوں لے کر جا رہا ؟؟
یعنی باقی درندوں کو بچانے کا انتظام کر لیا گیا ہے، کہانی گھڑ لی گئی ہے۔