رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
کسی نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے
🔴 امریکہ میں فلسطینی رومال (کفیہ) پہنے ایک کارکن پر تھوکنے والے انتہا پسند کو ایک زوردار اڑتی ہوئی لات نے ایسا سبق سکھایا گیا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور پھر بھی وہ مجھ پر صلاۃ ( درود ) نہ بھیجے“۔
(جامع ترمذی،۳۵۴۶)
جن لوگوں کو یہ توقع ہی نہیں ہے کہ وہ (کسی وقت) ہم سے آملیں گے، وہ یوں کہتے ہیں کہ : ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے ؟ یا پھر ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہم خود اپنے پروردگار کو دیکھ لیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنے دلوں میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھے ہوئے ہیں۔ اور انہوں نے بڑی سرکشی
۱/۲
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب میں اسے لکھا، اس نے اپنی ذات کے متعلق بھی لکھا اور یہ اب بھی عرش پر لکھا ہوا موجود ہے «إن رحمتي تغلب غضبي» کہ ”میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔“
(صحیح بخاری، ٧٤٠٤)
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں،
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ میں اسے اس کے والد ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔
(مشکوٰۃ المصابیح : 7)
کہہ دو کہ : اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ یقینا وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
﴿سورۃالزمر ،۵۳﴾
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف ( بھلائی ) کا حکم دو اور منکر ( برائی ) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے“۔
(جامع ترمذی : 2169)
اے ایمان والو ! نہ تو مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ (جن کا مذاق اڑا رہے ہیں) خود ان سے بہتر ہوں، اور نہ دوسری عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ (جن کا مذاق اڑا رہی ہیں) خود ان سے بہتر ہوں۔ اور تم ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیا کرو،
1/2
اور وہ وقت یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ : میرے بیٹے ! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا ۔ یقین جانو شرک بڑا بھاری ظلم ہے ۔
(سورۃ لقمان : 13)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں سے متعلق فرمایا :
”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کو ( ناحق ) قتل کرنا اور جھوٹی بات کہنا ( کبائر میں سے ہیں“)۔
(جامع ترمذی : 1207)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
مجھ پر درود بھیجا کرو، کیونکہ یہ تمہارے لیے باعث ِ طہارت ہے، اور اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کا سوال کیا کرو، یہ جنت کا سب سے بلند درجہ ہے، صرف ایک آدمی اس تک پہنچ سکے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں۔
(مسنداحمد،۵۷۰۷)