ایمزون کا جنگل دنیا کے 9 ممالک تک پھیلا ہوا ہے، جس میں سرفہرست برازیل ہے۔
اس کا کل رقبہ 55 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے، جبکہ پاکستان کا رقبہ 7 لاکھ 95 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔
یہ جنگل ساڑھے پانچ کروڑ سال پرانا ہے۔
ایمزون ایک یونانی لفظ ہے جس کا مطلب لڑاکو عورت ہے زمین کی 20 فیصد آکسیجن صرف ایمزون کے درخت اور پودے پیدا کرتے ہیں۔۔
دنیا کے 40 فیصد جانور ، چرند، پرند، حشرات الارض ایمزون میں پائے جاتے ہیں۔۔
یہاں 400 سے زائد جنگلی قبائل آباد ہیں، انکی آبادی کا تخمینہ 45 لاکھ کے قریب بتایا گیا ہے۔ یہ لوگ اکیسویں صدی میں بھی جنگلی سٹائل میں زندگی گذاررہے ہیں۔۔
اسکے کچھ علاقے اتنے گھنے ہیں کہ وہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچ سکتی اور دن میں بھی رات کا سماں ہوتا ہے
یہاں ایسے زیریلے حشرات الارض بھی پائے جاتے ہیں۔۔
کہ اگر کسی انسان کو کاٹ لیں تو وہ چند سیکنڈ میںمرجائے ایمزون کا دریا پانی کے حساب سے دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے, اسکی لمبائ 7ہزار کلومیٹر ہے۔۔
،دریائے ایمزون میں مچھلیوں کی 30 ہزار اقسام پائ جاتی ہیں
ایمزون کے جنگلات میں 60 فیصد جاندار ایسے ہیں جو ابھی تک بے نام ہیں۔۔
یہاں کی مکڑیاں اتنی بڑی اور طاقتورہوتی ہیں کہ پرندوں تک کو دبوچ لیتی ہیں۔۔
یہاں پھلوں کی 30 ہزار اقسام پائ جاتی ہیں
مہم جو اور ماہر حیاتیات ابھی تک اس جنگل کے محض 10 فیصد حصے تک ہی جاسکے ہیں۔۔
اگر آپ ایمزون کے گھنے جنگلات مین ہوں اور موسلا دھار بارش شرع ہوجائےتو تقریبا 12 منٹ تک آپ تک بارش کا پانی نہیں پہنچے گآ۔۔اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس جنگل کو بنانے اور اس میں رہنے والے جانور پرندے چرندے مچھلی 🐟 وغیرہ سب کے خالق مالک رازق اللّٰہ تعالیٰ ہے ۔۔
تو تم اللّٰہ تعالیٰ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
Have you ever wished to view the world from a completely new perspective? This thread on cool maps is here to blow your mind
1. Population Density in China
🟥 This is UPSC [India] English Essay paper. You are required to write Introduction on one topic of your choice. Introduction must specifically have 04 ingredients.
1- Grabber
2- Background Information
3- Scope
4- Thesis Statement
Comparison of fundamental rights of constitutions of Switzerland & Pakistan.
All fundamental rights in Pak r restricted by term "subject to reasonable restriction" while Swiss Const fundamental rights r in absolute form.
This shows the difference between the two ideas of state.
میں آپکو 5 ایسی ویبسائٹس بتاتا ہوں جس سے آپ ایسے ہنر سیکھ سکتے ہیں جو آپکو کسی بھی شعبہ زندگی میں ترقی دینے کے لئے کافی ہوں:
1- کمپیوٹر سے متعلق https://t.co/59rkW1Wkil
2- ڈیزائننگ کے متعلق https://t.co/LSkj7Sbu81
3- ڈیٹا سائنس https://t.co/uPYnBYbWei
4- پروڈکٹ مینجمنٹ https://t.co/lsBP1Mum38
5- سائبر سیکورٹی https://t.co/uZEULF7irG
میں کچھ اور ویبسائٹس بھی لکھونگا آج انشااللہ -
پاکستانی شہریت کا قانون کیا ہے؟
پاکستان میں شہریت کے حوالے سے ’پاکستان سیٹیزن شپ ایکٹ 1951‘موجود ہے جس کے تحت ’پاکستانی شہری‘ کی تعریف کے حوالے سے شقیں موجود ہیں۔
اس قانون کے تحت پاکستانی شہری وہ ہوگا جو پاکستانی سرزمین پر 14 اگست، 1947 کے بعد پیدا ہوا اور اس تاریخ کے بعد اس نے کسی دوسرے ملک میں مستقل طور پر رہائش اختیار نہیں کی۔
تاہم اس شق میں یہ بھی لکھا ہے کہ پیدائش کے وقت کسی بھی شخص کے والدین نے کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار نہ کی ہو اور اگر ایسا ہے تو وہ شخص پاکستانی شہری تصور نہیں ہوگا۔
اسی طرح اسی ایکٹ کے تحت وہ شخص پاکستان کا شہری تصور ہوگا، جس کے ایکٹ کے نفاذ کے وقت والدین پاکستانی شہری ہوں۔
افغان پناہ گزین، جو پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں، کے لیے 2018 میں اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے شہریت دینے کا اعلان کیا تھا لیکن افغان پناہ گزیوں کے مطابق ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا۔
پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 40 لاکھ افغان پناہ گزین (رجسٹرڈ اور نان رجسٹرڈ) موجود ہیں جو مختلف مواقع پر پاکستان نقل مکانی کر کے آئے تھے، اور ان کی سب سے زیادہ تعداد خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آباد ہے۔
👇
پشاور ہائیکورٹ نے 109 افغان باشندوں کو پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس ارشد علی اور جسٹس وقار احمد نے پاکستانیوں سے شادی کرنے والے افغان باشندوں کی جانب سے پی او سی کیلئے کیس کی سماعت کی۔
درخواستگزار کی جانب سے سیف اللہ محب کاکاخیل ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل درخواستگزار نےعدالت کو بتایا کہ پی او سی کارڈ کا حامل شخص صرف پاسپورٹ اور ووٹ نہیں ڈال سکتا ہے لیکن پاکستانی شہری کی طرح تمام حقوق حاصل کرسکتا ہے۔
وکیل درخواستگزار نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانیوں کے ساتھ شادی شدہ افغان باشندوں کو پی او سی جاری نہ کرنا غیرقانونی عمل ہے۔
پشاور ہائیکورٹ نے 109 افغان باشندوں کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں پاکستان اوریجن کارڈ جاری کرنے کا حکم دے دیا۔
معلوماتی ٹویٹ
زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصلاحات کیا ہیں
1۔موضع
یہ ایک بڑا یونٹ ہوتا ہے جو عموماَ ایک بڑے گاؤں یا ایک سے زیادہ چھوٹے گاؤں کو ملا کر بنایا جاتا ہے
موضع کا نام اس گاؤں یا ایریا کے نام پر ہی درج ہوتا ہے
2۔ کھیوٹ نمبر
جب موضع بن جاتا ہے تو اس میں
بہت سارے لوگوں اور خاندانوں کی زمین شامل ہوتی ہے
اس کی تقسیم مزید آسان بنانے کے لیے کھیوٹ نمبر دے دیے جاتے ہیں
مثلا 100 ایکڑ ایک خاندان کے پاس ہے اسے ایک نمبر دے دیا کہ فلاں موضع کا یہ کھیوٹ نمبر ہے جو فلاں خاندان کے ان ان حصہ داروں کے پاس ہے یا مختلف خاندانوں یا لوگوں کی
زمین کو ملا کر بھی ایک کھیوٹ بنایا جاتا ہے
اس کا نمبر تبدیل ہو سکتا ہے جب کوئی زمین فروخت کرتا ہے یا ایسی کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو آپ کے کھیوٹ کا نمبر بدل جاتا ہے
3۔ کھتونی نمبر
موضع بھی بن گیا، اس میں کھیوٹ نمبر بھی لگ گئے اب کھیوٹ میں بہت سارے مالکان ہیں کسی کے پاس
پاس پانچ ایکڑ ہے کسی کے پاس دس اور کسی کے پاس دو ایکڑ تو ان کو کیسے پہچانے گے کہ اس کھیوٹ میں کونسے بندے کی کتنی زمین ہے تو اس کے لیے ہر حصہ دار کو ایک کھتونی نمبر لگا دیا جاتا ہے
مثلا کھیوٹ نمبر 1 میں دس ایکڑ زمین ہے اور دو مالک ہیں پانچ پانچ ایکڑ کے تو ان دونوں کو الگ الگ
نمبر دے دیا جائے گا پانچ پانچ ایکڑ کا جسے کھتونی نمبر کہتے ہیں
یہ نمبر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے جب کوئی اپنے حصے سے فروخت کر دے کسی کو یا ایسی کوئی دوسری تبدیلی ہو
4۔ خسرہ نمبر
اب ایک کھتونی میں جو پانچ ایکڑ تھے [مثال میں لیے پانچ ایکڑ، حقیقت میں ان کی تعداد جو بھی ہو گی ]
ہر ایکڑ کو ایک خاص نمبر دیا جاتا ہے جو خسرہ نمبر کہلا تا ہے یہ نمبر کبھی تبدیل نہیں ہوتا چاہے کوئی فروخت کرے مگر کھیت کا خسرہ نمبر ایک ہی رہے گا
اور اس میں کھیت کی چاروں طرف سے پیمائش بھی لکھی ہوتی ہے کہ اس خسرہ نمبر کا جو کھیت ہے اس کی لمبائی چوڑائی وغیرہ کیا ہے
5۔ مساوی: (شجرہ)
یہ موضع کا نقشہ ہوتا ہے، کہاں کس کا کھیت ہے کہاں راستہ ہے کہاں کیا ہے سب اس میں ہوتا ہے
پٹواری کے پاس یہ نقشہ ایک کپڑے پر بنا ہوتا ہے جسے لٹھا بھی کہا جاتا ہے
6۔ جمعبندی
اس میں ایک موضع کے کسی کھیوٹ کی کسی کھتونی کے کس خسرہ میں کتنے مالک ہیں سب
کی تفصیل درج ہوتی ہے، اس میں یہ بھی درج ہوتا ہے کہ مالک کون ہے
تھریڈ کی تیاری میں چودھری فاروق سندھو پٹواری سے مدد لی گی ہے، جس کو پنجاب کا انتہاۂی " ماہر " پٹواری تسلیم کیا جاتا ہے۔ آپ " ماہر فن " بھی کہہ سکتے ہیں
Copy
Inspected Abdul Raheem Memorial Hospital, Sodiwal, and Kot Khuwaja Saeed Hospital, Lahore. Disheartened to find both in poor condition with lack of cleanliness. Received complaints of buying medicines externally at Abdul Raheem Memorial. Changed MS at Abdul Raheem and issued a warning to Kot Khuwaja Saeed Hospital MS. Healthcare improvement is a priority and no negligence will be tolerated.
#PunjabHealthCare
#CMPunjab
#GovtOfPunjab
یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے۔
*دفعہ 295-A* کسی مذہب کی توھین کرنا
*دفعہ 295-B* قرآن پاک کی غلط تشریح کرنا
*دفعہ 295-C* توھین رسالت
*دفعہ 298-A* توھین صحابہ
*دفعہ 307* = قتل کی کوشش کی
*دفعہ 302* = قتل کی سزا
*دفعہ 376* = عصمت دری
*دفعہ 395* = ڈکیتی
*دفعہ 377* = غیر فطری حرکتیں
*دفعہ 396* = ڈکیتی کے دوران قتل
*دفعہ 120* = سازش
*سیکشن 365* = اغوا
*دفعہ 201* = ثبوت کا خاتمہ
*دفعہ 34* = سامان کا ارادہ
*دفعہ 412* = خوشی منانا
*دفعہ 378* = چوری
*دفعہ 141* = غیر قانونی جمع
*دفعہ 191* = غلط ھدف بندی
*دفعہ 300* = قتل
*دفعہ 309* = خودکش کوشش
*دفعہ 310* = دھوکہ دہی
*دفعہ 312* = اسقاط حمل
*دفعہ 351* = حملہ کرنا
*دفعہ 354* = خواتین کی شرمندگی
*دفعہ 362* = اغوا
*دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا(ناقابلِ ضمانت)
*دفعہ322* = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
*دفعہ 415* = چال
*دفعہ 445* = گھریلو امتیاز
*دفعہ 494* = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
*دفعہ 499* = ہتک عزت
*دفعہ 511* = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
4
ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔
تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
پانچ دلچسپ حقائق آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔
*(1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا* -
ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔
(2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔
عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔
(3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں -
سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔
(4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا
زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
(5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا
پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم (6)ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔
یہ پیغام صرف اپنے پاس نہ رکھیں بلکہ جہاں تک ممکن ہو آگے پہنچائیں، یہ حقوق کسی بھی وقت کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں
منقول
ابھی کسی بھائی نے پوچھا کہ رائے احمد خاں کھرل کون ہیں. پہلی بار نام سنا.
رائے احمد خاں کھرل (1776ء-1857ء) 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران میں نیلی بار کے علاقے میں مقامی قبیلوں کی برطانوی راج کے خلاف بغاوت (گوگیرہ بغاوت) کے رہنما اور سالار تھے۔ 21 ستمبر کو انگریزوں اور سکھوں کے فوجی دستوں نے گشکوریاں کے قریب 'نورے دی ڈل' کے مقام پر دورانِ نماز احمد خان پر حملہ کر دیا۔ احمد خان اور اس کے ساتھی بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ۔
جون 1857 کو ملتان چھاونی میں پلاٹون نمبردس کو بغاوت کے شبہے میں نہتا کیا گیا اور پلاٹون کمانڈر کو بمعہ دس سپاہیوں کے توپ کے آگے رکھ کر اڑا دیا گئے آخر جون میں بقیہ نہتی پلاٹون کو شبہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں فارغ کر دیا جائے گا اور انہیں تھوڑا تھوڑا کرکے تہہ تیغ کیا جائے گا سپاہیوں نے بغاوت کر دی تقریبا بارہ سوسپاہیوں نے بغاوت کا علم بلند کیاانگریزوں کے خلاف بغاوت کرنے والے مجاہدین کو شہر اور چھاونی کے درمیان واقع پل شوالہ پر دربار بہاءالدین زکریا کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی نے انگریزی فوج کی قیادت میں اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیرے میں لے لیااور تین سو کے لگ بھگ نہتے مجاہدین کو شہید کر دیا۔یہ مخدوم شاہ محمود قریشی ہمارے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے لکڑدادا تھے اور ان کا نام انہی کے حوالے سے رکھا گیا تھا۔
کچھ "باغی" دریائے چناب کے کنارے شہر سے باہر نکل رہے تھے کہ انہیں دربار شیر شاہ کے سجادہ نشین مخدوم شاہ علی محمد نے اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیر لیااور ان کا قتل عام کیامجاہدین نے اس قتل عام سے بچنے کے لئے دریا میںں چھلانگیں لگا دیں کچھ لوگ دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے اور کچھ لوگ پار پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔پار پہنچ جانے والوں کو سید سلطان احمد قتال بخاری کے سجادہ نشین دیوان آف جلالپور پیر والہ نے اپنے مریدوں کی مدد سے شہید کر دیا۔جلالپور پیر والہ کے موجودہ ایم این اے دیوان عاشق بخاری انہی کی آل میں سے ہیں۔
مجاہدین کی ایک ٹولی شمال میں حویلی کو رنگا کی طرف نکل گئی جسے مہر شاہ آف حویلی کو رنگا نے اپنے مریدوں اور لنگڑیال ، ہراج ، سرگانہ، ترگڑ سرداروں کے ہمراہ گھیر لیا
اور چن چن کر شہید کیا۔مہر شاہ آف حویلی کو رنگا سید فخر امام کے پڑدادا کا سگا بھائی تھا۔اسے اس قتل عام میں فی مجاہد شہید کرنے پر بیس روپے نقد یا ایک مربع اراضی عطا کی گی۔
مخدوم شاہ محمود قریشی کو 1857 کی جنگ آزادی کے کچلنے میں انگریزوں کی مدد کے عوض مبلغ تین ہزار روپے نقد، جاگیرسالانہ معاوضہ مبلغ ایک ہزار سات سو اسی روپے اور آٹھ چاہات جن کی سالانہ جمع ساڑھے پانچ سو روپے تھی بطور معافی دوام عطا ہوئی مزید یہ کہ 1860 میں وائسرائے ہندنے بیگی والا باغ عطا کیا۔
مخدوم آف شیر شاہ مخدوم شاہ علی محمد کو دریائے چناب کے کنارے مجاہدین کو شہید کرنے کے عوض وسیع جاگیر عطا کی گئی۔حویلی کو رنگا کے معرکے میں بظاہر سارے مجاہدین مارے گئےمگر علاقے میں آزادی کی شمع روشن کر گئے۔ حویلی کو رنگا کی لڑائی کے نتیجے میں جگہ جگہ بغاوت پھوٹ پڑی اور حویلی کو رنگا، قتال پور سے لیکر ساہیوال بلکہ اوکاڑہ تک کا علاقہ خصوصا دریائے راوی کے کنارے بسنے والے مقامی سرائیکیوں کی ایک بڑی تعداد اس تحریک آزادی میں شامل ہو گئی ۔
اس علاقے میں اس بغاوت کا سرخیل رائے احمد خان کھرل تھا جو گو گیرہ کے نواحی قصبہ جھامرہ کا بڑا زمیندار اور کھرل قبیلے کا سردار تھا احمد خان کھرل کے ہمراہ مراد فتیانہ سیال ،احمد سیال ، شجاع بھدرو، موکھا وہنی وال اور سارنگ جیسے مقامی سردار اور زمیندار تھے مورخہ 16ستمبر 1857 کو رات گیارہ بجے راے سرفراز نے ڈپٹی کمشنر ساہیوال بمقام گوگیرہ کو احمد خان کھرل کی مخبری کی مورخہ اکیس ستمبر 1857کو راوی کے کنارے ”دلے دی ڈل“ میں اسی سال احمد خان کھرل پر جب حملہ ہوا تو وہ عصر کی نماز پڑھ رہا تھا۔اس حملے میں انگریزی فوج کے ہمراہ مخدوموں ، سیدوں ، سجادہ نشینوں اور دیوانوں کی ایک فوج ظفر موج تھی جس میں دربار سید یوسف گردیز کا سجادہ نشین سید مراد شاہ گردیزی دربار بہاءالدین زکریا کا سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی دربار فرید الدین گنج شکر کا گدی نشین مخدوم آف پاکپتن،مراد شاہ آف ڈولا بالا، سردار شاہ آف کھنڈااور گلاب علی چشتی آف ٹبی لال بیگ کے علاوہ بھی کئی مخادیم وسجادہ نشین شامل تھے۔
احمد خان کھرل اور سارنگ شہید ہو ئے ۔
انگریز احمد خان کھرل کا سر کاٹ کر اپنے ہمراہ لے گئے ۔ احمد خان کھرل کے قصبہ جھامرہ کو پیوند خاک کرنے کے بعد آگ لگا دی گئی فصلیں جلا کر راکھ کر دی گئیں۔تمام مال مویشی ضبط کر لیے گئے دیگر سرداروں کو سزا کے طور پر بعبور دریائے شور یعنی کالا پانی بھجوادیا گیا۔اس طرح اس علاقے کی تحریک آزادی مخدووموں ، سرداروں،وڈیروں اور گدی نشینوں کی مدد سے دبادی گئی۔مگر وہ آزادی کی شمع روشن کر گئے
آج انہی غداروں کہ بچے ہمارے مذھبی وسیاسی رہنما بنے ہوئے ہیں کل بھی یہ بکاؤ تھے اور آج بھی بکاؤ ہےشرم کی بات یہ ہے کہ آج تک ہم اسے پہچان نہ سکے مگر رائے احمد خاں کھرل آج بھی لوگ اسکی عزت ایک مرد مجاھد کیطرح کرتے ہیں انکا نام عزت سے لیتے ہیں اور ان پر فخر محسوس کرتے ہیں
رائے احمد کھرل نے تو جان اپنے رب کو پیش کی اپنے مال اسباب سے گزر گئے پر بکےنہیں جھکےنہیں اور یہی ایک مرد مجاہد کی نشانی ہے..
تاریخ دان لکھتے ہیں کہ اگر راوی کی روایت کو کسی کھرل پر فخر ہے تو وہ رائے احمد خان کھرل ہے جس نے برصغیر پر قابض انگریز سامراج کی بالادستی کو کبھی تسلیم نہیں کیا تھا اور بالآخر ان کے خلاف لڑتے لڑتے اپنی جان تک دے ڈالی۔
رائے احمد خاں کھرل کا تعلق گاؤں جھامرہ سے تھا وہ یہاں 1803ء میں پیدا ہوئے۔ انگریز دشمنی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران میں جب دلی میں قتل و غارت کی گئی اور انگریزوں نے اس بغاوت کو کسی حد تک دبا دیا، تو یہ آگ پنجاب میں بھڑک اُٹھی۔ جگہ جگہ بغاوت کے آثار دکھائی دینے لگے۔ اس وقت برکلے ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر تھا۔ اس نے کھرلوں اور فتیانوں کو اس وسیع پیمانے پر پکڑ پکڑ کر جیلوں میں بند کر دیا کہ گوگیرہ ایک بہت بڑ ی جیل میں بدل گیا۔ ادھر برکلے یہ کارروائی کر رہاتھا ،تو دوسری طرف احمد خان نے راوی پار جھامرہ رکھ میں بسنے والی برادریوں کو اکٹھا کر کے انگریزوں پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار کر لیا چنانچہ تمام مقامی سرداروں کی قیادت کرتے ہوئے رائے احمد خاں کا گھوڑ سوار دستہ رات کی تاریکی میں گوگیرہ جیل پر حملہ آور ہوا اور تمام قیدیوں کو چھڑالے گیا۔ احمد خان اور اس کے ساتھیوں کے علاوہ خود قیدی بھی بڑی بے جگری سے لڑے۔ اس لڑائی میں پونے چار سو انگریز سپاہی مارے گئے۔ اس واقعہ سے ا نگریز انتظامیہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ رائے احمد خان گوگیرہ جیل پر حملہ کے بعد اپنے ساتھیوں سمیت آس پاس کے جنگلوں میں جا چھپا۔ برکلے نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے احمد خان کے قریبی رشتہ داروں ، عزیزوں اور بہو بیٹیوں کو حراست میں لے لیا اور پیغام بھیجاکہ وہ اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کر دے ،ورنہ اس کے گھر والوں کو گولی مار دی جائے گی۔ اس پر رائے احمد خان کھرل پہلی مرتبہ گرفتار ہوا، مگر فتیانہ، جاٹوں اور وٹوئوں کی بڑھتی ہوئی مزاحمتی کارروائیوں کے پیش نظر احمد خان کو چھوڑ دیا گیا البتہ اس کی نقل و حرکت کو گوگیرہ بنگلہ کے علاقے تک محدود کر دیا گیا۔ اس دوران میں رائے احمد خان نے خفیہ طریقے سے بیک وقت حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی، مگر افسوس کہ کمالیہ کا کھرل سردار سرفراز اور علاقے کا سکھ سردار نیہان سنگھ بیدی دونوں غداری کر گئے اور اس سارے منصوبے سے ڈپٹی کمشنر کو اطلاع کر دی۔ دراصل سردار سرفراز کی رائے احمد خان کھرل سے خاندانی دشمن تھی۔ اس مُخبری پر برکلے نے چاروں طرف اپنے قاصد دوڑائے۔ برکلے خود گھڑ سوار پولیس کی ایک پلٹن لے کر تیزی کے ساتھ راوی کے طرف بڑھا تاکہ رائے احمد خان کھرل کو راستے میں ہی روکا جاسکے۔ اس دوران میں حفاظتی تدابیر کے طور پر گوگیرہ سے سرکاری خزانہ، ریکارڈ اور سٹور تحصیل کی عمارت میں منتقل کر دیے گئے اورگوگیرہ میں انگریز فوجیوں نے مورچہ بندیاں کر لیں۔ کرنل پلٹین خود لاہور سے اپنی رجمنٹ یہاں لے آیا۔ اس کے ہمراہ توپیں بھی تھیں۔ رائے احمد خاں کھرل کی شہادت کے بعد جب برکلے اپنی فتح یاب فوج کے ساتھ خوشی خوشی جنگل عبور کر کے گوگیرہ چھائونی کی طرف جا رہا تھا کہ احمد خاں کے ساتھی مراد فتیانہ نے صرف تیس ساتھیوں کے ہمراہ اس کا تعاقب کیا اور کوڑے شاہ کے قریب راوی کے بیٹ میں چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ برکلے کی تدفین بنگلہ گوگیرہ میں ہوئی ،جو اُن دنوں ضلعی ہیڈکوارٹر تھا۔ آج اس قبر کے کوئی آثار نہیں ملتے۔
1849ء میں انگریزوں نے سکھ حکمرانوں سے اقتدار چھین کر جب پنجاب پر قبضہ کر لیا تو راوی کے علاقے سے کھرل، فتیانہ، کاٹھیہ اور دیگر خوددار خاندانوں کی مزاحمت پر قابو پانے کے لیے پاکپتن، اوکاڑہ، منٹگمری (موجودہ ساہیوال) گوگیرہ اور ہڑپہ کے علاقوں پر مشتمل ایک ضلع بنایا گیا جس کا صدر مقام پہلے پاکپتن اور پھر گوگیرہ کو رکھا گیا۔
1857ء کی جنگ آزادی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑ گئی ہے لیکن رائے احمد خان کھرل شہید کا غیرت مند کردار تاریخ میں ایک علامت کے طور پر ابھرا ہے۔ نامساعد حالات اور قلیل ترین وسائل ہونے کے باوجود انہوں نے انگریز سامراج کی پالیسیوں سے 81 سال کی عمر میں بغاوت کی۔ 1776ءکو جھامرہ ضلع فیصل آباد میں رائے نتھو خاں کے گھر پیدا ہونیوالے رائے احمد خاں نے انگریزی سامراج کی پالیسیوں کو للکارا اور ماننے سے انکار کر دیا اور دوسرے فتیانہ اور وینیوال قبیلوں کو اپنے ساتھ شامل کر لیا اور انہوں نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔ رائے احمد خان کو قابو کرنے کے لیے انگریز نے گوگیرہ بنگلہ کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنا لیا۔ انگریزی فوجوں نے مجاہدین کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی اور گوگیرہ بنگلہ کی جیل میں بند کرنا شروع کر دیا۔ کچھ مجاہدوں کو دہشت پھیلانے کے لیے پھانسی بھی لگا دیا۔ ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ نواب بہاولپور نے اسلحہ کی صورت میں مجاہدوں کی مدد کی تھی۔ جن قبیلوں نے انگریز کا ساتھ دیا ان کو انعامات ‘ القابات اور جاگیروں سے نوازا گیا۔ مئی جون‘ جولائی کے مہینوں میںگھمسان کی جنگ جاری رہی۔ گوگیرہ بنگلہ میں مجاہدین کو قید میں رکھا گیا۔ 26 جولائی 1857ءکو رائے احمد خان نے اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ جیل پر حملہ کر کے قیدیوں کو چھڑا لیا۔ جس میں رائے احمد خان کھرل بھی زخمی ہوا۔ 16 ستمبر کو کمالیہ میں تمام زمینداروں کا ایک اجلاس ہوا اگر اجلاس میں آنیوالے سرداروں نے رائے احمد خان کا ساتھ دینے کا وعدہ تو کیا لیکن ان میں سے کسی نے اس اجلاس کی مخبری انگریز کو بھی کر دی۔ 17 ستمبر کو اسسٹنٹ کمشنر برکلے کی انگریزی فوجوں نے جھامرے پر چڑھائی بھی کر دی لیکن رائے احمد خان کھرل گرفتار نہ ہو سکا۔ لیکن گاﺅں کے بچوں اور عورتوں کو گرفتار کر کے گوگیرہ جیل میں بند کر دیا۔ اور تمام مال مویشی کو قبضہ میں لے لیا۔ گوگیرہ‘ چیچہ وطنی‘ ہڑپہ‘ ساہیوال میدان جنگ کی شکل اختیار کر گئے۔ 21 ستمبر 1857ءکو ایک بڑا معرکہ ہوا۔ انگریز فوج کے پاس جدید اسلحہ تھا۔ اس معرکہ میں رائے احمد خان شہید ہو گئے وہ اس وقت عصر کی نماز ادا کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ سردار سانگ بھی شہید ہو گئے۔ 22 ستمبر کو برکلے کا آمنا سامنا دریائے راوی کے کنارے پر مجاہدین کے ساتھ ہو گیا۔ جس میں مراد فتیانہ اور سو جا بھدرو کے ہاتھوں برکلے مارا گیا۔ گورا فوج نے ان کو پکڑ کر کالے پانی بھجوا دیا۔
منقول چچا بمعہ اضافہ جات