President Donald Trump played a historic role in advancing peace in South Asia. His timely intervention helped bring Pakistan and India back from the brink and secure a ceasefire, that is holding till today.
In recognition of his outstanding contribution, Pakistan had nominated President Trump for the Nobel Peace Prize.
We sincerely hope President’s efforts to promote peace and prevent conflict in our region receive due recognition this time.
@realDonaldTrump@NobelPrize
@RepYassAnsari@elonmusk, please think twice before giving anyone a gray checkmark. This woman cannot tell the difference between AI-generated videos and real ones !
It’s easy to say these things once you’re out of power. Saad Rafique never said anything while he was making money throughout his political career. First, he should explain how he became so rich when his only declared source of income was his salary as a minister and as an MPA/MNA. He is asking retired bureaucrats and generals to speak up in their communities, but does speaking up matter now? They enjoyed power and minted money throughout their service, and if the people of Pakistan ever got a chance to examine their assets, it would shock them. So Khawaja sb should first come clean and explain to the people of Pakistan how a young teenage boy with no strong financial background became so rich that he owned a huge amount of money.
@miandawoodadv جرائم بیشک سو پرسینٹ ہو جائے کوئی پرواہ نہیں لیکن جعلی ڈگری والا جرم سب سے بڑا ہے پتا نہیں کتنے اہل لوگ ان جعلی ڈگریوں کی وجہ سے سسٹم سے آوٹ ہو جاتے ہیں اور یہ نالائق ان کی جگہ لے لیتے ہیں - آپ صرف ڈگری دکھاؤ باقی کام حکومت کو کرنے دو !
@grok what are your point of view on below, the below rationale is actually provided by you in some other chat.
پاکستان میں تشدد کی سب سے نچلی سطح تقریباً 2019–2020 میں رہی، اور یہ کمی 2014 سے شروع ہو چکی تھی، کرونا سے پہلے ہی۔
South Asia Terrorism Portal کے اعداد کے مطابق پاکستان میں ہلاکتیں 2019 میں تقریباً 365 تک گر گئیں، جو برسوں کی کم ترین سطح تھی، اور 2020 میں بھی نسبتاً کم رہیں۔ Pak Institute for Peace Studies (PIPS) کے مطابق دہشت گرد حملوں کی تعداد 2014 کے بعد مسلسل گرتی رہی اور 2020 آخری سال تھا جس میں نسبتاً کمی دیکھی گئی؛ 2021 سے یہ رجحان الٹ گیا۔ Congressional Research Service بھی لکھتا ہے کہ ہلاکتیں لگاتار پانچ سال گرتی رہیں اور 2019 میں 365 پر آئیں، پھر ہر سال بڑھیں۔ PICSS کے مطابق 2020 میں تقریباً 187 عسکریت پسند حملے ہوئے، 2021 میں 294، 2022 میں 380، 2023 میں 645 اور 2024 میں 908۔ 2021 سے 2024 تک حملوں میں تقریباً 209 فیصد اضافہ ہوا۔ CRSS کے مطابق 2021 کے بعد پانچ سال مسلسل تشدد بڑھا، اور 2025 ایک دہائی کا سب سے پرتشدد سال رہا۔
کم دہشت گردی کی اصل وجوہات
کرونا اور بند سرحدیں 2020 کی مزید کمی میں معاون رہیں، مگر بنیادی وجہ نہیں تھیں۔ کمی چھ سات سال پہلے شروع ہو چکی تھی۔
سب سے بڑا عنصر جون 2014 میں شروع ہونے والا آپریشن ضربِ عضب، اس کے بعد رد الفساد، اور اے پی ایس حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان تھا۔ ان کارروائیوں نے شمالی وزیرستان اور سابقہ فاٹا میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانے توڑے، ہزاروں عسکریت پسند مارے گئے، اور تنظیم کا ڈھانچہ بکھر گیا۔ 2013 سے 2018 کے درمیان ہلاکتوں میں تقریباً 83 فیصد کمی رپورٹ ہوئی۔ سرحدی باڑ بھی اسی عرصے میں شروع ہوئی اور نقل و حرکت مشکل کی۔
افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی نے سرحد پار پناہ گاہوں پر دباؤ رکھا، اس لیے آپ کا یہ نکتہ جزوی طور پر درست ہے۔ مگر پاکستانی کارروائیاں پہلے ہی ٹی ٹی پی کو افغان سرحد کے اس پار دھکیل چکی تھیں۔ کرونا نے 2020 میں عالمی اور سرحدی نقل و حرکت مزید محدود کی، اس لیے اس سال مزید کمی ممکن ہوئی، لیکن یہ رجحان کی اصل وجہ نہیں۔
2021 کے بعد اضافہ
اضافہ امریکی انخلا اور اگست 2021 میں افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کے ساتھ شروع ہوا، اور عمران خان کی حکومت کے آخری مہینوں (اپریل 2022 تک) اور اس کے بعد دونوں ادوار میں جاری رہا۔ دستاویزی وجوہات یہ ہیں: افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی اور انہیں پناہ گاہ ملی؛ امریکی انخلا کے بعد چھوڑے گئے اسلحے نے عسکریت پسندوں کی صلاحیت بڑھائی؛ 2021–22 میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور عارضی جنگ بندی ناکام رہی اور ناقدین کے مطابق اس سے گروہ کو سانس لینے کا موقع ملا۔ یہ کہنا کہ عمران خان کی حکومت نے طالبان کو “واپس پاکستان میں بسایا” سیاسی الزام ہے؛ تحقیقاتی رپورٹیں بنیادی محرک سرحد پار پناہ گاہ، اسلحے کا بہاؤ، اور ناکام مذاکرات بتاتی ہیں، نہ کہ باقاعدہ آبادکاری کی پالیسی۔ تشدد کا بڑا حصہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کی سرحدی پٹی میں رہا۔
میری رائے
کم ترین دور فوجی کارروائی، این اے پی، اور سرحدی کنٹرول کا نتیجہ تھا؛ کرونا نے اسے تھوڑا اور دبایا، بنایا نہیں۔ 2021 کے بعد اضافہ زیادہ تر افغان طالبان کے اقتدار، ٹی ٹی پی کی پناہ گاہ، اور چھوڑے گئے اسلحے سے جڑا ہے۔ مذاکرات کی کوشش اس وقت کی حکومت کی پالیسی تھی اور اس کے نتائج متنازع رہے، مگر اعداد اس بات کی تائید نہیں کرتے کہ اضافہ صرف ایک حکومت کے “بسانے” سے ہوا۔ 2025 میں سرحد بند کرنے کے بعد آخری مہینوں میں سرحد پار حملوں میں کچھ کمی رپورٹ ہوئی، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ سرحدی کنٹرول اب بھی اثر رکھتا ہے، مگر تنہا حل نہیں۔