Lara's Greatest!
#OnThisDay in 1999, @BrianLara played his best test innings.
Chasing 307 in the fourth innings, West Indies were 8 down for 248 but Lara held his nerves and added 54 & 9* runs with Ambrose & Walsh for 9th and 10th wicket respectively to win the match by just 1 wicket.
آج ایک ایسی شخصیت دنیا سے رخصت ہوگئی جسے نہ ملنے کا دکھ ہمیشہ رہے گا ۔ مولانا مودودی کے بعد میں سب سے زیادہ ان کے علم اور فہم و ادراک سے متاثر ہوا ۔ ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری ۔ ایسا ماہر معاشیات و فلسفہُ کہ جس نے علامہ اقبال کی طرح مغرب کا مکمل رد کیا ۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے
The Sydney Test of 1977 was one of Pakistan Turning Points in Test Cricket. There was a rest day and Last day was around 40 minutes or so. The rest day in between gave Pakistan Television some time to make arrangements for the amazing broadcast of Memorable Day. ABC's Only video
Sunil Gavaskar 🗣️on Imran Khan
"I met Imran Khan in London, told him that I was retiring, Imran Khan said you can't do that, asked why, he said Pakistan will come to India next year, I have to beat the Indian team that you are in."
سویر دا سلام مِترو ❤️
ہیر آکھیا جوگیا جھوٹ بولیں تے کون رُٹھڑے یار مناؤندا ای
ایسا کوئی نا ڈِٹھا میں ڈھونڈ تھکی جہیڑا گئیاں نوں موڑ لیاوندا ای
#میراپنجاب#Punjab#Punjabi
لاہور نامہ ۔۔۔۔
قیمہ والے نان
لاہور کی جم پل ہوتے ہوئے بھی یہ دعویٰ کرنا کہ ہر اچھی جگہ کا قیمہ والے نان کھایا ہوگا لیکن جو کھائے ان میں سے چار میرے پسندیدہ ترین نان بائی ہیں ۔
پسند کا معیار
نان خستہ بہت ہلکی آنچ پر پکا ہوا
کسی بھی قسم کے رائتہ کی ضرورت نہ محسوس ہو
طبعیت پر بوجھ نہ پڑے
مناسب مصالحہ
۱- یکنگ ورثہ عرف خلیفہ : ریلوے روڈ لاہور
قائم شدہ : 1950
مٹن نان :2500 روپے۔
دیکھنے میں ایک واجبی سا تندور جس میں فقط کام کرنے والے کے کھڑے ہونے کی جگہ اور کچھ پلاسٹک کے سٹولز پر چار پانچ کاہگ بٹھانے کی جگہ۔
یہ لاہور کے سب سے مہنگے کھانے کی جگہ ہے۔ اس قیمت پر آئے دن تو نہیں کھایا جا سکتا لیکن تجربہ ضرور کیجئے گا۔ یہ نان نوالہ توڑ کر نہیں کھایا جاتا بلکہ کسی بسکٹ کی طرح خستہ سیدھی بائٹ لیں ۔ بہت ہلکی آنچ پر زعفرانی خمیر پکا ہوا اپنا ثانی نہیں رکھتا
یہُ وہ دور تھا جب کرکٹ جواریوں کی بجاۓ جینٹلمین کھیلا کرتے تھے اس دور میں فلمی اداکاراؤں کی جگہ اچانک ایک نوجوان کرکٹر کے حسن و جمال کا چرچا شروع ہوا۔ گورا چٹا نیلی آنکھوں والا فضل محمود لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن گیا۔
ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ایوا گارڈنر 50 کی دہائی میں فلم 'بھوانی جنکشن' کی شوٹنگ کے لیے لاہور آئی تھی ، ایک کلب میں اس نے فضل محمود کو دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئی اور پھر خواہش ظاہر کی کہ فضل اس کے ساتھ رقص کرے۔
1954ء کے دورۂ انگلینڈ میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے ملکہ برطانیہ سے بھی ملاقات کی تھی۔ ملکہ الزبتھہ نے فضل محمود کو دیکھہ کر فوراً کہا کہ آپ پاکستانی نہیں لگتے، آپ کی آنکھیں نیلی کیوں ہیں؟
1954 میں پاکستان نے فضل محمود کی 12 وکٹوں کی بدولت اوول ٹیسٹ جیتا تو اگلے دن برطانوی اخبار نے سرخی لگائی
ENGLAND FAZZALED OUT
اس کے بعد فضل محمود ’’ اوول کے ہیرو‘‘ کہلاتے رہے۔
1955میں وزڈن نے انہیں سال کے 5 بہترین کھلاڑیوں میں شمار کیا ۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی تھے۔
اشتہاری کمپنیوں نے بھی فضل محمود کی شہرت سے فائدہ اٹھانا چاہا اور یوں فضل محمود برل کریم کے اشتہار میں آکر پاکستان کے پہلے کھلاڑی ماڈل بن گئے۔
فضل محمود 18 فروری 1927 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اسلامیہ کالج سے گریجویشن کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کیا۔ انہوں نے1943 سے کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ دس ٹیسٹوں میں کپتانی بھی کی.
پاکستان کو 1952ء میں ٹیسٹ کھیلنے کا درجہ ملا اور پاکستان نے پہلا مقابلہ ہندوستان کے خلاف دہلی میں کھیلا جہاں اسے بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیم کے کھلاڑی بوجھل دل کے ساتھہ میدان سے لوٹ رہے تھے کہ باؤنڈری لائن پر کھڑی ایک لڑکی نے کہا
"اچھا کھیلے، لیکن ہندوستان سے جیت نہیں سکتے!"۔
یہ لڑکی تھی اس وقت کے وزیراعظم ہندوستان جواہر لعل نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی ، جو بعد میں خود بھی وزیراعظم بنیں اور اس جملے کے مخاطب تھے پاکستان کے نائب کپتان فضل محمود ، جنہوں نے اپنی آپ بیتی"From Dusk to Dawn" میں اس کا ذکر کیا ہے۔
فضل نے اس طعنے کا جواب لکھنؤ میں کھیلے گئے اگلے ٹیسٹ میں دیا، پہلی اننگز میں 5 اور دوسری اننگزمیں 7 یعنی کل 12 وکٹیں لے کر، جس کی بدولت پاکستان نے ایک اننگز اور 43 رنز کے بڑے مارجن سے مقابلہ جیت لیا ۔
پھرفروری 1959 میں کراچی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میں گیری سوبرز کو آئوٹ کرکے فضل محمود ٹیسٹ کرکٹ میں 100 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے
شاعر تک فضل محمود کی شہرت اور مقبولیت سے متاثر ہوئے۔ مجید امجد کی 1955 کی نظم ’’ آٹو گراف ‘‘ کی یہ سطریں فضل محمود کے بارے میں ہی ہیں۔۔۔
وہ بائولر ایک ، مہ وشوں کے جمگٹھوں میں گھر گیا
وہ صفحۂ بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں پھری
حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری
۔
فضل محمود نے کیرئر میں 34 ٹیسٹ کھیلے اور 139 وکٹیں حاصل کیں ۔
فضل محمود پولیس میں ملازم ہوئے اور ڈی آئی جی کے عہدے تک پہنچے۔
ریٹائر منٹ کے بعد وہ ایک مذہبی تنظیم میں شامل ہو گئے۔ کچھ مذہبی کتابیں بھی لکھیں
فضل محمود کا 30 مئی 2005 کو لاہور میں انتقال ہوا، اور قبرستان مسافر خانہ، گڑھی شاہو میں سپردخاک ہوئے
#کرکٹ
#Cricket
یہ اجمیر شریف کے لنگر خانے کی دیگ ہے اس میں ایک وقت میں 4800 کلوگرام یا 10,500 پاؤنڈ کھانا پکایا جا سکتا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی کڑاہی ہے اکبر بادشاہ نے 450 سال قبل اس کو شروع کروایا تھا
https://t.co/c6HpPbqH15
یہ سوڈان کے قاری سید نور ھیں۔ کہا جاتا ھے کہ 1930-40 کے دوران جب وہ قرآن پاک کی تلاوت کیا کرتے تھے تو لوگ سڑکوں پر رک جاتے تھے ، گاڑیاں ان کی تلاوت سننے کے لئے رک جاتی تھیں۔ انہوں نے اپنی تلاوت کو ریکارڈ ھونے سے روک دیا۔ حج کے دوران ہی سعودی عرب کے بادشاہ عبدالعزیز کے کہنے پر راضی ھوگئے اور انہوں نے مختصر مدت تک ریکارڈ رکھنے پر اتفاق کیا۔ ان کا انتقال 1960 میں کویت میں ھوا۔ ان کی عمدہ آواز کا ایک نمونہ یہ ھے۔ .... .... سبحان اللہ❤️