فی دوکاندار نے 60000 روپے دیے ہیں اپنی جیب سے لوگوں نے بنایا ہے کیونکہ ادھر میری بھی شاپ ہے مینے بھی 60000 روپے دیے ہیں جو نہی دیتا تھا دوکان سی�� کر دیتی تھی انتظامیہ اور پبلکسٹی مریم نواز اپنی کر رہی
سندھ کے کچے کے ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ کیا جائے
اس ظلم کو دیکھنے کے بعد کسی کو بھی خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے
اس ظلم کے خلاف اواز اٹھائیں
جناب ارمی چیف صاحب ان ظالموں کا خاتمہ کر دیں جلد سے جلد
بھائی طاھر صاحب
دیگر پارٹیاں مثلاً مسلم لیگ ن وغیرہ کی بھی تفصیل آجائے مثلا شریف خاندان ڈار اور اسی طرح دیگر وزراء کے گھریلو افراد کا سرکاری مراعات عہدے تاکہ موازنہ کرنا آسان ہو
🚨*مولانا فضل الرحمن اور ان کے خاندان نے کیسے اس ملک کا خون چوسا - ذاتی مفاد ، بلیک میلنگ اور کرپشن کی ایک منفرد داستان*
پاکستان کے سیاسی گدھ
مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے خاندان کا نام *پاکستان کی سیاست کی تاریخ کے سیاہ اور گندے پہلوں* میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے-
چاہے کوئی بھی حکمران ھو ؛ زرداری ، شریف خاندان ، عمران خان ، گنڈا پور ، سہیل آفریدی یا پھر کوئی فوجی ڈکٹیٹر ، *مولانا فضل الرحمٰن نے ہر ایک کو اپنے اپنے وقت میں ذاتی مفاد اور کرپشن کے لئے سیاسی باپ بنایا ہے-*
مولانا فضل سے لیکر اس کے بیٹے اسد محمود تک پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں سب زیادہ عرصہ سیاسی عہدوں پر قابض رہنے والا مذہبی خاندان بدقسمتی سے آج تک اپنے *آبائ حلقے ڈیرہ اسم��عیل خان اور ملحقہ اضلاع کی ترقی کے لیے بھی کچھ نہ کرسکے، باقی ملک کے لئے ان سے کیا ہی توقع رکھی جائے-*
عجیب گندا اتفاق ہے کہ *ان کے خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد مسلسل اقتدار کے ایوانوں، پارلیمنٹ یا دیگر اہم مناصب پر موجود رہا، جبکہ عام کارکن اور ووٹر محض ووٹ بینک کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔*
مزید براں ، مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے *مدارس کے طلبہ اور مذہبی وابستگی کو عوامی فلاح کے بجائے سیاسی طاقت کے اظہار اور حکمرانوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا گیا۔*
آئیے مولانا فضل الرحمن اور ان کے خاندان کی سیاسی عہدوں کا ایک جائزہ لیں:-
📌 *مولانا فضل الرحمن (سربراہ جے یو آئی - ف)*
❗ رکن قومی اسمبلی: 1988ء، 1993ء، 2002ء، 2008ء، 2013ء اور 2024ء کے عام انتخابات میں 6 بار ممبر قومی اسمبلی رہے۔
❗بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت (1993ء تا 1996ء) میں چیئرمین قائمہ کمیٹی خارجہ امور رہے۔
❗قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر: 2004ء سے 2007ء۔
❗چیئرمین کشمیر کمیٹی: 2008ء سے 2018ء تک طویل عرصے تک وفاقی وزیر کے برابر درجے پر فائز رہے۔
❗ ممبر قائمہ کمیٹی خارجہ امور 2008 - 2013
📌*والد محترم: مفتی محمود (مرحوم) 1972 میں وزیراعلیٰ صوبہ سرحد (موجودہ KP) بنے۔*
📌 *مولانا عطا الرحمن (بھائی):*
♦️ وفاقی وزیر برائے سیاحت (2008- 2010)
♦️ 2002 - 2013 دو بار قومی اسمبلی کے ممبر رہے۔
♦️ 2015 سے دو بار سینیٹر منتخب
📌 مولانا لطف الرحمن (بھائی):
♦️ 2013 - 2024 تین بار رکن خیبر پختونخوا اسمبلی رہے
♦️ 2013ء سے 2018ء تک صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رہے۔
📌 مولانا عبید الرحمان (بھائی)
♦️ 2024ء کے عام انتخابات میں NA-45 کے امیدوار رہے۔
♦️ ایک بار آبائی علاقے عبدالخیل سے یو سی ناظم رہے
📌ضیاء الرحمن (بھائی): بااثر سرکاری افسر، جو کراچی اور خیبر پختونخوا کے اہم انتظامی عہدوںبشمول ڈپٹی کمشنر تعینات رہے۔
📌 *اگلی نسل (بیٹے) پارلیمان میں*
❗*مولانا اسد محمود (بیٹا):*
♦️ ممبر قومی اسمبلی 2018-2023
♦️ وفاقی وزیر برائے مواصلات 2022 - 2023۔
♦️ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور 2022-2023۔
❗*مولانا اسجد محمود(بیٹا)*: 2024ء کے عام انتخابات میں لکی مروت سے قومی اسمبلی کے امیدوار رہے۔
*سمدھی اور قریبی رشتہ دار*
📌 *حاجی غلام علی (سمدھی):*
❗ نومبر 2022ء تا مئی 2024ء خیبر پختونخوا کے گورنر رہے۔
❗2009ء تا 2015ء سینیٹر رہے۔
❗2005 - 2009 ناظم اعلٰی پشاور رہے
📌 *زبیر علی (داماد ):* دسمبر 2021ء کے بلدیاتی انتخابات میں پشاور کے میئر منتخب ہوئے۔
اس پوری تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ایک *تلخ حقیقت* سامنے آتی ہے: *اقتدار بدلا، حکومتیں بدلیں، اتحاد بدلے، مگر اس خاندان کی اقتدار تک رسائی کبھی ختم نہ ہوئی*۔ عوام کو نظریات، مذہب اور جمہوریت کے نام پر متحرک کیا جاتا رہا، جبکہ اقتدار کے ثمرات بار بار انہی چند چہروں اور ان کے قریبی حلقوں تک محدود رہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر کئی دہائیوں تک پارلیمنٹ، وزارتوں اور دیگر اہم مناصب تک رسائی رکھنے کے باوجود متعلقہ علاقوں کی محرومیاں جوں کی توں ہیں *تو پھر اس سیاسی وراثت کی کامیابی کا پیمانہ کیا ہے؟* عوامی ترقی، تعلیم، صحت اور روزگار یا محض اقتدار میں مسلسل حصہ داری؟
*یہ داستان عوامی خدمت سے زیادہ سیاسی بقا کی داستان ہے، جہاں ووٹر کو ووٹ بینک، کارکن کو ہجوم اور مذہبی وابستگی کو سیاسی طاقت کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا گیا۔*
*نتیجہ یہ نکلا کہ خاندان مضبوط ہوتا گیا جبکہ عوام کو بار بار وعدوں، نعروں اور جذباتی اپیلوں کے سہارے اگلے انتخاب تک ٹال دیا گیا۔*
بالآخر فیصلہ عوام نے ہی کرنا ہے کہ یہ کئی دہائیوں پر محیط سیاسی سفر خدمت، دیانت اور کارکردگی کی کہانی ہے یا پھر اقتدار، مراعات اور خاندانی سیاست کو برقرار رکھنے کی ایک غیر معمولی مثال۔
@Tahirmughalpml8 بھائی طاھر صاحب
دیگر پارٹیاں مثلاً مسلم لیگ ن وغیرہ کی بھی تفصیل آجائے مثلا شریف خاندان ڈار اور اسی طرح دیگر وزراء کے گھریلو افراد کا سرکاری مراعات عہدے تاکہ موازنہ کرنا آسان ہو
ایران کے خلاف امریکا کی جنگ نے کئی صدیوں کے بعد مسلمانوں کے شیعہ سنی اختلاف کو پیچھے دھکیل دیا ہے یہ اختلاف حکمران اشرافیہ تک محدود ہو چکا”آر ایس ایس کی رانی‘‘ تلسی گبارڈ پاکستان کو ہر قیمت پر ایران کیخلاف استعمال کرنا چا ہتی ہے،رانی صاحبہ سے ہوشیار رہیں https://t.co/CCECSacGkg
اس رمضان میں وفات پانے والے معروف شاعرسیدسلمان گیلانی اپنی کامیابیوں کو درود شریف کے فیوض و برکات قرار دیتےتھے درود پڑھنے کا یہ وظیفہ انہیں خواجہ خان محمد صاحب نے تجویز کیا تھا تاکہ انہیں زیارتِ حرمین شریفین نصیب ہو۔ پھر انہیں یہ زیارت 36مرتبہ نصیب ہوئی https://t.co/eEjuJRNql3
آج علامہ اقبال کے دو اشعار پڑھ کے ان کے ہاتھ چومنے کا دل کرتا ہے:
یہ بہادر رہبر اور ایرانی قوم کے لئے:
طہران ہوگر عالم مشرق کا جینیوا
شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
دوسرا لگتا ایسے ہے جیسے عاصم منیر صاحب کے لئے لکھا ہوا ہے۔
میر سپاہ ناسزا لشکریاں شکستہ صف
آہ وہ تیر نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف
پاکستان کا کوئی ہدف نہیں: ہم صرف امریکہ کے پٹھو ہیں۔
ایران نے زندہ قوموں کا حوصلہ بلند کیا ہے ہم شاید ایک مردہ قوم ہیں۔
ہماری بہادر فوج کا اتنا بڑا لشکر ہے: ہمارا ہدف کیا ہے؟
آپ جن کی غلامی کر رہے ہیں، وہ آپ کا ہدف ہونے چاہئیں۔
مسلم دنیاُکے کچھ حکمران ٹرمپ کی زبان سے اپنی تعریفیں سُن کر بہت خوش ہوتے تھے اب دعائیں مانگیں گے کہ ٹرمپ دوبارہ اُنکی کبھی تعریف نہ کرے ، ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کرنیوالے بہت جلد پچھتائیں گے کہ ہم نےموت کے سوداگر کو امن کا پیامبر کیوں قرار دیا؟ https://t.co/rkVxBzJOp0