ان ديکھی دنيا ميں اپنے جزبات اپنے احساست ضاٸع مت کريں،حقيقی دنيا ميں قدم رکھيں۔ٹف ٹاٸم ديں دنيا کو پتا لگنا چاہۓ کوٸ شير آيا ہے،افسانوں سے باہر نکل آٸيں اس ميں ٹوٹل کھجل خواری ہے۔
بڑے لوگوں کی بڑی بڑی خدمات کرنے کے بجائے چھوٹے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات پوری کردیا کریں۔ ان کی زبان سے نکلی ہوئی دعا آپکے الجهے ھوۓ کام سلجها سکتی ھیں۔
گُفتگُو کے لیے، اِنسان مُنہ اپنا کھولتا ہے، مگر! تَرب��یَّت اُس کے بَڑوں کی بولتی ہے۔ جن باتوں پر جھگڑا کر کے لوگ منوں مٹی تلے جا سوتے ہیں، انہی باتوں پر ہلکی سی مٹی ڈال کر دنیا مین پرسکون زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
ذرا سوچئے.۔۔۔!
ہم پرسنل سپیس سے اس لیے بھی واقف نہیں ہوتے کیونکہ ہم مشترڪه خاندانی نظام میں پیدا ہوتے ہیں وہاں ایڪ بندے ڪا مسئله سارے خاندان ڪا مسئله ہوتا ہے اور اسے پورے خشوع و خضوع ڪے ساتھ مزید بگاڑنا سب ڪا مشترڪه فرض سمجھا جاتا ہے۔
ہم سب یہی ڪرتے ہیں نا، انسانوں ڪے بارے میں اپنے گمانوں پر چلتے ہیں۔ یه ماننے ڪو تیار ہی نہیں ہوتے ڪه ہم غلطی ڪرڪے بدل سڪتے ہیں تو دوسرا بھی غلطی سے سیڪھ سڪتا ہے۔ توبه ڪے دروازے پر ڪسی ایڪ کا نام تو نہیں لڪھا ہوتا...!
مسکراہٹ کے پیچھے درد کو چھپانا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا۔ یہ صرف بے لوث لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ جو اپنے سے زیادہ دوسروں کا خیال رکھتے ہیں۔ اس لیے اپنے اردگرد کے سبھی لوگوں کے ساتھ نرمی برتیں۔ آپ نہیں جانتے کہ کوئی کس اندرونی انتشار سے گزر رہا ہے۔
ہمارے معاشرے کا ایک تلخ ترین پہلو ناشکری کا ہے کہ ہر چیز موجود ہے اور کہہ رہے ہیں کہ ہم تنگی میں ہیں؟ کیا ہمارے رب نے کبھی ہمیں بھوکا سلایا ھے؟ کیا کبھی ایسا ہوا کہ پہننے کو کپڑے نہیں ہیں؟ کیا گھر کا ہر کونا اللّٰه پاک کے فضل سے بھرا نہیں ہے؟ تو یہ ناشکری کیوں؟ ذرا سوچئے ۔۔!
بانٹنے کی عادت بنائیے۔ معتدل جذبے، خوشیاں، اچھے اخلاق، بہترین الفاظ، دلجوئی کے حرف اور اچھے عمل سے بہتر ردّعمل۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں دوسروں کی نظر میں ہمارا وقار بڑھا بھی دیتی ہیں اور گِرا بھی دیتی ہیں۔ کوشش کیجیے معتدل رہیں۔ مستقل رہیں۔ نہ اُٹھائیں۔ نہ گرائیں۔ یہی حُسن سلوک ہے۔
سونے سے پہلے ایک ایسا گناہ یا بری عادت سوچ لیں جو کل پورا دن آپ نے نہیں کرنا۔ روزانہ رات کو ایک گناہ چھوڑ دینے کا ٹاسک رکھ کر پورا دن اس پر عمل کرنا آپ کو بہت سارے گناہوں سے بچا لے گا۔ اپنی ذات کا احتساب کرنا سیکھیں۔ خود احتسابی مومن کی عمدہ صفات میں سے ایک ہے۔
#SelfAssessment
ضروری نہیں انسان کچھ پا کر ہی خوشی محسوس کرے۔ بعض اوقات اللّٰه تعالیٰ کی خاطر کچھ چھوڑ دینے سے بھی خوشی ملتی ہے۔ چاہے وہ بری عادات ہوں، برے خیالات ہوں، نفس کی خواہشات کو رد کرنا ہو یا اپنے ربّ کی مقرر کی ہوئی حدود سے آگے نہ بڑھنا ہو۔ یہی نفسی جہاد ہی تو اصل مومن کی نشانی ہے۔
حضرت حسن بصری سے کسی نے پوچھا:
آپ یہ پرواہ نہیں کرتے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ فرمایا: دنیا میں اکیلا آیا ہوں،
اکیلا جا��ں گا، قبر میں پڑوں گا تو اکیلا، حساب کے لیے پیش ہوں گا تو اکیلا، جنت میں جاؤں گا تو اکیلا، خدانخواستہ دوزخ میں گیا تو اکیلا, تو پھر لوگ کہاں سے آگئے....؟؟؟
کسی زمانے میں شہرت کا معیار عزت، تعلیم او شعور ہوا کرتے تھے۔ اب تو بس نام ہو پھر چاہے بدنام ہی کیوں نہ ہوں۔ اس دور میں شہرت اور بدنامی کا فرق مِٹ چکا۔ ہماری اگلی نسل کے نصیب میں یہی پاوے لاوئے اور ٹھمکے رہ گئے ہیں۔
#زرا_سوچیں
کبھی بھی کسی انسان کی طرف سے اپنی ناقدری پر نہ کڑھنا کیونکہ قدر وقیمت کا تعین ہمیشہ وقت کرتا ہے اور درجات اوپر متعین ہوتے ہیں۔ اگر انسانی رویوں میں الجھو گے تو زندگی بھر الجھ کر رہ جاؤ گے۔
جس دن ہر نفس اس کو موجود پائے گا جو اس نے نیکی کی اور جو اس نے برائی کی اُس دن آدمی تمنا کرے گا کاش اس کے اور اس کی برائیوں کے درمیان میں بہت دور کا فاصلہ ہوتا اور اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ بندوں پر بےحد نرمی کرنے والا ہے۔
سورۃ آل عمران: 30
#Akhirah
آدھی دنیا نے اپنی آنکھوں کے خواب اور زندگی جینے کی آس، صرف اس عوض بیچ دی کہ؛ لوگ کیا کہیں گے گے۔ خدارا اپنے اور اللّٰه کے معاملات کے میں کسی تیسرے کے الفاظوں کو ترجیح نہ دیں۔ آپ کے بارے میں اللّٰه کے سوا کوئی بہتر نہیں جانتا۔ تو اس تیسرے کی باتوں کو ترجیح کیوں دیں؟ ذرا سوچیے!!!
ہماری عمر کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو۔ ہم کتنے ہی بڑے، سمجھدار اور با شعورکیوں نہ ہو جائیں۔ ہمیں بڑوں کی شفقت ، مہربانی ، اور محبت کی ضرورت ہمہ وقت رہتی ہے۔ اسکے بنا ہم ادھورے ہیں ہمارا وجود ساکن ہے۔