میں نہیں جانتی یہ شاعر کون ہے مگر اس کا حلیہ اور ننگے پاؤں ہونا
ثابت کرتا ہے
کہ اس کی شاعری کی دھوم ، قدر شاید اس وقت ہو
جب اس کو دنیا کی بے ثباتی
ٹھکرا چکی ہو
مگر اس کا کہا گیا ایک ایک لفظ سونے میں تولنے کے قابل ہے
محبت دھرم پیروں کا
محبت دین فقیروں کا
محبت نوح کی کشتی
محبت ساز داؤدی
بازوق قارئین کے لئے۔۔۔۔۔
فاروق روکھڑی“ کا بے مثال کلام سنیے
سانول عیسٰی خیلوی اور عطاء اللہ عیسٰی خیلوی کی آواز میں....
دل کے معاملات سے انجان تو نہ تھا
اس گھر کا فرد تھا کوئی مہمان تو نہ تھا
تھیں جن کے دَم سے رونقیں شہروں میں جا بسے
ورنہ ہمارا گاؤں یوں ویران تو نہ تھا
بانہوں میں جب لیا اسے نادان تھا ضرور
جب چھوڑ کر گیا مجھے نادان تو نہ تھا
کٹ تو گیا ہے کیسے کٹا یہ نہ پوچِھیے
یارو! سفر حیات کا آسان تو نہ تھا
نیلام گھر بنایا نہیں اپنی ذات کو
کمزور اس قدر میرا ایمان تو نہ تھا
رسماً ہی آ کے پوچھتا فاروقؔ حالِ دل
کچھ اس میں اس کی ذات کا نقصان تو نہ تھا
فاروق روکھڑی