4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف کا پہلا قافلہ وزیرستان سے روانہ ہو گیا ہے۔ گنڈی چوک پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا استقبال کیا جائے گا۔
باقی تمام اضلاع بھی خود کو تیار رکھیں۔ ان شاء اللہ، کل 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کا آغاز ہوگا۔ جنوبی اضلاع کے کارکنان بروقت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کے قافلے میں شامل ہو کر لانگ مارچ کا حصہ بنیں۔
اس نظام سے ریلیف نہ لینا پی ٹی آئی کی ناکامی نہیں بلکہ موجودہ نظام کی بربریت اور متشدد رویہ ہے۔ جہاں یہ بات کہ جاتی ہے کہ اس قدر ظلم و بربیت ماضی میں نہیں دیکھنے کو ملا وہاں ماضی میں اس قدر مزاحمت بھی دیکھنے کو نہیں ملی اور مزاحمت صرف ایک قیدی کر رہا ہے ورنہ پارٹی تو ریلیف لینے میں کامیاب ہو بھی جاتی لیکن اگلا نوازشریف بننے کو تیار نہیں
4 تاریخ کے لانگ مارچ میں ہم سب کو بھرپور طریقے سے اپنا حصہ ڈالنا چاہیئے۔ جیسے کہ میں نے commit کیا تھا میں اپنی طرف سے دس لاکھ روپے بجھوا چُکا ہوں۔ لانگ مارچ لمبا چلا تو انشاللہ مزید حصہ بھی ڈالا جائے گا۔
آئیے سب مل کر اس لانگ مارچ کو کامیاب بنائیں۔
ہم پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول سیاسی جماعت ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا سمندر اپنا سفر شروع کرے گا اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
تحریکِ انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ اس سے پہلے گیدڑوں کو ہر طرح سے غیر قانونی طور پر فیسلیٹیٹ کیا گیا، لیکن ایک لیڈر سے خوف اتنا ہے کہ اسے اور اس کے اہل خانہ اور ورکرز کو جائز قانونی حقوق بھی نہیں دیے جا رہے۔
پاکستان پر جن لوگوں کا زبردستی قبضہ قائم رکھوایا ہوا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارا پاکستان ٹوٹ جائے۔ جن کو ہندوستان سے خطرہ نہیں، لیکن پاکستانی عوام سے خطرہ ہے- جنہوں نے ڈان لیکس کروائے، جنہوں نے میمو گیٹ اسکینڈل کیا، جنہوں نے ۵۳۰۰ ارب کی IMF سے تصدیق شدہ کرپشن کی، جنہوں نے فوج کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ہماری ہڈیاں تک کھا لی ہیں، جنہوں نے پاکستان پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کی، جن کا جعلی وزیرِ اعظم کسی شہید کے جنازے میں نہیں گیا، جن کا بھگوڑا قائد اور اس کی بیٹی انڈیا سے جنگ کے دوران خاموش رہے، جن کی پوری جماعت پاکستان کے پختونوں کو دہشت گرد کہتی ہے، اور جنہوں نے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے، وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پاکستان میں آگ لگا رہے ہیں۔
دہشت گردی خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کے لیے کسی “بیانیے کی جنگ” نہیں ہے، اس سے ہر شہری متاثر ہے- عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ اپنے ہی لوگوں پر ملٹری آپریشنز کرنا اور انہیں بےگھر کرنا کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ ڈرون اٹیکس اور نام نہاد “کولیٹرل ڈیمج” سے دہشت گردی بڑھتی ہے۔ میں اس بات پر چٹان کی طرح قائم ہوں۔ آج خیبر پختونخوا میں یہ صرف PTI کا موقف نہیں رہا، بلکہ ہر سیاسی و مذہبی جماعت اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کا یہی موقف ہے، جس کے دستخط صوبائی اسمبلی کے جرگے میں بطور ثبوت موجود ہیں۔
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبرپختونخوا Terrorism نہیں Tourism کے لیے جانے جاتے تھے- رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخوا پر مسلط کیا گیا۔ جب 2022 کی گرمیوں میں ہم نے آواز اُٹھائی تو آپ نے ہی ہمیں جھوٹا کہا، لیکن آج اُسی دہشت گردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
جب میں کہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں ۱۰۰ دن کے اندر امن آ سکتا ہے اور آپ نے صرف پالیسی میں تبدیلی لانی ہے، کیونکہ آپ کی موجودہ پالیسی کامیاب نہیں ہے، تو اُس بات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ تو دہشت گردی کی سہولت کاری کون کر رہا ہے؟ ہمارے وزیروں اور کارکنوں کو اپنے “گُڈ” لاڈلوں کے ساتھ مل کر کون اُٹھا رہا ہے؟ ہمارا خریدا ہوا اسلحہ کون ہماری پولیس تک نہیں پہنچنے دے رہا؟ ہماری پولیس بغاوت کرنے پر کیوں مجبور ہو گئی ہے؟
بلوچستان اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں، پھر وہاں بھی امن کیوں نہیں آ رہا؟ دہشت گردی میں پاکستان پہلی بار پہلے نمبر پر کیوں آ گیا ہے؟ کیونکہ خود کو عقلِ کل سمجھنے والے پہلے بھی غلط تھے، آج بھی غلط ہیں، اور جب تک اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتے، تب تک غلط ہی رہیں گے۔
باقی، ہم ۹ مئی کو دوبارہ نہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ جس نے CCTV فوٹیجز چُرائیں، اُسی نے ۹ مئی کروایا۔
4 اکتوبر، گنڈی چوک، دن ایک بجے۔ سب پاکستانی یاد رکھیں !!
Reality of 9 May by an eyewitness journalist! This video now confirmed that this was a planned conspiracy to use the arson on government buildings as a pretext to crackdown on PTI! #May9th_FalseFlag
عوام کا مارچ
عوام کا فنڈ
آزادی کی دھن سر میں سما جائے تو منجمد بینک اکاؤنٹس اور راستوں کی بندش ایک ٹھوکر پر ہوا ہو جاتی ہے۔
عوام کے لیڈر کی رہائی کی پکار پر ہر فرد جان ،مال اور عزم کے ساتھ پیش پیش۔
#اکتوبر4_آغاز_مزاحمت
گھسا پٹا 9 مئی کا بیانیہ حقیقت کو نہیں چھپا سکتا۔ آپ کے دور میں ہزاروں پاکستانی عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جان چلی گئی، جبکہ پاکستان اب دنیا میں دہشت گردی کے واقعات میں نمبر 1 ہے۔ اپنی ناکامی کا جواب دو!
#May9th_falseflag
معلوم نہیں جرنیلوں کے اندر وہ کونسا زعم پیدا ہوچکا ہے یا کیسی غلط فہمی آگئی ہے کہ نو مئی کو یہ قوم کی قیامت صغری سمجھتے ہیں۔
اس ملک کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے عوام چند جلی ہوئی دیواروں اور ٹوٹے ہوئے مجسموں پر تھوکتے بھی نہیں۔ اٹھائیں اپنا نو مئی اور نکلیں شاباش۔
جو لوگ عمران خان کی گیارہ ماہ کی قید تنہائی کے بعد بھی خاموش رہنے پر قائل ہیں ان کا کیڑا گیارہ سال میں بھی ٹھنڈا نہیں ہوگا۔ یہ نا ہو کسی انہونی کی صورت میں یہ لوگ عوام کے پاؤں تلے سب سے پہلے کچلے جائیں۔ اگر آپ مزاحمت سے خوفزدہ ہیں تو عہدے چھوڑ کر گھر چلے جائیں۔
عاصم منیر کی ایس آئی ایف سی ناکام ہوچکی ہے
عاصم منیر کا زرعی انقلاب ناکام ہوچکا ہے
عاصم منیر کی بلوچستان پالیسی ناکام ہوچکی ہے
عاصم منیر کی کٹھ پتلی حکومتیں ناکام ہوچکی ہیں
عاصم منیر کا وزیر خزانہ و وزیر داخلہ ناکام ہوچکا ہے
عاصم منیر مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے
عاصم منیر کی سفارتی پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں
عاصم منیر کی افغانستان و ٹی ٹی پی پالیسی ناکام ہوچکی ہے
عاصم منیر کے اسلحہ و معدنیات بیچنے جیسے منصوبے جھوٹ نکلے
عاصم منیر سیاسی استحکام کا سب سے برا دشمن ثابت ہوا ہے
لے دے کر ایک ڈنڈا بچا ہے جو تحریک انصاف جیسی پرامن جماعت پر تو چل جاتا ہے لیکن بلوچستان میں اور قبائلی علاقوں میں وہ بھی نہیں چل رہا۔ صرف ڈنڈے کے زور پر کب تک نکال لیں گے؟