لمبے قد میں بونے لوگ
اف یہ آدھے پونے لوگ
منہ سے بولیں ، موتی رولیں
آنکھ سے اوجھل کچلا گھولیں
ان کی باتیں زہر کی پڑیاں
ان سے ملنا جان کا روگ
لمبے قد میں بونے لوگ
اف یہ آدھے پونے لوگ
خوش گفتار ھیں چرب زباں ھیں
پھر بھی ان کے مکّر عیاں ہیں
سانپ کا کاٹا پھر بچ جائے
یہ کاٹیں تو سانس نہ آئے
ڈس لیں جن کو شہد زباں سے
جل جائیں انکے سنجوگ
لمبے قد میں بونے لوگ
اف یہ آدھے پونے لوگ
عصمت طاہرہ
لیاقت علی عاصم کی غزل
عشق بار دِگر ہُوا ہی نہیں
دل لگایا تھا دِل لگا ہی نہیں
ایک سے لوگ ایک سی باتیں
گھر بدلنے کا فائدہ ہی نہیں
ہم جہاں بھی گئے پلٹ آئے
کوئی تیری طرح مِلا ہی نہیں
ڈُھونڈ لاتے وہیں سے دل لیکن
پھر وہ میلہ کہیں لگا ہی نہیں
اِس طرح ٹوکتا ہُوں اوروں کو
جیسے میں جُھوٹ بولتا ہی نہیں
ورنہ سُقراط مَر گیا ہوتا
اُس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اے دوست بتا تو کیسا ہے
کیا اب بھی محلّہ ویسا ہے ؟
وہ لوگ پرانےکیسے ہیں ؟
کیا اب بھی وہاں سب رہتے ہیں ؟
جن کو میں تب چھوڑا تھا
دوکان تھی جوایک چھوٹی سی
کیا بوڑھا چاچا ہوتا ہے ؟
کیا چیزیں اب بھی ہیں ملتی
بسکٹ ، پاپڑ اور گولی
اور گولی کھٹی میٹھی سی ؟
بیری والے گھر میں اب بھی
کیا بچّے پتھر مارتے ہیں ؟
اوربوڑھی امّاں کیا اس پر
اب بھی شور مچاتی ہے ؟
بجلی جانے پر اب بھی
کیا خوشی منائی جاتی ہے
پھر چھپن چھپائی ہوتی ہے ؟
کیا پاس کسی کے ہونے پر
مٹھائی بھی بانٹی جاتی ہے ؟
بارش کے پہلے قطرے پر
کیا ہلّہ گلّہ ہوتا ہے ؟
اور غم میں کسی کے اب بھی
کیا پورا محلّہ روتا ہے ؟
گلی کے کونے میں بیٹھے
کیا دنیا کی سیاست ہوتی ہے ؟
گڈے گڑیوں کی کیااب بھی
بچوں میں شادی ہوتی ہے ؟
اے دوست بتا سب کیسا ہے
کیا محلّہ اب بھی ویسا ہے ؟
کیا اب بھی شام کو سب سکھیاں
دن بھر کی کہانی کہتی ہیں ؟
پرلی چھت سے چھپ چھپ کر
کیا اب بھی انہیں کوئی دیکھتا ہے ؟
کیا اب بھی چھپ چھپ کر ان میں
کوئی خط و کتابت ہوتی ہے ؟
وہ عید پہ بکروں بیلو ں کا
کیا گھر گھرمیلہ سجتا ہے ؟
خاموش ہےتو کیوں دوست میرے
کیوں سر جھکا کر روتا ہے ؟
ہلکے ہلکے لفظ دبا کر کہتا ہے
سب لوگ پرانے چلے گئے
سب بوڑھے چاچا ، ماما ، خالو
خالہ ، چاچی ، امّاں
سب ملک عدم کو لوٹ گئے
گھر بکے اور تقسیم ہوئے
اپنےحصّے لے کر سب
اپنے مکاں بنا بیٹھے
انجانوں کی بستی ہے وہ
*اب لوٹ کے تو کیا جائے گا
*دل تیرا بھی بھر آئے گا
وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں
آدمی بے نظیر ہوتے ہیں
دیکھنے والا اک نہیں ملتا
آنکھ والے کثیر ہوتے ہیں
جن کو دولت حقیر لگتی ہے
اف! وہ کتنے امیر ہوتے ہیں
جن کو قدرت نے حسن بخشا ہو
قدرتاً کچھ شریر ہوتے ہیں
زندگی کے حسین ترکش میں
کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں
وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں
سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں
پھول دامن میں چند رکھ لیجے
راستے میں فقیر ہوتے ہیں
ہے خوشی بھی عجیب شے لیکن
غم بڑے دل پذیر ہوتے ہیں
اے عدمؔ احتیاط لوگوں سے
لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں
عبد الحمید عدم
اے میرے ہم نشیں چل کہیں اور چل،
اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں
بات ہوتی گلوں تک تو سہہ لیتے ہم،
اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں
آج آۓ ہو تم کل چلے جاوٴ گے،
یہ محبت کو اپنی گوارا نہیں
عمر بھر کا سہارا بنو تو بنو،
دو گھڑی کا سہارا سہارا نہیں
دی صدا دار پر اور کبھی طور پر،
کس جگہ میں نے تم کو پکارا نہیں
ٹھوکریں یوں کھلانے سے کیا فائدە،
صاف کہہ دو کہ ملنا گوارا نہیں
گلستان کو لہو کی ضرورت پڑی،
سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی
پھر بھی کہتے ہیں مجھ سے اہلِ چمن،
یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں
ظالمو اپنی قسمت پہ نازاں نہ ہو،
دور بدلے گا یہ وقت کی بات ہے
وە یقیناً سنیں گے صدائیں میری،
کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں
اپنی زلفوں کو رخ سے ہٹالیجئے ،
میرا ذوقِ نظر آزما لیجئے
آج گھر سے چلا ہوں یہی سوچ کر،
یا تو نظریں نہیں یا نظارہ نہیں
جانے کسی کی لگن کس کی دھن میں مگن،
ہم کو جاتے ہوۓ مڑ کے دیکھا نہیں
ہم نے آواز پر تم کو آواز دی،
پھر بھی کہتے ہو ہم نے پکارا نہیں
قمر جلالوی
دشت میں پیاس بُجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
ہم تیرے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اُٹھ کر چُپ چاپ
ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں
اُن کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے
جو ہمیں زہر پِلاتے ہوئے مر جاتے ہیں
یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابش
جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں
عباس تابش
🛑#BREAKING: #Idalia is the strongest #hurricane to make landfall on the Big Bend region in 127 years. It tied the unnamed hurricane of 1896 with 125 mph winds. Lightning can be seen around the active eye of major #HurricaneIdalia as it heads towards #Florida.
Today is National Husband Appreciation Day .Let us keep 2 minutes silence and read some quotes of great personalities.
First quote
After marriage, husband and wife become two sides of a coin, they just can’t face each other, but still they stay together.
– Al Gore
A good wife always forgives her husband when she’s wrong.
– Barack Obama
When you are in love, wonders happen. But once you get married, you wonder, what happened.
- Steve Jobs
And the best one is…
Marriage is a beautiful forest where Brave Lions are killed by Beautiful Deers.
- Brad Pitt
National Husband Appreciation Day !! 💐😀
Laughter Therapy
While getting married, most of the guys say to girl's parents,
" I will keep your daughter happy for the rest of her life ".
Have you ever heard a girl saying something like this to the boy's parents like I will keep your son happy for the rest of his life
Nooooo ... because women don't tell lies!
-x-x-x-x-x-x-x-
If wife wants husband’s attention, she just has to look sad and uncomfortable.
If husband wants wife’s attention, he just has to look comfortable & happy.
-x-x-x-x-x-x-x-
A Philosopher HUSBAND said:- Every WIFE is a ‘Mistress’ of her Husband…
Miss” for first year & “Stress” for rest of the life…
-x-x-x-x-x-x-x-
Position of a husband is just like a Split AC, No matter how loud he is outdoor, He is designed to remain silent indoor
-x-x-x-x-x-x-x-
Husband to wife : U should learn to embrace your mistakes…..
She hugged him immediately
-----
Share to make others smile...!
Laughter Works Like Medicine!
😄🤣🤣
میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں
حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں
جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی
تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں
دور و نزدیک سے اٹھتا نہیں شورِ زنجیر
اور صحرا میں کوئی نقشِ کفِ پا بھی نہیں
بے نیازی سے سبھی قریہء جاں سے گزرے
دیکھتا کوئی نہیں ہے کہ تماشا بھی نہیں
وہ تو صدیوں کا سفر کر کے یہاں پہنچا تھا
تو نے منہ پھیر کے جس شخص کو دیکھا بھی نہیں
کس کو نیرگئی ایّام کی صورت دکھلائیں
رنگ اڑتا بھی نہیں، نقش ٹھہرتا بھی نہیں
ڈاکٹر اسلم انصاری
جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے
وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا
انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے
اس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفہ کو کوئی نہ سمجھا
جب اس کے کمرے سے لاش نکلی خطوط نکلے تو لوگ سمجھے
وہ خواب تھے ہی چنبیلیوں سے سو سب نے حاکم کی کر لی بیعت
پھر اک چنبیلی کی اوٹ میں سے جو سانپ نکلے تو لوگ سمجھے
وہ گاؤں کا اک ضعیف دہقاں سڑک کے بننے پہ کیوں خفا تھا
جب ان کے بچے جو شہر جاکر کبھی نہ لوٹے تو لوگ سمجھے
احمد سلمان