World peace has been sustained through the mediation of the nation of peace #Pakistan. This achievement is credited to the leadership of @CMShehbaz and the guidance of Army Chief Field Marshal #AsimMunir. 🇵🇰 #PakistanZindabad
یونین کونسل تھنیل کمال سے دلہہ کیطرف جانے والا مین پُل سیلاب کی وجہ سے بہہ گیا تھا، جس کے بعد چیف منسٹر پنجاب نے پُل کی رینوویشن کیلئیےفنڈز جاری کئیے۔ منفی پروپیگینڈا کرنے والوں کیلئیے اطلاع ہے کہ یہ فنڈز مسلم لیگ ن اور وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز صاحبہ کی خصوصی دلچسپی کی بدولت انہوں نے ہی جاری کئیے اور اس کا کریڈٹ بھی چیف منسٹر پنجاب @MaryamNSharif کو ہی جاتا ہے۔ اس پُل کا کام جاری و ساری ہے اور میں نے خود موقع پر پہنچ کر جائزہ بھی لیا۔ انشاللہ بہت جلد یہ پروجیکٹ پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔
بجٹ پارٹ ون
تنخواہ دار طبقہ
اس بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے سے عائد کردہ 10 فیصد سرچارج بھی مکمل طور پر ختم کر دیا ہے
جن افراد کی سالانہ تنخواہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً 65 ہزار روپے فائدہ ہوگا۔
جن افراد کی سالانہ تنخواہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً ایک لاکھ دو ہزار پانچ سو روپے فائدہ ہوگا۔
جن افراد کی سالانہ تنخواہ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار روپے فائدہ ہوگا۔
جن افراد کی سالانہ تنخواہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً دو لاکھ چھتیس ہزار روپے فائدہ ہوگا۔
جن افراد کی سالانہ تنخواہ 70 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، ان کے لیے ٹیکس ریٹ تو برقرار رکھا گیا ہے، لیکن 10 فیصد سرچارج ختم کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً دو لاکھ ستاون ہزار روپے کا ریلیف ملے گا۔
پہلے جس شخص کی سالانہ تنخواہ 41 لاکھ روپے تک پہنچتی تھی، وہ براہِ راست 35 فیصد ٹیکس سلیب میں چلا جاتا تھا، جس سے اس پر اچانک زیادہ ٹیکس لگ جاتا تھا۔
اب حکومت نے 41 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کے درمیان دو نئی ٹیکس سلیبس متعارف کرائی ہیں، تاکہ اس طبقے پر یکدم 35 فیصد ٹیکس نہ لگے بلکہ کم شرح پر ٹیکس ادا کرنا پڑے۔
اب اس آمدن کے حصے پر 29 فیصد اور 32 فیصد کے نئے ٹیکس ریٹس لاگو ہوں گے، جس سے مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کو نمایاں ریلیف ملے گا۔
35 فیصد ٹیکس اب صرف اس آمدن کے حصے پر لاگو ہوگا جو 70 لاکھ روپے سالانہ سے اوپر ہو، جبکہ اس سے کم آمدن پر پہلے والی کم شرحیں ہی لاگو رہیں گی۔
حکومت نے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا ہے تاکہ انہیں بھی مہنگائی کے دور میں ریلیف مل سکے۔
برآمدات اور صنعت کے لیے بڑا ریلیف
برآمدات پاکستان کی معیشت کی بنیاد ہیں، اسی لیے ایکسپورٹرز کے لیے ایڈوانس اور منیمم ٹیکس، جو پہلے مجموعی طور پر 2 فیصد تھا، کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔
500 ملین روپے تک کاروبار کرنے والے ایکسپورٹرز پر سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
500 ملین روپے سے زیادہ کاروبار کرنے والے ایکسپورٹرز کے لیے سپر ٹیکس 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دیا گیا ہے، تاکہ صنعت اور برآمدات کو مزید فروغ ملے۔
پراپرٹی سیکٹر کے لیے بڑا ریلیف
حکومت نے سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد مختلف ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی ہے۔
5 کروڑ روپے تک کی پراپرٹی کی فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔
5 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی پراپرٹی کی فروخت پر بھی ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔
حکومت نے پراپرٹی کی خریداری پر بھی ٹیکس میں نمایاں کمی کر کے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
50 ملین (5 کروڑ) روپے تک مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔*
50 ملین سے 100 ملین (5 سے 10 کروڑ) روپے مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔
100 ملین (10 کروڑ) روپے سے زائد مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر بھی ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے تمام بڑی کیٹیگریز میں سرمایہ کاروں کو یکساں ریلیف ملے گا۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اہم ریلیف
حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی پراپرٹی پر عائد 1 فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس (CVT) کو مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے اسے 0 فیصد کر دیا ہے۔
یہ اقدام اوورسیز پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی، ان کی سرمایہ کاری میں اضافے اور وطن کے ساتھ ان کے معاشی تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
شپنگ انڈسٹری کے لیے بڑا ریلیف
حکومت نے شپنگ انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے اس شعبے پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے اسے 0 فیصد کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ لاجسٹکس اور میری ٹائم سیکٹر کی ترقی، کاروباری لاگت میں کمی اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
خواتین اور عوامی صحت کے لیے اہم اقدام
حکومت نے خواتین کے لیے ٹیمپونز، سینیٹری پیڈز پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
- اسی طرح حکومت نے کنڈومز اور مانع حمل (contraceptive) ادویات پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس کو مکمل ختم کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ خواتین و مردوں کی ضروریات، عوامی صحت اور معاشی ریلیف تینوں پہلوؤں کو مدنظر
رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
آئی ٹی سیکٹر کے لیے اہم ریلیف
حکومت نے آئی ٹی اور فری لانسنگ سیکٹر کے لیے خوش آئند فیصلہ کرتے ہوئے انکم ٹیکس کی موجودہ 0.25 فیصد رعایتی شرح کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے اس شعبے کو پالیسی کا تسلسل اور اعتماد حاصل ہوگا۔
یہ اقدام آئی ٹی برآمدات، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوان فری لانسرز کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ٹیکنالوجی سیکٹر کی مزید ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔
ڈیجیٹل اور آن لائن ادائیگیوں کے لیے بڑا ریلیف
حکومت نے پاکستان سے کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے کی جانے والی آن لائن ادائیگیوں پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس (WHT) کی شرح 5 فیصد سے کم کرکے صرف 0.5 فیصد کر دی ہے۔
یہ فیصلہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے، صارفین پر مالی بوجھ کم کرنے اور پاکستان میں کیش لیس اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ریفائننگ سیکٹر کے لیے بڑا ریلیف
حکومت نے براؤن فیلڈ ریفائنریز کی اپگریڈیشن اور متعلقہ درآمدات (Imports) پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے اسے 0 فیصد کر دیا ہے
جاری ہے
I am deeply saddened by the tragic helicopter crash in Muzaffarabad and the martyrdom of all onboard. My heartfelt condolences to the bereaved families and the Pakistan Army. The nation honours the ultimate sacrifice of its brave sons. May Allah grant the martyrs the highest place in Jannah and give strength to their families.
وزیراعظم ، فیلڈ مارشل اور ڈی جی آئی ایس پی آر سمیت سول ملٹری قیادت مظفرآباد حاڈثے میں شہید ہونے والے فوجیوں کی آخرئ رسومات میں شریک ہیں۔
ہیلی کاپٹر میں دو مسیحی فوجی بھی شامل تھی جنکی آخری رسومات چرچ میں ادا کی گئیں۔ آئی ایس پی آر۔۔
ایم پی اے مہوش سلطانہ صاحبہ نے چوآسیدن شاہ میں مختلف شادی و ولیمہ تقریبات میں شرکت کی۔ محمد اویس صاحب، چوہدری سرور صاحب اور فرخ بلال صاحب کی خوشیوں میں شریک ہو کر اہلِ خانہ کو مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ 💐✨
#ChoaSaidanShah#WeddingCelebrations
پچھلے ہفتے ایک صاحب ملے اور مسکراتے ہوئے سلام کر کے بڑے شوق سے پوچھا کہ کیا میں ابراہیم کا والد ہوں۔ ایک والد ہونے کے ناطے میرے لئے الحمدللہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ کچھ لوگوں کے لئے میری سب سے بڑی پہچان میرا بیٹا ہے۔ اِن صاحب نے مزید کہا کہ وہ اکثر ابراہیم کی گزشتہ سال پوسٹ کی گئی ویڈیو دیکھتے ہیں کیونکہ وہ ویڈیو اُن کو سکون دیتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مجھے نصیحت کی کہ میں گاہے بگاہے ابراہیم کے بارے میں پوسٹ کرتا رہا کروں کیونکہ اِن ویڈیوز اور تصاویر کو دیکھ کر کئی ماں باپ جن کو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم جیسے تحفوں سے نوازا ہے، ہمت پکڑتے ہیں۔ تو ابراہیم کی ایک اور ویڈیو آپ سب کی بصارتوں کی نظر۔۔۔
محترمہ مہوش سلطانہ صاحبہ ایم پی اے اور سلطان راجہ عزم العمر صاحب نے بوچھال کلاں، کلر کہار اور ڈھریالہ کہون میں تعزیتی دورے کیے، مرحومین کے اہلِ خانہ سے اظہارِ افسوس اور فاتحہ خوانی کی۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے آمین۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔