"دنیا میں نظام حکومت کی بنیاد اخلاقیات پر ہوتی ہے جبکہ پاکستان کا اخلاقی نظام ہر سطح پر، مکمل تباہ کر دیا گیا ہے۔ جمہوریت کا حسن بھی اخلاقیات ہے لیکن عاصم لأ کے تحت موجودہ نظام میں اخلاقیات کی پستی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔
قرآن پاک میں بارہا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حکم کی پیروی کرتے ہوئے پوری قوم کا فرض بنتا ہے کہ حق کے ساتھ اور باطل کے خلاف ڈٹ جائیں۔
موجودہ نظام ظلم اور اخلاقی گراوٹ کی جس ڈگر پر چل نکلا ہے، اس کا خاتمہ یقیناً اسی نظام کی تباہی پر ہی ہو گا۔ قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ گھبرانا نہیں ہے، فتح آپ کی ہی ہو گی۔
افغانستان نا صرف دیرینہ ساتھی ہے بلکہ برادر اسلامی ملک بھی ہے۔ ایسے میں پوری قوم اور بالخصوص خیبر پختونخوا حکومت کا فرض بنتا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں افغانستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں اور جس قدر ممکن ہو انہیں امداد فراہم کریں۔
علی امین کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف جاری آپریشن کے خلاف کھڑے ہوں۔ اس آپریشن کو ہر حال میں رکنا چاہیے۔ تاریخ سے سبق سیکھیں۔ صرف بیرونی قوتوں کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوجی آپریشن سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑیں گے۔
موجودہ سیلابی صورتحال میں ہمارے “بلین ٹری منصوبے” کی اہمیت و ضرورت کا ایک مرتبہ پھر بھرپور اندازہ ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف نے میرے ویژن کی روشنی میں بلین ٹری سونامی کا آغاز کیا جس کو بورس جانسن، ورلڈ اکنامک فورم سمیت عالمی سطح پر شاندار پذیرائی ملی۔ خیبرپختونخواہ حکومت کو ہدایت کرتا ہوں کہ “ٹین بلین ٹری” مہم پر ازسرنو توجہ مرکوز کریں۔ سوشل میڈیا بھی اس ضمن میں آگہی مہم کا آغاز کرے تاکہ درخت موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے خلاف ڈھال بن سکیں۔"
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے وکلأ کے ذریعے پیغام
(9 ستمبر، 2025)
1/3
“میں “لا الہ الا اللہ” کا ماننے والا ہوں۔ یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کے خوف اور غلامی سے آزادی دیتا ہے- میری زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے عاصم منیر کے ہاتھ میں نہیں۔ ہمارا ایمان ہی ہماری ”حقیقی آزادی“ کا ضامن ہے، کیونکہ یہ کلمہ انسان کو خوف کی زنجیریں توڑنے کی قوت فراہم کرتا ہے۔
مجھے توڑنے کی کوشش میں مجھے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، ایک سال سے میرے ذاتی ڈاکٹر کو معائنے کی اجازت نہیں دی گئی، کئی کئی ہفتے تک اخبارات اور ٹی وی بند کر دئیے جاتے ہیں، فیملی ممبران اور وکلا تک کو ملنے سے روکا جاتا ہے- ڈیڑھ سال سے سیاسی رفقأ سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر افغانستان کی موجودہ حکومت کی مخالف لابی کو خوش کرنے کی کوشش میں کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے دور میں خطے میں قائم ہونے والے امن کو تباہ کر رہا ہے۔ جہاں ہمارے بہترین تعلقات ہونے چاہییں وہاں جان بوجھ کر حالات خراب کیے جا رہے ہیں- میرا دل اس پر بھی بہت رنجیدہ ہے کہ ہم نے کئی دہائیوں کی مہمان نوازی کے باوجود موجودہ دور میں اپنے افغان بھائیوں کو دھکے دے کر ملک سے باہر نکالا ہے۔ حالانکہ وہاں زلزلہ بھی آیا ہے اور ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیئے-
علی امین گنڈاپور کو خصوصی ہدایت کرتا ہوں کہ افغانستان جائیں اور ان کے ساتھ جا کر بیٹھیں اور باہمی مسائل اورامن و امان کے حوالے سے بات کریں تاکہ حالات کو مزید بگاڑ سے بچایا جا سکے۔ جعلی وفاقی حکومت کو اس بات کا جواب دینا چاہیے، مریم نواز جاپان اور تھائی لینڈ جا سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ اپنے صوبے میں امن کے لیے افغانستان کیوں نہیں جا سکتا؟
خیبر پختونخوا میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف ملٹری آپریشن، ڈرون حملوں اور علاقوں سے بے دخلی کروانے کا عمل دراصل تحریک انصاف کی عوامی مینڈیٹ سے بننے والی حکومت کو غیر مقبول کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ علی امین گنڈا پور کو اس آپریشن کے خلاف بھر پور مزاحمت کرنی چاہیئے۔ صوبے کی عوام پہلے ہی سیلاب سے تباہ حال ہے۔ اگر وہاں ڈرون حملے اور آپریشن نہ رکا تو یہ بہت بڑی زیادتی ہو گی۔ ہمارے کتنے پولیس اہلکار بھی جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ یہ آپریشن جب تک بند نہیں ہو گا، لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا اور دہشتگردی مزید بڑھے گی۔
اس وقت پورا ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سیلاب کی وجہ سے لوگوں کا بہت نقصان ہوا ہے۔ پوری قوم کو یکجا ہو کر اس صورتحال کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ میں اگر جیل سے باہر ہوتا تو ضرور فنڈ ریزنگ اور ٹیلی تھون کرتا مگر اب اپنی قوم سے کہتا ہوں کہ وہ بڑھ چڑھ کر اور دل کھول کر ریلیف کے کاموں اور سیلاب متاثرین کی امداد میں حصہ لیں۔
بلوچستان میں سیاسی جلسے پر ہونے والے حملے کے خلاف احتجاج میں پوری تحریک انصاف کو شرکت کرنی چاہیے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو
(8 ستمبر 2025)
99 Names of Allah with English meaning
1. Allah (الله) The Greatest Name
2. Ar-Rahman (الرحمن) The All-Compassionate
3. Ar-Rahim (الرحيم) The All-Merciful
4. Al-Malik (الملك) The Absolute Ruler
5. Al-Quddus (القدوس) The Pure One
6. As-Salam (السلام) The Source of Peace
7. Al-Mu’min (المؤمن) The Inspirer of Faith
8. Al-Muhaymin (المهيمن) The Guardian
9. Al-Aziz (العزيز) The Victorious
10. Al-Jabbar (الجبار) The Compeller
11. Al-Mutakabbir (المتكبر) The Greatest
12. Al-Khaliq (الخالق) The Creator
13. Al-Bari’ (البارئ) The Maker of Order
14. Al-Musawwir (المصور) The Shaper of Beauty
15. Al-Ghaffar (الغفار) The Forgiving
16 Al-Qahhar (القهار) The Subduer
17. Al-Wahhab (الوهاب) The Giver of All
18. Ar-Razzaq (الرزاق) The Sustainer/Provider
19 Al-Fattah (الفتاح) The Opener
20 Al-`Alim (العليم) The Knower of All
21 Al-Qabid (القابض) The Constrictor
22. Al-Basit (الباسط) The Reliever/Expander
23 Al-Khafid (الخافض) The Abaser
24 Ar-Rafi (الرافع) The Exalter
25 Al-Mu’izz (المعز) The Bestower of Honors
26 Al-Mudhill (المذل) The Humiliator
27 As-Sami (السميع) The Hearer of All
28 Al-Basir (البصير) The Seer of All
29 Al-Hakam (الحكم) The Judge
30 Al-`Adl (العدل) The Just
31 Al-Latif (اللطيف) The Subtle One
32 Al-Khabir (الخبير) The All-Aware
33 Al-Halim (الحليم) The Forbearing
34 Al-Azim (العظيم) The Magnificent
35. Al-Ghafur (الغفور) The Forgiver and Hider of Faults
36. Ash-Shakur (الشكور) The Rewarder of Thankfulness
37 Al-Ali (العلى) The Highest
38 Al-Kabir (الكبير) The Greatest
39 Al-Hafiz (الحفيظ) The Preserver
40 Al-Muqit (المقيت) The Nourisher
41 Al-Hasib (الحسيب) The Accounter
42 Al-Jalil (الجليل) The Mighty
43. Al-Karim (الكريم) The Generous
44 Ar-Raqib (الرقيب) The Watchful One
45. Al-Mujib (المجيب) The Responder to Prayer
46 Al-Wasi (الواسع) The All-Comprehending
47 Al-Hakim (الحكيم) The Perfectly Wise
48 Al-Wadud (الودود) The Loving One
49 Al-Majid (المجيد) The Majestic One
50 Al-Ba’ith (الباعث) The Resurrector
51 Ash-Shahid (الشهيد) The Witness
52 Al-Haqq (الحق) The Truth
53 Al-Wakil (الوكيل) The Trustee
54 Al-Qawiyy (القوى) The Possessor of All Strength
55 Al-Matin (المتين) The Forceful One
56 Al-Waliyy (الولى) The Governor
57 Al-Hamid (الحميد) The Praised One
58 Al-Muhsi (المحصى) The Appraiser
59 Al-Mubdi’ (المبدئ) The Originator
60 Al-Mu’id (المعيد) The Restorer
61 Al-Muhyi (المحيى) The Giver of Life
62 Al-Mumit (المميت) The Taker of Life
63 Al-Hayy (الحي) The Ever Living One
64 Al-Qayyum (القيوم) The Self-Existing One
65 Al-Wajid (الواجد) The Finder
66 Al-Majid (الماجد) The Glorious
67 Al-Wahid (الواحد) The One, the All Inclusive, The Indivisible
68. As-Samad (الصمد) The Satisfier of All Needs
69 Al-Qadir (القادر) The All Powerful
70 Al-Muqtadir (المقتدر) The Creator of All Power
71 Al-Muqaddim (المقدم) The Expediter
72 Al-Mu’akhkhir (المؤخر) The Delayer
73 Al-Awwal (الأول) The First
74 Al-Akhir (الأخر) The Last
75 Az-Zahir (الظاهر) The Manifest One
76 Al-Batin (الباطن) The Hidden One
77 Al-Wali (الوالي) The Protecting Friend
78 Al-Muta’ali (المتعالي) The Supreme One
79 Al-Barr (البر) The Doer of Good
80. At-Tawwab (التواب) The Acceptor to Repentance
81 Al-Muntaqim (المنتقم) The Avenger
82. Al-‘Afuww (العفو) The Forgiver/Pardoner
83. Ar-Ra’uf (الرؤوف) The Clement/Compassionate
84 Malik-al-Mulk (مالك الملك) The Owner of All
85 Dhu-al-Jalal wa-al-Ikram (ذو الجلال و الإكرام) The Lord of Majesty and Bounty
86 Al-Muqsit (المقسط) The Equitable One
87 Al-Jami’ (الجامع) The Gatherer
88 Al-Ghani (الغنى) The Rich One
89 Al-Mughni (المغنى) The Enricher
90. Al-Mani'(المانع) The Preventer of Harm
91 Ad-Darr (الضار) The Creator of The Harmful
92. An-Nafi’ (النافع) The Creator of Good
93 An-Nur (النور) The Light
94. Al-Hadi (الهادي) The Guide
95. Al-Badi (البديع) The Originator
96. Al-Baqi (الباقي) The Everlasting One
97. Al-Warith (الوارث) The Inheritor of All
98. Ar-Rashid (الرشيد) The Righteous Teacher
99. As-Sabur (الصبور) The Patient one
And to Allah belong the best names, so invoke Him by them.”
— Al-‘A`rāf, [7:180]
علی امین گنڈا پور کو سپریم کورٹ جا کر مجھ سے ملاقات کی اجازت مانگنی چاہیئے۔ اس سے پہلے بجٹ پر بھی مجھ سے مشاورت و ملاقات نہیں کی گئی۔ علی امین کو آ کر مجھے صوبے کی گورننس، امن و امان اور دیگر اہم امور پر بریفنگ دینی ہے جس کے لیے سپریم کورٹ سمیت ہر فورم پر بھرپور کوشش کرنی چاہیے-
میں دوبارہ تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاق کی جانب سے اپنے ہی شہریوں پر ہونے والے ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں کے خلاف بھرپور سٹینڈ لے۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ہمارے دور میں امن آچکا تھا اور ہمارے دور میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔ اب وہاں حالات جان بوجھ کر خراب کیے جا رہے ہیں تاکہ واحد عوامی مینڈیٹ والی پارٹی کو کمزور کیا جا سکے۔
خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے مسائل مقامی نمائندوں کی مدد سے بات چیت سے حل ہونے چاہئیں۔ ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنز سے دہشتگردی بڑھتی ہے۔ ان آپریشنز کو نہ ہی عوام کی حمایت حاصل ہے، نہ ہی عوامی نمائندوں کی اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کی تو ایسا آپریشن کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔
افغان مہاجرین کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس پر میں شرمندہ ہوں۔ وہ ہمارے مسلمان بھائی یہاں پناہ لیے ہوئے تھے انھیں ایسے دھکے مار کر ملک سے نکالنا اسلامی روایت اور انسانیت کے خلاف ہے-
فیصل آباد کی عدالت کی جانب سے ایک اور جھوٹے کیس میں ہمارے 75 ممبران اور کارکنان کو دی گئی سزائیں اس ظلم کے نظام کو مزید ننگا کر رہی ہیں۔ ہم سب کو اس ظلم کے خلاف اکٹھے کھڑے ہونا ہے جب ہم مل کر مقابلہ کریں گے تو فتح ہمارا مقدر بنے گی۔
میری رائے میں 9 مئی کیسز میں جھوٹے الزامات پر دی گئی سزاؤں کے ذریعے خالی کرائی گئی سیٹوں پر ضمنی انتخابات میں حصہ لینا ان جھوٹی سزاؤں کو جائز تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا- اسی لیے پارٹی اس معاملے پر غور کر کے حتمی فیصلے کے لیے کل دوبارہ اپنی تجاویز میرے پاس لے کر آئیں- حماد اظہر کا حلقہ میاں اظہر صاحب کی وفات کے بعد خالی ہوا ہے- اس سیٹ پر ہم الیکشن لڑیں گے۔
جو ظلم و فسطائیت اس وقت پورے ملک میں جاری ہے اس کے خلاف پشاور میں ایک گرینڈ جلسہ کیا جائے گا جس کی تاریخ کا اعلان پارٹی کرے گی۔
خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے اور سینکڑوں قیمتی جانوں کے نقصان کے ساتھ لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ میں نے اسی ماحولیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے Billion Tree جیسے منصوبے شروع کیے تھے۔ اس طرح کے منصوبے ہی ہمارا ماحول بچا سکتے ہیں ورنہ ہم ہر سال تباہی ہی دیکھیں گے” -
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہم گفتگو
(26 اگست، 2025)
2/2
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2
@MominaPTI1 Video bnany or lgany Wala dono chutye hain, hr water park main ladies k lye separate area HOTA hai or yeh wohe area hai, or video main b koi mard Nazar nhi Aya tw be hayai tum phela rhy ho woh log nhi Jo Yahan entertain ho rhy hain