Dr Faisal was kept in police custody between 8.30 pm on Thursday evening (outside Adiyala jail) till 4.30 Friday morning (Shifa hospital) - for 8 long hours without even once taking him to examine Imran khan even for a minute.
This despite clear written judgment of the SC. Such is the brutality and fascism of this government
Complete solitary confinement treatment that Imran Khan didn't know which month is it when he met Uzma Aapa is something I am unable to process till now.
I have never felt so helpless before.
Listening to today's PC I realised how wrong we were to think that Imran Khan had connections, and he knows what's going on out here. He didn't even know about the court orders and what's going to happen to him. Where they are taking him, and what they are going to do to him.
محمد مرسی مصر کے مقبول ترین عوامی رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ وہ وہی رہنما تھے جنہوں نے دنیا کے سامنے اپنے نبی کریم ﷺ کی حرمت و عزت کا واضح مؤقف پیش کیا اور کہا کہ جو ہمارے نبی ﷺ کی عزت و احترام نہیں کرے گا، ہم بھی اس کا احترام نہیں کریں گے۔
اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد انہیں ایک فوجی حکومت نے بدنام زمانہ جیلوں میں قید رکھا، طویل عرصے تک قیدِ تنہائی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی صحت مسلسل خراب ہوتی رہی۔ وہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، لیکن ان کے اہلِ خانہ اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے بارہا طبی سہولیات کے حوالے سے خدشات سامنے آتے رہے۔
شہادت والے دن انہیں ایک مقدمے کی سماعت کے لیے عدالت میں لایا گیا۔ انہیں شیشے کے ایک بند پنجرے میں رکھا گیا۔ شدید کمزوری کے باوجود انہوں نے جج کے سامنے کھڑے ہو کر تقریباً 20 منٹ تک اپنا آخری بیان ریکارڈ کروایا۔
بیان ختم کرنے کے فوراً بعد وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ وہ اسی پنجرے کے اندر بے سدھ پڑے رہے اور بالآخر ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
ان کی موت کے بعد بھی ان کی مقبولیت سے خوف کا اندازہ اس بات سے لگایا گیا کہ ان کے جنازے میں عام عوام کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں رات کے اندھیرے میں سخت سیکیورٹی کے حصار میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آج سوال مصر سے زیادہ پاکستان سے ہے۔
کیا پاکستانی قوم بھی کسی ایسے المیے کا انتظار کر رہی ہے؟
کیا ہم اس وقت جاگیں گے جب بہت دیر ہو چکی ہوگی؟
کیا ہم تب آواز اٹھائیں گے جب ہمارا محبوب قائد ہمارے درمیان موجود نہیں ہوگا؟
کیا ہم تب سڑکوں پر نکلیں گے جب صرف پچھتاوا باقی رہ جائے گا؟
عمران خان آج بھی ہمارے درمیان ہیں۔ وہ قید میں ہیں، مشکلات میں ہیں، لیکن اپنی قوم کے حق، آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ محمد مرسی کے ساتھ جو ہوا، وہ تاریخ بن چکا ہے؛ عمران خان کے معاملے میں تاریخ ابھی ہمارے سامنے لکھی جا رہی ہے۔
پاکستانیو! بے حس مت بنو۔ خاموشی کو اپنی تقدیر مت بناؤ۔ اپنے حق کے لیے، اپنے آئین کے لیے، اپنے ووٹ کے احترام کے لیے اور عمران خان کی زندگی، صحت اور آزادی کے لیے پُرامن اور آئینی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرو۔
یہ وقت گھروں میں بیٹھ کر تماشائی بننے کا نہیں۔
یہ وقت سوشل میڈیا پر صرف غصہ نکالنے کا نہیں۔
یہ وقت ایک دوسرے کا حوصلہ بننے، آئین و قانون کے دائرے میں متحد ہونے اور اپنے جمہوری حق کے لیے آواز بلند کرنے کا ہے۔
یاد رکھو، لیڈر اکیلا قوم کو نہیں بچاتا، قوم اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑی ہو کر اپنی تقدیر بدلتی ہے۔
اگر آج ہم خاموش رہے تو آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ جب وقت تمہارے سامنے کھڑا تھا، جب تمہارے قائد کو تمہاری آواز کی ضرورت تھی، جب تمہارے آئین اور ووٹ کی حرمت کو تمہاری جدوجہد درکار تھی، تب تم کہاں تھے؟
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
خاموش تماشائی بننا ہے یا تا��یخ کا حصہ بننا ہے؟
عمران خان صرف ایک شخص کا نام نہیں، یہ کروڑوں پاکستانیوں کے ووٹ، امید اور حقیقی آزادی کی آواز ہے۔
اپنے گھروں سے نکلو، پُرامن اور آئینی جدوجہد کی تیاری کرو، اپنی آواز بلند کرو کیونکہ قومیں اپنے حقوق مانگنے سے نہیں، اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہونے سے تاریخ بناتی ہیں
#عمران_خان_کو_بچاؤ
#ReleaseImranKhan
#حقیقی_آزادی
We mistook his resilience for invincibility and forgot he's also a human just like us. Alone in that dark cell enduring endless pain, he kept sending warnings about his fading health, hoping we'd stand up for him, but we just watched.
We failed him when he needed us the most
مولانا صاحب کیا عمران خان رہا ہو پائیں گے!امیر عباس۔
فرعون نے 70 ہزار بچے مارے لیکن موسیٰ تو پیدا ہوا نا، یہ ظلم کی اندھیری رات ہے ظلم مٹ کر رہے گا کیونکہ ظلم مٹنے کے لیے ہے!مولانا طارق جمیل۔
بیرسٹر گوہرصاحب، سہیل آفریدی صاحب آپ جن سے کہہ رہے ہیں عمران خان کو رہا کرو آپ کا دشمن گھٹیا اور نیچ ہے آپ کو اس سے لڑنا ہو گا
عطا تارڈ کہہ رہا ہے عمران خان کو ہسپتال میں خطرہ تھا اس لیے جیل لے گئے ہم سعودی کو سیکورٹی دے رہے ہیں اور اپنے ملک کا یہ حال ہے
عدیل راجہ
If you want to imagine how Fatima Jinnah felt when a broken ambulance was sent to transport her brother, Muhammad Ali Jinnah, you can look at this.
The cruelty of those in power has always existed in this country, and was enacted from the day we achieved freedom.
https://t.co/MVtx2KavZ3
نورین نیازی نے عمران خان کو بتایا کہ عدالت نے حقائق کا جائزہ لینے کے بعد انہیں اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے، جس پر عمران خان نے اطمینان کا اظہار کیا۔تاہم، جب دو روز تک یہ خبریں چلتی رہیں کہ عمران خان مفاہمت یا کسی ڈیل کے تحت اسپتال منتقل ہو رہے ہیں تو عظمیٰ خان کی ملاقات کے دوران عمران خان نے اس حوالے سے سخت برہمی کا اظہار کیا۔عمران خان نے واضح کیا کہ وہ کسی ڈیل یا مفاہمت کے نتیجے میں علاج نہیں کروائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں صرف ان کے آئینی اور قانونی حقوق دیے جائیں، انہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے۔ذرائع کے مطابق، اس دوران عمران خان نے اسپتال جانے سے بھی ان��ار کر دیا تھا اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ کسی سمجھوتے کی بنیاد پر کوئی سہولت قبول نہیں کریں گے۔
He sits in a filthy, tiny, hot cell. No books. No TV. No sound. No faces. Just heat, silence & the feeling of being forgotten. He is being kept in a worse condition than an animal.
عمران خان کے ہسپتال منتقل کی خبر سے نواز شریف مریم نواز اور شہباز شریف کے پیروں تلے زمین نکل گئی اور تینوں نے پنڈی جا کر نئے وعدے وعید بھی کیے دوبارہ سے عہدو پیماں ہوۓ
دوسری چیز اسٹبلشمنٹ نے یہ مشاہدہ بھی کیا ��مران خان کا بخار قوم سے کتنا اتر چکا ہے کل کے مناظر دیکھ کر اسٹبلشمنٹ کو یہی سمجھ آئی کہ یہ تو ایک جھلک پر پوری قوم قربان ہو چکی ہے اگر یہ معاملہ ایسے ہی رہا اور کسی ڈاکٹر یا نرس سے کوئی بات باہر آ گئی تو ہماری تو پچھلے 10 مہینوں کی محنت ضائع ہو جائے گی
عمران خان نےکل کی ملاقات میں ایک ہی پیغام دیا ہے مزاحمت
شہزاد اکبر
What is happening to @imrankhanPTI is an abuse on every conceivable level.
Passively monitoring the situation is plainly not enough. It is time for active diplomacy.
-An urgent letter to Foreign Secretary Ed Miliband
ڈیئر قیادت ڈیئر انصافینز آپ سن رہے ہیں نا. خان کے ساتھ ہونے والے اس ظلم میں کہیں نہ کہیں کچھ حصہ ہماری خاموشی کا بھی ہے.. وہ تو ان حالات میں بھی ہمارا ساتھ دے رہا ہے مگر شاید ہم بےوفائی کر رہے ہیں
عمران خان بار بار ایک چیز بتا رہے تھے میرے ساتھ ظلم ہوا ہے مجھے ٹارچر کررہے ہیں ایک ڈاکٹر نے بتایا ہیومن کنٹیکٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی طبعیت خراب ہوتی ہے وہ ڈاکٹرز کو اپنی طبعیت کا بتاتے تھے لیکن وہ کچھ نہیں کرتے تھے بشریٰ بی بی کو بھی قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے
ڈاکٹر عظمیٰ
اگر یہ سب کچھ پلان نہیں تھا تو پھر حسن ایوب کو یہ بات پہلے سے کیسے پتہ تھی کہ عمران خان کو شفا ہسپتال نہیں لے جائیں گے ۔ عطا تارڑ کی ٹوئیٹ اور حسن ایوب کا بیان ثابت کرتا ہے کہ ان پر ہر صورت میں توہین عدالت لگنی چاہیے !