Bitter reality is also that Hafiz Saeed, Masood Azhar, Azam Tariq Fazlurrehman Khalil and several others are all mostly Punjabis. Pakistan became notorious not because of KP/Pashtoons but Muridke, Bahawalpur, Jhang (Lashkare Jhangvi) - all internally banned groups - much before TTP emerged
Pakistan: They check passports first while entering the airport, then by customs, then by anti narcotics, then by airline counter, then Immigeration counter then Immigeration officer, then airline gate and then again before entering the tunnel connecting to plane!
FIA official look at you as if he or she seen a human for the first time then look at passport, then stare at you and look at your passport again, then look at your ticket and look at you passport again, then look at you again and look at passport again, this process continues for 3-4 min, and all that continues where Govt is investing $1 Billion in Artificial Intelligence!!
یہ کھکھلاتے اور قہقہے لگاتے مولانا حضرات بیویوں کو نکاح خارج کروانے کا مشورہ تو دے رہے ہیں مگر کیا یہ بھی بتائینگے کہ اُنکے شوھروں کو جبری گمشدہ کرنے والوں کے بارے میں انکا مذھب کیا کہتا ہے؟
وینزویلا سے پہلے یہ ہمارے ملک کے ساتھ ہوا۔2ہیلی کاپٹر آئے اور ہماری خودمختاری کے پرخچے اڑا دیئے
صرف 2ہیلی کاپٹر
ایٹمی ملک، بہترین فوج،25 کروڑ انسان۔۔وینزویلا میں تو پھر بھی بڑی فوج گئی، ہماری خودمختاری2ہیلی کاپٹر ز نے برباد کی۔
جج آصف کو چاہیے کہ اپنی عدالت میں رکھی قانون کی کتاب کو آگ لگا دیں، انصاف کے میزان کے دونوں پلڑے زمین پر گرا دیں، قرآنِ کریم کے نسخے کو طاق پر رکھوا دیں، سائلین میں منادی کرا دیں کہ یہ اس منصف کی عدالت ہے جو خود مجرم ہے، جس کا بیٹا قاتل ہے اور اس قاتل کی پشت پناہی کرنے والا آج آپ کا مقدمہ سنے گا۔ سائلین خود بتائیں کہ انہیں کون سا انصاف درکار ہے: جج آصف کے بیٹے ابوذر ریکی والا یا سکوٹی پر بیٹھی 2 غریب بچیوں والا؟
#pti #pmln #ppp #judge
https://t.co/W734ZeDQFk
میں نے یونیورسٹی سے ڈگری کی۔ پھر پیسے جمع کر کے ڈگری لی اور ڈگری پر کنٹرولر اور وائس چانسلر نے دستخط بھی کیئے۔اس کے بعد میں نے دوبارہ پیسے جمع کر کے ڈگری ان کو واپس بھیجی کہ اب یہ ویریفائی کر لو کہ آپ لوگوں نے مجھے جو ڈگری دی ہے وہ فیک تو نہیں ہے۔ بات یہاں پہ ختم نہیں ہوئی۔ اس کے بعد وہی ڈگری HEC کو بھیجی کہ آپ کے ساتھ جو یونیورسٹی Affiliated ہے اس نے یہ ڈگری جاری کی ہے اور ویریفائی بھی کی ہے۔ اب آپ بھی ویریفائی کر لے کہ کہیں یہ ڈگری جعلی تو نہیں۔ آگے کی بات سنئے۔ پھر HEC کے بعد میں نے وہ ڈگری MOFA کو بھیجی اور ان سے کہا کہ یہ جو HEC نے سٹیمپ لگایا ہے اس کو چیک کرے کہ کہیں یہ فیک تو نہیں ہے۔اس پورے کام میں آپ کے ہزاروں روپے الگ سے ضائع ہو جاتے ہیں، ساتھ میں وقت بھی ضائع ہوتا ہے، اور سب سے اہم بات وہ نمونے جو خود میٹرک فیل ہوتے ہیں ان کی باتیں بھی سننے کو ملتی ہے۔ یہ ایک بھیانک قسم کا مذاق ہے ہمارے ساتھ اور اس پہ کوئی بولتا بھی نہیں ہے۔
ریاست کی طرف سے تمام اہل وطن کو جشن آزادی کا تحفہ مبارک۔ کوئی بھی پاکستانی صرف خدشے کی بنیاد پر کے وہ "دہشتگردی" میں ملوث ہے 3 ماہ کے لئے قید کیا جا سکتا ہےاس لئے وطن میں امن کی خاطر آزادی اظہار، جان و مال اور عزت نفس کے تحفظ، جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے مطالبے سے باز رہیں.
PAKISTAN: Ali Wazir has been unjustly detained for a year now, since August 2024, without a fair trial and subjected to multiple frivolous cases just to prolong his detention.
#FreeAliWazir 👇
پشاور پولیس کی اس وقت خیبر جرگہ انتظامی کیمپ پر حملہ۔
انتظامات کے لئے ائے ہوئے پختون نوجوانوں پر فائرینگ اور آنسو گیس شیلینگ۔
بہت سارے دوست زخمی اور بے ہوش پڑے ہیں۔
حملہ تاحال جاری ہے۔
سارے دوست جمرود کے قریب جرگہ گراونڈ پہنچ جائے۔
بریکنگ نیوز
جس جگہ پر سفارتکاروں کے قافلہ پر بم حملہ ہوا تھا، اس سے ایک دن پہلے ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے سادہ لباس میں رات دس بجے سے بارہ بجے تک اس جگہ پر ناکہ بندی کی تھی۔
Dr. Mahrang Baloch, a Baloch human rights defender, leads the Baloch Yakjehti Committee against enforced disappearances & extrajudicial killings by Pakistani authorities in Balochistan. The Baloch people have had enough.
#بلوچ_راجی_مُچی کے لئے گوادر کی طرف بلوچ مارچ پر فائرینگ انتہائی افسوسناک عمل ہے۔
ایک طرف بلوچ مارچ کے خلاف ریاست منفی پروپیگنڈا کر رہی ہے اور دوسری طرف مارچ پر گولیوں کی بارش۔
پی ٹی ایم بلوچ راجی مُچی کی مکمل حمایت کرتی ہے اور بلوچ مارچ کے ہر کال پر بھرپور ساتھ دینگے۔
کانجو مٹہ روڈ پر سیدو شریف ائیرپورٹ کی بیرونی دیوار کی تعمیر کے موقع پر نئی زیر تعمیر دیوار پرانی دیوار سے چھے سے آٹھ فِٹ تک باہر تعمیر کرکے روڈ کے احاطے کو قبضہ کیا گیا ہے اور روڈ شولڈر اور ڈرینج کو ختم کردیا گیا ہے، جب کہ متعلقہ محکمے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ محکمہ ہائی وے، پختونخوا ہائی وے اتھارٹی، ٹی ایم اے کبل اور اے سی کبل اپنی پوزیشن واضح کریں۔ کیونکہ اگر یہ کام کسی پرائیویٹ شخص یا ادارے نے کیا ہوتا، تو سارے محکمے بھاگم بھاگ دوڑ آتے اور قانون کی کتابیں لاکر قانون کے حوالے دیتے۔ بہ حیثیت عوام ہمارا مطالبہ ہے کہ مستقبل کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر روڈ کے احاطے اور حدود کی حفاظت کو لازمی بنائیں۔ روڈ کنارے نئی تعمیرات کے موقع پر قانون کے مطابق روڈ کی چَوڑائی کا عمل یقینی بنایا جائے۔