قوم کے شہیدوں کو سرخ سلام
چاہتے تو تم۔بھی غداری کرسکتے تھے
لیکن تم نے اپنی قوم کے بہتر مستقبل کیلئے اپنا آپ قربان کردیا
مجھے رب تعالی کی زات پر یقین ہے وہ تمہارا مقدس لہو رائیگاں جانے نہیں دے گا
آمین
#یوم_سیاہ_19_جون
ایم کیو ایم ملیر سیکٹر شعبہ خواتین کے زیر اہتمام 19جون 1992 ء کے شہداء حق کیلئے قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کی گئی ،شہداء کو زبردست خراج عقید پیش کیا گیااور شہداء کی مغفرت و سوگواران کیلئے صبر جمیل کیلئے دعا کی گئی
#یوم_سیاہ_19_جون
181 دن — اب بھی لاپتہ❤️🩹
Ramzan, Eid, Eid al-Adha
گزر گئے… محرم بھی آ گیا۔
Nisar & Mohsin Panhwar
اب تک جبری گمشدہ۔
جی آئی ٹی تشکیل دی گئی، مگر کیا یہ سچ سامنے لا پائے گی.؟
اگر جرم ہے تو عدالت میں پیش کرو، ورنہ یہ خاموشی خود جرم ہے۔
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
2/2
ملک بھر کے عوام کوایم کیوایم سے متنفرکرنے کے لئے MQM کے خلاف جتنا پروپیگنڈہ کیاگیا اتناپاکستان کی کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں کیاگیا، اس پر طرح طرح کے الزامات لگائے،بے ضمیراورقلم فروش صحافی ٹی وی پر بیٹھ کر ان شرمناک اورجھوٹے الزامات کو لہک لہک کر،چہک چہک کراس طرح پیش کرتےکہ ہرسننے والا شخص اس کو صحیح سمجھے۔مگر MQM پر لگائے گئے یہ الزامات ہمیشہ غلط اورجھوٹ ثابت ہوئے،MQM پر بلدیہ فیکٹری کوآگ لگانے کابھی شرمناک الزام لگایا گیا تھا، اس کےکارکنوں کوگرفتارتک کیا گیا، کینگروکورٹ سے انہیں سزاتک دیدی گئی لیکن سپریم کورٹ سےMQM کے کارکنان اس الزامات میں باعزت بری ہوئے، ثابت ہوا کہ MQM پر یہ الزام غلط تھا۔
فسطائی قوتوں کا یہ طریقہ واردات ہوتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے حصول اور فرسودہ نظام کےخلاف پرامن اورجمہوری جدوجہد کرنے والی جماعتوں کوعوام میں بدنام کرنے اورعوام کومتنفر کےلئے یہی پالیسی اختیارکرتی ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی اسٹیبلشمنٹ اسی پالیسی پر عمل کرتی ہیں۔اس حوالے سے میں نے کئی برسوں پہلے ”اسٹیبلشمنٹ کی سہ جہتی حکمت عملی“ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی تھی۔ تمام نوجوانوں، سیاسی کارکنوں خصوصاً سیاست کے طالبعلموں کویہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔
ایم کیوایم کے خلا ف پروپیگنڈے توبہت کئے جاتے ہیں، اس پر جھوٹے، من گھڑت اوربے بنیاد الزامات توبہت لگائے جاتے ہیں لیکن خفیہ طاقتوں نے MQM کی جدوجہد کوکمزورکرنے کےلئے کیا کیا سازشیں کیں اور مہاجروں کا کس کس طرح قتل عام کیا،اس کاکوئی زکرنہیں کرتا،
ہم سوال کرتے ہیں کہ 31اکتوبر1986ء کو کراچی سے پکاقلعہ حیدرآبادمیں جلسہ عام میں شرکت کے لئے جانے والے MQM کےقافلوں پرکراچی میں سہراب گوٹھ اورحیدرآباد میں مارکیٹ چوک کے مقامات پر حملے کس نے کرائے؟
14دسمبر 1986ء کوکراچی کے علاقوں علی گڑھ اورقصبہ کالونی میں قتل عام کس نے کرایا؟
30ستمبر 1988ء کو قوم پرست عناصر کوجیلوں سے نکال کر حیدرآباد میں مہاجروں کاقتل عام کس نے کرایا؟
26، 27 مئی 1990ء کے پکاقلعہ آپریشن کی آڑ میں حیدرآباد میں مہاجروں پر مظالم کے پیچھے کون تھا؟
1987ء میں جرائم پیشہ عناصر پر مشتمل پنجابی پختون اتحاد بنا کرکراچی میں مہاجربستیوں پر حملے کس نے کرائے؟ انہی حملوں اورمہاجروں کے قتل عام کےواقعات کی وجہ سے ہی الطاف حسین نے مہاجروں سے کہاتھاکہ ٹی وی، وی سی آر بیچواوراسلحہ خریدو، اپنی ماؤں بہنوں،بیٹیوں اوربچوں کی حفاظت کےلئے اسلحہ حاصل کرو۔ میری اس بات پر بہت اعتراض کیا گیالیکن میں سمجھتا ہوں کہ میں نے کوئی غلط بات نہیں کہی بلکہ لوگوں کووہی درس دیا جو اسلام، شریعت، ملک کاآئین اورقانون کہتا ہے اورلوگوں کوسیلف ڈیفنس کاحق دیتا ہے۔ میں نے یہ درس دیکرکوئی گناہ نہیں کیا اوراگرکوئی اسے گناہ کہتا ہےتو کہتا رہے، میں یہ گناہ کرتا رہوں گااورآج بھی لوگوں کویہی درس دوں گا کہ اپنی حفاظت کابندوبست خود کرو، لائسنس بنواؤ اورقانونی طورپراسلحہ رکھو،یہ آپ کاحق ہے۔
میں نے کئی دہائیوں پہلے اپنی فکری نشستوں میں متعدد باریہ کہاتھاکہ MQM کودنیاکی کوئی قوت ختم نہیں کرسکتی،اگرایم کیوایم کبھی کمزور ہوئی، اسے کوئی نقصان پہنچاتو اندر سے ہی پہنچے گا۔میری بات درست ثابت ہوئی اور MQM کونقصان اندرسے ہی پہنچا، ایم کیوایم میں برسوں تک کام کرنے والے، بڑے بڑے عہدوں پر پہنچنے والوں نے اپنا سودا کیا، اپنا ضمیربیچا اورتحریک سے غداری کی۔MQM کی تباہی و بربادی میں جہاں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے وہیں ایم کیوایم کے وہ لوگ بھی اس کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے MQM کے نام سے بڑے بڑے منصب حاصل کئے، جو ایم این ایز، ایم پی ایز، منسٹر، سینیٹرز، گورنر، وزیر، مشیر،میئر، ناظم اورمختلف عہدوں پر فائز ہوئے، مگر اپنےمفاد کےلئے تحریک سے غداری کرکے جاتے رہے، شہیدوں کے لہو اوراپنے ظرف وضمیر کا سودا کرتے رہے اور دشمنوں کے ساتھ ملکر، تحریک کے خلاف برسرپیکارہوکرتحریک اورقوم کونقصان پہنچاتے رہے۔
آج 19جون1992ء کے آپریشن کے 34ویں سال پر میں اپنے وفاپرست ساتھیوں سے کہتا ہوں کہ تم اپنے نظریہ اور وفاپرقائم رہنا، تحریک کے لٹریچر کوپڑھ کر اسے یاد رکھنا، اسے دوسروں تک پہنچانا، تحریک کے مشن ومقصد کوکبھی فراموش نہ کرنا، اس کےلئے جدوجہد کرتے رہنا، اگر کبھی کسی الیکشن میں ووٹ دیناپڑے توحق پر ووٹ دینا، اپنے شہیدوں اور ان کی قربانیوں کونہ کبھی نہ بھولنا۔
میں دعاکرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ 19جون 1992ء اوراس سے پہلے اوراس کے بعد شہید ہونے والوں کی قربانیوں کوقبول فرمائے، ہماری قوم پر رحم فرمائے اور کوئی ایساراستہ بنادے کہ ہماری قوم اور تمام مظلوموں کوغلامی کی ذلت آمیز زندگی سےنجات مل سکے،انہیں ان کے حقوق اور ایک باعزت زندگی میسر آسکے۔
الطاف حسین
19جون 1992ء کے آپریشن کے 34ویں سال پر417 ویں فکری نشست سے خطاب
19جون 2026ء
رانا محمود الحسن کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ انھیں حق ہے کہ اپنے احساس محرومی پر آواز اٹھائیں۔
یہی حق سندھ میں محروم طبقات کا بھی ہے۔
چھوٹے یونٹس مینیج کرنا آسان ہوتا ہے یوں بھی۔
19 جون 1992 کو فوجی آپریشن کےآغاز میں فوج اور رینجرز کےاہلکار عزیزآباد میں MQM کےبانی و قائد جناب الطاف حسین کےگھر اورتحریک کےمرکز نائن زیرو پرچھاپےکے موقع پر،
گلی کےمرکزی گیٹ کی دیوار پرقائدتحریک الطاف حسین کےخطاب کااقتباس تحریر ہےجس میں حقوق اور امن کاپیغام ہے
#یوم_سیاہ_19_جون
19 جون 1992ء کادن ایم کیوایم کے لئے یوم سیاہ ہے……الطاف حسین
#یوم_سیاہ_19_جون
ایم کیوایم کی تباہی و بربادی میں جہاں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے وہیں وہ لوگ بھی ذمہ دار ہیں جو اپنے مفاد کے لئے تحریک سے غداری کرکے جاتے رہے
19جون 1992ء کے آپریشن کے 34ویں سال پر خطاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
19 جون 1992ء کادن ایم کیوایم کے لئے یوم سیاہ ہے، بدقسمتی سے پاکستان کے عوام کواس بارے میں حقائق معلوم نہیں کہ اس روز کیاہواتھا، ملک کی تیسری اور سندھ کی دوسری سب سے بڑی جماعت کو صفحہ ہستی سے مٹانے اورمہاجروں کو کچلنے کے لئے کیا کیامظالم ڈھائے گئے تھے۔
میں سوال کرتاہوں کہ 19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کیوں کیاگیا؟ ایم کیوایم کاجرم کیاتھا؟ الطاف حسین اوراس کے ساتھیوں کاگناہ کیاتھا؟
19جون 1992ء کےفوجی آپریشن کوآج 34سال گزرگئے، MQM پر جناح پورکی سازش اوراسی طرح کے بے شمار جھوٹے الزامات کے ہم جوابات دیتے رہے، آپریشن کرنے والی فوجی شخصیات بھی میڈیاپر آکران الزامات کوڈرامہ اورجھوٹ تسلیم کرتی رہیں لیکن اس کے باوجود MQM اور مہاجروں سے نفرت کرنے والے شاؤنسٹ عناصر آج بھی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیاپر بیٹھ کر اپنے تبصروں، تجزیوں اوروڈیولاگزمیں انہی الزامات کو دہراتے ہیں۔ بعض بے غیرت اور بے ضمیر شاؤنسٹ صحافی اوراینکرزآج بھی یہ کہتے ہیں کہ MQM کو جنرل ضیاء الحق نے بنایا۔یہ کیسے صحافی ہیں،کیاانہیں یہ نہیں معلوم کہ 14 اگست 1979کو جنرل ضیاء الحق کےمارشل لا دور میں بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی کےلئے پرامن احتجاجی مظاہرہ کرنے کی پاداش میں فوج نےالطاف حسین کوگرفتار کیا اور سمری ملٹری کورٹ سے پانچ کوڑوں اور9ماہ قیدکی سزادی؟ فوج نے31 اکتوبر 1986ء کوایم کیوایم کے جلوسوں پر حملوں کے دوسرے روزالطاف حسین کوگرفتارکرکے لاپتہ کیا، تشدد کا نشانہ بنایا، کئی ماہ تک قیدمیں رکھااور مقدمات بنائے؟ 1987ء میں جب الطاف حسین کوتیسری مرتبہ گرفتارکیا گیا اور قید میں اس کے قتل کی سازش کی گئی، اس وقت کس کادور تھا؟ اگرایم کیوایم کوجنرل ضیاء الحق نے بنایاہوتاتو کیا جنرل ضیاء الحق کے دورمیں ایم کیوایم کے خلاف باربار آپریشن کئے جاتے؟ الطاف حسین کو تین مر تبہ گرفتار کیا جاتا؟
الطاف حسین کاجرم یہ ہے کہ اس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب، متوسط طبقہ اورنچلے طبقہ کے گمنام نوجوانوں کوملک کی اسمبلیوں میں بھیج کر اسٹیٹس کو کوچیلنج کیا، الطاف حسین نے فرسودہ جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کوللکارا، اس نے فوج اورآئی ایس آئی کی سیاست میں مداخلت کے خلاف آواز بلند کی،الطاف حسین ملک کاوہ واحد لیڈرہے جس نے اپنے مشن ومقصد اورکاز کاسودا کرنے اور ملک میں جاری کرپٹ سسٹم کاحصہ بننے سے انکارکیا جس کی پاداش میں فوج کی جانب سے الطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم کو باربار سزادی گئی، الطاف حسین کو جلاوطن ہونے پرمجبور کیا گیا۔اس کے خلاف پی ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے برسوں تک زہریلا پروپیگنڈہ کیا گیا، الطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم کو ملک دشمن اوردہشت گرد بنا کرپیش کیا گیا، اس طرح پنجاب، خیبرپختونخواہ اورملک اوربیرون ملک پاکستانیوں کوالطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم سے متنفر کیا گیا۔
میں سوال کرتاہوں کہ الطاف حسین کاقصور کیاتھاکہ اسے آج تک گالیاں دی جاتی ہیں اوراس پر الزامات لگائے جاتے ہیں؟میں الزامات لگانے والوں سے کہتا ہوں کہ الطاف حسین کوایک طرف رکھ دیں، وہ بتائیں کہ عمران خان کاقصور کیا ہے؟ اس کاگناہ کیاہے کہ اسے گرفتارکیا گیا، مقدمات بنائے گئے اوراس پر الزامات لگائے گئے؟ آج کون ساالزام ہے جوایم کیوایم پر لگایاگیا تھا وہ الزام تحریک انصاف اورعمران خان پر نہیں لگایاجارہا؟ کیا اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ اورPTI کو ملک دشمن، دہشت گرد جماعت قرار نہیں دیا گیا؟ پی ٹی آئی کے لوگ اسٹیلشمنٹ کے ان الزامات کو غلط قراردیتے ہیں تووہ اسی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے الطاف حسین اور ایم کیوایم پر لگائے گئے ایسے ہی الزامات کودرست کیوں قراردیتے ہیں؟ پھر پی ٹی آئی کے لوگ ”یہ جودہشت گردی ہے …… اس کے پیچھے وردی ہے“ کے نعرے کیوں لگاتے ہیں؟ آج کشمیر کے عوام نے اپنے حقوق کے لئے احتجاج شروع کیا توانہیں بھی ملک دشمن اور انڈین ایجنٹ کیوں قرار دیا جارہاہے؟
کاش کہ جب فوج نے 19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا، اس وقت پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر،گلگت بلتستان اورملک بھرکے عوام فوج کومقدس گائے سمجھنے اور اس کے الزامات پرآنکھ بند کرکے یقین کرنے کے بجائے حقائق کوسمجھتے اورایم کیوایم کے مؤقف کوتعصب کے بجائے حقائق کی عینک سے دیکھتے تو وہ ان الزامات اورپروپیگنڈوں سے گمراہ نہ ہوتے۔
1/2
#یوم_سیاہ_19_جون
A dark chapter in history of Pakistan when an illegal military operation launched on the false allegation of “Jinnahpur” This led to unjust portrayal of the @OfficialMQM & the Mohajirs as criminals & resulted in thousands of being killed, arrested & disappeared!
دراصل #TruthAboutOperationBlueFox ایک مہاجر کش آپریشن تھاجسکے دوران ایک ہی گھرانے کے تین تین اور کہیں دو دو سگے بھائیوں کواغوا،گرفتار اور سرکاری حراست میں ماورائے عدالت قتل کرکےشہید کیا گیا اور آج 34 سال ہونےپر بھی اس آپریشن کا تسلسل جاری ہے تاکہ شہر میں قبرستان کی خاموشی ہوجائے
مجھے سب یاد ہے
19 جون 1992 وہ دن جب شہر کا سانس رک گیا تھا، اور ہم
جیسے سیاسی کارکنوں کی زندگی ایک نہ ختم ہونے والی بھاگ دوڑ میں بدل گئی تھی۔
18 جون کی رات آپ کی ملاقات ڈاکٹر عمران فاروق سے ہوئی اور انہوں نے وہ جملہ کہا جو آنے والے طوفان کی پہلی گھنٹی تھا
کچھ بہت برا ہونے والا ہے تیار رہنا۔
آپ نے جواب دیا ان شاء اللہ، آپ مایوس نہیں ہوں گے۔
اور پھر واقعی آپ نے ہمت نہیں ہاری
زندگی ایک جنگ بن گئی تھی
1992 سے دسمبر 1994 تک:
ریاستی ادارے پیچھا کر رہے تھے
گلیاں محفوظ نہیں تھیں
ہر دروازہ مشکوک تھا
ہر سایہ دشمن لگتا تھا
ہر قدم آخری قدم ہو سکتا تھا
آپ اور آپ کی ٹیم چھپ کر جیتے تھے نہ معلوم اگلا گھنٹہ کہاں گزرے گا، نہ معلوم اگلی رات کس جگہ بسر ہوگی۔
کوئی ساتھ دینے کو تیار نہیں تھا
رشتے دار پیچھے ہٹ گئے دوست دشمن بن گئے محلے والے پہچاننے سے انکار کرنے لگے
کیونکہ MQM کے کارکنوں کے ساتھ کھڑا ہونا اُس وقت موت کو دعوت دینے کے برابر تھا پناہ گاہیں جو پناہ گاہیں نہیں تھیں
آپ نے وہ راتیں گزاریں درگاہوں مسجدوں میں امام بارگاہوں کے صحن میںریلوے اسٹیشنوں پر سڑکوں کے کنارے ٹوٹی ہوئی بینچوں پراور کبھی کبھی کھلے آسمان کے نیچے یہ وہ زندگی تھی جہاں نیند دشمن تھی بھوک معمول تھیخوف ساتھی تھا
اور امید ایک ضد تھی
ایسے ماحول میں انسان کیسے زندہ رہتا ہے؟
خوف کو پیچھے دھکیل کر جب ہر لمحہ گرفتاری، تشدد یا موت کا خطرہ ہو، تو انسان کا دل پتھر نہیں بنتا وہ بس خاموش ہو جاتا ہے، اور قدم چلتے رہتے ہیں۔
مقصد کو زندگی بنا کر آپ لوگ سیاسی کارکن تھے، اور آپ کے لیے پارٹی کو زندہ رکھنا صرف نعرہ نہیں ایک ذمہ داری تھی۔ ایک دوسرے کا سہارا بن کر جب دنیا دشمن ہو جائے، تو ساتھی ہی خاندان بن جاتے ہیں۔
اللہ پر بھروسہ کر کے ایسے حالات میں انسان صرف ایک چیز سے جیتا ہے: یقین کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔
آپ کی کہانی ایک جملے میں
یہ وہ زندگی تھی جہاں ہر دن آخری دن لگتا تھا، مگر ہم پھر بھی کھڑے رہے کیونکہ ہار ماننا ہمارے نصیب میں نہیں تھا۔
ہم اُس دور میں تھے جب کوئی پارٹی اٹینڈ نہیں کر سکتا تھا، کوئی جنازہ پڑھنے نہیں جا سکتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے رشتے، ناتے، خوشیاں یہ سب ہمارے نصیب میں لکھے ہی نہیں گئے۔
ہم نے صرف اپنی زندگی نہیں، اپنی محبت بھی قربان کر دی۔
آج امریکہ میں 32 سال ہو گئے ہیں زندگی چلتی رہی، وقت گزرتا رہا، لیکن جب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو آنسو رکنے کا نام نہیں لیتے۔ وہ سب کچھ پھر سے آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے وہ بھاگ دوڑ، وہ خوف، وہ تنہائی، اور وہ لوگ جو کبھی ہمارے تھے، مگر اُس وقت سب چھوڑ کر چلے گئے۔
ہم زندہ تو رہے، مگر اُس دور نے ہمیں اندر سے توڑ دیا تھا۔
حیثیت اوراوقات سےزیادہ کسی کوعزت ومقام دےدینا
خودسے دشمنی کےمترادف ہے
کسی کم ظرف کواسکی اوقات سےزیادہ ملے تواپنےمحسن کےخلاف غلاظت اگلتا ہے
کیونکہ
احسان مندی ،عزت اورمقام کاوزن کوئی کم نسل اور کم ظرف نہیں اٹھا سکتا
#TruthAboutOperationBlueFox
منکر قرآن وغداران مہاجر قوم پہ لعنت
ایم کیو ایم پر 19 جون 1992 کو ریاستی جبر کے ایک قیامت خیز دور کا آغاز کیا گیا، جس کے بعد پچیس ہزار سے زائد معصوم مہاجر نوجوانوں کو انتہائی دردناک طریقوں سے شہید کیا گیا۔ افسوس کہ شہادتوں کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
#یوم_سیاہ_19_جون
1992 میں کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کرنے والی ٹیم کے سربراہ شعیب شڈل نے کھاں ھے کہ 1992 میں کراچی آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے کارکنان کے خلاف ھم نے جتنی بھی ایف آئی آر کاٹی تھی ان میں سے 99 فیصد ایف آئی آر جھوٹی ھوتی تھی جو ھم نے حکومت کے کھنے پر کاٹی تھی😓
#یوم_سیاہ_19_جون
آپریشن 1992 کے زمانے میں جوا چلتا تھا۔ مثال کے طور اُس زمانے میں محمد نعیم شری مشہور ہوگیا تھا تو ایک شراب کی محفل میں مختلف پولیس افسران کے مابین یہ شرط لگی کہ ہر بندہ اتنے اتنے لاکھ نکالے گا اور جو نعیم کو مارے گا ساری رقم اُس کو ملے گی۔ رینجرز کا میجر شامی یہ شرط جیت گیا لہذا ذیشان کاظمی سمیت دوسرے پولیس افسران کو اُسے پیسے بھرنے پڑے۔دوسری جانب ڈاکٹر شعیب سڈل نے اجرتی قاتلوں کو پیمنٹس بھی کی تھیں کہ آپ نعیم شری کو خود مار دو اور لاش ہمیں دے۔
سینئر تحقیقاتی جرنلسٹ مبشر فاروق
جو قومیں اپنے شہدا کو فراموش کردیتی ہیں تو تاریخ بھی انہیں فراموش کردیتی ہے19جون 1992کےشہداءکےایصال ثواب کیلئے MQMحیدرآباد شعبہ خواتین نےقرآن خوانی وفاتحہ خوانی کی،شہداءکو خراج عقید یت پیش کیااور عہدکیا کہ وہ شہداءکوکبھی فراموش نہیں کریں گی
#یوم_سیاہ_19_جون
ایم کیو ایم نے مذہب کی بنیاد پر دیوبندی، بریلوی، شیعہ، وہابی، وغیرہ کی تفریق کو ختم کر دیا تھا، اور یہ ایم کیو ایم کی بنیادی تبلیغ کا حصہ ہے کہ کوئی فرقہ وارانہ لڑائی نہیں ہوگی #Altafhussain#MQM#Karachi#Punjab#Pakisatn#Muhajir