یہ لڑکا ایک سیاح ہے جو دنیا گھومتا ہے۔ جب اسرائیلی ٹی وی اینکر نے اس کا پسندیدہ ملک پوچھا، تو اس کے منہ سے بے ساختہ 'پاکستان' نکلا۔ پھر آگے کیا ہوا، آپ خود ملاحظہ کریں!
ایک اردو کی ﺍﺳﺘﺎﻧﯽ ﺟﯽ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮕﯿﺘﺮ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺑﯽ ﺧﻂ جو کسی "فن پارے" سے کم نہی...
میرے پیارے تاج الدین،
سلامِ محبت،
تمہارا املا کی غلطیوں سے بھرپور مراسلہ ملا،
جسے تم بدقسمتی سے "محبت نامہ" کہتے ہو۔
یقین کرو، کوئی مسرت نہیں ہوئی۔
یہ خط بھی تمہارے پچھلے خطوط کی طرح بےترتیب اور بےڈھنگا ہی تھا...
اگر خود صحیح نہیں لکھ سکتے تو کسی سے لکھوا لیا کرو۔
خط سے آدھی ملاقات ہوتی ہے اور تم سے یہ آدھی ملاقات بھی اس قدر دردناک ہوتی ہے کہ بس...!
اور ہاں... یہ جو تم نے میری شان میں قصیدہ لکھا ہے،
یہ دراصل قصیدہ نہیں بلکہ ایک فلمی گانا ہے،
اور شاید تمہارے علم میں نہیں کہ فلم میں یہ گانا ہیرو اپنی ماں کے لیے گاتا ہے۔
اور ہاں، سنو...! پان کم کھایا کرو۔
خط میں جگہ جگہ پان کے دھبے صاف نظر آتے ہیں۔
اگر پان نہیں چھوڑ سکتے تو کم از کم خط لکھتے وقت تو ہاتھ دھو کر بیٹھا کرو۔
اور یہ جو تم نے ملاقات کی خواہش کا اظہار انتہائی احمقانہ انداز میں کیا ہے،
یوں لگتا ہے جیسے کوئی یتیم بچہ اپنی ظالم سوتیلی ماں سے ٹافی کی فرمائش کر رہا ہو،
اس یقین کے ساتھ کہ وہ اسے کبھی نہیں نہیں دے گی۔
ایک بات تم سے اور کہنی تھی کہ کم از کم اپنا نام تو صحیح لکھا کرو۔
یہ "تاجو" کیا ہوتا ہے...
ایسا لگتا ہے جیسے کسی قصائی یا دودھ والے کا نام ہو۔
مخفف لکھنا ہی ہے تو صرف "تاج" لکھ دو۔
آئندہ خط احتیاط سے لکھنا، اُس میں کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے۔
آخر میں تم نے جو شعر لکھا ہے،
وہ تو اب رکشہ والوں نے لکھنا بھی چھوڑ دیا ہے۔
"اوہ میرے خدا...!"
مجھے ڈر ہے کہ تم سے عشق کا یہ سلسلہ کہیں میری اردو بھی خراب نہ کر دے۔
بس یہی کہنا تھا۔
فقط،
تمہاری سوزنِ الفت
منقول📚
ادیبہ نو ر
ازل کے چہرے پہ نور اُس کا
ظہورِ عالم ظہور اُس کا
خود اُس کی آواز گفتۂ حق
خود اُس کی تنہائی طُور اُس کا
بہت سے عالی مقام آئے
خدا کے بعد اُس کا نام آئے
وہ اولیں ہے وہ آخری ہے
میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
🫶🫶🫶