فیروز آباد میں محرم کے موقع پر انتظامیہ کی جانب سے تعزیوں کی اونچائی جانچنے کا عمل توجہ کا مرکز بن گیا۔اے ایس پی انوج چودھری اپنی ٹیم کے ساتھ انچی ٹیپ لے کر مختلف مقامات پر پہنچے اور ��عزیوں کی پیمائش کی۔
سرکاری ہدایات کے مطابق تعزیے کی زیادہ سے زیادہ اونچائی 12 فٹ مقرر کی گئی ہے۔
جواد نقوی کی ہرزہ سرائی کے جواب میں ایک بار پھر ناشتہ کا واویلا کرنے والے شرم و حیاء سے ایسے عاری ہیں کہ اپنے مذہبی پیشوا کے قاتل کے ساتھ مذاکرات کی بھیک ما��گ کر صلح بھی کر لی دن رات اسکی ٹیبل سے کھانے بھی کھا رہے اور مالی فوائد بھی حاصل کر رہے اور ایجنٹی بھی کر رہے لیکن حرام صرف بین المذاہب کانفرنس میں شرکت کرنا ہے
سیاسی کا قیادت کا یہ اظہار بھی بہت اہم ھیکہ وہ بلدیاتی نظام کو اسکی روح کیمطابق سمجھنے کی بات کر رہے ہیں، بلدیاتی انتخابات اور مئیر کا اختیار سب سے زیادہ کلیدی ہے مگر سیاسی قیادت اسے خطرہ سمجھ کر پہلے انتخابات نہیں کراتی اگر مجبوراً کرادے تو پیپلزپارٹی کیطرح اختیار نہیں دیتی
عبیدیوں (رافضی زنادقہ) نے اپنے دورِ حکومت میں چار ہزار علماء و عُباد کو دار النحر (مذبح خانے) میں اس بات پر قتل کیا کہ وہ صحابہ کرام کو رضی اللہ عنہم کہنے سے باز آ جائیں، مگر انہوں نے موت کو قبول کیا۔
(العبر في خبر من غبر للذهبي : ١٧/٢)
الحمدللہ الحمدللہ الحمدللہ
انور/مراد کا خاندان ہماری پوسٹ لگنے کے صرف 18 منٹ بعد بٹگرام سے مل گیا۔
تصدیق میں دیر اس لئے لگی کیونکہ مجھ سے ایک غلطی ہوئی تھی۔ مراد نے اپنے والد کا نام مجرب خان بتایا تھا میں رب خان سمجھا تھا۔ ابھی جب مراد کو کال کی تو اس نے بتایا میں نے رب خان نہیں مجرب ہی بتایا تھا۔ اور بچے کی دادی تصویر دیکھنے سے قبل ہی کہا تھا کہ میرے پوتے کی تھوڑی پر نشان ہے۔بھائی ہدایت اللہ موجود ہے ۔ کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن سے ہی گم ہوا تھا۔
حسن اتفاق دیکھیں انکے بھائی آصف نے اکتوبر 2025 کو میرے نمبر پر میری ہی ایک پوسٹ بھیجی تھی۔ وہ پوسٹ پشاور کے ایک شیلٹر میں موجود بچے کے حوالے سے تھی انکو اپنا بھائی لگا تھا۔ آپ تمام دوستوں کی سپورٹ کا بہت بہت شکریہ۔
#waliullahmaroof
🚨حقیقی ڈیجیٹل انقلاب صرف کمپیوٹر لگانے کا نام نہیں
ابھی ڈنمارک میں ایف ایس سی (Gymnasium) کے بعد یونیورسٹی داخلوں کا مرحلہ شروع ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے ملک کی تمام یونیورسٹیوں کے لیے صرف ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم موجود ہے۔
طالب علم اپنی ڈیجیٹل آئی ڈی سے لاگ اِن کرتا ہے، اس کی بنیادی معلومات پہلے سے موجود ہوتی ہیں اسے نام پتہ تک نہی لکھنا ہوتا ہے، اور اسے صرف اپنی پسند کے ملک بھر سے آٹھ یونیورسٹی پروگرام ترجیحی ترتیب (Priority Order) کے ساتھ منتخب کرنے ہوتے ہیں۔ نہ کوئی علیحدہ فارم، نہ کاغذات کی فوٹو کاپیاں، نہ تصدیق شدہ اسناد، نہ دفاتر کے چکر کا رولا ہے
سسٹم خودکار طریقے سے سکولوں اور متعلقہ اداروں سے تمام تعلیمی ریکارڈ آن لائن حاصل کر لیتا ہے۔ پھر ہر یونیورسٹی آزادانہ طور پر میرٹ کے مطابق درخواستوں کا جائزہ لیتی ہے۔
اس پورے عمل کے پیچھے Stable Matching Algorithm استعمال ہوتا ہے، جس کے خالقین کو 2012 میں معاشیات کا نوبل انعام ملا تھا۔ اس نظام میں اگر طالب علم اپنی پہلی ترجیح والے پروگرام میں میرٹ پر آ جائے تو باقی سات درخواستیں خود بخود بند ہو جاتی ہیں۔ اگر پہلی ترجیح نہ ملے تو دوسری، تیسری یا جس پروگرام میں اس کا میرٹ بنتا ہو، وہ آفر موصول ہو جاتی ہے۔ اس طرح سیٹیں ضائع نہیں ہوتیں اور پورا نظام زیادہ مؤثر اور منصفانہ بن جاتا ہےایک طالبعلم دس جگہ میرٹ خراب نہی کرتا نا سیٹ بلاک کر سکتا ہے۔
یہ ہے اصل ڈیجیٹلائزیشن؛ جہاں ٹیکنالوجی صرف موجودہ بیوروکریسی پر رنگ روغن نہیں کرتی بلکہ پورے عمل کو ازسرِ نو ڈیزائن کرتی ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان، خصوصاً پنجاب میں اکثر ڈیجیٹلائزیشن کا مطلب صرف QR کوڈ، موبائل ایپ یا آن لائن فارم سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ پسِ پردہ وہی نوآبادیاتی دور کا ریڈ ٹیپ، وہی فائل کلچر اور وہی افسر شاہی برقرار رہتی ہے۔
حقیقی ڈیجیٹل انقلاب کمپیوٹر لگانے کا نام نہیں، بلکہ غیر ضروری بیوروکریسی ختم کرکے شہری کے لیے نظام کو آسان، تیز، شفاف اور خودکار بنانے کا نام ہے۔
اس نوجوان کو اپنوں سے ملانے میں مدد کریں۔۔۔!!
چند روز قبل اس بھائی سے رابطہ ہوا۔ انکو اپنے گھر والوں کی تلاش تھی۔
ہم نے ام سے تفصیلات مانگیں تو کچھ اس طرح سے بتانے لگا:
ہمارا گاوں میری دھندلی یادوں کے مطابق بٹگرام میں تھا،زلزلے کے بعد ہم گاوں سے کراچی منتقل ہوگئے تھے۔ہماری مادری زبان پشتو تھی۔
ہم کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں رہتے تھے،گھر کے قریب الیاس کوچ کا اڈہ تھا۔
میں ایک روز گھر سے کچھ سامان خریدنے کے لئے نکل ��یا تھا یاد نہیں کس طرف چلا گیا راستہ بھول گیا۔ کئی روز تک سڑکوں پر رہا پھر کسی نے مجھے لاوارث پاکر پولیس اسٹیشن کو دیا اور وہاں سے پھر مجھے ایک شیلٹر میں جمع کرایا۔
شیلٹر کی جانب سے بہت کوشش کی گئی لیکن میرے گھر والے نہیں ملے ۔ ٹی وی پروگرامز میں بھی گیا لیکن گھر کا پتہ نہیں چلا۔
میرا نام یہاں انور رکھا گیا تھا لیکن اصل نام گھر میں مراد اللہ تھا۔ مجھے میرے والد کا نام رب خان یاد ہے ،ایک بھائی کا نام ہدایت اللہ یاد ہے۔اور بھائی بھی تھے انکے نام مجھے یاد نہیں ہیں۔
میں جب بڑا ہوا اپنے دوستوں کے ساتھ کراچی اتحاد ٹاون اور آس پاس کے تمام محلوں میں اپنا گھر ڈھونڈنے گیا مسج��وں میں اعلان کروائے لیکن میرے گھر کا پتہ نا چل سکا۔
مجھے میرے خاندان سے ملوائیں میں مزید لاوارثی کی زندگی گزار نہیں سکتا۔ میرا بھی دل چاہتا ہے بہن بھائی اور والدین کے ساتھ رہوں۔
آپ دنیا کے کسی بھی کونے سے ہماری یہ پوسٹ دیکھ رہے ہیں اگر سینے میں دل ڈھڑکتا ہے تو انسانیت کی خاطر ضرور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
آپکا ایک شئیر کسی دکھی ماں کی خوشیاں برسوں بعد لوٹا سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
25 june 2026
#waliullahmaroof
پاکستان دُنیا کا واحد مُلک ہے جہاں آپکو مُحب وطن بننے کیلئے جو بھی موجودہ حکومت ہو اُسکے حق میں بولنا پڑے گا ورنہ آپ غدار۔عاشق رسول بننے کیلئے میلاد منانا پڑے گا۔عاشق اہل بیت کا ثبوت ماتم کر کے دینا پڑے گا
اور اگر کسی لبیکی کے ہتھے چڑھ گئے تو کلمہ سنا کر مسلمان ہونا پڑے گا 😅
اس وقت اگر کشمیری احتجاج پر ہیں تو میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ وہاں جو باضابطہ طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا ہے اُس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جس پر حکومت نگوشیٹ نہ کرسکے، تقریروں میں وہ نوجوان ہیں اگر کسی نے کوئی حد سے آگے بڑھ کر بات کی ہے یا پاکستان کے خلاف کوئی الفاظ تعبیر ہوئے ہیں تو اُس کے حق میں بھی باتیں ہوئی ہیں، اسی اجتماع میں ہوئی ہیں، انہی مقررین نے پاکستان کے حق میں باتیں کی ہیں، اور آج وہ باقاعدہ ایک خط مجھے بھیج رہے ہیں۔
جناب سپیکر! آپ کی توجہ چاہیے، جناب سپیکر میں آپ سے مخاطب ہوں، رولز کے مطابق سپیکر سے ہی مخاطب ہونا پڑتا ہے اور اگر سپیکر جو ہے جب وہ "چشم من در چشم تو
چشمان تو جائے دیگر"،
کشمیریوں کی جو اس وقت جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے، انہوں نے باضابطہ طور پر مجھے یہ خط بھیجا ہے اپنے قیادت کے دستخطوں کے ساتھ اور جس میں انہوں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے مجھے کہا ہے، یقیناً یہ کام میں تنہا نہیں کر سکتا، نہ میرے بس کی بات ہے لیکن میں نے اس کا مثبت جواب دیا ان کو اور کل 23 تاریخ تھی، یہ آخری تاریخ تھی انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کرنا تھا اور اگلا پروگرام دینا تھا، لیکن انہوں نے نہیں دیا اور ابھی ان کے درمیان میں شائد مشاورت چل رہی ہو، وہ کوئی جواب تیار کر رہے ہوں میرا جو ان کو پیغام ملا ہے اس کے بارے میں، لیکن حکومت حکومت ہوا کرتی ہے، اگر حکومت کا رد عمل مقررین نوجوانوں کی ت��ریروں اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر حکومت کا رد عمل جذباتی ہو جاتا ہے تو یہ حکومت کا مقام نہیں ہوا کرتا۔
جناب سپیکر! اچھا ہوا کہ اس وقت جناب وزیراعظم بھی تشریف لے آئے ہیں ہاؤس میں، موجود ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بھی موجود ہے اور ان کی موجودگی میں، میں آپ سے گزارش کر رہا ہوں کہ اگر اس وقت احتجاج پر بیٹھے ہوئے عوام کا ایک بڑا ہجوم ہے، ایسا نہیں کہ بلکل وہاں پر کوئی پبلک نہیں ہے ان کے ��اتھ، لوگ بڑی تعداد میں راولاکوٹ میں موجود ہیں اور ان کی جو جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے اس کا باضابطہ طور پر میرے پاس خط آیا اور میں نے اس کے جواب میں ایک بیان ریکارڈ کیا، جب ان کو بھیجا، اس کو پبلش کیا میں نے، کہ میں اس میں جو کردار میرا ادا ہو سکتا ہے میں کرنے کے لئے تیار ہوں اور حکومت کے آفس کو بھی میں نے آگاہ کیا ہے، ابھی تک نہ حکومت کی طرف سے مجھے کوئی جواب ملا ہے اور نہ ہی ابھی تک ان کی طرف سے کوئی رد عمل آیا ہے، سوائے اس کے کہ کل 23 تاریخ تھی اور کل انہوں نے اگلا پروگرام دینا تھا، لانگ مارچ کا اعلان کرنا تھا، جو انہوں نے نہیں کیا اور اس وقت انہوں نے کسی قسم کے اگلے قدم کا اعلان نہیں کیا ہے۔
تو یہ ان کی طرف سے ایک مثبت رد عمل عملی طور پر نظر آ رہا ہے اور میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمارے جواب کو احترام دیا اور ان شاءاللہ اگر حکومت کی طرف سے کوئی مثبت اور امید افزا گفتگو ہوتی ہے تو یہ مسئلے کو حل کرنے کی طرف لے جائے گی، بات چیت ہونی چاہیے، چارٹر آف ڈیمانڈ پہ نظر رکھنی چاہیے، مقررین کی تقریروں کو بہانہ بنا کر طاقت کا استعمال یہ کبھی بھی حکومتوں کا رویہ نہیں ہوا کرتا، حکومت جو ہیں وہ ماں باپ کی حیثیت رکھتی ہے اور جب کشمیر کے اندر تشدد ہوگا آپ بتائیں کہ اٹھتر سال تک کشمیریوں کے کاز کی وکالت کرنا اس کو آپ ایک لمحے میں دفن کردیں گے اور وہ انــڈیا جو ہر فورم پر دفاعی پوزیشن میں ہوا کرتا تھا آج وہ جارحانہ انداز اختیار کر چکا ہے، جب ہم ان کے خلاف قراردادیں پیش کرتے تھے بیلجیم میں، انسانی حقوق کے اداروں میں، اقوام متحدہ میں، آج وہ پاکستان کے خلاف قراردادیں لا رہا ہے، پوزیشن بالکل تبدیل کر دی گئی ہے وجہ یہ ہے کہ پاکستان ریاست کے طرف سے جو رد عمل گیا ہے اور جو ان کو لاشیں ملی ہیں اور مزید بھی بالکل تیار کھڑے ہیں کہ کبھی کوئی حرکت ہو تو ہم ایک سخت اقدام کریں، اس سے مسئلہ کشمیر کی پوری نوعیت تبدیل ہو گئی ہے، پاکستان کا موقف بالکل برعکس چلا گیا ہے اور انــڈیا ک�� موقف بھی برعکس چلا گیا ہے۔ ہم جہاں اٹھتر سال تک کھڑے تھے آج ہنــدوستان وہاں کھڑے ہونے کی طرف جا رہا ہے اور جہاں ہنــدوستان اٹھتر سال تک کھڑا تھا آج ہم پاکستان اسی مقام پر جا رہے ہیں، اس میں کچھ ہمیں حکمت عملی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور خواجہ آصف صاحب نے جو باتیں کی ہیں ہر چند کہ اگر اس میں قابل اعتراض مواد ہے، ہر چند کہ اس میں اگر کشمیر یا پاکستان کے مفاد کے خلاف کوئی مواد ہے تب بھی وہ خواجہ آصف نہیں ہے یہاں پر، وہ یہاں پر وزیر دفاع ہیں اور وزیر دفاع کی حیثیت سے ان کا رد عمل محتاط ہونا چاہیے تھا۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پارلیمنٹ میں خطاب
جواد نقوی نے اپنے تازہ پروگرام میں ایک مرتبہ پھر اپنا معتدل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے زہر اگلتے ہوئے کہتا ہے ہم امیر معاویہ کو تکریم کے قابل نہیں سمجھتے یہ سب سے معتدل بنا پھرتا ہے باقیوں کے حالات کیا ہوں گے کہاں پیغام پاکستان کے اصول و ضوابط؟ کیا اس دستاویز میں یہ اصول و ضوابط طے نہیں چکے کہ آپ کسی کے مقدسات کے بارے میں توہین اور نفرت انگیز جملے نہیں بولیں گے؟ یا تو شیعہ اعلانیہ طور پر اس معاھدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کریں
اعلانیہ مقدسات اہل سنت کی تکریم کا انکار؟؟ کہاں سرکاری درباری چاپلوس گ س تا خوں کے سہولت کار جعلی ملا؟؟ہمارے نزدیک جو کسی صحابی کی تکریم کا منکر ہے وہ عزت و احترام کا ہر حق خود کھو دیتا ہے
مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب.
ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں۔ ہم فوج کا احترام کرتے ہیں، ہم اسٹیبلشمنٹ کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہمارے سامنے ایک آئین بھی ہے اور ایک قانون بھی، جو ہمارے دائرۂ کار اور اختیارات کا تعین کرتا ہے۔
اگر وہ اپنے دائرے میں رہیں تو وہ ہمارے سروں کے تاج ہیں، لیکن اگر وہ سیاست میں فریق بن کر سامنے آئیں، انتخابات کے نتائج کو تبدیل کریں، اور بلوچستان اور گلگت میں حال ہی میں جس طرح نتائج تبدیل کیے گئے، وہ سب ہمارے سامنے ہے۔ میرے خیال میں اگر وہ سیاست میں آئیں گے تو پھر سیاست میں ہم بھی موجود ہیں اور انہیں جواب بھی دیا جائے گا۔
اگر وہ اپنے فرائض تک محدود رہیں تو ہم نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے۔ جب انڈیا کے ساتھ لڑائی ہوئی تو سب سے پہلے میں نے سپورٹ کیا اور کہا کہ ہم ایک قوم ہیں۔ اگر آپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے تو سب سے پہلے میں نے اس کی بھی حمایت کی۔ میں اچھے کام کی تعریف کروں گا، لیکن اگر آپ غلط راہ پر چلیں گے تو ہم گونگے نہیں ہیں کہ خاموش رہیں۔ پھر ہم پارلیمنٹ میں بھی بات کریں گے۔
پارلیمنٹ سپریم ہے، پارلیمنٹ سپیریر ہے، اور پارلیمنٹ میں ہر معاملے پر بات کی جا سکتی ہے۔ دفاعی قوت ہو یا کوئی اور ادارہ، اسٹیبلشمنٹ ہو یا بیوروکریسی، سب اس پارلیمنٹ کے ماتحت ہیں۔ اگر پارلیمنٹ آج بجٹ پاس کر رہی ہے اور اسی بجٹ سے اداروں کو فنڈز ملتے ہیں، پھر اگر ان وسائل کا غلط استعمال ہو تو اس پر تنقید بھی پارلیمنٹ ہی کرے گی۔ اگر پارلیمنٹ نہیں کرے گی تو کون کرے گا؟
لہٰذا پارلیمنٹ کو آزاد رہنے دیجیے، پارلیمنٹ کو سپیریر اور سپریم رہنے دیجیے۔ کسی کے بھی بالاتر ہونے کا تصور نہیں ہونا چاہیے۔ ہم کوئی ایسی تنقید نہیں کر رہے، خدا نخواستہ، کہ کسی کا مذاق اڑا رہے ہوں یا برے الفاظ استعمال کر رہے ہوں۔ ہم صرف ان کے کردار�� رویّے، مؤقف اور طرزِ عمل پر اپنی شکایت ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں، اور وہ شکایت ریکارڈ پر لائیں گے۔
میاں شہباز شریف صاحب یہاں تشریف فرما ہیں۔ کیا جب ہم ایک ہی اسٹیج پر ہوتے تھے تو انہوں نے اُس زمانے میں فوج کے سربراہ کا نام نہیں لیا تھا؟ کیا انہوں نے اُس وقت جنرل فیض کا نام نہیں لیا تھا؟ کیا انہوں نے اُس وقت فوج کے ادارے کو محکمۂ زراعت نہیں کہا تھا؟ یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ پہلے اپنے ماضی کو بھی دیکھ لیا کریں، پھر ہماری تنقید پر اتنا سخت ردِعمل دیا کریں۔
جناب سپیکر۔ PTV اگر مولانا صاحب کی تقریر کو نشر نہیں کرتا تو ھم مارجن دے سکتے ھیں کہ اس وقت مولانا صاحب ھی اس حکومت و اسٹیبلشمنٹ کی توانا اپوزیشن ھیں لیکن آپ نے پارلیمنٹ کی TV سکرینیں بند کرکے مولانا صاحب کی آواز کوکیوں دبایا، آپ نے اپنے ممبر پارلیمنٹ کی آواز کو کیوں دبایا؟؟؟ پھر بھی آپ کو یہ دعوی ھے کہ آپ اس ھاؤس اور اس کے ممبران کے کسٹوڈین ھیں؟؟؟
#MaulanaOneManArmy
یہ گرین سرٹیفکیٹ والا کیا نیا عذاب عوام کے گلے ڈال دیا ہے ۔ سرکاری نوکروں کے کھانے کے لیے ایک اور جگہ کا انتظام ہوگیا ہے ۔ مجال ہے عوام کی سہولت کے لیے کچھ کریں ، عوام کی زندگی اجیرن کرنے کے لیے طریقے ڈھونڈتے ہیں
اگر ادارے اپنے دائرے میں رہیں تو وہ ہمارے سروں کے تاج ہیں، لیکن اگر وہ سیاست میں فریق بن کر سامنے آئیں، انتخابات کے نتائج کو تبدیل کریں، اور بلوچستان اور گلگت میں حال ہی میں جس طرح نتائج تبدیل کیے گئے، وہ سب ہمارے سامنے ہے۔ میرے خیال میں اگر وہ سیاست میں آئیں گے تو پھر سیاست میں ہم بھی موجود ہیں اور انہیں جواب بھی دیا جائے گا۔
اگر وہ اپنے فرائض تک محدود رہیں تو ہم نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے۔ جب انڈیا کے ساتھ لڑائی ہوئی تو سب سے پہلے میں نے سپورٹ کیا اور کہا کہ ہم ایک قوم ہیں۔ اگر آپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے تو سب سے پہلے میں نے اس کی بھی حمایت کی۔ میں اچھے کام کی تعریف کروں گا، لیکن اگر آپ غلط راہ پر چلیں گے تو ہم گونگے نہیں ہیں کہ خاموش رہیں۔ پھر ہم پارلیمنٹ میں بھی بات کریں گے۔
پارلیمنٹ سپریم ہے، پارلیمنٹ سپیریر ہے، اور پارلیمنٹ میں ہر معاملے پر بات کی جا سکتی ہے۔ دفاعی قوت ہو یا کوئی اور ادارہ، اسٹیبلشمنٹ ہو یا بیوروکریسی، سب اس پارلیمنٹ کے ماتحت ہیں۔ اگر پارلیمنٹ آج بجٹ پاس کر رہی ہے اور اسی بجٹ سے اداروں کو فنڈز ملتے ہیں، پھر اگر ان وسائل کا غلط استعمال ہو تو اس پر تنقید بھی پارلیمنٹ ہی کرے گی۔ اگر پارلیمنٹ نہیں کرے گی تو کون کرے گا؟
لہٰذا پارلیمنٹ کو آزاد رہنے دیجیے، پارلیمنٹ کو سپیریر اور سپریم رہنے دیجیے۔ کسی کے بھی بالاتر ہونے کا تصور نہیں ہونا چاہیے۔ ہم کوئی ایسی تنقید نہیں کر رہے، خدا نخواستہ، کہ کسی کا مذاق اڑا رہے ہوں یا برے الفاظ استعمال کر رہے ہوں۔ ہم صر�� ان کے کردار، رویّے، مؤقف اور طرزِ عمل پر اپنی شکایت ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں، اور وہ شکایت ریکارڈ پر لائیں گے۔
میاں شہباز شریف صاحب یہاں تشریف فرما ہیں۔ کیا جب ہم ایک ہی اسٹیج پر ہوتے تھے تو انہوں نے اُس زمانے میں فوج کے سربراہ کا نام نہیں لیا تھا؟ کیا انہوں نے اُس وقت جنرل فیض کا نام نہیں لیا تھا؟ کیا انہوں نے اُس وقت فوج کے ادارے کو محکمۂ زراعت نہیں کہا تھا؟ یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ پہلے اپنے ماضی کو بھی دیکھ لیا کریں، پھر ہماری تنقید پر اتنا سخت ردِعمل دیا کریں۔
جنابِ اسپیکر! آپ یقیناً ہمیں ڈانٹیں، آپ ہمارے اسپیکر ہیں اور ہماری غلطیوں کی اصلاح بھی کریں گے۔
ا��یر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب
پارلیمینٹ کی تقریر کو میڈیا پر بلیک آوٹ کرنے سے مولانا صاحب کی آواز بند نہیں ہوئی، بلکہ وزیراعظم، اسپیکر اور اس کی حکومتی ٹیم کی بچی کچی سیاسی،جمہوری ساکھ کا جنازہ نکل گیا ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس۔
امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن کا خطاب:
ایوان میں بہت سی جذباتی باتیں ہوئی ہیں
یہ وقت تحمل و برداشت کا ہے
کل سپیکر صاحب۔ آپ نے بھی جذباتی گفتگو کی ہے جو اپکو نہیں کرنی چاہئے تھی
جلسوں میں جب نواز شریف ہمارے ساتھ کنٹینر پر ہوتے تھے تو آرمی چیف اور آئی ایس آئی کا نام نہیں لیتے تھے ؟
کیا فوج کو نواز شریف محکمہ زراعت نہیں کہا کرتے تھے ؟
میں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے خط کا ویڈیو جواب دیا ہے
میں نے حکومت کو بھی آگاہ کیا ہے ۔
میں عوامی ایکشن کمیٹی کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتا ہوں کہ انہوں نے مظفرآباد کی طرف کل کا مارچ موخر کیا ہے
ریاست کی طرف سے تقریروں کی بنیاد پر ایکشن لیا جانا کیسے درست ردعمل ہے
کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے آج ہم کیا کررہے ہیں
خواجہ آصف نے جو باتیں کی ہیں وہ ردعمل بطور وزیر دفاع نہیں کرنی چاہئیے تھیں
آپ نے لڑائی خواجہ آصف اور صلح اسحق ڈار کے حوالے کر رکھی ہے
عالمی سطح پر عالمی امن سے حکومت نیک نامی کمارہی ہے تو پاکستان نیک نامی گنوا رہی ہے
پاکستان کی فوج کو سرحدوں میں ہونا چاہئے اسے ملک کے اندر استعمال کیا جارہا ہے ۔
خواجہ آصف جیسے بیانات اشتعال کو بڑھائیں گے
اپوزیشن کو مجبور نہ کریں
ہم نے چارسدہ میں لاکھوں کا اجتماع کیا
حکومتی پارٹی ایسے جلسے کرکے دکھا دے
ہم فوج اسٹیبلشمنٹ اور تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں
اگر وہ انتخابات میں نتائج تبدیل کرتے ہیں تو پھر ہم جواب دیں گے
اگر وہ سیاست کریں گے تو ہم سیاست میں جواب دیں گے
ہم گونگے نہیں ہیں گونگے شیطان نہیں بنیں گے
ہم خاموش نہیں رہیں گے ہم بات کریں گے
اگر ادارے ٹیکس کے پیسے لیکر اس کا سیاسی استعمال کریں گے تو پھر اس ایوان میں جواب دیں گے
وزیر اعظم شہباز شریف بتائیں گے کہ جب ہم کنٹینر پر ہوتے تھے تو کیا وہ آرمی چیف اور ف��ج کا نام نہیں لیتے تھے
کیا ان کے ساتھ سٹیج سے فوج کو محکمہ زراعت نہیں کہا جاتا تھا.
ایک بار زانی پر 100 کوڑے کی شرعی سزا
شادی شدہ زانی کو رجم کرنا
اور بدفعلی کی شرعی سزا نافذ کر کے دیکھ لیں۔
معاشرے میں انصاف اور امن کا دور دورہ ھو گا۔
سی سی ڈی کی ضرورت نہیں رھے گی۔
کرائم اور جرائم مزید کرائم اور جرائم سے ختم نہیں ھوتے۔