رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص نماز میں حاضر ہوتا ہے اُس کے لیے پچیس نمازوں کا ثواب لکھا جاتا ہے اور ایک نماز سے دوسری نماز کے درمیان جو کوتاہی سرزد ہوئی ہو، وہ مٹا دی جاتی ہے
سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 516
@VahidCh180069@RashidMkhan79 انکے دور میں کمنٹیٹر یوں کمینٹری کرتے تھے کہ مخالف ٹیم کی پارٹنر شپ ٹوٹ نہیں رہی۔ اسلیے کپتان اب مدثر نظر ( مین ود گولڈن آرم) کو لیکر آئے ہیں باولنگ کے لیے اور مدثر نظر نے آتے ہی وکٹ لیکر ثابت کیا کہ کپتان نے ان پر درست اعتماد کیا تھا۔
Man with golden arms
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو علم سیکھنے کے راستے پہ چلتا ہے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں۔"
سنن ترمذی: 2784، باب فضل طلب العلم، حدیث حسن
قالَ النبی ﷺ:
1) اے الله! جو شخص بھی میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور ان پر سختی کرے، تو تُو بھی اُس پر سختی فرما.
2) اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا اور ان کے ساتھ نرمی کی، تو تُو بھی اُس کے ساتھ نرمی فرما.
مسلم 4722
(مسند احمد 26767؛ مشکوٰۃ 3689)
آپ کی تحریر نے ماضی میں پہنچا دیا۔ ڈاکٹر ہمایوں احسان سے پڑھنے کا شرف مجھے بھی حاصل رہا۔ آج بھی دل کرتا ہے کہ ان کی کلاس میں جا کر بیٹھ جاوں۔ بہت ہی کماال کی شخصیت ، بہترین استاد ، زبردست انسان۔ پڑھانے کا سمجھانے کا انداز سب سے منفرد اور ایسا کہ دل میں اتر جائے۔ میرا مودبانہ سلام پیش کیجیے گا جب بھی آپ کی ملاقات ہو۔
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں یہ الفاظ تھے
*اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ ، وَمِنْ زَوْجٍ تُشَيِّبُنِي قَبْلَ الْمَشِيبِ ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ رِبًا*
اے اللہ میں برے پڑوسی سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس بیوی سے پناہ چاہتا ہوں جو بڑھاپے سے پہلے مجھے بوڑھا کر دے اور اس اولاد سے جو میری مالک بن جائے
ال سلسلہ صحیحہ ٢٧٩٩
دعا طبرانی ١٢٤٣- حسن
کیا ہی خوبصورت بشارت ہے کہ رات کی تنہائی میں پڑھی جانے والی آیت، بندے کو اللہ کی حفاظت میں لے آتی ہے۔
سونے سے پہلے آیت الکرسی کو اپنا معمول بنا لیجیے؛ جب حفاظت کرنے والا ربِّ کائنات ہو تو شیطان کی کوئی چال نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
اللہ تعالیٰ ہماری راتوں کو ذکر سے، دلوں کو ایمان سے اور زندگیوں کو اپنی حفاظت و رحمت سے بھر دے۔ آمین
جب رحمٰن سے مانگ رہے ہو تو یقین کے ساتھ مانگو، ممکن و ناممکن کی الجھن میں مت پڑو۔ جس سے تم مانگ رہے ہو، وہ خزانوں کا بادشاہ ہے۔ اس کے لیے ایک ’’کُن‘‘ کی بات ہے۔ وہ اسباب بھی بنا دے گا، وسیلے بھی پیدا کر دے گا، وہ دروازہ بھی کھول دے گا۔ بس تم نیت صاف رکھو اور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ پر توکل کرو۔