منقول⬇️
کہنے والے کہتے ہیں کہ جرنیلوں کی اگلی چوائس بلاول ہے
یوں تو حکومت بظاہر نون لیگ کو دی گئی ہے۔ پر شہباز شریف ہو نواز شریف ہو، مفتاح ہو یا ڈار، سب بلاتفریق گالیاں کھا رہے ہیں
جبکہ کہ بلاول مزے سے وزیرخارجہ لگا ٹھنڈے ٹھنڈے دوروں میں مصروف رہتا ہے یا صرف زبانی کلامی بیانات سے کام چلا رہا ہے
اس کے لئے سوچی سمجھی امیج بلڈنگ کی جا رہی ہے جس میں لفافہ صحافی سمیت سوشل میڈیا پر موجود احمقوں کی ایک بڑی اکثریت شامل ہیں
قصہ کچھ یوں ہے کہ آصف ��رداری جرنیلوں کے لیے بروکری کرتا ہے۔ یہ حقیقتاً اسٹیبلشمنٹ کا بروکر ہے
بروکر انگریزی زبان کا لفظ ہے جو بالکل مزے دار نہیں
بروکر کا اردو ترجمہ بہترین ہے جو "ب" سے آتا ہے
زرداری پر یہی لفظ بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔
جرنیلوں کے اشاروں پر اسمبلی ممبران خریدنے ہوں، سینیٹ کے لیے گھوڑے خریدنے ہوں، سندھ ہاؤس کے لیے بکرے گھیرنے ہوں یا صوبائی حکومت الٹانی ہو، یہ ساری ڈیوٹی زرداری ہی انجام دیتا نظر آتا ہے
زرداری کی انہی خدمات کے عوض بلاول کو حکمرانی کے لئے تیار کیا جارہا ہے اور اس کی پلینڈ امیج بلڈنگ کی جا رہی ہے
اب آپ جرنیلوں کا طریقہ واردات ملاحظہ فرمائیے:
بلاول سے بھارت کے خلاف ایک گرما گرم بیان دلوایا گیا ہے جو ہاتھوں ہاتھ بک رہا ہے۔
جرنیل یہ سمجھ گئے ہیں کہ کشمیر اور اسرائیل کے نام پر کیسے سیاسی چورن بیچ کر احمقوں کو گھیرنا ہے
غلط مت سمجھیے گا،
کشمیر اور اسرائیل پر جو موقف ہے وہ میرے بھ�� دل سے بہت قریب ہے پر اگر بنیادیں ٹھیک ہوں، تو۔۔۔۔۔۔۔
اب بلاول کے زریعے کس طرح جرنیلی گیم کھیلا گیا ہے؟
کس طرح ہماری اسٹیبلشمنٹ مائنڈ گیمز کھیلتی ہے؟
پاکستان نے پہلے روس کے ساتھ ڈسکاؤنٹ پر تیل خریدنے کے لیے مذاکرات کرنے کی کوشش کی جس میں ناکامی اٹھانی پڑی
اس لیے خاموشی کے ساتھ اس خبر کو دبا دیا گیا
اس کے فوراً بعد بلاول نے امریکی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان روس سے تیل نہیں خرید رہا
(یہ روس تھا جس نے آپ کو ڈسکاؤنٹ پر تیل فراہم کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی)
یہ کہہ کر امریکہ کو رام کیا گیا۔۔۔۔۔
اس کے بعد بلاول نے بھارت اور مودی کے خلاف بیان داغ ڈالا
اس بیان کی دھول میں روس سے تیل کا معاملہ اور امریکہ میں جا کر چاپلوسی پر مبنی بیانات دب گئے
بلاول کے اس بیان کی پروموشن کے لیے ایک بھرپور کوآرڈینیٹڈ مہم چلائی گئی جس میں صحافیوں کی ایک بڑی تعداد اس بیان کو لے کر ڈھول پیٹتی نظر آرہی ہے
اس مہم سے متاثر ہو کر سوشل میڈیا پر موجود احمقوں کی ایک بڑی تعداد نے بلاول کے حق میں پوسٹیں کرنا شروع کردیں
یہی جرنیلی پلان تھا جو لفافہ صحافیوں اور سوشل میڈیا پر موجود احمقوں کی بھرپور سپورٹ کے طفیل کامیابی سے execute کیا گیا
کشمیر اور اسرائیل کا چورن بیچ کر حماقت کی حد تک جذبا��ی قوم کو اسی طرح چونا لگایا جاتا رہا ہے
اب بلاول سے کوئی نہیں پوچھے گا کہ سندھ میں آپ کی حکومت:
1- کراچی حیدرآباد میں کیوں کر بلدیاتی انتخابات ٹالے جارہی ہے؟
2- اتنے ماہ گزرنے کے باوجود سیلابی پانی کی اب تک نکاسی کیوں نہیں ہو سکی؟
3- کراچی میں امن و امان کی انتہائی حد تک بگڑی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟
سندھ میں موجود انتہائی درجے کی کرپشن اور بدترین بدانتظامی ایک طرف۔۔۔۔۔
ان اہم ترین عوامی مسائل کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے اور کشمیر اسرائیل پر منہ زبانی بیان دلوا کر ڈھول پیٹے جاتے ہیں
ذرا اس ماں کا تصور کیجئے جن کے نوجوان بیٹے معمولی وارداتوں میں قتل کئے جا رہے ہیں۔ اس ماں کو جاکر یہ کشمیر اسرائیل والے بیانات دکھائیے۔ وہ تڑپتی ہوئی ماں آپ کا گلا دبادے گی کیونکہ اس کی قیمتی اولاد صوبے میں موجود بدانتظامی اور کرپشن کا شکار ہوگئی
سندھ میں دربدر ہوئے سیلاب متاثرین ان بیانات کو لالی پاپ بنا کر چوسیں؟
پیپلز پارٹی کی یہ سندھ میں مسلسل تیسری حکومت ہے
بلاول صرف وزیرخارجہ نہیں، سندھ حکومت کو چلانے والی سیاسی پارٹی کا چیئرمین بھی ہے
وزیر خارجہ بننے تو اسے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں جبکہ چیئرمین بنے ہوئے اسے کئی سال ہو چکے ہیں
سلام ہے لفافہ صحافیوں اور فیس بک پر موجود احمق لکھاریوں کو، جنھیں وزیر خارجہ تو نظر آ رہا ہے ہے پر پیپلز پارٹی کا چیئرمین بالکل نظر نہیں آرہا۔۔۔۔۔
یہی تو جرنیلی پلان ہے!
.
اب آپ آپریشن سائیکلون کی تفصیلات دوبارہ پڑھیں۔
@GovtofPakistan & @ToyotaMotorCorp need to seriously think about the garbage they manufacture in Pakistan, lacking even basic safety features. A fed religious affairs minister died instantly when his brand new official #Toyota car was hit by another vehicle on Sat
Chairman NAB will get Rs 17 lakh per month salary, government residence, two vehicles while he will also get a plot of two kanals in the federal capital. NAB chairman will further get 2000 units of electricity per month and 600 litres of petrol each month. https://t.co/mAwQLerUC4