کیا آپ کو پتہ ہے کہ چین ایران سے تیل لینے کیلئے سمندر پر دس ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ایران پہنچتا ہے اور پھر دس ہزار کلومیٹر واپسی کا سفر، کل ملا کے ایک ب��ری جہاز کو بیس ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے
اور بھارت کو ایران سے تیل لانے پر 6000 کلومیٹر کا دونوں طرف کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے
جبکہ پاکستان کو ایران سے تیل لینے کیلئے صفر کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا کیونکہ ایران پاکستان گیس پائپ کو مکمل کرکے اس سے تیل اور گیس ایک ہی پائپ لائین سے لیا جا سکتا ہے،
پاکستان کی بد قسمتی دیکھیں کہ کبھی اس قدرتی فائدے سے مستفید نا ہو سکا کیونکہ امریکہ کی اجازت نہیں ہے، وہ امریکہ جسکی دو جنگیں ہم نے لڑیں، وہ امریکہ جو آج ایران جنگ سے باہر نکلنے کیلئے پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے،
ایسی ناکام فارن پالیسی کا کون مصنف تھا؟ 78 ��ال امریکہ کی غلامی میں ضائع کر دیئے لیکن اپنی سرحد سے تیل نا لے سکے، ہاں سمگلنگ خوب چل رہی ہے
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned on International Affairs
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
یہ حیران کن بلکہ “ناقص معاہدے” سابق وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے 2014 میں کیے تھے جب نواز شریف وزیراعظم اور اسحاق ڈار وزیرخزانہ تھے۔
پٹرولیم منسٹری کی ان ناقص معاہدوں کی سمری کی منظوری وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ نے دی تھی۔ اس سے پہلے ای سی سی سے منظوری وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے دی۔
گیس پٹرولیم سکیٹر میں نارمل 16/18 فیصد ریٹرن کی بجائے اس کمپنی کو 46% ریٹرن دیا گیا۔
ایک سو تیس ملین ڈالر کے عوض کمپنی کو ڈیرہ ارب ڈالر ادائیگی کا معاہدہ وہ بھی ایک پاکستانی کراچی کی کمپنی کو ڈالروں میں ادائیگی کا معاہدہ۔۔
اگرچہ پاکستانی تیرہ ارب روپے کو ڈالروں میں کنورٹ ک�� کے ایک سو تیس ملین ڈالرز کا نام دیا گیا اور ڈالروں میں روزانہ پونے تین لاکھ ادائیگی/کیپسٹی چارجز کا حیران کن معاہدہ کیا گیا۔
اس “ناقص معاہدے “ کے تحت روزانہ 275,000 ڈالرز کراچی کی کمپنی کو 2014 سے مل رہے ہیں چاہے وہ چھوٹا سا ٹرمینل استمعال ہو یا نہ ہو۔
اب وزیرپٹرولیم علی پرویز ملک جو ایک ذہین نوجوان وزیر ہیں زرا وہ سب 2014 کی سمریاں اور ای سی سی اور کابینہ اجلاس کے منٹس نکال کر پڑ�� لیں تو سب سمجھ آجائے گا کہ کون کون اس بربادی میں حصہ دار تھا۔
لیکن شاید ان کے پر بھی جلیں گے جب وہ سمری پر شاہد خاقان عباسی، اسحاق ڈار اور نواز شریف کے کابینہ وزیروں کے ان ناقص معاہدوں کی منظوری کے دستخط ملاحظ فرمائیں گے۔
اس کے بعد ایک اور لاہور کی کمپنی کو بھی دو لاکھ چوبیس ہزار ڈالر روزانہ پر یہی ڈیل دی گئی۔ پھر وہی شاہد خاقان، اسحاق ڈار اور نواز شریف کی کابینہ منظوری۔۔
اب روزانہ پانچ لاکھ ڈالرز یہ دو کمپنیاں 2014 سے پاکستان سے لے رہی ہیں چاہے ٹرمینل استمعال ہو یا نہ ہو۔ اگر ان حکمرانوں کے دل میں زرا بھی عوام کی پرواہ ہوتی تو یہ ٹرمینل sngpl یا pso کو کہہ کر لگواتے اور اپریٹ کراتے نہ کہ دو پرائیوٹ کمپنیوں کو روزانہ پانچ لاکھ ڈالرز دیتے چاہے استمعال ہو یا نہ ہو۔ ڈالر بھیک مانگ کر یا مہنگے ڈالرز قرضہ لے کر ہم روزانہ پانچ لاکھ ڈالرز ان دو کمپنیوں کو دے رہے ہیں۔ یہ وژن تھا شاہد خاقان عباسی، اسحاق ڈار اور نواز شریف کی کابینہ کا۔
علی پرویز ملک صاحب اچھے اور ذہین وزیر ہیں لیکن پورا سچ بول کر جئیں برادر۔ آپ کو سب پتہ ہے اگر نہیں تو فائلیں منگوا کر پڑھ لیں جو آپ کی وزارت میں رکھی ہیں۔ 🙏
@AliPervaiz450 @CMShehbaz @MIshaqDar50 @Official_PetDiv @Financegovpk @Real_MZubair @BarristerGohar @PalwashaKhan18 @sharmilafaruqi @sherryrehman @ShahNafisa @HinaRKhar @ShazadAkbar @ShahzadIqbalGEO
ڈونلڈ ٹرمپ عہد جدید کا ہٹلر ہے، ایک مختلف انداز کا۔ چھوٹے ہٹلر نیتن یاہو کا سرپرست ۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن۔ غزہ کے مکینوں کا قاتل۔ اس سے امید باندھنے والے امریکی پچھتائیں گے۔ ان سے زیادہ مسلمان ممالک اورامریکہ میں مقیم مسلمان ووٹر۔
Are you struggling to pay a huge amount on paid courses ??
I'm giving you access to 20+ FREE Courses
1. Artificial Intelligence
2. Machine Learning
3. Cloud Computing
4. Ethical Hacking
5. Data Analytics
6. AWS Certified
7. Data Science
8. BIG DATA
9. Python
10. MBA
11. Many more..
To get it, just:
1. Like & Retweet
2. Comment "Free"
3. MUST be Following (so that I can dm)