ہمارے رسولِ محترم ﷺ جب بھی جہاد کیلئے نکلتے، عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچانے کی سخت ترین ہدایات جاری کی جاتیں۔آج ہمارے اپنے سیکورٹی اہلکار آدھی رات کو گھروں پر دھاوا بولتے، دروازے توڑتے، گھریلو ساز و سامان تباہ و برباد کرتے اور (قیمتی اشیاء) چوری کرکے ساتھ لے جاتے ہیں۔
خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے، انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور اگر مطلوبہ شخص ہاتھ نہ آئے تو اس کے والد حتّٰی کہ گھریلو ملازمین تک کو (بالکل غیرقانونی طریقے سے) اٹھا کر قید کردیا جاتا ہے۔
ایسے ہی ایک حملے کے دوران جب میرا بھانجا ہاتھ نہ لگا تو میری ہمشیرہ کے ڈرائیور اور باورچی رحیم کو اٹھا لیا گیا۔ دونوں کو قید کردیا گیا اور جانوروں (sardines) کیطرح ایک چھوٹے سے ڈربے میں پھینک دیا گیا۔ رحیم کو تو سانس کی تکلیف تھی چنانچہ رہائی کے بعد جب سے وہ واپس لوٹا ہے وینٹیلیٹر پر موت و حیات کی کشمکش میں ہے۔ جو گروہ (ایک جمہوری ملک میں) دہشت کے اس راج کا ذمہ دار ہے وہ بلاشبہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔
ہم مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارت سرکار کے ہاتھوں انسانی حقوق کی ایسی بہیمانہ خلاف وزریوں کی داستانیں تو سُنا کرتے تھے مگر ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وحشت و بربریت کی ایسی تاریخ یہاں (پاکستان میں) بھی رقم کی جائے گی۔
(جبر و وحشت) کی اس پالیسی سے اگرچہ وقتی طور پر عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہو مگر (عوام کے سینوں میں کھَولتا ہوا) نفرت و ناراضگی کا لاوا کسی وقت بھی باہر آجائے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “ میں اس شخص کے لئے جنت کے کنارے کے محلات میں گھر دلوانے کی ضمانت لیتا ھوں جو حق پر بونے کے باوجود جھگڑا چھوڑدے، اور اس شخص کو جنت کے بیچوں گھر دلوانے کا جو مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولے اوراس کو جنت کے اعلی حصے میں گھر کاجو خوش اخلاق ہو
ایک با حیا اور با پردہ عورت ہزار بے حیا اور بے پردہ عورتوں سے بہتر ہے۔
اس لئے نہیں کہ وہ پردہ کرتی ہے بلکہ اس لئے کہ وہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتی۔
#اپنا_انتخاب
ترجمہ: اور تم جن لوگوں کو اللہ کے علاوہ پکارتے ہو وہ تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے اور نہ ہی وہ اپنی مدد کرسکتے ہیں۔
اب یہاں ان اسباب کا ذکر کیا جاتا ہے جن سے اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے یا یہ کہیں جن کی وجہ سے اللہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے ۔
.......
اللہ کی مدد کیسے حاصل ہوگی ؟
آج ہم طرح طرح کی پریشانیوں میں گرفتار ہیں۔ نجی پریشانی،گھریلوپریشانی، سماجی پریشانی، معاشی پریشانی، قدرتی پریشانی ۔اس قسم کی سیکڑوں دیناوی پریشانیوں کے شکار ہیں جیسے لگتا ہےزندگی پریشانیوں کا مجموعہ ہے اورہم اللہ کی طرف سے خاص
👇
اور جنہیں اللہ کے علاوہ مدد کے لئے پکارا جاتا ہے وہ تو ہماری کچھ مدد نہیں کرسکتے بلکہ وہ اپنے آپ کی مدد کرنے کی بھی طاقت نہیں رکھتے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ (الاعراف :197)