لیڈر وہ ہوتا ہے جب قوم مشکل میں ہو تو وہ اُن کو مشکل سے نکالے
جب قوم مشکل میں ہو اور لیڈر اُن کے لیے پھانسی کی رسیاں بنانا شروع کر دے تو وہ لیڈر نہیں گیدڑ ہوتا ہے
حق و سچ کی طاقت یہ ہے کہ جب السیدہ زینب سلام ﷲ علیہا آبلہ پاہی، ہفتوں کی پیاس اور اسیری میں یزید کو يَا بْنَ الطُّلَقاءِ! ( او آزاد کردہ غلاموں کی اولاد) کہہ کر مخاطب کرتے ہوے کلمہِ حق بیان فرماتی ہیں تو باطل کے بھرے دربار میں سناٹا چھا جاتا ہے
ایامِ عاشور میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے نہتے اور بے گناہ عوام کے سروں پر بندوق تان کر اور ان کا راشن ، ادویات اور بچوں کا دودھ بند کر کے کچھ لوگ یزید پہ شدید لعن طعن کر رہے ہیں
@MaryamNSharif@HRCP87@HamidMirPAK@asmashirazi@AzazSyed
Good morning from Kashmir.
At Rawalakot sit-in, a child serves tea to the protesters.
Honour belongs to the bearers of truth.
یہ عزتیں ہیں، یہ سچ کے علمبرداروں کو ملتی ہیں
خواجہ آصف صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کشمیر کے لیے پانچ جنگیں لڑی ہیں
اور یہی دعوے ہندوستان بھی کر رہا ہے
تو کیا پھر اس بنا پر کشمیری کشمیر بنے گا ہندوستان کا نعرہ لگا دیں ؟
اگر حق مانگنا غداری ہے تو شکاگو کی سڑکوں پہ خون چھڑکنے والے سب غدار تھے
ریشم خانہ سرینگر کے شہداء بھی غدار تھے ؟
@KhawajaMAsif
During the ongoing public rights movement in Pakistan-administered Kashmir, a deeply disturbing situation has emerged.
No vehicle from Punjab is being permitted to carry any food supplies or medicines into Kashmir — not even one kilogram of flour or a single Panadol tablet.
Shockingly, even dates and Zamzam water are being confiscated from overseas Kashmires returning on leave from Arab countries.
Security officials at entry points state they have clear orders: no food, drinks, or medicine is to enter Azad Kashmir under any circumstances.
According to independent sources, these restrictions are being enforced on the direct orders of the Chief Minister of Punjab.
@MaryamNSharif@HRCP87@HamidMirPAK@asmashirazi@AzazSyed
آجی جی پی آزاد کشمیر سرکاری نوکر ہے ہمارے ٹیکس سے اسے تنخواہ دی جاتی ہے اور یہ ہمیں ہی کاٹ کھانے کو دوڑ رہا ہے
کیا پاکستان آزاد کشمیر میں سب سیاستدانوں کے دماغ خصی ہیں کہ ملازم ہو کر سیاسی بیان دے رہا ہے
کون کس کا کھاتا ہے ؟
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایجی ٹیشن کے رد عمل میں پاکستان کے چند سینئر صحافی اور دانشور حتی کے وزیرِ دفاع بھی وہاں کے باسیوں کو طعنے دے رہے تھے کہ پاکستانی عوام کی قیمت پر ان کو سستی بجلی اور آٹا ملتا ہے۔ جس بجلی کی قیمت پاکستان میں فی یونٹ چالیس روپے ہے وہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں تین روپے فی یونٹ ملتی ہے۔کئی افراد تو یہ بھی شکوہ کر رہے تھے کہ میدانی علاقوں میں رہنے والوں کو بھی کشمیر کے پہاڑوں میں زمینیں خریدنے اور جائیدادیں بنانے کی اجازت ملنی چاہیے۔
چند سال قبل بین الاقوامی سطح پر پانی کے معاملات کی معروف ماہر انوککا لیپونین نے ایک عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے دوران ایک نہایت اہم اصول کی طرف اشارہ کیا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اب دنیا میں ایک ضابطہ طے ہو چکا ہے کہ نیچے میدانی علاقوں (ڈاون اسٹریم) میں رہنے والی آبادیوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپ اسٹریم پہاڑی علاقہ کے باشندوں کو انرجی سکیورٹی اور معاشی وسائل مہیا کرائیں۔تاکہ وہ اس کے بدلے میں گلیشیروں اور جنگلات کی حفاظت کر کے نیچے رہنے والی آبادی کے لیے وافر مقدار میں پانی کی فراہمی کو برقرار رکھیں، جس سے میدانی علاقوں کی فوڈ سکیورٹی یقینی بنے۔
پاکستان کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے کسان اور شہری 80فیصد غذائی ضروریات دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں سے پوری کرتے ہیں۔
انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کشمیر، گلگت، اسکردو اور لداخ کے ان پہاڑی منبعوں کی دیکھ ریکھ کا معاشی بار بالواسطہ یا بلاواسطہ ان پر عائد ہوتا ہے۔ اگر میدانی علاقوں کے لوگ پہاڑوں کے ماحول کو بچانے کا بار نہیں اٹھائیں گے، تو پہاڑوں میں رہنے والے لوگ زندہ رہنے کے لیے جنگلات کاٹیں گے، مقامی وسائل پر دباؤ بڑھائیں گے اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ گلیشیر وقت سے پہلے پگھل کر ختم ہو جائیں گے۔
یاد رہے پیاس جب لگے گی تو یہ نفرتیں بانٹنے والے صحافحی اور سیاستدان پانی کے بحران کو حل نہیں کر پائیں گے۔ دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں کو پانی مہیا کرنے والے گلیشیروں میں سے تین ہزار سے زائد گلیشیر صرف کشمیر اور لداخ کے پہاڑوں میں آباد ہیں۔ ان پہاڑی علاقوں کا جنگلاتی نظام گلیشیر پورے برصغیر کی فوڈ سکیورٹی کے ضامن ہیں۔
جاری ہے ،
بشرطِ تابع داری
زخم زخم دلوں کی داد رسی کے لیے
آشفتہ سروں کے خیمے سے مخاطب ہو کر
عجیب شرطِ رکھی میرے منصف نے
میرے ملت کے پاسبان نے
کہ تم پھانسی گھاٹ پہ چڑھ کر
خود پھندا اپنے گلے میں ڈالو
مجھے پکارو
میں جلاد سے کہوں گا اب مجھے بات کرنے دو
مجھے راستہ دو کہ آخری خواہش پوچھ لوں
#RightsMovementAJK
@AzazSyed بشرطِ تابع داری
زخم زخم دلوں کی داد رسی کے لیے
آشفتہ سروں کے خیمے سے مخاطب ہو کر
عجیب شرطِ رکھی میرے منصف نے
میرے ملت کے پاسبان نے
کہ تم پھانسی گھاٹ پہ چڑھ کر
خود پھندا اپنے گلے میں ڈالو
مجھے پکارو
میں جلاد سے کہوں گا اب مجھے بات کرنے دو
مجھے راستہ دو کہ آخری خواہش پوچھ لوں
رزق کا ذمہ اللہ نے لے رکھا ہے جو کسی کا رزق بند کرنے کی کوشش کرے اور وہ بھی ماہِ محرم الحرام میں تو وہ یزید ہے اور اس کے ساتھی حمایتی یزیدی ہیں
پنجاب پولیس نے آزاد کشمیر جانے والی خوراک اور ادویات لے جانے والی گاڑیوں کو روک دیا ہے