دن 1 بجے اے آر وائی نیوز پر خبر چلتی ہے کہ مال روڈ پر نامعلوم افراد نے ایک شخص کو قتل کر دیا اور ملزمان فرار ہو گئے، پھر 1:45 پر پولیس آ جاتی ہے لاش کو لے کر نکل جاتی ہے، پھر یکدم سارے چینلز اور میڈیا کو خبر اور ویڈیو ایک ساتھ بھیجی جاتی ہے محمد حسین کا سارا ڈیٹا نکالا جاتا ہے تصاویر ویڈیو میں لگادی جاتی ہیں اور پھر ساتھ پستول رکھ کر پی ٹی ائی کا جھنڈا کچھ اور سامان بھی رکھ دیا جاتا ہے کہ جی ایچ کیو پر حملہ ہو گیا، حملہ آور مار دیا تعلق پی ٹی آئی سے اور خیبر سے ہے اور سہیل افریدی سے رابطے میں تھا۔
جی ایچ کیو کا چپہ چپہ سی سی ٹی وی کیمروں سے لیس ہے ویڈیوز نکالو ساری ویڈیوز میڈیا پر چلا دو نہیں تو معافی مانگو کیونکہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ویسے بھی پوری قوم تمہیں اب اچھے سے جانتی ہے.
آٹھ دہائیاں گزر گئیں۔۔۔
پر اس ناپاک فوج کا نہ اسکرپٹ بدلا، نہ ایف-اے فیل ڈفر رائٹرز
وہی فالس فلیگ گھِسی پٹِی کہانیاں
اور وہی بے گناہ بے ضرر لوگوں کے کندھوں پر
اپنی وارداتوں کا ملبہ ڈالنے کا پرانا فارمولا ۔۔۔۔
احمق ہی ہو گا جو نذرانے بھیجے گا ۔بابوں کو نذرانوں سے کیا؟غریبوں کی روٹی،چادر،تعلیم،سکون،چار دیواری تو چھین لی۔کیوں بھیجے عوام خون پسینے کی کمائی؟تاکہ محکمہ اوقاف،مزید عیاشیاں کرے۔بابوں کو اللہ کیطرف سے اتنی کھلی چھوٹ ہوتی تو تمہارے ٹینٹوے نہ دبا دیتے۔عجیب شرک کا بازار گرم ہے۔
ان جوتشی چڑیلوں،جنوں،بھوتوں کا بس نہیں چل رہا ورنہ یہ عمران خان کو شہید بھی کروا دیتے۔
خدا کی خدائی اور فیصلوں میں کسی کی مجال ہے دخل دے۔غزوات کے ابتدائی دور میں کفار مکہ پورے پلان سے مسلمانوں کو ختم کرنے آتے رہے۔اللہ نے ان کی چالوں،پروپیگنڈوں کو ناکام کر دیا۔
یہ سارا سکرپٹ اب پی ٹی آئی کو قابو کرنے کے لئے بنایا جا رہا ہے فوج ہر وہ گندا کام کر گزرے گی جس سے انکے مقاصد حاصل ہوں ،
کارکن اتنا بیوقوف تھا کے اپنی تمام شناختی علامت ساتھ لے کر آیا تھا
نوٹ: یہ ڈفر ڈفر ہی رہیں گے
إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَسْليمًا.
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
جمعہ مبارک
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں قریبی رشتہ داروں، پھر ان کے بعد قریبی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت فرماتا ہے۔*[مستدرک الحاکم 7433 حسن]