یہاں لفظوں کو مہذب بنانے سے زیادہ
سچ کو بے نقاب کرنے کی کوشش ہوگی
انسان کی نفسیات ہو یا سماج کی منافقت
سیاست ہو محبت ہو خواہش ہو یا نفس
ہم وہاں دیکھیں گے جہاں لوگ عموماً نظریں چرا لیتے ہیں
یہ باطن ہے
یہاں چہرے نہیں رویّے پڑھے جائیں گے
برداشت کا امتحان لیتی ہے جسے وہ کسی کے سامنے بیان بھی نہیں کر سکتی. باہر ہوس کے شکاری اور اندر جسم کی خاموش پکار اس کا جینا دو بھر کر دیتے ہیں. وہ ہر پل ان دونوں محاذوں پر اکیلی لڑتے لڑتے تھک جاتی ہے.
طلاق کے بعد عورت پر جو سب سے کاری ضرب لگتی ہے وہ اس کی فطری جسمانی عادت کا اچانک چھن جانا ہے. دن کو معاشرہ اسے اکیلی دیکھ کر اپنے ڈورے ڈالتا ہے ، رشتے دار ہمدردی کے پردے میں اس کا جسم حاصل کرنے کی تاک میں رہتے ہیں. رات کو بستر کی ویرانی اور جسم کی پیاس اس کی
@MaizaHameedMNA اپنے سجدوں پہ اتنا مان نہ کر اے دل.
یہاں زاہد بھی اک پل میں بہک جاتے ہیں
جو سمجھتے ہیں خود کو پاک زمانے میں.
وہ دوسروں کے عیب گنتے گنتے خود بھٹک جاتے ہیں
ہمارے ہاں مرد اپنے لیے جینا کبھی نہیں سیکھ پاتا
وہ بازار جائے تو سب کے لیے کچھ نہ کچھ خرید لائے گا لیکن جب اپنی باری آئے تو پرانے جوتوں اور پرانی قمیض سے ہی سال نکال دیتا ہے. وہ اپنے شوق اس لیے مار دیتا ہے تاکہ کل کو کسی اچانک ضرورت کے وقت ہاتھ نہ پھیلانا پڑے
سماج میں زیادہ شور وہ لوگ مچاتے ہیں جو خود اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں
لوگ دوسروں کی غلطیوں پر فتوے لگاتے ہیں تاکہ ان کی اپنی کمزوریاں چھپی رہیں
حقیقت یہ ہے کہ کسی کو آپ کی اچھائی یا برائی سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔
انہیں بس ایک موقع چاہیے ہوتا ہےخود کو آپ سے بہتر اور نیک ثابت کر سکیں
نئے رابطوں کی چمک اتنی تیز ہے کہ پرانے رشتوں کی معصوم سادگی دھندلا گئی ہے.
ہم ہر وقت خوش دکھائی دینے کی کوشش میں سچی مسکراہٹ کا احساس ہی گنوا بیٹھے ہیں.
بارش کی خاموش راتوں میں کبھی کسی کی یاد ہی دل کو اندر سے بھر دیتی تھی.
اب تنہائی کا ایک لمحہ بھی آئے تو ہم فوراً فون کی چمکتی دنیا میں گم ہو جاتے ہیں.
ہم خود کو یہ سکھا ہی نہیں پائے کہ کسی کے انتظار کے درد میں بھی ایک عجیب سکون تھا.
راشد نے بینک سے ادھار لے کر ایک چمچماتی نئی گاڑی خریدی۔ محلے میں ہر طرف چرچا ہو گیا۔
شام کو چھت پر چائے پیتے ہوئے اس کے بوڑھے باپ نے پوچھا
پتر، پرانی گاڑی تو بالکل ٹھیک چل رہی تھی، پھر اتنے بڑے قرضے میں خود کو کیوں ڈالا؟
راشد فخر سے بولا۔
بھرنے کے لیے مرے گا، اور جن لوگوں کو تو دکھانا چاہتا تھا وہ دو دن بعد بھول جائیں گے
راشد خاموش ہو گیا
ہم وہ چیزیں ان پیسوں سے خریدتے ہیں جو ہمارے پاس ہوتے ہی نہیں، صرف ان لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے جنہیں ہم خود پسند نہیں کرتے۔
ہماری سوسائٹی کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ یہاں سچ بولنے والے کو بدتمیز اور میٹھی چھری بن کر ڈسنے والے کو بااخلاق سمجھا جاتا ہے. لوگ آپ کی خوشی میں صرف تالیاں بجانے آتے ہیں، کندھا دینے کے لیے کوئی مڑ کر بھی نہیں دیکھتا
سب سے زیادہ کمینے وہ نہیں ہوتے جو کھلے عام برا کریں،
کمینے وہ ہوتے ہیں جو خیر خواہی کے نام پر تمہاری کمزوری تلاش کرتے ہیں اور وقت آنے پر تمہارے خلاف استعمال کرتے ہیں
بلکہ ایک عجیب سی تھکن جنم لیتی ہے. مرد اپنی انا کے بوجھ تلے دب کر یہ جان ہی نہیں پاتا کہ قربت کسی جنگ کو فتح کرنے کا نام نہیں ہے. عورت اپنی خواہش کو سینے کے تاریک کونے میں دفن کر کے ایک بے جان مورتی بن جاتی ہے.
ہم نے صدیوں سے جسم کو صرف ایک فرض یا ایک گناہ کے ترازو میں تولا ہے. مرد کو سکھایا گیا کہ طاقت دکھانا ہی اس کی اصل فتح ہے، اور عورت کے حصے میں صرف خاموش سمجھوتہ لکھ دیا گیا. اس جھوٹی تربیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب دو وجود آپس میں ملتے ہیں تو وہاں خوشبو اور سکون پیدا نہیں ہوتا،
دل اب کسی پر پورا بھروسہ کرنے سے کتراتا ہے کیونکہ ہر انسان وقتی سہارا ڈھونڈ رہا ہے
ہم نے آسان اور بے شمار راستے چن کر اپنے احساس کی سب سے خوبصورت سچائی گنوا دی ہے
#باطن#اردو
کسی بھی رشتے کو گہرا اور پکا ہونے کے لیے وقت کی دھیمی آنچ چاہیے ہوتی ہے
آج ہم ہر جذبے کو اتنی تیزی سے پانا چاہتے ہیں کہ اس کی ساری مٹھاس ادھوری رہ جاتی ہے
باتیں تو ہم رات بھر کرتے ہیں لیکن ان لفظوں میں وہ تپش اور اپنائیت نہیں ہوتی جو پرانے وقتوں میں تھی.