282 شہید 1900 زخمی جن میں زیادہ تر زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں
کینٹینر میں 12 زخمی تھے رینجر نے کینٹینر کو زخمیوں سمیت جلا دیا جو راکھ ہوگئے
TLP شوری
Important Message from Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail - 22 July 2025
“Never in the history of Pakistan has any political leader been subjected to the treatment that I am currently enduring. Nawaz Sharif committed corruption worth billions and was nevertheless granted every possible comfort in prison. In contrast, never before has the innocent and apolitical spouse of a political figure been imprisoned under such inhumane conditions as those imposed upon Bushra Bibi.
I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation. The level of oppression and authoritarianism is such that even the water I have for ablution is filthy and contaminated with dirt, unfit for any human being. Books sent to me by my family have been withheld for months. Access to television and newspapers has also been suspended. I have spent countless hours re-reading the same old books, but now even those are no longer available.
All my basic human rights have been violated. Even the minimum facilities accorded to ordinary prisoners under the law and the jail manual are denied to me. Despite repeated requests, I have not been allowed to speak to my children. Political meetings have also been restricted; I am only permitted to meet certain ‘choice individuals’, while all other interactions are barred.
Let me make this absolutely clear: every member of the party must immediately set aside all internal differences and focus solely on the movement planned for August 5th. I do not see any meaningful momentum building behind this initiative at present. I am waging a battle against a 78-year-old system, and my greatest success is that despite unprecedented oppression, the public stands firmly with me.
On February 8th (2024), the people expressed their trust in Pakistan Tehreek-e-Insaf by voting for you even in the absence of an electoral symbol. After such a clear mandate, it is the moral and political responsibility of every party member to become the voice of the people. It will be nothing short of disgraceful and condemnable if PTI leaders waste time on internal conflicts at this critical juncture. Anyone found engaging in factionalism within the party will be expelled. I am fighting for the future of our generations, and every sacrifice I make is for that cause. To create rifts within the party at this time would be a direct betrayal of my mission and vision.
The so-called government formed through Form 47 has crippled the judiciary through the 26th Constitutional Amendment. The way biased judges are now delivering blatantly unjust verdicts under these courts is visible to the entire nation. We must launch a robust campaign to liberate the judiciary, for no nation can survive, let alone progress, without judicial independence.”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام!!! (۲۲ جولائی ۲۰۲۵)
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا جیسا میرے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ نواز شریف نے اربوں کی کرپشن کی مگر اسے ہر سہولت کے ساتھ جیل میں رکھا گیا۔کسی سیاسی رہنما کی بے گناہ غیر سیاسی اہلیہ کو کبھی ایسے جیل میں نہیں ڈالا گیا جیسے بشرٰی بیگم کے ساتھ کیا گیا ہے۔ میں صرف اور صرف اپنی قوم اور آئین کی بالادستی کے لیے ملکی تاریخ کی مشکل ترین جیل کاٹ رہا ہوں۔ جبر و فسطائیت کا عالم یہ ہے کہ مجھے وضو کے لیے جو پانی دیا جاتا ہے وہ تک گندہ ہوتا ہے اور اس میں مٹی ملی ہوتی ہے، جس سے کوئی انسان وضو نہیں کر سکتا۔ میری کتابیں جو اہل خانہ کی جانب سے جیل حکام تک پہنچائی جاتی ہیں وہ بھی کئی ماہ سے نہیں دی گئیں، ٹی وی اور اخبار بھی بند ہے۔ بار بار پرانی کتب کا مطالعہ کر کے میں وقت گزارتا رہا ہوں مگر اب وہ سب ختم ہو چکی ہیں۔ میرے تمام بنیادی انسانی حقوق پامال ہیں۔ قانون اور جیل مینول کے مطابق ایک عام قیدی والی سہولیات بھی مجھے میسر نہیں ہیں۔ بار بار درخواست کے باوجود میری میرے بچوں سے بات نہیں کروائی جا رہی۔ میری سیاسی ملاقاتوں پر بھی پابندی اور ہے صرف "اپنی مرضی" کے بندوں سے ملوا دیتے ہیں اور دیگر ملاقاتیں بند ہیں۔
میں واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت پارٹی کا ہر فرد اپنے تمام اختلافات فوری طور پر بھلا کر صرف اور صرف پانچ اگست کی تحریک پر توجہ مرکوز رکھے۔ مجھے فلحال اس تحریک کا کوئی مومینٹم نظر نہیں آ رہا۔ میں 78 سالہ نظام کے خلاف جنگ لڑ رہا ہوں، جس میں میری کامیابی یہی ہے کہ عوام تمام تر ظلم کے باوجود میرے ساتھ کھڑی ہے۔ 8 فروری کو عوام نے بغیر نشان کے جس طرح تحریک انصاف پر اعتماد کر کے آپ لوگوں کو ووٹ دئیے اس کے بعد سب کا فرض بنتا ہے کہ عوام کی آواز بنیں۔ اگر اس وقت تحریک انصاف کے ارکان آپسی اختلافات میں پڑ کر وقت ضائع کریں گے تو یہ انتہائی افسوسناک اور قابل سرزنش عمل ہے۔ پارٹی میں جس نے بھی گروہ بندی کی اسے میں پارٹی سے نکال دوں گا۔ میں اپنی نسلوں کے مستقبل کی جنگ لڑ رہا ہوں اور اس کے لیے قربانیاں دے رہا ہوں ایسے میں پارٹی میں اختلافات پیدا کرنا میرے مقصد اور ویژن کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
فارم 47 کی حکومت نے چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے مفلوج کر دیا ہے۔ چھبیسویں ترمیم والی عدالتوں سے ٹاوٹ ججوں کے ذریعے جیسے سیاہ فیصلے آ رہے ہیں وہ آپ سب کے سامنے ہیں۔ ہمیں عدلیہ کو آزاد کروانے کے لیے اپنی بھر پور جدوجہد کرنی ہو گی کیونکہ عدلیہ کی آزادی کے بغیر کسی ملک و قوم کی بقاء ممکن ہی نہیں ہے۔
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
بریکنگ نیوز 🚨
بڑی ڈویلپمنٹ 🛑
آحمد نوارنی نے پوری دنیا کو ڈی چوک قتلِ عام کے بارے میں بتا دیا, فوج نے پر آمین احتجاج پر سیدھی گولیا ماری۔
🛑یہ بہت بڑی ڈویلپمنٹ ہے۔
الارمنگ خبر 🚨
پاکستانی حکمرانوں کو نیند سے اٹھانے میں میری مدد کرو !!
شوباز سنو آپکے والد نیتن یاہو نے آپ کو دھمکی دیدی آپ سوئمنگ سے فارغ ہو تو اس کو جواب دیدو ایران کے بعد پاکستان پر حملہ ہوگا کھلے عام دھمکی !!
https://t.co/xDFSZdI9qf
عمران خان کو دو سال پہلے کس نے آفر کی کھل کے نام لیں اینکر کا نعیم پنجوتھہ کو چیلنج
نعیم پنجوتھہ نے چیلنج پاس کر لیا لیکن اینکر کو دیا گیا چیلنج اینکر پاس نہ کر سکی ،ہمت ہے تو عمران خان کی تقریر تصویر چلا کے دیکھا ہمیں پتہ چلے کہ آپ آزاد ہو یہ میڈیا آزاد ہے .
30 سال پہلے ایک فلم میں جب انسپکٹر بابر علی کو رشوت کی پیشکش ہوئی
تو بابر علی نے کہا، یہ پیسے عمران خان کے ہسپتال میں دو تاکہ ملک و قوم کی فلاح ہو سکے ❤️
مجھے کہا گیا کہ آپ ہفتے میں ایک دفعہ "لڑکی منگوایا کرو اور اپنا دماغ ٹھنڈا کیا کرو" آپ کے دماغ میں بہت گرمی ہے مجھے ان کے اس گھٹیا مشورے کا آج بھی بڑا دکھ ھے"
(اوریا مقبول جان)
حافظ عاصم منیر کا گھناونا چہرہ
اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تمھاری مرضی ہوگی تو تم کسی کو جتواو گے اور کسی کو ہرواو گے تم ہمارا بھی اعلان ہے کہ ہم مرتے دم تک لڑتے رہیں گے اور کبھی عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے،
فاخر نشاط گھمن