قابل مزمت
مظہر عباس صاحب کا ایک ن لیگی ٹاؤٹ صحافی صاحبہ کو اپنی کتاب کی رونمائی پر بلانا اصل میں صحافت کو گالی دینے کے برابر کے۔
آذادی صحافت اور صحافیوں پر ظلم کے بارے کتاب اور ایک ایسے خاتون کو بلانا جو ڈی چوک میں لاشوں کو جھٹلاتی رہی ثبوت مانگتی رہی۔ مطلب وہ اس ظلم کرنے والی رجیم کا حصہ ہے۔ ہمارے قاتلوں کی ساتھی ہے۔
سمجھ سے باہر مظہر عباس صاحب کو کیا سوجھی۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے انسانی حقوق کے سیمنار پر نیتن یاہو ہو Noman خصوصی بنا کر بلا لیں۔ یہ مظہر عباس نے ہمارے سیاسی شہدا کی توہین کی ہے۔
مظہر صاحب نے صحافت کے ساتھ ساتھ پوری قوم کے اجتماعی شعور کی بھی توہین کی ہے۔ ایسی حرکت کی بھرپور مزمت کریں تا کہ آئیندہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ قوم کو چ بنانا اب ممکن نہیں۔
پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاق پر اسوقت غیر جمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ ہے۔ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے 68 ارکان ایک گروپ کے طور پر عمران خان صاحب اور پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر اور آئندہ وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے والے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی گروپ نے آخری دنوں میں وزیر اعلی سہیل آفریدی اور انکی ٹیم سے رابطہ منقطع کر کے سرکاری جبر، ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔ کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کیا جائے جب تک تحقیقات مکمل نہ کر لی جائیں۔ جنید اکبر صاحب خیبر پختونخواہ میں پارٹی کے بدستور صدر ہیں۔ انکا تقرر عمران خان صاحب نے خود کیا ہے۔ انکی غیر موجودگی میں صوبے کے جنرل سیکریٹری علی اصغر خان صاحب قائم مقام صدر ہیں۔ سہیل آفریدی قانون اور آئین کی رو سے آج بھی وزیر اعلی ہیں۔ وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اور سنپولیوں کو شکست ہو گی۔ اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں انکے شر سے۔
شکریہ آپ نے یہ ٹوئیٹ کر کے محسن نقوی کو جواب دیا۔
اب کیونکہ آپ کے پاس ٹوئیٹر کی ایکسس ہے تو ایک تو سہیل آفریدی صاحب کا وڈیو پیغام جاری کر دیں۔ دوسرا پلان اے بی سی وہ بھی جاری کر دیں۔
وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ خان قید تنہائی میں ہے۔ آپ لوگوں نے خود کہا تھا پلان اے بی سی ہے
کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں۔ اس وقت تنقید کا کیا فائدہ ہے۔ پارٹی تقسیم ہوگی۔ دشمن کا فائدہ۔ اپنا نقصان۔ سہیل کو باہر آنے دیان۔ ہاں یہ سوال اچھا ہے تو سنیں جواب
اس وقت چپ رہنا۔ خان سے غداری ہے۔ ایک جرم ہے۔ ایک بے غیرتی ہے۔ وہ کیسے۔ :
اس وقت کیا صورتحال ہے کہ کوئی نہیں نکلا۔ پی ٹی آئی فارغ ہو گئی۔ مخالفین کہہ رہے ہیں خان کی کہانی ختم۔ آج اسمبلی میں ن لیگ اور پی پی پی قہقے لگا رہے تھے۔ کہ سب ختم۔ Kp میں میں کہانی ختم ہو گئی۔ اپنے ورکز بھی مایوس ہیں۔
سیاسی لیڈر کی کیا طاقت ہوتی ہے ؟ توپ ٹینک بندوق ؟ نہیں۔
اس کی طاقت ہوتی ہے اس کے ساتھ کتنے لوگ ہیں۔ کتنے لوگ نکال سکتا ہے۔ سٹریٹ پاور کیا ہے۔
آج اس کا کیا امیج بنا ہے ؟ تو یہ امیج رہنے دوں کہ خان کمزور ہو گیا ہے ؟
اب میرے پاس دو چوائس ہیں۔
خاموش رہوں اور سب کو سمجھنے دوں کے واقعی کہانی ختم۔ واقعی خان کے لئے کوئی نہیں نکلا۔ اب کوئی نہیں نکلے گا۔ اور اللہ نہ کرے یہ اس اوور کانگیفیڈنس یا فرعونیت میں خان کو کوئی نقصان پہنچا دیں کہ اب تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
دوسرا راستہ۔ کھل کر چیخ کر سچ بولوں کے چوکیدار چور کے ساتھ مل گئے۔ ورکر Kp کی عوام آج بھی خان کے ساتھ ہے۔ جو نظر آیا یہ سچ نہیں ہے۔ لوگ آج بھی خان کے ساتھ ہیں۔ یہ خان کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ لوگ نکلنے کو تیار تھے۔ لیکن پلان اے بی اور سی والے ملے ہوئے تھے۔
میرا ایمان کہتا ہے یہ سچ بولوں۔ تا کہ خان کے فارغ ہونے والی کہانی کو رد کر سکوں۔ بتاؤں کہ لوگ آج بھی خان پر اعتماد کرتے ہیں۔ محبت کرتے ہیںُ۔
سچ وقت پر بولنے کے لئے ہوتا ہے جیسے میں نے وقت پر ٹاؤٹ مروت کو ایکسپوز کیا تھا۔
جس دن اسحاق ڈار اور محسن نقوی آن ریکارڈ کہ رہےتھے کہ سہیل آفریدی کو ہٹا دو تو KP میں ایمرجنسی نہیں لگائیں گے
اسی دن گیم واضح ہو گئی تھی۔ سہیل سے انہیں کیا مسلہ تھا۔
پورا سال ڈرون پر خاموشی۔
فوج آپریشن پر 22 ارب سہیل نے دئیے۔ اور فوجی آپریشن چلتے رہے۔
بجٹ پاس کر دیا۔
معدنیات نکالے جا رہے تھے۔
جیو ARY ایکسپرس پر انٹرویو ہو رہے تھے۔
خان قید تنہائی میں رہا۔ گیارہ ماہ خاموشی۔
خان کی بہنیں قید میں۔
پولیس ایکٹ پاس نہ ہوا۔
دفعہ 144 کوئی قانون سازی نہیں
چادر چار دیواری پر کوئی قانون سازی نہیں۔
کے پی میں پہلے دن سے آخری دن تک انکے افسران لگے رہے۔
کیا کیا ایک سال میں جو وہ ہٹانا چاہتے تھے۔ یہ فرمائشی بیان تھے۔ اور کچھ نہیں۔
International Media Coverage of Asim Munir dictatorship act today in the province of Khyber Pakhtunkhwa which was the only province where govt was according to people’s mandate.
Asim Munir fears Imran Khan & his loyalists. He is destined to lose against the people of Pakistan!
Additional Advocate General Khyber Pukhtunkhawa Shah Faisal Ilyas submits his resignation in protest against unconstitutional imposition of emergency in the province.
وزیراعلی خیبر پختو خوا کے علاوہ آج سپیکر ہاؤس خیبر پختونخوا پر بھی فوجی وردیوں اور سادہ کپڑوں میں ملبوس سینکڑوں لوگوں نے حملہ کیا اور سپیکر بابر سلیم سواتی @BabarSaleemSwat، سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید @AbdulKhalidPTI اور سٹاف کے ممبران سمیت کئی افراد کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا
اس دوران سپیکر ہاؤس میں فائرنگ بھی کی گئی، توڑ پھوڑ بھی کی گئی
سہیل آفریدی
Arrested but not defeated
گورنر مالک مشرقی پاکستان میں بھی راج کرتا تھا، مگر آخر اُسے اپنی جوتی چھوڑ کر وہاں سے بھاگنا پڑا۔ پھر بھاگتا ہوا پکڑا گیا اور جیل میں اُسے موت آ گئی۔ اُس کے پیچھے جو فوج تھی، اُسے کیسے سرنڈر کرنا پڑا، وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔
ملک کے حالات تو خراب ہیں، مگر اُس سے بھی زیادہ عاصم منیر کے حالات خراب ہیں۔ پاکستان کے ہر شہر کے ہر جنکشن پر پولیس تعینات ہے۔ اتنا ڈرا اور خوف زدہ کسی فاشسٹ ڈکٹیٹر کو نہیں دیکھا۔
ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
جنرلز کے نام پیغام :
پاکستانی جنرلز کو سمجھنا ہوگا۔ جنگیں اپنوں کے ساتھ نہیں لڑی جاتیں۔ آپکو جرنیل اس لئے نہیں بنایا تھا۔ جو آپ نے بلوچستان میں کیا آج پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جو آپ اس وقت کے پی میں کر رہے ہیں آپ اس کی تاب نہیں لا سکیں گے۔
پٹھان بہت چھتر ماریں گے۔ وہ پہلے ہی تنگ ہیں۔ حالات۔ کاروبار سے دہشت گردی سے۔ ڈرون سے۔ آپ کیوں انگلی کر رہے ہیں ایک اور صوبے کے ساتھ۔
یہ کھیلنا بند کریں۔ مت سب کو بے وقوف سمجھیں۔ جو تھوڑی بہت رہ گئی ہے۔ اس کو بچا لیں۔
بنگلہ دیش کی باری انڈیا آیا تھا۔ یہاں سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔ انڈیا نے 90 ہزار واپس کر دئیے تھے۔ افغانی مختلف کھیل کھیلیں گے۔
نہ کرو یار نہ کرو۔ نہ اپنا نہ ملک نہ ہمارا نقصان۔ عقل گھاس چرنے چلی گئی ہے۔
تاریخ ہے کہ ایک ڈکٹیٹر ایمرجنسی تب لگاتا ہے جب وہ اپنا اقتدار جاتا دیکھ کر بےبس ہو جاتا ہے اور خوف میں ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ مشرف اور اندرا گاندھی کی ایمرجنسی تمہارے سامنے ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد انہیں اپنا اقتدار کھونا پڑا۔
دہشت گرد تم بناؤ، دہشت گردی تم کرو، ان کے ساتھ فکس میچ کھیل کر پھر ایمرجنسی لگاؤ۔ کیا عوام نہیں جانتی کہ دہشت گرد کون ہے! تم اس اقدام کو چند دن کے لیے بھی ہضم نہیں کر سکو گے!
The countdown has begun
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
5 اکتوبر ایک ایسا دن ہے جب پاکستان کو ایک ایسا بیٹا ملا، جس نے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا اور پھر اپنی قوم کو خودداری، انصاف اور حقیقی آزادی کا خواب دکھایا۔
آج کپتان کی سالگرہ پر دعا ہے کہ اللہ عمران خان کو صحت اور لمبی عمرعطا فرمائے اور ہر مشکل میں سرخرو کرے۔
قوم کے رہبر کو سالگرہ مبارک، کپتان
#خان_کی_سالگرہ_مزاحمت_کے_نام